‎مرشد! میں جل رہا ہوں ہوائیں نہ دیجیے, ازالہ کیجیے ،دعائیں نہ دیجیے۔۔ راجہ فرقان احمد

دنیا کے طول و عرض میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جس سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ متاثر ہورہے ہیں اور آئے دن اس وبا اور متاثرین میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جی ہاں میں کرونا وائرس کی بات کر رہا ہوں جسے عالمی ادارہ صحت نے covid-19 جبکہ امریکی اس کو چینی وائرس کے نام سے پکارتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور نے Narrative building کا کام تو کرنا ہے۔ خیر دنیا میں تقریباً  پانچ لاکھ کیسز کرونا کے سامنے آئے جس میں سے تقریباً  بیس ہزار جاں بحق ہوئے۔ دنیا کی طرح پاکستان میں بھی کرونا تیزی سے پھیل چکا ہے۔ اب تک تقریباً  بارہ اموات ہوئیں  اور 1200 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تعداد میں اضافے کے بعد ملک بھر میں آرٹیکل 131(A) کے تحت فوج تعینات کی گئی اور چاروں صوبوں میں لاک ڈاؤن بھی ہو چکا ہے۔ ریلوے, ہوائی سفر, شاپنگ مال, مارکیٹ, شادی ہال سمیت چھوٹی بڑی تقریبات  ملتوی ہو چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے معاشی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات   15 روپے فی لیٹر سستی کی گئی ہیں ،  جبکہ مزدوروں کے لیے 200 ارب کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ مزدوروں کو ماہانہ تین ہزار روپے دیے جائیں گے جو کہ سراسر مذاق ہے۔ وزیراعظم عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ اس تنخواہ سے گزارا نہیں ہوتا تو ایک غریب آدمی تین ہزار روپے میں مہینہ بھر  کیسے گزارا کرے گا۔

اس موقع پر حکومت پر تنقید کرنے کی  بجائے اس کا ساتھ دیں اور بتائے ہوئے طریقہ کار پر عمل درآمد کریں کیونکہ کرونا خود نہیں آتا بلکہ آپ اس کو اپنے ساتھ لاتے ہیں لیکن مجال ہے کہ ہماری عوام حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کرے۔ بازار, مارکیٹیں اسی طرح بھری کی بھری ہیں ،بلکہ ہماری عوام تو ان چھٹیوں کو عید کی چھٹیاں سمجھ بیٹھی ہے اور اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے دور دراز سفر کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ جانتے نہیں کہ وہ اپنی زندگی کو خود موت کے کنویں میں ڈال رہے ہیں لیکن کون سمجھائے انہیں۔ عوام مسجدوں کا رخ  بھی کر رہے ہیں بے شک یہ وقت خدا کو یاد کرنے اور معافی طلب کرنے کا ہے مگر خدارا احتیاط کیجیے، گھروں میں بیٹھیں ، جبکہ اب تو مصر کی الازہر یونیورسٹی کی جانب سے فتویٰ بھی جاری ہوچکا ہے کہ عبادات کو گھروں تک محدود کیا جائے۔

ہمارا دین بھی ایسے  وبائی امراض کے پھیلنے اور ان سے بچاؤ کیلئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی احادیث کے مطابق شہریوں کو ایسی جگہ جانے سے منع کیا گیا ہے جہاں طاعون پھیل چکا ہو۔ اسی طرح ایسی جگہ سے باہر نکلنے کے بارے میں بھی ممانعت کی گئی ہے۔احادیث کی کتب بخاری شریف اورمسلم میں عبد الرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب بھی کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں مت جاؤ، اور جس علاقے میں تم موجود ہو وہاں پر طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے ڈر کر باہر مت بھاگو۔ اسی طرح بخاری اور مسلم میں اسامہ بن زید ؓ کے حوالے سے ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، طاعون ایک عذاب ہے جو کہ بنی اسرائیل یا تم سے پہلے کسی اور قوم پر نازل کیا گیا،چنانچہ جب کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں مت جاؤ اور جس علاقے میں تم موجود ہو اگر وہاں پر طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے ڈر کر باہر مت بھاگو۔

ہمارے ملک میں کچھ پڑھے لکھے افراد مولوی حضرات پر ایسے تنقید کرتے ہیں ، جیسے کہ ان پر فرض ہو۔ چاہے سال میں ایک بار مسجد میں جانے کا شرف نصیب ہو لیکن جب اپنا تجزیہ پیش کریں گے تو مولوی حضرات کو اتنا برا بھلا کہیں گے کہ انسان بیان نہیں کر سکتا۔ جب تک آپ نے گراؤنڈ ریالیٹیز دیکھیں  نہ ہوں ، آپ وہ بات کیسے کر سکتے ہیں اور جب ان سے اسلام کی بات کی جاتی ہے تو اُس وقت کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ذاتی مسئلہ ہے, قبر میں ہم نے جواب دینا ہے۔ بے شک مذہب آپ کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن مذہب ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جب آپ کسی پر تنقید کریں , الزام لگائیں ، تو اس کی دلیل بھی دیں جب کہ مولوی حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کریں اور کروائیں۔

کورونا وائرس کے باعث نہ صرف انسانی صحت بلکہ معاشی حالات بھی گر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف چیف نے عالمی مالیاتی بحران کی بھی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسی طرح او ای سی ڈی کے سیکرٹری جنرل نے عالمی معیشت کی بحالی میں کئی سال لگنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ چھوٹی بڑی تمام فیکٹریوں سمیت کئی دوسرے ادارے بھی نقصانات میں ڈوب گئے ہیں۔ پی آئی اے کی ہی مثال لے لیتے ہیں۔ اب تک پی آئی اے کو 4 ارب کا نقصان ہوا ہے جو مارچ کے اختتام تک 6 ارب متوقع ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے ممالک کی معیشت بیٹھ گئی ہے لیکن جہاں اندھیرا ہوتا ہے وہاں روشنی کی کرن بھی موجود ہوتی ہے۔ ہم سب کو اس وائرس کے ساتھ مل کر لڑنا ہوگا اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے گھر میں قید ہونا ہوگا۔
میری وزیراعظم عمران خان سے گزارش ہے کہ فی الفور لوکل باڈیز ممبرز کو بحال کیا جائے کیونکہ ایک لوکل باڈی ممبر اپنے علاقے کی عوام کے بارے میں جتنا جانتا ہے شاید ہی کوئی دوسرا سوشل ورکر یا فلاحی ادارے کا شخص جانتا ہو۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس وبا سے محفوظ رکھے۔ آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *