غیر مسلمان پاکستانیوں کے نام کھلا خط ۔۔۔۔۔اعظم معراج

کھلے خط کا ارتقائی سفر
اس خط میں بیان کردہ اعداد و شمار تو تاریخ ہیں ان اعداد و شمار سے اخذ کردہ دوہرے ووٹ کا لفظ قطی نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے کئی سیاسی ورکر یہ لفظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ بقول سیف الدین سیف
سیف انداز بیان رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہوتی
اس کھلے خط میں لفظ دوہرے ووٹ نے جو اندازہ بیان بدلا ہے۔ وہ اعداد وشمار اور ماضی،حال میں غیر مسلم پاکستانیوں پر تھوپے گئے انتحابی نظاموں سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ بطور لفظ ہی استعمال ہوا نہ دلیل نہ اعداد و شمار نہ غیر مسلمانوں پاکستانیوں کے فائدے نقصانات بس ایک لفظ تھا۔ میں نے بھی پہلے اس پر سرسری کام کیا کچھ اعداد و شمار جمع کئے۔ ان سے دلیلیں گھڑی اکرام خان جیسے سینئر صحافی نے 2013ءکے الیکشن سے چند دن پہلے اس کو روز نامہ ”جنگ “اخبار میں پورے صفحہ پر چھاپ دیا جس کا عنوان تھا ”ایک نہیں دو“ کچھ ہندو دوستوں نے راہنمائی کی اور تحقیق کی نئی راہ دکھائی جس کی وجہ سے اور مواد ڈھونڈا اور بیٹی مشعل معراج نے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ سینئر صحافی سلیم بخاری صاحب نے اسے ”پولیٹیکل ٹریجڈی آف نان مسلم پاکستانیز “کے نام سے” دی نیشن“اخبار میں چھاپا اور بھی کئی چھوٹے موٹے رسائل و جرائد میں چھپا۔ تحریک شناخت کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے لکھی گئی کتاب شناخت نامہ میں چھپا۔

پھر ذرا  مزید تفصیل سے اس سلسلے کی پہلی کتاب ”دھرتی جائے کیوں پرائے؟“ کے دوسرے ایڈیشن میں چھپا۔ پھر اس کتاب کے انگریزی ترجمے ”نیگلکٹڈ کرسچن چلڈرن آف انڈس“ کے لئے اس پر مزید تحقیق ہوئی پھر اس مقالے کو پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی ہر سیاسی قیادت اور انگریزی پریس کے بڑوں کو بھی بھجوایا۔ جب اسے عام پاکستانی مسیحیوں تک پہنچانے کی کوشش میں غیر مسلم پاکستانیوں کے نام کھلے خط کے طور پر لکھا گیا۔تو اس میں مزید تحقیق ڈالی گئی۔ اور معاذ لیاقت کے زریعے رحیم بخش ساگر سہندڑو نے اسے سندھی میں ڈھالا۔بہت اضافے کے بعد پاکستان کی انگریزی میڈیم سیاسی اور دانشور اشرفیہ کے لئے وجاہت ظہیر نے اسے دوبارہ انگریزی ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر اعظم گل کی بے رحم ایڈیٹنگ نے اس مقالے نما خط کے لئے مجھ سے اور تحقیق کروائی، یوں اسے دوبارہ سندھی میں ترجمہ کرنے کی مشقت نوجوان صحافی رحیم بخش ساگر سہندڑوکو کرنی پڑی۔وجاہت مسعود صاحب نے اس خط کو اپنی ویب سائٹ ”ہم سب“ پر چھاپا اس ساری مسلسل سلسلہ وار مشقت اور ارتقائی سفر طے کرتا یہ خط جب سے یہ ”غیر مسلمانوں پاکستانیوں کے نام کھلے خط “کے طور پر انعام رانا کی ویب سائٹ مکالمہ پر چھپا ہے اور زبان زدہ عام ہوا۔لیکن اس کا ارتقائی سفر رُکا نہیں بلکہ اسماءمغل کو اس پر مسلسل مشقت کرنا پڑھتی ہے اور اب یہ خط میرا کم اور رانا انعام اور اسماءمغل کی ملکیت بن چکا ہے۔کیونکہ یہ انگریزی میں انعام رانا کی ویب سائٹ ”ڈائیلاگ ٹائم“ پر بھی چھپ گیا ہے۔ اب جیسے ہی اس موضوع پر کسی نئی معلومات کا علم ہوتا ہے میں عاصمہ کو کہتا ہوں وہ اس میں ایڈیٹنگ کرتی رہتی۔ گو کہ اس خط کے تیاری اور اسے پھیلانے میں تحریک شناخت کے رضا کاروں کا بھی خاصہ کردار ہے لیکن اکرام خان، سلیم بخاری ، رانا آصف،وجاہت مسعود، اقبال خورشید، معاذ لیاقت،رحیم بخش ساگر اور خاص کر اسماءمغل نے جس بے لوث پن کے مظاہرے سے اس کتابچے کے مندرجات کے ذریعے پاکستانی غیر مسلمان شہریوں کی فکری ،شعوری سیاسی آگاہی کے لئے ایک بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ مجھے یقین ہے اس سے نظام میں جلدی یا کچھ سالوں بعد تبدیلی آئے گی۔اور یہ یقنیاً غیر مسلمان پاکستانی شہریوں، پاکستانی سیاسی اشرافیہ اور دانش ور طبقات کی اس موضع سے واقفیت کی بدولت ہی ہو گی اور اس موضع سے واقفیت تحریک شناخت کے رضا کاروں کے ساتھ ان درد دل رکھنے والے پاکستان کے مسلمان شہریوں (جن میں سے کچھ تو تحریک شناخت کے باقاعدہ رضاکار ہیں) کا بھی بہت بڑا حصہ ہو گا۔
اس تحریر پر اتنی محنت کرنے کا مقصد صرف یہ ہے۔کہ اس ملک کے عام غیر مسلمان پاکستانی اپنے اس سیاسی المیے کے ماضی اور حال سے واقف ہو کر مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، گو کہ اس ملک ریاست اور معاشرے کا المیہ ہے۔کہ یہ فیصلہ بھی چند اشرافیائی مخلوق کا مرہون منت ہے۔جنہیں شائد یہ اعداد وشمار اور خوبیاں خامیاں پڑھ کر ان تقریباً 78 لاکھ لوگوں پر ترس آ جائے اور ان شہریوں کی قومی ومذہبی شناخت کی باریکیوں کو جان کربھیک میں دی ہوئی سیٹوں کو سلیقے اور عزت وقار سے دینے کا کوئی نظام وضع کر لیں۔
آخر میں پاکستان کے غیر مسلم شہریوں سے التجا ہے۔کہ سیاسی اشرافیہ کو آپ پر تب تک ترس نہیں آ سکتا جب تک آپ اپنے اس سیاسی المیے کو جان کر اس میں تبدیلی کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گے۔ اس کے لئے اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ پڑھ کر سمجھیں اور متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ اعداد و شمار اس المیے کے شکار 78لاکھ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش ضرور کریں۔ گو کہ اس خط نے کتابچے کی صورت اختیار کرکے پھر ایک شجرِ ممنوع کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ کیونکہ کتاب کے بارے میں کسی نامعلوم شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
آگاہی کا عذاب ڈس لے گا
زندگی بھر کتاب سے بچنا
غیر مسلم شہریوں اسے کتاب یا کتابچہ نہ سمجھیں یہ ایک خط ہے۔اور اگر آپ کتاب پڑھنے سے گھبراتے بھی ہیں تو یہ کتاب نہیں ایک خط ہے۔
آپ صرف پندرہ منٹ لگا کر اس خط کو پڑھیںِ پھیلائیں۔ نہ جلسہ نہ جلوس بس باخبر ہوں اور دوسرے لوگوں کو بھی باخبر کریں لوگ بااختیار خود ہی ہوجائیں گے کیونکہ باخبر شہری ہی بااختیار شہری ہو سکتا ہے ۔ خود شناسی اور خود آگاہی سے بڑی طاقت کوئی نہیں اور بے خبری سے بڑی جہالت کوئی نہیں ہے۔متفق ہونا نہ ہونا آپکا حق ہے۔لیکن یہ ضرور جانیں کہ73 سالوں میں نمائندگی دینے کے نام پر آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

شکریہ

والسلام

اعظم معراج
رضا کار ،تحریک شناخت پاکستان
02-05-2020

غیر مسلمان پاکستانیوں کے نام کھلا خط
پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی شناخت پر سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اس وقت 37لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں ہندو اورمسیحی سب سے زیادہ ہیں سکھ و دیگر برادریوں سے بھی چند ہیں لیکن اس کے باوجود مذہبی شناخت کی بدولت جب بھی کسی مذہبی گروہ کو کسی امتیازی رویے، امتیازی قوانین، سماجی ناانصافی ، معاشرتی، ظلم زیادتی یا جبری تبدیلی مذہب طرح کی کسی ظلم زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو متعلقہ برادری کی شناخت پر ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے شازو نادر ہی کوئی آواز سنائی دیتی ہے اس رویے کی بدولت غیر مسلمان پاکستانی جو کہ 2017ءکی افراد شماری کے مطابق3303615 مسیحی3324392ہندو جاتی 519436 شیڈول کاسٹ457104 احمدیوں145442 سکھ، پارسی و دیگر غیر مسلمان پاکستانی جو مجموعی طور پر 7749988 بنتے ہیں اوران 7749988 کے ووٹوں کی تعداد 29مارچ2018ءکے الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ہندو ووٹرز1777289 مسیحی ووٹر 1638748 احمدی ووٹرز167505بہائی ووٹرز31543 سکھ ووٹرز8852 پارسی ووٹرز 4235 اور بدھست ووٹرز کی تعداد1884ہے۔ مجموعی طور پر یہ 3630056ووٹ بنتے ہیں۔لیکن یہ سارے ووٹر اتنے نمائندے ہونے کے باوجود اپنے آپ کو لاوارث اور سیاسی یتیم سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو ہمارا سماجی ناانصافی پر مبنی معاشرہ ہے جو کہ کمزور کیلئے بالکل غیر محفوظ ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب رنگ فرقے اور مسلک سے ہو۔ لیکن غیر مسلم پاکستانیوں کی بے چینی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے حلقے کے ایم این اے، ایم پی اے ایسی صورت میں جب ایسی کسی صورت حال کا سامنا عددی اعتبار سے کسی چھوٹے گروہ کو ہو تو عموماً ایسی صورت میں حلقے کا نمائندہ زیادہ ووٹوں والی برادری کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔متعلقہ برادری کا نمائندہ کیونکہ اپنی برادری کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آتا لہٰذا وہ ایسی صورت میں اپنی پارٹی مفادات کے ساتھ ہوتا ہے ناکہ متعلقہ برادری کے ساتھ اس میں اس بیچارے کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا ۔کیونکہ وہ ہمیں جواب دے نہیں ہے لہٰذا اس کی ہمدردی اسی کے ساتھ ہو گی، جس نے اسے چاہے ہماری شناخت پر ہی لیکن جنبش قلم سے سینیٹر، ایم این اے یا ایم پی اے بنا دیا ہوتا ہے۔ اس کے لئے یقیناً وطن عزیز کی سیاسی اشرافیہ بھی ذمہ دار ہے اور ہم عام لوگ بھی اور ہمارے سماجی، مذہبی، سیاسی رہنما بھی۔ جو آج تک کوئی ایسا انتخابی نظام وضع ہی نہیں کروا سکے۔ جس سے اس ملک کے تقریباً اٹھتر لاکھ دھرتی کے بچوں جو کہ اس ملک میں آزادی ہند، قیام پاکستان، تعمیر پاکستان اور دفاع پاکستان میں بھی دھرتی کے دوسرے بچوں کے ساتھ پیش پیش رہے ہیں۔ وہ چاہے روپلو،کولہی ہو جوگندر ناتھ منڈل ہوں جسٹس بھگوان داس ہوں، صوبوگیان چندانی ہوں یا دیگر ایسے ہزاروں پاکستان کے قیام تعمیر و تشکیل کے معمار ہوں۔ سردار ہری سنگھ ہو جنہوں نے قائد کی آواز پر اپنے خاندان کے 129 افراد کی قربانی دے کر امرتسر سے لاہور ہجرت کی ہو۔ یا راجہ تری دیو ہو جس سے اپنی راج دہانی (ریاست) چھوڑ کر سقوط ڈھاکہ کے بعد قائد کے وطن سے اپنی آخری سانسوں تک وفاداری نبھائی۔ اس میں وہ بے شمار پارسی جو جدید کراچی کے معمار ہیں ان کی خدمات بھی کسی سے کم نہیں اس طرح اس ملک کے مسیحی بچے بھی دوسرے پاکستانی مسلم و غیر مسلم پاکستانیوں کی طرح اس دھرتی کے بچے ہیں۔ آزادی ہند کے سپاہی بھی ہیں قوم و معاشرے کے معمار بھی ہیں اور محافظ، غازی اور شہید بھی ہیں غرض یہ اٹھتر لاکھ کے قریب غیر مسلمان دھرتی کے بچے آج بھی دن رات اپنی اپنی بساط کے مطابق اس ملک قوم و معاشرے کی تشکیل میں مصروف عمل ہیں۔لیکن ان سب حقائق کے باوجود بھی یہ پاکستانی شہری اپنے بنیادی سیاسی حقوق سے کیوں محروم رہے اس کے لئے ہم غیر مسلم پاکستانیوں کے لئے وضع کئے گئے اب تک انتخابی نظاموں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں ستر سال میں ان دھرتی واسیوں کے لئے کون کون سے انتخابی نظام تھوپے گئے اس کے لئے یہاںمیں تحریک شناخت کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے لکھی گئی اپنی کتب میں سے ایک کتاب” دھرتی جائے کیوں پرائے؟“ سے اقتباس پیش کرتا ہوں۔
”ہماری اس سیاسی پسماندگی کی ریاست بھی ذمہ دار ہے ریاست اس لئے کیونکہ 73 سالوںمیں ایسا انتخابی نظام نہیں دے سکی جس سے ہماری سیاسی تربیت ہوتی۔ریاست کی اس ذمہ داری کو پورا نہ کرنے کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کو ریاست کے اپنے غیر مسلمان شہریوں پر پچھلے 73سالوں میں تھوپے گئے انتخابی نظام کا بغور مطالعہ کریں تو جو نچوڑ نکلتا ہے وہ کچھ یوں ہے۔ 1946 سے 1954ء1955 سے 1958ء1962ءسے 1964ء1965سے 1969 پہلے تئیس اور چوبیس سال میں بننے والی چاروں قومی اسمبلیوںکی تفصیل یہ ہے پہلی اسمبلی میں 69ممبران پر مشتمل تھی جس میں 14غیر مسلم تھے اور سب ہندو پاکستانی تھے، چودہ میں ایک مغربی پنجاب سے اور ایک کا پتہ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق کراچی کا ہے باقی سب مشرقی پاکستان موجودہ بنگلا دیش سے تھے دوسری اسمبلی کے 72ممبران میں سے 11غیر مسلمان تھے جن 9ہندو پاکستانی تھی جن میں آٹھ مشرقی پاکستان سے تھے صرف ایک سندھ سے تھے باقی دو مسیحی تھے جن میں سے ایک سی ای گبن پنجاب سے اور دوسرے گومز پال پیٹرمشرقی پاکستان سے تھے اس طرح گیارہ میںسے 9مشرقی پاکستان سے تھے تیسری اسمبلی الیکشن سے منتخب ہوئی جس میں کوئی غیر مسلمان نہ مشرقی پاکستان نہ مغربی پاکستان سے منتخب ہوا چوتھی اسمبلی میں بھی کوئی غیر مسلم جگہ نہ بنا سکا۔ اس طرح پہلی چار اسمبلیوں میں سے دو میں نامزدگیاں ہوئی اور یقینا یہ یہ نامزدگیاں سیاسی اشرافیہ خود ہی کرتی ہوں گی۔ یہ پاکستان کی انتخابی تاریخ کا پاکستانی مسلمان شہریوں کے لئے پہلا دور تھا۔جس میں ایک دفعہ الیکشن اور دو دفعہ سلیکشن کو آزمایا گیا۔
دوسرا دور 1970ءسے شروع ہوا۔ 1970ءمیں جب پہلی دفعہ جنرل الیکشن ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر الیکشن ہوئے تو ان مخلوط الیکشن میں مسیحیوں نے پاکستانی مسیحی لیگ کے پلیٹ فارم سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 33 نشستوں پر الیکشن میں حصہ لیالیکن کہیں کوئی بھی امیدوار اپنا زرضمانت بھی نہ بچا سکا۔
الیکشن کے بعد دو سال جنگ کی تباہ کاریوں اور فوجی سول رسہ گیری اور بھٹو کے بطور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر گزرے۔ ان الیکشن میں مغربی پاکستان سے کوئی غیر مسلمان قومی اسمبلی کے الیکشن نہ جیت سکا۔ لیکن ایک ممبر قومی اسمبلی بنا جس کا حلقہ انتخاب مغربی پاکستان موجودہ بنگلا دیش میں رہ گیا اور ممبر اسمبلی راجہ تری دیو پاکستان کی قومی اسمبلی کا ممبر بنا ان مخلوط الیکشن میں صرف رانا چندر سنگھ الیکشن جیت سکے اور وہ بھی سندھ کی صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں کوئی غیر مسلمان قومی اسمبلی کا ممبر منتخب نہ ہوا کیونکہ راجہ تری دیو جس اسمبلی میں تشریف فرما تھے۔ ان کا حلقہ انتخاب اس اسمبلی کے زیر کنٹرول علاقوں میں نہیں آتا تھا۔ لیکن جب بھٹو نے بطور مارشل ایڈمنسٹریٹر مارشل ریگولیشن 118 کے تحت نجی ادارے قومیائے تو پاکستانی مسیحیوں کے تعلیمی ادارے بھی اس نیشنلائزیشن کی پالیسی کا شکار ہو گئے اور یوں مسیحیوں کو اپنی انتخابی محرومی کا غصہ نکالنے کا بھی موقع مل گیا کیونکہ مسیحی تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے سے تقریباً ہر مسیحی مکتبہ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ سیاسی، مذہبی، سماجی راہنماوں کی قیادت میں جب مسیحی جلوس کے شرکاءنے وزیر اعظم ہاوس کو یاداشت پیش کرنے کے لئے جب وزیر اعظم ہاوس کی طرف پیش قدمی کی تو 30 اگست 1972ءکو اس پرامن جلوس کے شرکاءپر پولیس نے فائرنگ کردی، دو پاکستانی مسیحی آر ایم جیمز اور نواز مسیح شہید ہوئے۔ تاریخ خاموش ہے کہ ان شہداءکے قتل کا مقدمہ کس پر قائم ہوا۔ہوا بھی یا نہیں؟ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس وقت کے مسیحی مذہبی، سیاسی وسماجی کارکنوں پر مقدمات بنائے گئے،کئی ایک کو صوبہ بدر کیا گیا۔جن میں راولپنڈی کے جلوس کی پاداش میں کرنل (ر)جارج ایبل اور پروفیسر سلامت اختر پر اردہ قتل و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات بنائے اور پابند سلاسل کیا۔ جب کہ سیالکوٹ میںاوربہت سے دوسرے مسیحی کارکنوںپر نقص امن جن میں نمایاں عمانوئیل ظفر،گلزار چوہان،، چوہدری اے حمید،ڈاکٹر ار۔ایم حر و دیگر پر مقدمات بنا کر انھیں جیلوں میں ڈالا گیا۔اس سب کے باوجود حکومت کو پسپا ہونا پڑا۔ حکومت نے ادارے تو واپس نہیں کیے۔ لیکن 1973ءکے آئین میں نامزدگی کی بنیاد پر غیر مسلمانوں کو 6قومی اسمبلی سیٹیں دے دی گئی جن میں چار مسیحی ایک ہندو اور ایک احمدی نامزد ہوئے۔ یوں اس جمہوری دور میں بھی غیر مسلمانوں کے ہاتھ صرف نامزدگیاں ہی آئیں اور نامزدگیوں کے انتخاب کے میرٹ کا اندازہ اس لئے لگا لیجیے۔ اسمبلی کی ٹرم کے دوران جب ایک نامزد ممبر کی موت ہوئی تو اس کی جگہ اس کی بیوی نجمہ ایندیوز کو نامزد کر دیا گیا۔لیکن یہ مہربانی صرف قومی اسمبلی کے لئے تھی صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلمان ممبران کی نامزدگی کے لئے 1976ءمیں آئین میں چھٹی آئینی ترمیم کے ذریعے ان دھرتی کے بچوں کے لئے صوبائی اسمبلیوں میں جگہ بنائی گئی، یعنی1973ءکا متفقہ آئین بنانے والے اس سے بات سےءبے خبر تھے کہ اس فیڈریشن کے وفاق کی اکائیوں میں بھی غیر مسلمان دھرتی کے بچے بستے ہیں۔ اس طرح دو مسیحی شہداءکے خون کے بدلے سات لوگوں نے قومی اسمبلی میں بیٹھنے کا مزہ اس طرح لیا۔کہ (ایک بیگم نجمہ ریواز تھی جو اپنے خاوند کی موت کے بعد نامزد ہوئی)
اور اب تک انہی شہداءکے خون کے طفیل تقریباً تین سو کے قریب غیر مسلمان ممبران سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی بن چکے ہیں۔ لیکن شائد ہی کسی کو اس کے لئے جدوجہد کرنے والے اس وقت کے لوگوں اور ان دو شہداءکا نام بھی معلوم ہو۔ پھر 1979ءمیں جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءکے ذریعے حکومت سنبھالی اوریہ طریقہ نامزدگی ضیاءالحق نے 1982ءکی اسمبلی میں بھی قائم رکھا۔جس کو مجلس شوریٰ کا نام دیا گیا اس کے بعد 1985ءسے ایک نئے انتخابی نظام کو غیر مسلمان پاکستانیوں کا مقصد بنایا گیا یعنی جداگانہ انتخابی نظام جو1985ءسے 1997ئ کے عام انتخابات تک جاری رہا جس کی کہانی کچھ یوں ہے۔
1985ءمیں پاکستان کے وجود میں آنے کے تقریباً 38 سال بعد پہلی دفعہ غیر مسلمان پاکستانیوں کی نمائندگی بذریعہ انتخابات دینے کی منظوری دی گئی اس کے طریقہ انتخاب کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے اقلیتوں(غیر مسلمان پاکستانیوں) پر تھوپ دیا گیا۔ جداگانہ طریقہ انتخاب میں اقلیتی ممبران کو قومی اسمبلی کے لئے پورا پاکستان حلقہ بنا کر دیا گیا اور صوبائی نشست کے لئے پورا صوبہ حلقہ بنا دیا گیا۔ جو کہ نمائندگی دینے کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق تھا کہ وہ اچھوتوں کی طرح صرف اپنے ہم مذہب لوگوں سے پورے پاکستان سے ووٹ مانگیں۔ پاکستان کے غیر مسلمان خاص کر مسیحی چند ایک کو چھوڑ کر مالی طور پر ویسے ہی بڑے کمزور ہیںاس انتخابی نظام میں قومی اسمبلی کے لئے حلقہ پورا پاکستان اور صوبائی انتخاب کے لئے حلقہ پورا صوبہ ٹھہرا۔ مسیحیوں کے لئے یہ کڑا امتحان تھا کیونکہ مسیحی تو آباد بھی پورے پاکستان کے ہر صوبے کے ہر شہر اور گاوں میں ہیں۔ لیکن ان بیچاروں نے 1985، 1988ئ، 1990ء، 1993ءاور 1997ءمیں جداگانہ طریقہ انتخاب میں پانچ بار حصہ لیا۔اس نظام کے ثمرات 1999ءتک حاصل ہوتے رہے کبھی کبھار کچھ سر پھرے اس پر آواز اٹھاتے رہے۔ لیکن زیادہ تر شوق ذوق سے ان انتخابات میں حصہ لیتے رہے۔
اس نظام میں غیر مسلمان پاکستانیوں کو اپنے نمائندے تو مل گئے اور غیر مسلمان پاکستانیوں کی سیاسی تربیت بھی ہوئی لیکن اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کے غیر مسلم بچوں کو قومی دھارے سے ہی کاٹ دیا گیا۔ یہ اس نظام کی بہت بڑی خرابی تھی ۔ غیر مسلمان ووٹر کے حلقے کا نمائندہ چاہے وہ کسی بھی ایوان کا رکن ہو یعنی پاکستان کے تینوں ایوانوں سینیٹ، قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا رکن ہو اور اس کا رشتہ غیر مسلمان ووٹر سے محلے داری یا پڑوس کا بھی ہو لیکن اس طریقہ انتخاب میں ووٹر اور حلقے کے نمائندے کو ایک دوسرے کےلئے اچھوت بنا دیا گیا، غیر مسلمان ووٹر اور مسلم امیدوار برائے ممبر قومی یا صوبائی اسمبلی کے درمیان ہزاروں سال پرانے برہمن اور شودر کا رشتہ قائم کردیا گیا۔لیکن آفرین ہے غیر مسلم پاکستانیوں کی راہنمائی کے دعوے داروں پر انہوں نے اس طریقہ انتخاب میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بڑے بڑے عزت دار اس نظام کی بدولت راضی خوشی شودر بننے پر تیار ہوئے۔ قومی دھارے سے کٹ کر بھی ایوانوں کے رکن بن کر خوش ہوئے۔ لیکن اس طریقہ انتخاب میں سب سے بڑا نقصان پاکستان کے عام غیر مسلم شہری کا ہوا۔ جس کا قومی اور صوبائی حکومتوں کے بنانے میں عمل دخل یک لخت ختم کر دیا گیا۔ اس طریقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے اپنی اپنی برادریوں سے ووٹ لے کر منتخب ہونے کے بعد اپنی مرضی سے جس مرضی پارٹی میں شامل ہو جاتے اس طرح یہ جمہوریت کے ساتھ ایک بڑا ظلم تھا۔
اور پھر 1999ءمیں مشرف کی فوجی مداخلت ہوئی۔ اور 2002ئ میں جب الیکشن ہوئے اور کنٹرولڈ جمہوری نظام شروع ہوا تو ڈکٹیٹر نے شودر ووٹروں کے شودر ایم این اے ، ایم پی اے کو بھی برہمن شہریوں کے برابر کر دیا۔ یہ اس نظام کااور ڈکٹیٹر کا انتہائی مثبت قدم تھا۔ جس سے تقریباً78لاکھ غیر مسلم پاکستانیوں کو قومی شناخت مل گئی۔ اور آمر کے ذریعے پاکستان کے جمہوری عمل کا حصہّ بن گئے،لیکن مذہبی شناخت پر مخصوص نشستوں پر نامزدگی کا استحقاق سیاسی اشرافیہ نے اپنے پاس رکھ لیا۔گوکہ اس نظام میں مخلوط انتخابات کی بدولت،ہر پاکستانی امیدوار ہر پاکستانی ووٹر سے مذہب مسلک رنگ نسل سے بالاتر ہو کر ووٹ مانگ سکتا ہے۔
لیکن پتہ نہیں ( چند ہندوپاکستانیوں کی ایک دو مثالوں کو چھوڑ کر) غیر مسلمان پاکستانی شہریوں کی سیاسی پسماندگی ہے یا نالائقی یا غلامی کی خوبوہے، جو ہمارے لہو میں رچ بس گئی ہے، یا سیاسیی اشرافیہ کی ناکامی ہے کہ آج تک چند ہندو پاکستانیوں کی مثالوں کو چھوڑ کر ملک بھر میں کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے کسی حلقے میں کسی مسیحی یا دیگر غیر مسلمان سیاسی شخص کو چاہیے وہ جتنا بھی بڑا سیاسی گرو اپنے آپ کو سمجھتا ہو کو ان کے سیاسی آقاوں نے میرٹ پر ٹکٹ نہیں دیا۔ اور اسے پاکستانی امیدوار بنا کر پاکستانی ووٹروں کے سامنے پیش نہیں کیا۔یہ پاکستانی سیاسی قائدین کی دیگر کمزوریوں میں سے ایک بڑی کمزروی ہے۔ اور مسیحی سیاسی کارکنوں کی سیاسی قابلیت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔
پتہ نہیں آج تک ان میں سے کوئی اس میرٹ پر پورا کیوں نہیں ا±ترا؟ (گو کہ اس کی کئی تاریخی ،سیاسی ،مذہبی وسماجی وجوہات ہو سکتی ہیں) مثلاً ہماری سیاسی اشرافیہ آج تک اپنے سیاسی پیروکاروں کی تربیت نہیں کر سکی کہ وہ اپنے امیدوار کو سیاسی منشور پر ووٹ دیں، نہ کہ برادری مذہب رنگ اور نسل کی بنیاد پر ساتھ ہی اس نظام میں پھر سیاسی اشرافیہ نے غیرمسلمان پاکستانی شہریوں کے مذاہب کی بنیاد پر نمائندگی کرنے والوں کو چننے کا حق پھر متناسب نمائندگی کے نام پر اپنے پاس رکھ لیا ہے اور غیر مسلم پاکستانیوں کے نام پر اپنے ایسے ایسے من پسند غلاموں اور طفیلیوں کو غیر مسلمانوں کا نمائندہ (حکمران) بنا کر بٹھایا بلکہ ان کے سروں پر مسلط کردیا جاتا ہے جن کا ان سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔اس لئے اگر کبھی جس مذہبی گروہ کی وہ نمائندگی کرتے ہیں اس برادری کے اور ان کے سیاسی آقاوں کے مفادات میں ٹکراو ہو تو وہ اپنے سیاسی آقاوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ناکہ ان بیچارے معصوم محرومیوں اور پسماندگیوں کے مارے ہووں کے ساتھ جن بیچاروں کی محرومیوں کے نام پر وہ اپنے تیس تیس سکے کھرے کر رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ اس میں حق بجانب بھی ہیں۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے، انسان اسی کو جواب دہ ہوتا ہے جس نے اسے کسی منصب پر بٹھایا ہو۔ ناکہ اسے جس کے نام پر بٹھایا ہو ( اس کی ایک مثال ہماری سیاسی اشرافیہ کا رویہ بھی ہے جو مبینہ طور پر بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ جواب دہ ہوتی ہے بہ نسبت عام پاکستانی کے) متناسب نمائندگی کے اس طریقہ انتخاب نے اور بھی بڑی سماجی برائیوں کو جنم دیا ہے مثلاً خوشامد، چاپلوسی، سیاسی پارٹیوں کے ورکروں کی ایک دوسرے سے حسد و نفرت اور دیگر اس طرح کی اور کئی قباحتیں اس نظام کی پیداوار ہیں۔ جس میں یقیناً سب سے بڑی غیر جمہوری روایات یہ ہے کہ 3630056ووٹروں کے 37نمائندے تین یا چار سیاسی لیڈر سلیکٹ کرتے ہیں۔
اب ان نام نہاد نمائندوں نے نمائندگی خاک کرنی ہوتی ہے وہ اپنے نامزد کرنے والے آقاوں کے مفادات کے ایوانوں میں رکھوالے ہوتے ہیں۔ناکہ اپنے ان ہم عقیدہ لوگوں کے جن کے نمائندہ ہونے کے وہ دعوے دار ہوتے ہیں۔ اور وہ یقینا اس میں حق بجانب ہوتے ہیں نام چاہے غیر مسلمان پاکستانی شہریوں کا ہوتا ہے لیکن وہ عہدے حاصل تو کسی اور ہی کے ذریعے کرتے ہیں۔
اس نظام کے تحت2002ء،2008، 2013ء، اور2018ءکے انتخابات ہو چکے ہیں۔ ہر بار کم از کم 37غیر مسلم اور کئی بار چالیس بیالیس بھی(خواتین کی مخصوص نشستوں کی وجہ سے مخصوص 37 سیٹوں کے علاوہ بھی کچھ خواتین قومی و صوبائی ایوانوں میں جا بیٹھتی ہیں) اور ان جمہوری غلاموں کو نامزد کرنے کا ایک معیار یہ تک بھی رہا ہے کہ ایک دفعہ حکمران خاندان کی خواتین کی ایک بیوٹیشن بھی آئین سازی کے لئے مخصوص ایوان کا حصہ بن کر ایم این اے کا منصب جلیلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
اب اگر ہم اس ستر سالہ سیاسی المیے کو چند لفظوں میں بیان کریں۔تو وہ یوں ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کبھی سیاسی اشرافیہ نے متناسب نمائندگی کے ذریعے نامزدگی سے اپنی مرضی کے نمائندے ایوانوں میں اپنے ساتھ بٹھا لئے تو کبھی مخلوط انتخابی نظام کی بدولت انہیں ایوانوں سے دور رہنا پڑا پھر جداگانہ انتخابی نظام کی بدولت ان دھرتی واسیوں کو ان کی قومی شناخت سے ہاتھ دھونے پڑے اور اب مخلوط کی بدولت انہیں اپنی قومی شناخت تو مل گئی لیکن متناسب نمائندگی کے نام پر ان خاک نشینوں کے نام پر چند جمہوری غلاموں کو ایوانوں میں بٹھا لیا جاتا ہے۔
اس لئے غیر مسلمان پاکستانیوں کے لئے ایسا سیاسی نظام درکار ہے ،جس میں وہ اپنی پاکستانی قومی شناخت کے لیے اپنے حلقے کا نمائندہ منتخب کریں۔اپنے مذہبی حقوق کے مفادات کے لیے اپنے مذہبی نمائندے بھی اپنے ووٹ سے ہی منتخب کریں کیونکہ نہ تو ہماری سیاسی نشوونما کے لئے ایسا مخلوط طریقہ انتخاب بہتر ہے جس میں ہماری نمائندگی ہی نہ ہو اور متناسب نمائندگی والی جمہوریت کے ذریعے نامزدگی کے نام پر آمرانہ طور طریقوں سے سیاسی جماعتوں کے منظورِ نظرکارکنوں کو ہمارا رہنما چن لیا جائے اور نہ ہی جداگانہ طریقہ انتخاب ہمیں مکمل پاکستانی اور آزاد شہری ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ بلکہ معاشرے اور سماج میں اچھوت بنا کر رکھ دیتا ہے۔
لہٰذا پاکستان میں غیر مسلمان پاکستانیوں کو مکمل پاکستانی اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے دوہرے ووٹ کا حق دیاجائے جس میں ان کی قومی شناخت بھی قائم رہے اور ان کی مذہبی شناخت کے نام پر جو لوگ ایوانوں میں پہنچے انہیں بھی منتخب کرنے کا اختیار ان کے پاس ہو۔ یعنی ایک ووٹ وہ اپنے حلقے میں اپنی قومی ، صوبائی ضلعی، تحصیل و یوسی میں دیں اور دوسرا ووٹ اپنی شناخت پر ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اپنے ووٹ سے منتخب کرنے کے لئے دیں۔
اس طریقہ انتخاب میں وہ اپنی پاکستانی قومی شناخت کے لئے اپنے قومی اور صوبائی حلقے کا نمائندہ منتخب کریں اور اپنے مذہبی حقوق اور مفادات کے لئے اپنے مذہبی شناخت پر ایوانوں میں بیٹھنے والے نمائندے بھی اپنے ووٹ سے ہی منتخب کریں۔ اس نظام انتخاب کی تفصیلات مثلاً حلقہ بندیاںاور دیگر خدوخال آبادی کے اعدادو شمارو مختلف انتظامی اکائیوں کی جغرافیائی حدود سامنے رکھ کر اور معروضی حالات کے مطابق وضع کئے جا سکتے ہیں۔ اسی میں پاکستانی اقلیتوں کی سیاسی بقاءاور اسی میں پاکستان کے جمہوری نظام کی بقاءبھی ہے۔گوکہ یہ بھی کوئی بڑی آئیڈیل صورت حال نہیں ہو گی، کیونکہ اس آئینی ترمیم کے باوجودِ آئین پاکستان کی کئی شقیں پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کے بنیادی شہری وانسانی حقوق سے متصادم ہیں۔لیکن پاکستان کے یہ امن پسند شہری اپنے ریاستی اداروں کی مجبوریوں، کمزوریوں کی بدولت ان سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔اس لیے یہ بے ضرر سی آئینی ترمیم غیر مسلم شہریوں کے لئے بڑا ریلیف ہوسکتی ہے یہ بات قابل غور ہے کہ مختلف ادوار میں ریاستی اداروں اور حکومتوں نے مختلف طریقوں سے غیر مسلم پاکستانیوں کو انتخابی نظام سے مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے جس کی ایک مثال موجودہ نظام میں قومی شناخت کے ساتھ مذہبی شناخت پر مخصوص نشستوں کے ذریعے نمائندے دینے کی کوشش ہے۔ لیکن جامع منصوبہ بندی اور فکری بحث نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم پاکستانی ان طریقوں سے مطمئن نہیں ہوئے بس اس نظام کو زمینی حقائق اور ملک کی انتظامی آکائیوں میں غیر مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے حلقہ بندیوں کے ساتھ ان مخصوص نشستوں کے لئے ہر مذہبی گروہ کے نمائندوں کو چننے کا حق اس مذہبی گروہ کو دے دیا جائے جن کی مذہبی شناخت کی نمائندگی وہ مختلف ایوانوں میں کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ان کی قومی، صوبائی ، ضلعی ، تحصیل اور یو سی سطح کی قومی نمائندگی کو بھی برقرار رکھا جائے اس تھوڑی سی کوشش سے غیر مسلم پاکستانی شہریوں کو سیاسی طور پر مطمئن کرکے ان کے دیگر فکری، شعوری، تعلیمی، معاشی، سماجی، معاشرتی، علمی مذہبی، تہذیبی اور سیاسی مسائل کا بھی سدباب کیا جاسکتا۔
کیونکہ اب تک غیر مسلم پاکستانی شہریوں پر تھوپے گئے طرزِ انتخابات سے ایک میں قومی شناخت کھو جاتی ہے اور دوسرے میں مذہبی شناخت اور حقوق کے نام پرمنتخب ہونے والے نمائندے تحفظ کسی اور کے مفادات کا کرتے ہیں اس جمہوری نظام کی بقا ،غیر مسلمان پاکستانیوں کو مطمئن کرنے سے مشروط ہے۔ کیونکہ آج کے ترقی اور تہذیب یافتہ دور میں کسی بھی ملک کی سیاسی ،سماجی و مادی ترقی کا ایک معیاریہ بھی ہے کہ وہاں کے رنگ نسل مذہب مسلک کی بنیاد پر اقلیت قرار دیئے گئے شہری اپنے سیاسی و سماجی معاملات سے کتنے مطمئن ہیں اور وہاں کی اقلیتیں اپنے سماجی ، مذہبی اور سیاسی حقوق سے کتنی مطمئن ہیں۔ پاکستانی معاشرے اور سیاسی نظام میں غیر مسلم پاکستانیوں کی کیا اہمیت ہے یہ اس کے ایک پہلو کا جائزہ ہم ان دستیاب اعدادو شمار سے کرتے ہیں۔
پاکستان بھرمیں غیر مسلمانوں کے مجموعی ووٹ توصرف3630056 ہیں لیکن یہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا کے ایک سروے مطبوعہ اگست2012 کے مطابق 2008ءکے انتخاب میں پاکستان بھر کی 59انتخابی حلقے ایسے تھے جن میں غیر مسلمان پاکستانی ووٹروں کی تعداد ہارنے والے اور جیتنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کی تعداد سے زیادہ تھی اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق قومی اسمبلی کی 98 انتخابی حلقے ایسے ہیں جہاں غیر مسلمان ووٹروں کی تعداد دس ہزار یا اس سے زیادہ ہے اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق پاکستان بھر کے چودہ اضلاع میں مسیحی ووٹروں کی تعداد پچاس ہزار یا اس سے زیادہ ہے جن میں 13اضلاع پنجاب کے ہیں اور ایک ضلع کراچی کا ہے اسی تحقیق کے مطابق پاکستان بھر میں ہندو ووٹروں کی تعداد11اضلاع میں پچاس ہزار یا اس سے زیادہ ہے جن میں 10سندھ میں اور ایک پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ہے۔ اس لئے جب مختلف پارٹی سیٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے غیر مسلم امیدواروں کو غیر مسلم ووٹروں کے سامنے میدان میں اتاریں گی۔ تو یقیناً پھر اپنے اپنے امیدوار کو جتوانے کے لئے قومی سطح پرغیر مسلمانوں کے لئے اپنے اپنے منشور میں ان کے مسائل کوبھی جگہ دیں گی ۔ جس سے ملک بھر میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کی فضا قائم ہو گی اور ملک میںایسے ناخوشگوارواقعات میں کمی آئے گی جن سے آئے دن وطن عزیز کو عالمی طاقتیں اور استعماری قوتیں مذہبی اقلیتوں سے ظلم زیادتی کے طعنے دیتی ہیں۔ پاکستانی قوم کا وقار اقوام عالم میں بلند ہو گا غیر مسلم پاکستانی اپنی قومی اور مذہبی شناخت ملنے پر مطمئن ہوں گے۔
اوپر بیان کئے گئے تاریخی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ اس ساری صورت احوال کے سیاسی اشرافیہ کے ساتھ ہم خود بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ مخلوط طریقہ انتخاب میں ہم میرٹ پر کچھ حاصل نہ کر سکے تو ہم نے جداگانہ طریقہ انتخاب کا نا نعرہ لگایا ، جدا گانہ طریقہ انتخاب میں ہم اچھوت بن گئے تو زیادہ تر اس اچھوت حیثیت میں بھی مفاد تلاش کرتے رہے لیکن چند سر پھروں نے پھر مخلوط کا نعرہ لگایا پھر مخلوط ملا تو اب پھر ہم اچھوت بننے کے لئے جداگانہ مانگ رہے ہیں تاکہ اس اچھوت نظام میں سے بھی کچھ کے لئے زلت آمیز رفتیں نکل آئیں، یعنی ہم نے 73 سالوں میں کچھ سیکھا نہیں اور مسیحی جو برصغیر میں تعلیم کے بانیوں اورسیاسی ، سماجی شعور و آگاہی دینے والوں کے جانشین ہیں پورے ملک میں پھیلے تعلیمی اداروں کے مالک ہیں لیکن وہ اپنے لوگوں یعنی مسیحیوں کی فکری وشعوری تربیت نہ کر سکے اور ہندو جوسوبھوگیان چندانی جیسے سیاسی گروں کے جانشین ہیں۔ وہ بھی کوئی فکری چھوڑ کسی بھی قسم کی جدوجہد نہ کر سکے اور دیگر مذہبی اقلیتیں تعداد انتہائی کم ہونے کی وجہ سے اس طرح کی کسی جدوجہد کا حصہ ہی نہ بن سکی“۔
اس طرح قیام پاکستان سے لے کر اب تک بڑے جمہوریت پسند انصاف پسند ، مساوات پسند اور بکتر بند والے بھی آئے لیکن 15بارپاکستانی قومی اسمبلی اور لگ بھگ اتنی ہی بار صوبائی اسمبلیاں اور 1973ءکے آئین کے بعد سینیٹ بھی کئی بار بنتی دیکھی، اس ساری انتخابی تاریخ میں سوائے ان چند جو کہ(تقریباً تین سو بنتے ہیں) سینیٹر ممبران و قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی ہندو مسیحی، سکھ ، پارسی احمدی ملا کر تقریباً تین سو لوگوں کے بھی کوئی غیر مسلمان پاکستانی مطمئن نہ تھا نہ ہے اور اگرکچھ کے لئے غیر سنجیدہ کھیل کچھ کے لئے المیہ اور کچھ کے لئے سنہری موقع فراہم کرتا طریقہ انتخاب ایسے ہی جاری رہا تو نہ تقریباً78 لاکھ غیرمسلمان پاکستانی اس سے کبھی بھی خوش اور مطمئن نہ ہوں گے ۔
حد تو یہ ہے کہ غیر مسلمان پاکستانیوں کے ساتھ یہ اتنا گھناونا مذاق ہے۔ ان300 میں سے آج کل والے 37 بھی کئی کبھی کبھار کھلے عام اور زیادہ تر بند کمروں میں ا پنے ہم مذہبوں کی محفلوں میں ان انتخابی نظاموں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اس نظام سے مفادات بھی وابستہ ہو جاتے ہیں باقی سارے غیر مسلم پاکستانی ان انتخابی نظاموں سے کبھی بھی مطمئن نہیں ہوئے بلکہ بند کمروں میں اس نظام سے مستفید ہونے والے بھی ان نظاموں کی عیب جو یاں کرتے نظر آتے ہیں یقینا یہ 73سالہ غیر مسلمان پاکستانی شہریوں کا یہ سیاسی،انتخابی المیہ ہماری ارسطو، سقراط کی سطح کی سیاسی بصریت کی حامل سیاسی و دانش ور اشرافیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ جب کہ یہ المیہ غیر مسلم پاکستانی شہریوں کی بے چینی کا باعث ہے۔
سیاسی اشرافیہ جو غیر مسلم پاکستانیوں کے تہواروں پر انہیں اپنا بھائی قرار دیتی ہے۔ لیکن ان کی اپنے ان بھائیوں کی قومی، سیاسی و مذہبی شناخت و ضرورتوں کے لئے غیر سنجیدگی و لاپرواہی کی ایک مثال موجودہ 2018ءتا 2023ءکی پنجاب اسمبلی سے دی جا سکتی ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کی بدولت 2017ءکی افراد شماری کے مطابق پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں آباد تقریباً پونے دو لاکھ ہندو آبادی کے لئے کوئی ایم پی اے موجود نہیں ہے۔
اس اہم انتخابی مسئلے سے سیاسی و ریاستی اشرافیہ کی عدم دلچسپی اور اسی طرح کے دیگر امتیازی قوانین کی ضمنی پیداوار امتیازی، سماجی و معاشرتی رویوں کی بدولت جنم لینے والے سانحات کے انسداد پیداواری(کاونٹر پروڈکٹیو) نتائج ہوتے ہیں جس کے بھیانک نتائج پاکستانی ریاست، حکومت اور قوم کو بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ لہٰذاایک اچھا انتخابی نظام غیر مسلمان پاکستانیوں اورپاکستانی قوم کو ایسے نقصانات سے بچاسکتا ہے اور یہ اب تک کیوں نہیں ہو سکا؟ یہ ہمارے سیاسی دانشوروں اور سیاسی حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔”
وطن عزیز کے غیر مسلم پاکستانی شہریوں آپ کو یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے۔ کہ سب سے پہلے اس خط کو بغور پڑھیں اور اس کے بعد سمجھیں۔ پھراگر آپ اس خیال سے متفق ہیں اور اس انتخابی نظام کےلئے کوشش کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس میں اس طرح حصہ ڈال سکتے ہیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں بس ہم غیر مسلم شہری اپنے لوگوں کو یہ بات پوری طرح سمجھا دیں، کہ ہمارے ساتھ 73 سال میں ہوا کیا ہے بس اس کی ہمیں سمجھ ہو کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے اس کے لئے ماضی اور حال کا جاننا ضروری ہے کیونکہ ماضی اور حال جانے بغیر مستقبل کا ادراک ہو ہی نہیں سکتا بقول محمود شام
خود بخود ہو گی فہم مستقبل
ماضی و حال کو سمجھ پہلے
اس لئے ہمیں پہلے ہر خاص و عام غیر مسلم پاکستانی شہری تک ماضی و حال کے طرز انتخابات کی خوبیاں ، خامیاں پہنچانی ہیں تاکہ دوہرے ووٹ کے اس فارمولے کے بارے میں جان سکیں۔ کیونکہ باخبر شہری ہی بااختیار شہری ہو سکتا ہے پھر مسلمان سیاسی اشرافیہ کو قائل کرنا کوئی مشکل نہیں۔اس لئے عام غیر مسلم شہری کوباخبر اور بااختیار بنانے کی اس مہم کیلئے اس خط کو اپنے گر جا گھروں، گردواروں، مندروں یا جہاں بھی آپ کے مذہبی اجتماع ہوتے ہیں وہاں لوگوں میں تقسیم کریں اور ہماری ہندو برادری چونکہ زیادہ اندرون سندھ میں ہے تو وہ اسے سندھی میں ترجمہ کروائیں اوراپنے لوگوں کی فکری، شعوری، سماجی اور خاص کر سیاسی آگاہی کیلئے لوگوں میں پھیلائیں کیونکہ اس طرح کی فکری آگاہی سے ہی انسان سماجی معاشرتی، معاشی، تعلیمی تہذیبی ترقی کی منازل طے کرتا ہے۔پھر اس کے بعدہماری شناخت پر سینیٹ، اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں کو قائل کریں۔ کہ وہ بھی مشترکہ طور پر اس انتخابی نظام کے لئے آواز اٹھائیں جس میں غیر مسلم پاکستانیوں کی قومی شناخت یعنی پاکستانی شناخت بھی قائم رہے اور ہر کسی کی مذہبی شناخت اور مفادات کا بھی ایوانوں میں تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
تحریک شناخت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں نہ ہی یہ کوئی این جی او ہے جو اپنے آقاوں کی ہدایات پر کسی خاص نظریے کی پرچارک ہے۔یہ بنیادی طور پر پاکستانی مسیحیوں کی دھرتی سے نسبت آزادی ہند، قیام تعمیر و دفاع پاکستان میں ان کے اجداد اور موجودہ نسلوں کے شاندار کردار کے ذریعے مسیحیوں کی پاکستانی معاشرے میں قابل فخر شناخت کو اجاگر کرنے کی فکری تحریک ہے ایسی فکری تحریک جو نہ صرف پاکستانی مسیحیوں بلکہ غیرمسلمان پاکستانیوں کو پاکستانی معاشرے میں درپیش مسائل و خطرات اوردستیاب موقعوں ان کی توانائیوں، کمزوریوں کا حقیقت پسندانہ تخمینہ لگا کر ان کا تجزیہ طکمخ کر کے اس ملک کے غیرمسلمان شہریوں کے لئے عزت سے جینے کے اسباب پیدا کرنے میں کوشاں ہے۔
اس فکری تحریک میں کوئی عہدے دار نہیں ہر کوئی رضا کار ہے آپ بھی اس فکر کو پھیلانے میں اس کے رضا کار ہو سکتے ہیں۔ چاہے آپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہے آپ عام ورکر ہیں یا رہنما آپ کسی سماجی بھلائی کی تنظیم سے وابسطہ ہیں یا عام مسلم پاکستانی شہری ہیں ،جو ان غیر مسلمان پاکستانیوں کو مکمل پاکستانی جان کر ا ن کی اپنی اپنی مذہبی شناخت کے تحفظ کے لئے ایوانوں میں ان کے نمائندے پہنچانے کے حق میں ہیں تو آپ اپنی وہ شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی اس فکری جدوجہد میں ہمارے ساتھی ہو سکتے ہیں حتی کہ ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے بہن بھائی بھی اس میں ضرور حصہ لیں۔ کیونکہ کل جب یہ انتخابی نظام نافذ العمل ہو گا تو آپ بھی یقنیا اس نظام کے ذریعے انتخابات میں حصہ لیں گے، تو تب لوگ آپ کے بارے میں بقول محسن بھوپالی یہ نہ کہیں۔
نیرنگئی سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ فکری بنیادوں پر استوار یہ مہم اپنے مقاصد ضرور حاصل کرے گی اس لئے اگر آپ سیاسی رہنما ہیں تو پھر تو ضرور اس مہم کا حصہ بنیں۔ اس لئے آئیں اس آگاہی مہم کو پھیلانے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ غیر مسلم پاکستانیوں کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بنیادی شہری و سیاسی حقوق کے لئے یہ انتخابی نظام وضع کروایا جا سکے۔

اعظم معراج
رضا کار ،تحریک شناخت پاکستان

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *