• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سابق وفاقی وزیر جے سالک کے نام تحریکِ شناخت کے رضاکار اعظم معراج کا کھلا خط

سابق وفاقی وزیر جے سالک کے نام تحریکِ شناخت کے رضاکار اعظم معراج کا کھلا خط

6اپریل 2024
جے سالک
سابقہ وفاقی وزیر
اسلام آباد پاکستان
محترم سالک صاحب سلام
میری تحقیق کے مطابق ، آپ نے پانچ بار جداگانہ انتحاب میں سے ایک دفعہ 1985 میں پی پی پی کی تقلید یا ایم،آر،ڈی کی کا حصہ ہونے کی وجہ سے غیر جماعتی انتحابات کا بائیکاٹ کیا۔(تاریخ گواہ ہے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی آج تک اس بائیکاٹ کو اپنی سیاسی غلطی سمجھتی ہے ۔)لیکن اپنی بیگم میری جے سالک کو انتخاب لڑوایا اور انکی بھرپور انتخاہی مہم کراچی میں چلائی ۔۔1988 میں آپ نے خود انتخابات میں حصہ لیا, آپ اور کرنل ڈبلیو ہربرٹ کو ہارا ہؤا قرار دیا گیا ۔۔آپ نے نتائج کو چیلنج کیا ، فیصلہ آپکے اور کرنل ہربرٹ کے حق میں ہؤا کیپٹن ثناہ اللہ اور پیٹر جان سوہترا ڈی سیٹ ہوئے ،آپ نے اور کرنل ہربرٹ نے 25جون 1990 کو حلف لیا 5اگست کو یہ اسمبلی ٹوٹ گئی ۔۔1990میں آپ بھاری اکثریت سے جیتے وزیر بنے۔ 1993 میں پھر جیتے ۔1997میں بھی آپ ہارے 1999میں یہ اسمبلی توڑ دی گئی ۔۔اس طرح آپ عملی طور پر دو دففہ۔لیکِن تکنیکی اعتبار سے تین بار ایم این جیتے ۔۔ قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر آپ کا نام بطور ایم این صرفِ دو بار درج ہے ۔۔جب آپ اپنی روز مرہ کی گفتگو میں چار بار ایم این جیتنے کا دعواہ کرتے ہیں۔ وہ غلط بیانی لگتا ہے ۔۔ اور آپ جیسے سیاسی ورکر کو یہ زیب نہیں دیتا اس لئے مؤدبانہ گزارش ہے ۔سب سے پہلے تو آپ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کی درستی کروائیں ۔1988کی اسمبلی میں بھی اپنا نام ڈلوائیں ۔دوسرا چار بار کا کلیم نہ کیا کریں۔ اس غلط بیانی کی وجہ سے جسکی آپ کے پاس کوئی بھی وجہ ہو، جب آپ یہ دعویٰ  کرتے ہیں ،تو میرے جیسے آپ کے کئی خیر اندیشوں کو شرمندگی ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ کے ناقدین اس بات کو اچھالتے ہیں۔امید ہے ۔اپ اس خط کو اسی سیاق و سباق میں پڑھیں، اور سمجھیں گے جس میں یہ لکھا گیا ہے ۔۔ ہاں اگر چاروں بار جیتنے کا کوئی ثبوت ہے، تو اسپیکر قومی اسمبلی کو کہہ کر اسے درست کروائیں ۔اور اگر آپ نے 1997 کے انتحابات کو بھی چیلنج کیا ہوا تھا۔تو بے شک اسمبلی ٹوٹ گئی تھی، اس پٹیشن کا بھی فیصلہ لیں۔ اور ریکارڈ کی درستی کروائیں ۔اگر میرے بیان کئے گئے حقائق میں کوئی غلطی ہو تو ضرور میری تصحیح فرمالیں۔کیونکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اپنی طرف سے سستی ترین ،لیکِن ان کے لئے مہنگی ،نایاب ترین جو چیز چھوڑ کر جاسکتے ہیں۔وہ حقائق وشواہد پر مبنی اپنی اجتماعی تاریخ ہی ہوتی ہے ۔اسی سے وہ اپنے مستقبل کے خواب بنتے اور انکی تعبیروں کے لئے جدو جہد کرتے ہیں
شکریہ
آپکا خیر اندیش
اعظم معراج
رضاکار تحریک شناخت
کراچی

Advertisements
julia rana solicitors london

تعارف:اعظم معراج کا تعلق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ہے۔ وہ ایک فکری تحریک” تحریک شناخت” کے بانی رضا کار اور 20کتب کے مصنف ہیں۔جن میں “رئیل سٹیٹ مینجمنٹ نظری و عملی”،پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار”،دھرتی جائے کیوں پرائے”پاکستان کے مسیحی معمار”شان سبزو سفید”“کئی خط اک متن” اور “شناخت نامہ”نمایاں ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply