قادیانی شہری اور ایک اہم فیصلہ /ساجد راؤ ایڈووکیٹ

احمدی شہری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے کا معاملہ۔ 
فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

ملزم کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295, 298 اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کی  دفعہ سات اور نو کے تحت 6 دسمبر 2022 کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی گئی  کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسیر ” تفسیر صغیر ” کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو کہ ذیل ہیں :

الف )- پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ 2010 کی  دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب )- مجموعہ تعزیرات پاکستان کی  دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) -مجموعہ تعزیرات پاکستان کی  دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔

مندرجہ بالا الزامات کے تحت 6دسمبر 2022 کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو 7 جنوری 2023 کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد بالترتیب 10 جون اور 27 نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتداء  سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر  عائد  فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔

سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتداء  ملزم کے وکیل کی جانب سے ان دلائل پر ہوئی ، جو کہ ذیل ہیں:

ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف 6دسمبر 2022 کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے  ، اس کے مطابق ملزم   پر الزام یہ ہے کہ اس نے2019 میں تفسیر صغیر تقسیم کی  ، جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ایسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی 2021 میں لگی ہے۔ یعنی اگر 2021 کے بعد   کوئی  ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ جرم کے زمرے میں آئے گا، تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر 2019 میں تقسیم کی ہے تو تب یہ جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں 2019 کے الزام کی بابت ایف آئی آر 2022 کے آخر میں درج کروانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل 12 نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی کو بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی،جس  کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو، تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر 2019 میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا، تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کی  جا سکتی  تھی۔

تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا،کے  حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئی  بات ہے، اس وجہ  سے عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔

سپریم کورٹ کے سامنے چونکہ دو سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کی  مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:

الف )- سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن
ب )- سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس
ج )- سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے

سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ 1932 کی  دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئی، لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعات  کے تحت جرم کیا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 6 مہینے ہے اور ملزم  پہلے  ہی تقریباً 13 ماہ سے جیل میں ہے تو اس لئے عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

سپریم کورٹ نے فیصلے کے آخر میں نہایت ہی اہم بات لکھی ہے کہ اس طرح کے کیسز کا بنیادی تعلق کسی عام آدمی یا اس کی پراپرٹی کے ساتھ نہیں ،بلکہ ریاست کے ساتھ ہے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply