زندگی کی دوڑ دھوپ میں کبھی کبھی ایک لمحہ آتا ہے جب دل بے چین ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی کی چہار دیواری اور روزمرہ کی مصروفیات میں گھرے، میں ہر صبح ایک جیسے معمول میں کھو جاتا تھا—الارم کی تیز گھنٹی، جلدی میں نگلے ہوئے ناشتے کا لقمہ، اور پڑھائی کا وہ بوجھ جو رات تک پیچھا نہ چھوڑتا۔ میرا دل، جو کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں اور سمندر کی لہروں کے خواب دیکھتا تھا، کئی مرتبہ یوں محسوس ہوتا جیسے ایک چھوٹے سے ڈبے میں قید ہو گیا ہے۔
ایک شام، جب سورج سوانسی کی خلیج پر سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا اور ہوا میں سمندر کی نمکین خوشبو تیر رہی تھی، اجمل بھائی کا فون آیا ۔ “محمد، اگر مصروف نہیں ہو تو چلو، تمہیں ایک جگہ لے چلتے ہیں۔ مجھے یقین ہے تمہیں مزا آئے گا۔” ان کے لفظوں میں محبت تھی، اور میں کہاں انکار کرنے والا تھا۔
یہ تحریر اسی سفر کی کہانی ہے ، یہ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں تھا، یہ ویسے ہی ایک پرواز تھی جیسے کوئی پرندہ اچانک اپنے پنجرے سے آزاد ہو کر اڑان بھر لے۔ اجمل بھائی، بنگلہ دیشی نژاد برطانوی، انگلینڈ کی سرزمین پر پیدا ہوئے، مگر ان کا دل ڈھاکہ کی تنگ گلیوں، بنگال کے سرسبز کھیتوں، اور سمندر کے کناروں سے جڑا رہتا ہے۔ ہماری دوستی رمضان کی ایک شام سوانسی کی مسجد میں شروع ہوئی تھی۔ میں تفسیر ابن کثیر کے اوراق پلٹ رہا تھا، اور اجمل بھائی تفسیر جلالین میں غرق تھے۔ ایک آیت پر ہماری بات چلی، جو گھنٹوں تک جاری رہی۔ انہوں نے قرآن کی آیات کو سائنس اور جغرافیہ سے اس خوبصورتی سے جوڑا کہ میں حیران رہ گیا۔ اس شام سے ہم جیسے دو بھٹکے ہوئے مسافر مل گئے۔
اس شام کے بعد سے نہ جانے کتنی ہی مرتبہ ہم نے ساتھ سوانسی کی خاک چھانی اور دعوتوں کے مزے اڑائے۔ بہرحال اس سفر کے لیے جب ہم سفر کے لیے روانہ ہوئے، مجھے یہ قطعا معلوم نہیں تھا کہ ہم رہوسلی بے کی طرف جا رہے ہیں، جو دنیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک ہے۔ سوانسی کی سڑکیں اپنی روزمرہ کی چہل پہل میں ڈوبی تھیں۔ دکانیں کھل رہی تھیں، لوگ پارکس کی طرف جا رہے تھے، اور گاڑیوں کی آوازیں فضا میں گونج رہی تھیں۔ ہم نے گاڑی میں چند ضروری چیزیں رکھیں—پانی کی بوتلیں، کیمرہ، ایک چھوٹی سی ڈائری، اور دل میں بے پناہ تجسس۔ اجمل بھائی نے گاڑی کی چابی ہاتھ میں لی اور مسکراتے ہوئے کہا، “چلو، آج فطرت سے ملاقات کا دن ہے۔”
جیسے ہی ہم شہر کی حدود سے نکلے، ایک نئی دنیا ہمارے سامنے کھل گئی۔ گاؤر جزیرہ نما کا راستہ ایک خواب کی مانند تھا۔ سرسبز کھیتوں میں فصلیں جھوم رہی تھیں، پتھریلی ڈھلانوں پر سبز چادر بچھی تھی، اور چھوٹے چھوٹے دیہات جہاں وقت جیسے صدیوں سے رکا ہوا تھا میں سورج اور بادلوں کا کھیل جاری تھا—کبھی روشنی زمین پر سنہری دھاریاں بناتی، کبھی سایوں کا ایک جال بچھ جاتا۔ اجمل بھائی ہر منظر کو جیسے اپنی آنکھوں سے پینٹ کر رہے تھے۔ وہ ایک بلند چوٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، “یہ پہاڑ ہزاروں سال سے یہاں کھڑے ہیں، جنھوں نے طوفانوں کی سنیں، جنگلی جانوروں کے قدموں کی آہٹ سنی، اور سمندر کی لہروں کے گیت سنے۔”
ان کی باتوں میں ایک شاعری تھی، جو راستے کی خوبصورتی کو اور گہرا کر رہی تھی۔ انہوں نے آگے کہا، “یہ زمین ایک کتاب ہے۔ اس کے ہر پتھر، ہر درخت، اور ہر لہر میں ایک کہانی لکھی ہے۔ بس پڑھنے والی آنکھ چاہیے۔” میں ان کی باتیں سنتا اور سوچتا کہ اجمل بھائی کی زبان کتنی پیاری ہے، کاش میں بھی ایسے ہی بول پاتا۔ جب ہم رہوسلی گاؤں کے قریب پہنچے، سمندر کی نمکین ہوا نے گاڑی کی کھڑکیوں سے اندر جھانکا۔ یہ ہوا جیسے ہمارے چہروں کو چھو کر کہہ رہی تھی، “آؤ، میرے راز سنو۔” اجمل بھائی نے گہری سانس لی اور کہا، “یہ ہوا سمندر کی روح ہے۔ اسے محسوس کرو۔”
اور پھر، وہ منظر ہمارے سامنے آیا—رہوسلی بے کا عظیم ساحل، جو اپنی سنہری ریت، نیلے پانیوں، اور ورمزیڈ کے سانپ نما جزیرے کے ساتھ افق تک پھیلا ہوا تھا۔ اجمل بھائی نے جوش سے کہا، “یہ دیکھو، محمد! یہ ساحل دنیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کی ہوا، یہ لہریں، یہ سب جیسے خدا کی قدرت کا شاہکار ہیں۔” میں خاموشی سے اس منظر کو دیکھتا رہا۔ سمندر کی لہریں ریت پر آہستہ سے چھوتیں اور پیچھے ہٹ جاتیں، جیسے کوئی شاعر اپنی نظم کے لفظوں کو ترتیب دے رہا ہو۔ آسمان صاف تھا، اور نیلا پانی جیسے آسمان کی جھلک دکھا رہا تھا۔ ورمزیڈ کا جزیرہ سمندر کے بیچ میں ایک پراسرار پہیلی کی طرح کھڑا تھا، جیسے کوئی راز چھپائے ہوئے ہو۔
ہم نے گاڑی پارک کی اور ساحل کی طرف چل پڑے۔ میں نے جوتے اتار دیے اور ریت پر ننگے پاؤں چلنا شروع کیا۔ ریت ایسی نرم تھی جیسے سمندر نے اسے صدیوں تک پیار سے سہلایا ہو۔ ہر قدم کے ساتھ ریت میرے پاؤں کے نیچے سے سرسرا کر سرکتی، اور ایک عجیب سا سکون دل میں اترتا چلا گیا۔ ہوا میں سمندر کی خوشبو تھی، جو شہر کی آلودہ ہوا سے بالکل مختلف تھی۔ بچے ریت پر قلعے بنا رہے تھے، ان کے ہنسی کے قہقہے لہروں کی آواز سے ہم آہنگ تھے۔ جوڑے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چہل قدمی کر رہے تھے، اور کچھ لوگ لہروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے جیسے بچپن کی یادوں میں کھو گئے ہوں۔ یہ سب جیسے ایک جیتا جاگتا خواب تھا، جو دل کو چھو رہا تھا۔
ساحل پر چلتے ہوئے ہم ایک بوڑھی عورت سے ملے، جس کے چہرے پر جھریوں نے جیسے سمندر کی لہروں کا نقشہ بنایا ہو۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا، “یہ ساحل کوئی عام جگہ نہیں۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہاں کبھی سمندری پریاں چاندنی راتوں میں لہروں کے ساتھ گاتی تھیں۔ ان کے گیتوں سے سمندر سحر زدہ ہو جاتا تھا۔” اس کی باتوں نے ساحل کو ایک افسانوی رنگ دے دیا، جیسے ہم کسی پرانی لوک داستان کا حصہ بن گئے ہوں۔ اجمل بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا، “شاید وہ پریاں آج بھی یہاں ہیں، بس ہماری آنکھیں انہیں دیکھ نہیں پاتیں۔”
اجمل بھائی نے ایک عجیب سے پتھر کے ڈھانچے کی طرف اشارہ کیا۔ “یہ پتھر ہزاروں سال پرانے ہیں۔ سائنسدان اب تک نہیں جان سکے کہ یہ کس قوم نے بنائے۔ شاید کوئی ایسی تہذیب تھی جو سمندر سے باتیں کرتی تھی۔” ان کی باتوں سے رہوسلی ایک افسانوی دنیا لگنے لگا۔ وہ ایک چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، “یہاں کبھی ڈائنوسار کی باقیات ملی تھیں۔ یہ زمین کتنی پرانی ہے۔ ہم تو اس کے سامنے ایک لمحے کی مانند ہیں۔” ان کی بات مجھے وقت کے سفر پر لے گیا۔ یہ ساحل صرف ایک منظر نہیں تھا؛ یہ تاریخ کا ایک جھروکا تھا، جو ماضی کی کہانیاں سنا رہا تھا۔ میں نے دل سے ان کی معلومات کی قدر کی، کیونکہ ان کے علم نے میرے لیے اس ساحل کو ایک نئی گہرائی دی۔
ہم ورمزیڈ کے قریب پہنچے، اس جزیرے تک جو سمندر کے بیچ میں ایک راز کی طرح کھڑا تھا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ورمزیڈ تک کا راستہ صرف چند گھنٹوں کے لیے کھلتا ہے، جب لہریں پیچھے ہٹتی ہیں۔ اجمل بھائی نے جوش سے کہا، “چلو، یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔” ہم پتھریلے راستے پر چل پڑے، جو پھسلن بھرا لیکن پرجوش تھا۔ راستے میں ایک بوڑھا ماہی گیر ملا، جس کے ہاتھوں پر سمندر کی کہانیاں لکھی تھیں۔ اس نے کہا، “ورمزیڈ کوئی عام جزیرہ نہیں۔ یہ سمندر کا دل ہے۔ جو اسے سمجھ لے، وہ زندگی کا راز پا لے۔” اس کی باتوں میں گہرائی تھی، جیسے وہ سمندر کی ہر لہر کی کہانی جانتا ہو۔
ورمزیڈ پر پہنچ کر ایک چھوٹی سی غار نظر آئی، جہاں انی کی سطح پر سورج کی کرنیں جھلملا رہی تھیں۔ غار کی دیواروں پر عجیب سے نقوش تھے، جیسے کوئی قدیم زبان میں پیغام چھوڑ گیا ہو۔ اجمل بھائی نے ہنستے ہوئے کہا، “شاید یہ سمندری پریوں کا گھر ہے۔” ہم ہنس پڑے، لیکن غار میں قدم رکھتے ہی ہوا ٹھنڈی ہو گئی۔ ایک سرگوشی سی گونجی، جیسے سمندر ہم سے کچھ کہہ رہا ہو۔ اجمل بھائی نے کہا، “یہ نقوش شاید اس قوم کے ہیں جو سمندر کی گہرائیوں سے راز لاتی تھی۔” ان کی بات نے غار کو ایک پراسرار دنیا بنا دیا۔
اجمل بھائی نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا پتھر نکالا۔ “یہ پتھر مجھے سمندر کی طاقت یاد دلاتا ہے۔ اسی نے مجھے یہاں کے سفر کی یاد دلائی اور تمہیں فون کیا۔” ان کی آواز میں ایک گہرائی تھی، جیسے وہ اس پتھر میں سمندر کی روح دیکھ رہے ہوں۔ ہم غار سے باہر نکلے اور لہروں کو دیکھا، جو جیسے ہمیں صبر اور استقامت کا پیغام دے رہی تھیں۔ اس لمحے میں جیسے وقت ٹھہر گیا تھا، اور ہم سمندر کی اس خاموش زبان کو سن رہے تھے۔ اجمل بھائی کی موجودگی نے اس تجربے کو اور گہرا کر دیا ۔
ہم نے مقامی لوگوں کے ساتھ وقت گزارا۔ کھیتوں میں جنگلی گھوڑے آزادانہ گھوم رہے تھے۔ اجمل بھائی نے بتایا، “یہ گھوڑے کسی نے پالے نہیں۔ یہ زمین کے بیٹے ہیں، فطرت کے قریب۔” ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے وہ سمندر کے راز جانتے ہوں۔ ایک بوڑھے مقامی نے کہا، “رہوسلی کی ہوا پاکیزہ ہے۔ یہ دل کے زخم بھرتی ہے۔” اس کی بات میرے دل کو چھو گئی۔ ہم نے تازہ مچھلی، گھر کا بنا پنیر، اور گرم روٹی کھائی۔ سورج مکھی کے کھیتوں میں چہل قدمی کی، جہاں ہر پھول سورج کی طرف مسکرا رہا تھا۔ اجمل بھائی نے ایک پھول کی طرف اشارہ کیا اور کہا، “دیکھو، یہ پھول سورج کی طرف دیکھتا ہے، جیسے ہم خدا کی طرف دیکھتے ہیں۔” ان کی یہ سادہ مگر گہری بات دل میں اتر گئی۔
اجمل بھائی پیشے سے تو ڈاکٹر ہیں ، مگر قران سے انھیں بڑی دلچسپی ہے۔ہماری باتیں اکثر قرآن کی طرف مڑ جاتیں۔ساحل سمندر سے پرے ایک ٹیلے پر بیٹھتے ہوئے اجمل بھائی نے سورہ رحمن کی آیت “مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ” پڑھتے ہوئے کہا، “یہ سمندر اس آیت کی زندہ تفسیر ہے۔ یہاں آسمان اور پانی مل رہے ہیں، اور ہر چیز خدا کی نشانی ہے۔” ان کی بات نے ساحل کی خوبصورتی کو ایک روحانی رنگ دے دیا۔ میں نے کہا، “اجمل بھائی، یہ جگہ جنت کا ٹکڑا ہے۔ ہمارے ملکوں میں بھی ایسی جگہیں ہیں، لیکن یہاں لوگ فطرت کو سجانا جانتے ہیں۔ کوئی کوڑا نہیں، کوئی شور نہیں۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، “یہاں لوگ فطرت سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اسے اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ جذبہ ہونا چاہیے۔فطرت کا احترام ہماری اپنی زمین کو بھی جنت بنا سکتا ہے۔”
ساحل کے ساتھ ایک پرانا راستہ پہاڑیوں کی طرف جاتا تھا۔ اجمل بھائی نے کہا، “چلو، اوپر سے سمندر اور خوبصورت لگے گا۔” ہم چڑھنے لگے۔ ہر موڑ پر ایک نئی دنیا کھلتی تھی—کبھی سمندر افق تک پھیلتا دکھتا، کبھی لہریں چٹانوں سے ٹکراتیں، جیسے کوئی قدیم گیت گنگنا رہی ہوں۔ ایک جگہ پرانے پتھر ترتیب سے رکھے تھے۔ اجمل بھائی نے بتایا، “یہ قبل از تاریخ کے آثار ہیں۔ شاید کوئی کہانی ان میں قید ہے۔” میں نے پتھروں کو چھوا۔ ان میں صدیوں کی خامشی تھی، جیسے وہ وقت کے راز اپنے سینے میں چھپائے خاموش گواہ بنے ہوں۔ انہوں نے ایک چٹان کی طرف اشارہ کیا۔ “یہاں ڈائنوسار کی باقیات ملی تھیں۔ یہ زمین وقت کی گواہ ہے۔” ان کی بات مجھے ماضی کے سفر پر لے گئی۔
میں نے تصور کیا کہ ہزاروں سال پہلے یہ ساحل کیسا رہا ہوگا—جب عظیم الجثہ ڈائنوسار اس زمین پر چلتے ہوں گے، جب سمندر کی لہریں انہی چٹانوں سے ٹکراتی ہوں گی، اور جب یہ پتھر شاید کسی قدیم قبیلے کے ہاتھوں تراشے گئے ہوں۔ اجمل بھائی نے بتایا کہ مقامی داستانوں کے مطابق، رہوسلی بے کبھی ایک ایسی تہذیب کا گھر تھا جو سمندر کی طاقت کی پوجا کرتی تھی۔ “کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ان پتھروں پر سمندر کے دیوتاؤں کے لیے علامتیں کندہ کی تھیں، تاکہ طوفانوں سے حفاظت ملے۔” ان کی بات نے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے ان پتھروں پر نظریں دوڑائیں، جہاں کائی اور ہوا نے صدیوں کے نشانات چھوڑے تھے۔ کیا یہ ممکن تھا کہ یہ پتھر واقعی کسی گم شدہ تہذیب کی کہانی سنا رہے ہوں؟
ہم نے چٹانوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گڑھا دیکھا، جہاں پانی جمع تھا۔ اجمل بھائی نے کہا، “یہ گڑھا شاید انہی لوگوں نے بنایا تھا، جو سمندر سے پانی جمع کرتے تھے یا قربانی کے رسومات ادا کرتے تھے۔” ان کی بات مجھے اس دور میں لے گئی جہاں رات کے آسمان تلے، چاندنی میں یہ لوگ سمندر کے کنارے جمع ہوتے ہوں گے، اپنے دیوتاؤں سے دعائیں مانگتے ہوں گے۔ میں نے سوچا کہ شاید ان کی دعاؤں کی گونج آج بھی ان لہروں میں سنی جا سکتی ہے۔ اس لمحے، رہوسلی بے صرف ایک ساحل نہیں، بلکہ ایک تاریخی کتاب لگا، جس کا ہر صفحہ ماضی کی ایک کہانی بیان کر رہا تھا۔
راستے میں ایک جھاڑی دکھائی دی جس میں کچھ عجیب و غریب مگر دلکش پھول کھلے ہوئے تھے، گویا فطرت نے اپنے ہنر کا کوئی نایاب شاہکار تراشا ہو۔ یہ پھول چھوٹے، نازک اور سنہری سفید رنگ کے تھے، جو ببول جیسی کانٹے دار جھاڑیوں کے درمیان چاندنی کی بکھری ہوئی بوندوں کی مانند جھلملاتے تھے۔ اجمل بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا، “ذرا اس پھول کو سونگھو، ناریل کی خوشبو آئے گی۔” میں نے حیرت سے ان کی جانب دیکھا، پھر آہستہ سے ایک پھول کے قریب جھکا۔ جیسے ہی میں نے اس کی خوشبو محسوس کی، ایک تازہ، میٹھی، ناریل کے پانی جیسی مہک نے میرے حواس کو مسحور کر دیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ خوشبو سمندر کی گہرائیوں سے اُبھری ہو یا کسی دور افتادہ جزیرے کی یاد اپنے ساتھ لے آئی ہو۔ میرے منہ سے بےاختیار نکلا، “خدا کے رازوں کو سمجھنا واقعی آسان نہیں۔”
اجمل بھائی نے ہنستے ہوئے کہا، “یہ فطرت کا معجزہ ہے، محمد۔ یہ پھول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خدا کی تخلیق میں ہر شے ایک نشانی ہے۔” ان کے الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔ میں نے سوچا، واقعی، یہ چھوٹا سا پھول جو کانٹوں کے درمیان کھل کر ناریل کی خوشبو بکھیر رہا ہے، خدا کی قدرت کا ایک عجیب و عظیم مظہر ہے۔ہم کچھ دیر وہیں رُکے، اس دلنواز خوشبو کو اپنے اندر سموئے ہوئے، جیسے فطرت کے کسی گہرے راز کو سمجھنے کی سعی کر رہے ہوں۔سورج کی کرنیں افق پر دھیرے دھیرے مدھم ہو رہی تھیں، اور لہریں جیسے ہمیں ماضی اور حال کے درمیان ایک پل پر لے جا رہی تھیں۔
واپسی پر راستے میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی نظر آئی، جہاں ایک بوڑھا مصور اپنے کینوس پر سمندر کی تصویر بنا رہا تھا۔ اس نے ہمیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا، “یہ ساحل میرا استاد ہے۔ اس کی ہر لہر مجھے ایک نیا رنگ سکھاتی ہے۔” اس کی باتوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ فطرت کتنی عظیم استاد ہے۔ اجمل بھائی نے اس سے کچھ دیر باتیں کیں، اور پھر ہم آگے بڑھے۔ مصور نے ہمیں ایک پرانی کہانی سنائی کہ رہوسلی کے ساحل پر کبھی ایک بادشاہ کا خزانہ دفن تھا، جو سمندر کی حفاظت میں چھپا دیا گیا۔ “شاید وہ خزانہ یہ خوبصورتی ہی ہے،” اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ اس کی بات نے ساحل کے رازوں کو اور گہرا کر دیا۔
ہم تیز تیز قدم بڑھا رہے تھے ، سورج غروب ہو رہا تھا۔ آسمان نارنجی، سنہری، اور گلابی رنگوں سے سجا تھا۔ لہریں خاموش تھیں، جیسے دن کے اختتام پر سکون میں ڈوب رہی ہوں۔ میرا دل بھاری تھا۔ رہوسلی نے مجھے خوبصورتی، دوستی، اور ایک روحانی تجربہ دیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر میں نے ساحل کو آخری بار دیکھا۔ وہ جیسے کوئی صوفی دعا میں گم تھا۔ میں نے اجمل بھائی سے کہا، “بھائی، آپ کے ساتھ یہ سفر ایک خواب کی مانند تھا۔ شکریہ کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، “محمد، میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تمہیں یہیں ایک خوبصورت گھر دے۔” میں نے زور سے آمین کہا، اور پھر دونوں ہنس پڑے۔
واپسی کے راستے میں ہم خاموش تھے، لیکن ہمارے دلوں میں ساحل کی لہریں اب بھی گونج رہی تھیں۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رکتے ہوئے ہم نے ایک مقامی عورت سے ملاقات کی، جو اپنے باغ میں پھولوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ اس نے ہمیں اپنے گھر کا بنا شربت پلایا اور کہا، “رہوسلی کی مٹی میں جادو ہے۔ جو یہاں آتا ہے، وہ اپنا دل یہاں چھوڑ جاتا ہے۔” اس کی بات نے میرے دل کو چھو لیا۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ سچ ہے—رہوسلی نے میرا دل چھین لیا تھا۔
واقعی یہ سفر ایک خواب تھا، ایک کہانی تھی، اور ایک سبق تھا۔ جیسے ہم سمندر کی لہروں کے ساتھ چلے، ویسے ہی ہم نے زندگی کے رازوں کو سمجھا۔ اجمل بھائی کی ہر بات، ہر مشاہدہ، اور ہر حکمت نے اس سفر کو ایک روحانی زیارت بنا دیا۔ رہوسلی بے میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا—ایک ایسی جگہ جہاں فطرت نے مجھے اپنی گود میں لے کر زندگی کا اصل معنی سمجھایا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں