دیوانے کا خط

منافقوں کے نام۔۔۔

اگر تمھاری طاقت فقط یہ ہے کہ تم “ک ا ف ر” کو جوڑ کر حلق سے گہری آواز نکال کر وہ لفظ ادا کر سکتے ہو جو کہ میرا معاشرے میں جینا حرام کردے ، تو میں تمھاری اس آواز سے نہیں گھبراتا، اگر تمھاری غلط فہمی ہے کہ میری جنت میں انٹری تمھارے مُہر شدہ سرٹیفکیٹ کے بغیر ناممکن ہے تو خدا سے مقابلہ تم کر رہے ہو میں نہیں، کہ خدا کے فیصلے کسی اجارہ دار کی ججمنٹ کے کبھی محتاج تھے اور نہ ہوں گے، اگر تمھیں یہ پرورٹڈ(perverted) اندیشہ ہے کہ ہمسائے میں رہتی جینز پہننے والی اور انگریزی کتاب پڑھنے کا شوق رکھنے والی لڑکی سے اسلام کو خطرہ ہے، تو خطرہ تمھاری اجارہ داری کو ہے،اسلام کو نہیں، اگر تمھیں لگتا ہے کہ تم سے سُنی جاہلانہ باتوں کی بنیاد پر مجھے تمام داڑھی والے ، سنت کے حلیے والوں سے نفرت ہو جانی ہے؟ تو اس خوش فہمی سے بھی نکل آؤ کہ اب بھی مجھ میں اور تم میں اتنا بنیادی فرق باقی ہے۔ اس کے باوجود کہ تم نے بہت حد تک معاشرے کی مجموعی سوچ کو یرغمال بنانے کی کوشش کی اور دنیا کے عظیم ترین مذاہب میں سے ایک کو بیچا، میں اپنے مذہب اور اسکے پیر وکاروں سے خائف نہیں ہوا۔ میں تمھاری بیچی گئی زہریلی گولی کی لپیٹ میں نہیں آیا، میں خاموش معاشرتی حکمرانی کی اس خوفناک اور بزدلانہ کوشش سے آزاد رہا ہوں اور اگر تم وہ ہو جو کہ اونچے محلوں میں رہ کر غریب کی کچی آبادیوں کی بات کرتے ہو، اگر تم وہ ہو جو اپنے معاشی و سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کو بیٹیاں بیچتے ہو ، تو تم خود کو لاکھ ایلیٹ(elite) کہو، تم، تمھارا غرور، فرعون کے کفن کے نجس ٹکڑے سے بھی زیادہ بے وقعت ہے۔ اگر تم وہ ہو جو اپنے گھروں میں مساوات قائم کیے بغیر ملک گیر مساوات کے فلسفے بکھیرتے ہو، اگر تم وہ ہو جس کی اپنی سوچ سٹیٹس اور گریڈ کی غلام ہے تو تمھاری دانشوری، تمھاری آزاد خیالی سے میں کج ذہنی کے اندھیروں میں ہی بہتر ہوں ۔ اگر تم وہ ہوجو تہذیب و تمندن کی رنگارنگ تاریخوں کو خوبصورت اور بھاری الفاظ میں لپیٹ کر دکانیں چمکاتے ہو، اگر تم وہ ہو جو کلچر کے نام پر اسلاف کے مدفن بیچتے ہو، تو تمھاری مردہ خوری سے بہتر میں جاہل اطمینان میں ہوں ۔چاہے تم بائیں بازو کے اجارہ دار ہو یا دائیں بازو کے، تم چاہے فتوے بیچو یا کلچر، جب تک سودا گر کی آنکھوں پر پٹی ہے، وہ خوب خریدے گا، مگر ایک دن۔۔ ایک نا ایک دن تمھاری صفوں کے بھی بے آواز بولیں گے، ان کو احساس ہوگا۔۔ کہ نہ تم ان کے مذہب کے مالک ہو نہ ان کی تہذیب کے، تو وہ آنکھوں کی پٹیاں، تمھارے گھٹیا کاروبار کا کفن بنادی جائیں گی۔۔۔
اور اگر تم میری طرح ایک اور بے آواز آئینہ ہو تو ہمت رکھو۔۔ کہ ہم ملیں گے۔۔ ایک نئی صبح سے، اندھیروں کے ڈھلنے پر، نفرت کے چاند کے کھونے پر، بے رنگ اجالوں کے چھٹنے پر۔۔ انسان کی آنکھیں کھلنے پر!!!!

حسنات شیخ
حسنات شیخ
لکھاری، بلاگر، سماجی کارکن.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *