غیر مسلمان پاکستانیوں کے نام کھلا خط ۔۔۔۔۔اعظم معراج

پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی شناخت پر سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اس وقت 37لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں ہندو اورمسیحی سب سے زیادہ ہیں سکھ و دیگر برادریوں سے بھی چند ہیں لیکن اس کے باوجود مذہبی شناخت کی بدولت جب بھی کسی مذہبی گروہ کو کسی امتیازی رویے، امتیازی قوانین، سماجی ناانصافی ، معاشرتی، ظلم زیادتی یا جبری تبدیلی مذہب طرح کی کسی ظلم زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو متعلقہ برادری کی شناخت پر ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے شازو نادر ہی کوئی آواز سنائی دیتی ہے۔

اس رویے کی بدولت غیر مسلمان پاکستانی جو کہ 2017ءکی افراد شماری کے مطابق3303615 مسیحی3324392ہندو جاتی 519436 شیڈول کاسٹ457104 احمدیوں145442 سکھ، پارسی و دیگر غیر مسلمان پاکستانی جو مجموعی طور پر 7749988 بنتے ہیں اوران 7749988 کے ووٹوں کی تعداد 29مارچ2018ءکے الیکشن کمیشن کے علامیے کے مطابق ہندو ووٹرز1777289 مسیحی ووٹر1638748 اور دیگر غیر مسلمان شہریوں کے ووٹوں کی تعداد 210330 جو کہ مجموعی طور پر 3626365ووٹ بنتے ہیں۔لیکن یہ سارے ووٹر اتنے نمائندے ہونے کے باوجود اپنے آپ کو لاوارث اور سیاسی یتیم سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو ہمارا سماجی ناانصافی پر مبنی معاشرہ ہے جو کہ کمزور کیلئے بالکل غیر محفوظ ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب رنگ فرقے اور مسلک سے ہو۔ لیکن غیر مسلم پاکستانیوں کی بے چینی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے حلقے کے ایم این اے، ایم پی اے ایسی صورت میں جب ایسی کسی صورت حال کا سامنا عددی اعتبار سے کسی چھوٹے گروہ کو ہو تو عموماً ایسی صورت میں حلقے کا نمائندہ زیادہ ووٹوں والی برادری کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور متعلقہ برادری کا نمائندہ کیونکہ اپنی برادری کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آتا لہٰذا وہ ایسی صورت میں اپنی پارٹی مفادات کے ساتھ ہوتا ہے ناکہ متعلقہ برادری کے ساتھ اور اس میں اس بیچارے کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہمیں جواب دے نہیں ہے لہٰذا اس کی ہمدردی اسی کے ساتھ ہو گی جس نے اسے چاہے ہماری شناخت پر ہی لیکن جنبش قلم سے سینیٹر، ایم این اے یا ایم پی اے بنا دیا ہوتا ہے۔

اس کے لئے یقیناً وطن عزیز کی سیاسی اشرافیہ بھی ذمہ دار ہے اور ہم عام لوگ بھی اور ہمارے سماجی، مذہبی، سیاسی رہنما بھی ۔ جو آج تک کوئی ایسا انتخابی نظام وضع ہی نہیں کروا سکے۔ جس سے اس ملک کے تقریباً اٹھتر لاکھ دھرتی کے بچوں جو کہ اس ملک میں آزادی ہند، قیام پاکستان، تعمیر پاکستان اور دفاع پاکستان میں بھی دھرتی کے دوسرے بچوں کے ساتھ پیش پیش رہے ہیں۔ وہ چاہے روپلو،کولہی ہو جوگندر ناتھ منڈل ہوں جسٹس بھگوان داس ہوں، صوبوگیان چندانی ہوں یا دیگر ایسے ہزاروں پاکستان کے قیام تعمیر و تشکیل کے معمار ہوں ۔ سردار ہری سنگھ ہو جنہوں نے قائد کی آواز پر اپنے خاندان کے 129 افراد کی قربانی دے کر امرتسر سے لاہور ہجرت کی ہو۔ یا راجہ تری دیو ہو جس سے اپنی راج دہانی (ریاست) چھوڑ کر سقوط ڈھاکہ کے بعد قائد کے وطن سے اپنی آخری سانسوں تک وفاداری نبھائی۔ اس میں وہ بے شمار پارسی جو جدید کراچی کے معمار ہیں ان کی خدمات بھی کسی سے کم نہیں اس طرح اس ملک کے مسیحی بچے بھی دوسرے پاکستانی مسلم و غیر مسلم پاکستانیوں کی طرح اس دھرتی کے بچے ہیں۔ آزادی ہند کے سپاہی بھی ہیں قوم و معاشرے کے معمار بھی ہیں اور محافظ، غازی اور شہید بھی ہیں غرض یہ اٹھتر لاکھ کے قریب غیر مسلمان دھرتی کے بچے آج بھی دن رات اپنی اپنی بساط کے مطابق اس ملک قوم و معاشرے کی تشکیل میں مصروف عمل ہیں۔لیکن ان سب حقائق کے باوجود بھی یہ پاکستانی شہری اپنے بنیادی سیاسی حقوق سے کیوں محروم رہے اس کے لئے ہم غیر مسلم پاکستانیوں کے لئے وضع کئے گئے اب تک انتخابی نظاموں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں ستر سال میں ان دھرتی واسیوں کے لئے کون کون سے انتخابی نظام تھوپے گئے اس کے لئے یہاںمیں تحریک شناخت کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے لکھی گئی میری کتب میں سے ایک کتاب” دھرتی جائے کیوں پرائے؟“ سے اقتباس پیش کرتا ہوں۔
”ہماری اس سیاسی پسماندگی کی ریاست بھی ذمہ دار ہے ریاست اس لئے کیونکہ 70 سالوںمیں ایسا انتخابی نظام نہیں دے سکی جس سے ہماری سیاسی تربیت ہوتی۔ریاست کی اس ذمہ داری کو پورا نہ کرنے کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کو ریاست کے اپنے غیر مسلمان شہریوں پر پچھلے 70سالوں میں تھوپے گئے۔

انتخابی نظام کا بغور مطالعہ کریں تو جو نچوڑ نکلتا ہے وہ کچھ یوں ہے۔ 1947ءسے لے کر 1970ءتک پہلے 22، 23 سال نامزدگیاں ہی ہوتی رہیں، اس کے بعد 1970ءسے 1976ءتک جو تقریباً 5، 6 سالہ دور جب پوری قوم جمہوریت کے گیت گا رہی تھی توغیر مسلمان پاکستانیوں میں سے صرف ایک ہندو رانا چندر سنگھ اور دوسرے بدھسٹ راجہ تری دیورائے، جن کے ووٹر بنگلادیش رہ گئے تھے اور لیڈر پاکستان کی اسمبلی میں ان کی نمائندگی کررہاتھا۔اس کے علاوہ مسیحی، سکھ، پارسی اور دیگر غیر مسلم پاکستانی یہ جمہوری دور دُور دُور سے ہی بغیر کسی نمائندہ کے انجوائے کررہے تھے۔ تیسرا دور تقریباً 8 یا 9 سال پر محیط ہے اس میں جمہوریت پسندوں اور آمروں نے غیر مسلمان پاکستانیوں کو ایک نظر سے ہی دیکھا اور اس دور میں کٹھ پتلی نمائندے نامزد ہوتے رہے جو نمائندے تو اپنی اپنی مذہبی کمیونٹی کے ہوتے ہیں لیکن دراصل وہ رکھوالے اپنے نامزد کرنے والوں کے مفادات کے ہوتے۔ چوتھا دور جو کہ تقریباً چودہ سال پر محیط ہے اس میں پاکستان کی 38 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر مسلمان پاکستانیوں کو اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق دیا گیا۔

1985ءمیں پاکستان کے وجود میں آنے کے تقریباً 38 سال بعد پہلی دفعہ غیر مسلمان پاکستانیوں کی نمائندگی بذریعہ انتخابات دینے کی منظوری دی گئی اور اس کے طریقہ انتخاب کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے اقلیتوں پر تھوپ دیا گیا۔ اس طرح جداگانہ طریقہ انتخاب میں اقلیتی ممبران کو قومی اسمبلی کے لےے پورا پاکستان حلقہ بنا دیا گیا اور صوبائی نشست کے لےے پورا صوبہ حلقہ بنا دیا گیا۔ جو کہ نمائندگی دینے کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق تھا کہ وہ اچھوتوں کی طرح صرف اپنے لوگوں سے پورے پاکستان سے ووٹ مانگیں۔ پاکستان کے غیر مسلمان خاص کر مسیحی چند ایک کو چھوڑ کر مالی طور پر ویسے ہی بڑے کمزور ہیںاس انتخابی نظام میں قومی اسمبلی کے لئے حلقہ پورا پاکستان اور صوبائی انتخاب کے لئے حلقہ پورا صوبہ ٹھہرا۔ مسیحیوں کے لئے یہ کڑا امتحان تھا کیونکہ مسیحی تو آباد بھی پورے پاکستان کے ہر صوبے کے ہر شہر اور گاؤں میں ہیں۔ لیکن ان بیچاروں نے 1985، 1988ئ، 1990ء، 1993ءاور 1997ءمیں جداگانہ طریقہ انتخاب میں حصہ لیا۔

اس نظام میں غیر مسلمان پاکستانیوں کو اپنے نمائندے تو مل گئے اور غیر مسلمان پاکستانیوں کی سیاسی تربیت بھی ہوئی لیکن اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کے غیر مسلم بچوں کو قومی دھارے سے ہی کاٹ دیا گیا۔ یہ اس نظام کی بہت بڑی خرابی تھی یعنی غیر مسلمان ووٹر کے حلقے کا نمائندہ چاہے وہ کسی بھی ایوان کا رکن ہو یعنی پاکستان کے تینوں ایوانوں سینیٹ، قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا رکن ہو اور اس کا رشتہ غیر مسلمان ووٹر سے محلے داری یا پڑوس کا بھی ہو لیکن اس طریقہ انتخاب میں ووٹر اور حلقے کے نمائندے کو ایک دوسرے کےلئے اچھوت بنا دیا گیا، یعنی غیر مسلمان ووٹر اور مسلم امیدوار برائے ممبر قومی یا صوبائی اسمبلی کے درمیان ہزاروں سال پرانے برہمن اور شودر کا رشتہ قائم کردیا گیا۔لیکن آفرین ہے غیر مسلم پاکستانیوں کی راہنمائی کے دعوے داروں پر انہوں نے اس طریقہ انتخاب میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بڑے بڑے عزت دار اس نظام کی بدولت راضی خوشی شودر بننے پر تیار ہوئے۔ اور قومی دھارے سے کٹ کر بھی ایوانوں کے رکن بن کر خوش ہوئے۔ لیکن اس طریقہ انتخاب میں سب سے بڑا نقصان پاکستان کے عام غیر مسلم شہری کا ہوا۔ جس کا قومی اور صوبائی حکومتوں کے بنانے میں عمل دخل یک لخت ختم کر دیا گیا۔

اس طریقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے اپنی اپنی برادریوں سے ووٹ لے کر منتخب ہونے کے بعد اپنی مرضی سے جس مرضی پارٹی میں شامل ہو جاتے اس طرح یہ جمہوریت کے ساتھ ایک بڑا ظلم تھا ۔اس پر باشعور غیر مسلمان پاکستانیوں نے شور مچایا تو پھر غیر مسلمان پاکستانیوں کے لیے پانچواں اور موجودہ دور شروع ہوا جو اب تقریباً 2002ءسے آج 2019ءتک یہ سطریں لکھے جانے تک 17 سال کا ہو چکا ہے۔ اس نظام میں غیر مسلمان پاکستانیوں کو پاکستانی ہونے کا احساس تو ہوگیا ہے اور وہ قومی دھارے میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔لیکن پتہ نہیں ( چند ہندو پاکستانیوں کی ایک دو مثالوں کو چھوڑ کر) غیر مسلمان پاکستانی شہریوں کی سیاسی پسماندگی ہے یا نالائقی یا غلامی کی خوبوہے جو ہمارے لہو میں رچ بس گئی ہے کہ آج تک چند ہندو پاکستانیوں کی مثالوں کو چھوڑ کر ملک بھر میں کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے کسی حلقے میں کسی مسیحی یا دیگر غیر مسلمان سیاسی شخص کو چاہیے وہ جتنا بھی بڑا سیاسی گُرو اپنے آپ کو سمجھتا ہو کو ان کے سیاسی آقاوں نے میرٹ پر ٹکٹ نہیں دیا۔
(یا ان میں سے کوئی اس میرٹ پر پورا ہی نہیں اُترا گو کہ اس کی کئی تاریخی ،سیاسی ،مذہبی وسماجی وجوہات ہو سکتی ہیں) ۔۔۔

مثلاً ہماری سیاسی اشرافیہ آج تک اپنے سیاسی پیروکاروں کی تربیت نہیں کر سکی کہ وہ اپنے امیدوار کو سیاسی منشور پر ووٹ دیں، نہ کہ برادری مذہب رنگ اور نسل کی بنیاد پر ساتھ ہی اس نظام میں پھر سیاسی اشرافیہ نے غیرمسلمان پاکستانی شہریوں کے مذاہب کی بنیاد پر نمائندگی کرنے والوں کو چننے کا حق پھر متناسب نمائندگی کے نام پر اپنے پاس رکھ لیا ہے اور غیر مسلم پاکستانیوں کے نام پر اپنے ایسے ایسے من پسند غلاموں اور طفیلیوں کو غیر مسلمانوں کا نمائندہ (حکمران) بنا کر بٹھایا بلکہ ان کے سروں پر مسلط کردیا جاتا ہے جن کا ان سے دُور دُور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔اس لئے اگر کبھی جس مذہبی گروہ کی وہ نمائندگی کرتے ہیں اس برادری کے اور ان کے سیاسی آقاوں کے مفادات میں ٹکراو ہو تو وہ اپنے سیاسی آقاؤں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ناکہ ان بیچارے معصوم محرومیوں اور پسماندگیوں کے مارے ہوﺅں کے ساتھ جن بیچاروں کی محرومیوں کے نام پر وہ اپنے تیس تیس سکے کھرے کر رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ اس میں حق بجانب بھی ہیں۔ متناسب نمائندگی کے اس طریقہ انتخاب نے اور بھی بڑی سماجی برائیوں کو جنم دیا ہے مثلاً خوشامد، چاپلوسی، سیاسی پارٹیوں کے ورکروں کی ایکدوسرے سے حسد و نفرت اور دیگر اس طرح کی اور کئی قباحتیں اس نظام کی پیداوار ہیں۔ جس میں یقیناً سب سے بڑی غیر جمہوری روایات یہ ہے کہ 3626365ووٹروں کے 37نمائندے تین یا چار سیاسی لیڈر سلیکٹ کرتے ہیں ۔
اب ان نام نہاد نمائندوں نے نمائندگی خاک کرنی ہوتی ہے وہ اپنے نامزد کرنے والے آقاﺅں کے مفادات کے ایوانوں میں رکھوالے ہوتے ہیں ناکہ اپنے ان ہم عقیدہ لوگوں کے جن کے نمائندہ ہونے کے وہ دعوے دار ہوتے ہیں۔اب اگر ہم اس ستر سالہ سیاسی المیے کو چند لفظوں میں بیان کریں،

تو وہ یوں ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کبھی سیاسی اشرافیہ نے اپنی مرضی کے نمائندے ایوانوں میں اپنے ساتھ بٹھا لئے تو کبھی مخلوط انتخابی نظام کی بدولت انہیں ایوانوں سے دور رہنا پڑا پھر جداگانہ انتخابی نظام کی بدولت ان دھرتی واسیوں کو ان کی قومی شناخت سے ہاتھ دھونے پڑے اور اب مخلوط کی بدولت انہیں اپنی قومی شناخت تو مل گئی لیکن متناسب نمائندگی کے نام پر ان خاک نشینوں کے نام پر چند جمہوری غلاموں کو ایوانوں میں بٹھا لیا جاتا ہے۔
اس لئے غیر مسلمان پاکستانیوں کے لئے ایسا سیاسی نظام درکار ہے جس میں وہ اپنی پاکستانی قومی شناخت کے لیے اپنے حلقے کا نمائندہ منتخب کریں۔اپنے مذہبی حقوق کے مفادات کے لیے اپنے مذہبی نمائندے بھی اپنے ووٹ سے ہی منتخب کریں کیونکہ نہ تو ہماری سیاسی نشوونما کے لےے ایسا مخلوط طریقہ انتخاب بہتر ہے جس میں ہماری نمائندگی ہی نہ ہو اور جمہوریت کے نام پر آمرانہ طور طریقوں سے سیاسی جماعتوں کے منظورِ نظر راہنماؤں کو ہمارا نمائندہ چن لیا جائے اور نہ ہی جداگانہ طریقہ انتخاب ہمیں مکمل پاکستانی اور آزاد شہری ہونے کا احساس دلاتا ہے۔

لہٰذا پاکستان میں غیر مسلمان پاکستانیوں کو مکمل پاکستانی اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کے سیاسی حقوق دلوانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے ۔
دوہرے ووٹ سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ پاکستان بھر کے غیر مسلمانوں کے مجموعی ووٹ توصرف 3626365 ہیں لیکن یہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا کے ایک سروے مطبوعہ اگست2012 کے مطابق 2008ءکے انتخاب میں پاکستان بھر کی 59انتخابی حلقے ایسے تھے جن میں غیر مسلمان پاکستانی ووٹروں کی تعداد ہارنے والے اور جیتنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کی تعداد سے زیادہ تھی اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق قومی اسمبلی کی 98 انتخابی حلقے ایسے ہیں جہاں غیر مسلمان ووٹروں کی تعداد دس ہزار یا اس سے زیادہ ہے اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق پاکستان بھر کے چودہ اضلاع میں مسیحی ووٹروں کی تعداد پچاس ہزار یا اس سے زیادہ ہے جن میں 13اضلاع پنجاب کے ہیں اور ایک ضلع کراچی کا ہے اسی تحقیق کے مطابق پاکستان بھر میں ہندو ووٹروں کی تعداد11اضلاع میں پچاس ہزار یا اس سے زیادہ ہے جن میں 10سندھ میں اور ایک پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ہے ۔ اس لئے جب مختلف پارٹی سیٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے غیر مسلم امیدواروں کو غیر مسلم ووٹروں کے سامنے میدان میں اُتاریں گی۔ تو یقیناً پھر اپنے اپنے امیدوار کو جتوانے کے لئے قومی سطح پرغیر مسلمانوں کے لئے اپنے اپنے منشور میں ان کے مسائل کوبھی جگہ دیں گی اور جس سے ملک بھر میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کی فضا قائم ہو گی جس سے ملک میںایسے ناخوشگوارواقعات میں کمی آئے گی جن سے آئے دن وطن عزیز کو عالمی طاقتیں اور استعماری قوتیں مذہبی اقلیتوں سے ظلم زیادتی کے طعنے دیتی ہیں اس میں کمی آئے گی اور پاکستانی قوم کا وقار اقوام عالم میں بلند ہو گا اور غیر مسلم پاکستانی اپنی قومی اور مذہبی شناخت ملنے پر مطمئن ہوں گے۔

اس طریقہ انتخاب میں وہ اپنی پاکستانی قومی شناخت کے لئے اپنے قومی اور صوبائی حلقے کا نمائندہ منتخب کریں اور اپنے مذہبی حقوق اور مفادات کے لئے اپنے مذہبی شناخت پر ایوانوں میں بیٹھنے والے نمائندے بھی اپنے ووٹ سے ہی منتخب کریں۔ اس نظام انتخاب کی تفصیلات اور دیگر خدوخال آبادی کے اعدادو شمار کو سامنے رکھ کر اور معروضی حالات کے مطابق وضع کئے جا سکتے ہیں۔ اسی میں پاکستانی اقلیتوں کی سیاسی بقاءہے اور اسی میں پاکستان کے جمہوری نظام کی بقاءبھی ہے،
کیونکہ اب تک غیر مسلم پاکستانی شہریوں پر تھوپے گئے طرزِ انتخابات سے ایک میں قومی شناخت کھو جاتی ہے اور دوسرے میں مذہبی شناخت اور حقوق کے نام پرمنتخب ہونے والے نمائندے تحفظ کسی اور کے مفادات کا کرتے ہیں “جمہوری نظام کی بقااس لئے غیر مسلمان پاکستانیوں کو مطمئن کرنے سے مشروط ہے۔ کیونکہ آج کے ترقی اور تہذیب یافتہ دور میں کسی بھی ملک کی سیاسی ،سماجی و مادی ترقی کا ایک معیاریہ بھی ہے کہ وہاں کے رنگ نسل مذہب مسلک کی بنیاد پر اقلیت قرار دیئے گئے شہری اپنے سیاسی و سماجی معاملات سے کتنے مطمئن ہیں اور وہاں کی اقلیتیں اپنے سماجی ، مذہبی اور سیاسی حقوق سے کتنی مطمئن ہیں۔

اوپر بیان کئے گئے تاریخی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ اس ساری صورت احوال کے سیاسی اشرافیہ کے ساتھ ہم خود بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ مخلوط طریقہ انتخاب میں ہم میرٹ پر کچھ حاصل نہ کر سکے تو ہم نے جداگانہ طریقہ انتخاب کا نا نعرہ لگایا ، جدا گانہ طریقہ انتخاب میں ہم اچھوت بن گئے تو زیادہ تر اس اچھوت حیثیت میں بھی مفاد تلاش کرتے رہے لیکن چند سر پھروں نے پھر مخلوط کا نعرہ لگایا پھر مخلوط ملا تو اب پھر ہم اچھوت بننے کے لئے جداگانہ مانگ رہے ہیں تاکہ اس اچھوت نظام میں سے بھی کچھ کے لئے زلت آمیز رفتیں نکل آئیں یعنی ہم نے ستر سالوں میں کچھ سیکھا نہیں اور مسیحی جو برصغیر میں تعلیم کے بانیوں اورسیاسی ، سماجی شعور و آگاہی دینے والوں کے جانشین ہیں پورے ملک میں پھیلے تعلیمی اداروں کے مالک ہیں لیکن وہ اپنے لوگوں یعنی مسیحیوں کی فکری وشعوری تربیت نہ کر سکے اور ہندو جوسوبھوگیان چندانی جیسے سیاسی گُرو کے جانشین ہیں وہ بھی کوئی فکری چھوڑ کسی بھی قسم کی جدوجہد نہ کر سکے اور دیگر مذہبی اقلیتیں تعداد انتہائی کم ہونے کی وجہ سے اس طرح کی کسی جدوجہد کا حصہ ہی نہ بن سکی“۔

لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اس خط کو بغور پڑھیں اور اس کے بعد سمجھیں۔ پھراگر آپ اس خیال سے متفق ہیں اور اس انتخابی نظام کےلئے کوشش کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس میں اس طرح حصہ ڈال سکتے ہیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں بس ہم غیر مسلم شہری اپنے لوگوں کو یہ بات پوری طرح سمجھا دیں، کہ ہمارے ساتھ ستر سال میں ہوا کیا ہے بس اس کی ہمیں سمجھ ہو کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے اس کے لئے ماضی اور حال کا جاننا ضروری ہے کیونکہ ماضی اور حال جانے بغیر مستقبل کا ادراک ہو ہی نہیں سکتا بقول محمود شام
خود بخود ہو گی فہم مستقبل
ماضی و حال کو سمجھ پہلے
اس لئے ہمیں پہلے ہر خاص و عام غیر مسلم پاکستانی شہری تک ماضی و حال کے طرز انتخابات کی خوبیاں ، خامیاں پہنچانی ہیں تاکہ دوہرے ووٹ کے اس فارمولے کے بارے میں جان سکیں۔ کیونکہ باخبر شہری ہی بااختیار شہری ہو سکتا ہے پھر مسلمان سیاسی اشرافیہ کو قائل کرنا کوئی مشکل نہیں۔اس لئے عام غیر مسلم شہری کوباخبر اور بااختیار بنانے کی اس مہم کیلئے اس خط کو اپنے گر جا گھروں، گردواروں، مندروں یا جہاں بھی آپ کے مذہبی اجتماع ہوتے ہیں وہاں لوگوں میں تقسیم کریں اور ہماری ہندو برادری چونکہ زیادہ اندرون سندھ میں ہے تو وہ اسے سندھی میں ترجمہ کروائیں اوراپنے لوگوں کی فکری، شعوری، سماجی اور خاص کر سیاسی آگاہی کیلئے لوگوں میں پھیلائیں کیونکہ اس طرح کی فکری آگاہی سے ہی انسان سماجی معاشرتی، معاشی، تعلیمی تہذیبی ترقی کی منازل طے کرتا ہے ۔پھر اس کے بعدہماری شناخت پر سینیٹ، اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں کو قائل کریں۔ کہ وہ بھی مشترکہ طور پر اس انتخابی نظام کے لئے آواز اٹھائیں جس میں غیر مسلم پاکستانیوں کی قومی شناخت یعنی پاکستانی شناخت بھی قائم رہے اور ہر کسی کی مذہبی شناخت اور مفادات کا بھی ایوانوں میں تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

تحریک شناخت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں نہ ہی یہ کوئی این جی او ہے جو اپنے آقاوں کی ہدایات پر کسی خاص نظریے کی پرچارک ہے۔یہ بنیادی طور پر پاکستانی مسیحیوں کی دھرتی سے نسبت آزادی ہند، قیام تعمیر و دفاع پاکستان میں ان کے اجداد اور موجودہ نسلوں کے شاندار کردار کے ذریعے مسیحیوں کی پاکستانی معاشرے میں قابل فخر شناخت کو اجاگر کرنے کی فکری تحریک ہے ایسی فکری تحریک جو نہ صرف پاکستانی مسیحیوں بلکہ غیرمسلمان پاکستانیوں کو پاکستانی معاشرے میں درپیش مسائل و خطرات اوردستیاب موقعوں ان کی توانائیوں، کمزوریوں کا حقیقت پسندانہ تخمینہ لگا کر ان کا تجزیہ  کر کے اس ملک کے غیرمسلمان شہریوں کے لئے عزت سے جینے کے اسباب پیدا کرنے میں کوشاں ہے۔

اس فکری تحریک میں کوئی عہدے دار نہیں ہر کوئی رضا کار ہے آپ بھی اس فکر کو پھیلانے میں اس کے رضا کار ہو سکتے ہیں۔ چاہے آپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہے آپ عام ورکر ہیں یا رہنما آپ کسی سماجی بھلائی کی تنظیم سے وابسطہ ہیں یا عام مسلم پاکستانی شہری ہیں ،جو ان غیر مسلمان پاکستانیوں کو مکمل پاکستانی جان کر ا ن کی اپنی اپنی مذہبی شناخت کے تحفظ کے لئے ایوانوں میں ان کے نمائندے پہنچانے کے حق میں ہیں تو آپ اپنی وہ شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی اس فکری جدوجہد میں ہمارے ساتھی ہو سکتے ہیں حتی کہ ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے بہن بھائی بھی اس میں ضرور حصہ لیں کیونکہ کل جب یہ انتخابی نظام نافذ العمل ہو گا تو آپ بھی اس نظام کے ذریعے انتخابات میں حصہ لیں گے، تو تب لوگ آپ کے بارے میں بقول محسن بھوپالی یہ نہ کہیں۔
نیرنگئی سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ فکری بنیادوں پر استوار یہ مہم اپنے مقاصد ضرور حاصل کرے گی اس لئے اگر آپ سیاسی رہنما ہیں تو پھر تو ضرور اس مہم کا حصہ بنیں۔ اس لئے آئیں اس آگاہی مہم کو پھیلانے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ غیر مسلم پاکستانیوں کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بنیادی شہری و سیاسی حقوق کے لئے یہ انتخابی نظام وضع کروایا جا سکے۔
اعظم معراج
رضا کار ،تحریک شناخت پاکستان!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *