• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مقامی مسلم فیمینزم – بیگمات بھوپال سے بی اماں تک(قسط 2)-احمر نعمان

مقامی مسلم فیمینزم – بیگمات بھوپال سے بی اماں تک(قسط 2)-احمر نعمان

بیگم بھوپال پر دو آراء  موصول ہوئیں، میسج والے صاحب فیس بک سے باہر ہیں، انہوں نے ان کارناموں کا ذکر کیا جس کا ان بیگم بھوپال سے تعلق نہیں، جن کا پوسٹ میں ذکر ہے، کمنٹ البتہ درست ہے جس میں یہ سوال تھا کہ کس بیگم بھوپال کا ذکر کیا گیا ہے۔ بیگم بھوپال  ایک نہیں، چار گزری ہیں۔ بیگمات بھوپال کہنا چاہیے۔ جن کا میسج والے محترم نے ذکر کیا، وہ بیگم سلطانہ جہاں کی والدہ تھیں، ان کی نانی بھی بیگم بھوپال ہی تھیں اور اپنے اپنے دور کی کامیاب اور مضبوط خواتین تھیں۔ چونکہ ان کا ذکر بھی پوسٹ سے متعلق ہی ہے اس لیے مختصر تعارف بیان کر دیتا ہوں۔
بیگم شاہ جہاں س57 برس سے زائد بھوپال کی حاکم رہیں، انہی کے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پر حکومت کرتی تھی مگر نوابی ریاستیں ان کے حاکم ہی سنبھالتے تھے۔ یہ ویژنری خاتون تھیں، انہوں نے بے شمار زچہ بچہ مراکز بھوپال بھر میں کھولے، سرکاری شفا خانے قائم کیے، اور تو اور ان کے دور میں چیچک کا ٹیکہ لگوانے پر ریاست کی جانب سے انعام دیا جاتا تھا، اور بڑی بات یہ ہے کہ اس کا افتتاح انہوں نے اپنی نواسی کو چیچک سے بچاؤ کا ٹیکہ لگوا کر کیا تھا تاکہ عوام میں ہراس نہ پھیلے اور وہ اس جانب متوجہ ہوں۔

اس کے علاوہ انہوں نے بےشمار مدرسے قائم کیے۔ مذہبی امور کا الگ محکمہ قائم کیا، رمضان میں تراویح پڑھانے والوں تک کو انعام ملا کرتا۔ تفسیر ابن کثیر، فتح الباری وغیرہ انہی کی وجہ سے پہلی بار شائع ہوئی تھیں۔

علاوہ ازیں ایشیا کی بڑی مساجد میں سے ایک تاج مسجد کی تعمیر ان کا خواب تھی۔ ووکنگ – لندن ، Woking  England جہاں کا میسج میں ذکر ہوا، یہ شاہ جہاں مسجد ، انگلستان کی پہلی باضابطہ مسجد تھی جو بیگم بھوپال نے اپنے پیسوں سے ۱۸۸۹ میں بنوائی تھی ۔ اس کے علاوہ اس دور تک کی دنیا کی سب سے بڑی تعمیر راج محل جو اَب تاج محل بھوپال ہے، ان کے دور میں ہوئی۔

لکھنے پڑھنے پر آئیں تو تہذیب النسواں سمیت ان کی اپنی چند تصانیف بھی ہیں، فارسی زبان میں شیریں کے تخلص کے ساتھ شاعری بھی کرتی تھیں، جس میں ان کے تین شعری مجموعہ ملتے ہیں۔ مثنوی صدق البیان، تاج الکلا اور دیوانِ شیریں ۔ ان کا ایک ماہنامہ بھی تھا، ماہنامہ ظل السلطان۔ جس میں عالم نسواں کے عنوان سے کالم لکھا کرتیں۔

ان کی صاحبزادی بیگم سلطان جہاں تھیں جن کا ذکر کیا گیا تھآ، انہوں نے قصر سلطانی محل بنایا، آج کل احمد آباد محل کے نام سے معروف ہے، سلطانیہ گرلز سکول تعمیر کیا جو ابھی بھی چل رہا ہے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی چانسلر بھی تھیں۔

انہوں نے کنگ جارج ہسپتال بنوایا جو ابھی بھِی وہاں کا ممتاز ہسپتال ہے اور کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس دور میں مغرب میں بھی آپ کو ایسی خواتین کم ملیں گی۔ برسبیل تذکرہ قانون سے دلچسپی رکھنے والے ان کی زیر نگرانی اشاعت شدہ قانون کی کتب تلاش کر سکتے ہیں، یقین جانیے ہمارے فراڈ پیچیدہ قانون دانوں سے زیادہ بہتر اور آسان الفاظ میں قوانین درج ہیں جن کی سمجھ بوجھ ایک نیم خواندہ شخص بھی پڑھ کر حاصل کر سکتا ہے۔

بھوپال اپنے وقت سےبہت آگے کی ریاست تھی،( بھوپال سے آج تک دو احباب کے ساتھ کام کیا، دونوں مسلم نہیں تھے مگر ان کی زبان، لہجہ، تہذیب،اور اخلاق اپنے سمیت پاکستانیوں سے بدرجہا بہتر لگیں)۔

اب واپس اپنے کرونالوجیکل آرڈر پر چلتے ہیں۔۔
۱۹۱۵ میں بیگم بھوپال نے علی گڑھ میں گرلز سکول اور گرلز ہاسٹل کا افتتاح کیا مگر بیگم بھوپال روایتی حلقوں کی قبولیت کے لیے ان سکولوں میں پردہ کی حامی تھیں۔

لاہور میں سر شفیع نے پردے کی بھرپور مخالفت کی اور اسی دور میں انجمن خواتین اسلام کا قیام لاہور میں ہوا جس نے دیہی علاقوں کی بے سہارا خواتین کے لیے کافی مفید کام انجام دیے۔ اسی طرح

۱۹۱۵ میں ہی پہلی آل انڈیا مسلم خواتین کانفرنس میں اشرافیہ میں سے چند منتخب خواتین نے شرکت کی۔

۱۹۱۷ میں اس تنظیم نے تعداد ازدواج کے خلاف قرارداد منظور کی جس نے لاہورمیں ہلچل مچا دی۔

۱۹۱۷ میں پہلی مسلم خاتون عبادی بانو المعروف بی اماں ایسی پہلی مسلم خاتوں بنیں جو اس دور کی سیاست اور سیاسی تحاریک میں باقاعدہ شامل ہوئیں، انہوں نے معروف فیمینسٹ عینی بیسانٹ Annie Besant کی رہائی کی تحریک چلائی ۔ عینی بیسنٹ کی تاریخ اگر آپ پڑھیں تو آپ کو علم ہو گا کہ اس پوسٹ کا عنوان فیمینزم کیوں ہے، حقوق نسواں کیوں نہیں اور میں فیمینزم کے زیر عنوان کیوں لکھ رہا ہوں۔ مسلیم فیمینزم صرف عرب سے مخصوص ہی نہیں، ہماری بھی بھرپور تاریخ رہی ہے۔ یہ اور بات ہم بھلا چکے ہیں۔

بی اماں، یوسفزئی خاندان سے تھیں جو امروہہ – اترپردیش ہجرت کر چکا تھا ،بچے ابھی چھوٹے ہی تھے تو شوہر انتقال کر گئے تھے، بچے انگلش میڈیم اسکول بھیجنا چاہے تو چچا نے فییس بھرنے سے انکار کر دیا کہ یہ گمراہ ہوں گے۔ بی اماں نے مگر اپنے تمام زیورات گروی رکھوا کر بچے اسکول میں ڈال دیے۔ ان کے بچوں کو دنیا محمد علی جوہر اور شوکت علی کے نام سے جانتی ہے اور محمد علی جوہر اس دور میں علی گڑھ کے بعد آکسفورڈ تک گئے۔

جس دور میں چاند بی بی اپنا ہی مقالہ نہیں پڑھ پائیں تھیں، بی اماں برقعہ اوڑھ کر سیاسی جلسوں میں خطاب کر رہی تھیں۔
مہاتما  گاندھی کی وجہ سے بی اماں باقاعدہ سیاسی احتجاجی تحریکوں کا حصہ بنیں، اور یہ بھی اگر سمجھیں تو اعزاز کی بات ہے کہ گاندھی انہیں “میری اماں” کہتے تھے، گاندھی جی کے کہنے پر ہی تحریک خلافت کی خواتین ونگ کا چارج سنبھالا، علی برادران اور عینی بیسنٹ کی جیل یاترا کے دوران بی اماں نے خواتین کی احتجاجی تحریک کی قیادت سنبھالی، جس میں بیگم حسرت موہانی کے علاوہ سروجنی نائیڈو، سرلا دیوی ان کے ساتھ تھیں۔

ایک وقت آیا جب افواہ پھیلی کہ ان کے صاحبزادے محمد علی جوہر کو عام معافی مانگنے کے عوض رہائی مل رہی ہے تو بی اماں نے فرمایا کہ علی فرنگیوں سے معافی کا سوچ بھی نہیں سکتا مگر اس نے ایسا کیا تو میرے بوڑھے ہاتھوں میں اتنی سکت ہے کہ میں ان سے اس کا گلہ گھونٹ سکوں۔

۱۹۱۸ میں خواتین کی بہتر صحت، زچگی اور خواتین کی تعلیمی سہولیات میں اضافہ کا مطالبہ سرکار کو پیش کیا، اس کے ساتھ خواتین کی مساوی حق رائے کا مطالبہ شامل تھا۔ مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے خواتین کے حق رائے دہی کی حمایت کا اعلان کیا۔

۱۹۱۹ میں اصلاحات کا آغاز ہوا تو انگریز سامراج نے یہ کہتے انکار کر دیا کہ خواتین کے حق رائے دہی کے لیے حالات ابھی سازگار نہیں ہیں معاملہ صوبوں پر چھوڑ دیا۔

۱۹۲۱ میں لاہور میں مردوں کے ہجوم سے خطاب کرتے بی اماں نے فرمایا، یہاں تمام مرد یا تو میرے بیٹے ہیں یا بھائی، یہ کہہ کر اپنا پردہ اتار دیا۔ ایسی جرات,، بےباکی اور روایت شکنی کا تصور محال ہے۔

بدقسمتی سے بی اماں کا جتنا نام ہونا چاہیے، اتنا اطراف میں نہیں۔ معروف صحافی کلدیپ نائر نے ایک بار لکھا کہ ” یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ اب تک بی اماں کی خدمات کو ہمارے تعلیمی نظام نے نظر انداز کیا ہے اور یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں ان پر لکھا جائے اور پڑھایا جائے۔ ”

Advertisements
julia rana solicitors london

پاکستان میں البتہ ان کے نام کا ٹکٹ جاری ہوا، جس کی تصویر لف ہے۔
جاری ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply