ناول: ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ ۔بک ریویو

ناول: ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘
(مصنف : اختر رضا سلیمی)

حال ہی میں اختر رضا سلیمی صاحب کا ناول ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ پڑھنے کا موقع ملا جسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہ کتاب نہ ملتی تو محروم رہتا ٗ ۔یہ تو خاصے کی چیز ہے اور اس کے لیے سلیمی صاحب کا شکر گذار ہوں۔ ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ اپنے عنوان کی طرح ٗ گویا ہمارے ذہن کے غنودہ گوشوں کو جھنجھوڑ کر اٹھانے والا ناول ہے اور یہ جس موضوع پر لکھا گیا ہے اس موضوع پر کام بہت کم ہوا ہے۔ سلیمی صاحب کی یہ تحریر تحرک پیدا کرنے کی زبردست کاوش معلوم ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو صنعتی انقلاب نے زندگی اور سوچ کے دھاروں کو یک رخا اور یک ابعادی کر کے رکھ دیا ہے اور یہ ناول شدّت سے احساس دلاتا ہے کہ جسم اور اس کے خلیوں سے ہٹ کر بھی ہم میں اور اس دنیا میں کچھ ہے۔
فلسفے اور طبیعیات سے بیک وقت مکالمہ کرتا یہ ناول انسانی نفسیات اور جینز کی یادداشت کے بارے میں سوال اٹھا کر اس ابعاد کی طرف اشارہ کرتا ہےجہاں دیکھتے ہوئے ہم شرما جاتے ہیں۔ یہ نظریہ ٗ کہ جو ہو چکا ٗ وہ ہماری جینز میں کسی یادداشت کی جھلک کی صورت میں اس کا حصہ بن جاتا ہے اور یوں اگلی نسلوں کی یادداشت میں منتقل ہوتا رہتا ہے ٗ شاید اسٹیفن ہاکنگ کے نظریے کی طرح بلیک ہول جیسا موضوع ہے ٗ جس کے دوسری طرف شاید ایک مختلف ٗ اور بہت بڑی دنیا ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرنا ٗ اور اس جامعیت اور خوبصورتی سے ٗ یہ اس ناول کی کامیابی ہے۔ مستقبل میں جانے کی تمثیل اور یہ سوال کہ اگر ہم ماضی میں جا سکتے ہیں تو مستقبل میں کیوں نہیں، قاری کے ذہن کو ٹائم مشین میں بٹھا کر کہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔ ناول کے مرکزی کردار کا کومے جیسی کیفیت میں اپنے اندر گرنے کا احساس، ایک زمانے سے دوسرے زمانے کا سفر گویا وہ کسی ٹائم مشین میں بیٹھا ہو، کومے کی کیفیت میں نئے ابعاد کا کھلنا، اسے زمانوں کے درمیان سفر سے ملانا اور اس کی تحلیلِ نفسی کے دوران اسے جینز کی یادداشت سے جوڑنا، ایسی مہارت سے ٗ اتنے پیچیدہ موضوع پر کہانی لکھنا ، بڑا کام ہے ، میں سلام کرتا ہوں۔
شاید ناول کا یہ موڑ لکھنا سب سے کٹھن مرحلہ رہا ہو اور اس پل صراط سے گزرنا یقیناً بہت مشکل ہو گا۔ آج کی دنیا میں کومے کی حالت میں ہونے والے ایسے تجربات کو تصوّف کی سیکولر شکل کے ایک مسخ نظریے میں ڈھال کر سمجھنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کیونکہ ہم طبیعیات سے نکلتے ہیں تو فطرت کے بجائے مافوق الفطرت میں کھو جاتے ہیں۔ ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ زمانوں کے درمیان سفر اور وقت اور واقعات کے نئے زمانے میں دہرائے جانے کے عمل کی تکنیک کے اعتبار سے کبھی ’’آگ کا دریا‘‘ کے قبیل کے ناولوں کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے تو کبھی نفسیات کے موضوع پر لکھی گئی کہانیوں کی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور یہ ایک تکون ہے جس کا تیسرا کونہ ہے زمان و مکان (ٹائم اور اسپیس) کا تعلق اور ان تینوں صورتوں کو مصنف نے اس ناول میں خوبی سے نبھایا ہے۔ ذہن کا کسی ایک نکتے یا وقت کے کسی مقام پر منجمد ہونا، ٹائم اینڈ اسپیس یا وقت اور خلا کا نظریہ اور اس دوران خلا کا زبردست مشاہدہ اس ناول کو جدید ناول کی اس صف میں شامل کرتا ہے جو اپنا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتے۔
اس میں بلیک ہول کے ذریعے جو نکتہ اٹھایا ہے ٗ اس کا بھرپور ابلاغ ہو رہا ہے۔ چبوترے پر ہتھیلی کندہ ہونے کی علامت اور کردار کا اپنے ہاتھ سے اس کی مماثلت ڈھونڈنا مجھے اس لیے اور بھی اپنی طرف کھینچتا رہا کہ میں خود ہمیشہ اپنے ہاتھ کی لکیریں فطرت کے مظاہر میں ڈھونڈتا رہا ہوں، پڑھ کر مزہ آگیا۔ دریائے ہرو پر لکھی نظم بھی خوب ہے۔ غرض، یہ ناول پڑھ کر میں جس ناول نگار سے ملا ہوں، وہ اردو ناول کی حدود پھلانگ کر اس کا کینوس وسیع کرتا نظر آتا ہے۔ سلیمی صاحب کو بہت مبارکباد۔ اور اب مجھے اگلے ناول کا انتظار رہے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *