تخلیق کا فاصلہ/یاسر جواد

ویٹیکن کی چھت پینٹنگ کا ایک شاہکار ہے جو مائیکل اینجلو نے سولہویں صدی کے آغاز میں پینٹ کی۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک مچان پر لیٹ کر پینٹ کیا کرتا تھا، اور کئی سال کام کے بعد جب بھی کچھ پڑھنا یا دیکھنا ہوتا تو سر کے اوپر کر کے نیچے سے دیکھا کرتا تھا۔ بہرحال مصوروں کے بارے میں اِس قسم کی کہانیاں بننا خلافِ معمول نہیں۔ (شاید سب پر الگ الگ بات کرنی پڑے)
اِس پینٹنگ میں 33 چوکھٹوں میں بائبل کی تینتیس کہانیوں کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔ الیعزر، یعقوب، یونس، داؤد اور سلیمان، ،موسیٰ، یرمیاہ اور حزقی ایل وغیرہ۔ لیکن 43 چوکھٹوں کے وسط میں بائبل کے مطابق تخلیق آدم کی لازوال تصویر کشی ہے۔ خدا وقت کی قید سے آزاد سہی، مگر اُسے عموماً جوان کی بجائے باریش بوڑھے کی شکل میں ہی دکھایا جاتا ہے، اور ہم بھی خوابوں میں اگر اُسے دیکھیں تو ایسی شکل میں ہی دیکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اِن تصویروں کا ہی نتیجہ ہو۔ جیسے فرشتوں کو بچوں کی شکل میں اور پروں والے دیکھا جاتا ہے، جبکہ عورتوں کو فربہ اور ممتا بھرے جسم کے ساتھ۔خدا کے تصور نے ہمیشہ اپنے گردوپیش سے بہت کچھ مستعار لیا اور اِس کا حلیہ اور گردوپیش کسی بہت بڑے جاگیردار یا حکمران والا بتایا گیا۔ وہ طاقت ور ہے، کیونکہ غریب اور کمزور شخصیت نے کیا خاک خدا ہونا ہے۔ اس چوکھٹے میں بائیں طرف آدم کا پتلا ہے، جیسے اُسے ابھی ابھی چاک سے اُتارا گیا ہو اور اگرچہ وہ ہاتھ آگے کرنے کے قابل ہے، لیکن ابھی بے جان اور مفعول سا ہے۔ وہ زمین پر ایک کہنی کے بل بیٹھا ہے۔ اُس کی آنکھوں میں کچھ وصول کرنے سے پہلے والی بے حسی اور آنے والی زندگی کی بے معنویت کا خدشہ بھی ہے۔ اُس کا پاؤں جیسے پہلے سے سینڈل پہننے کو تیار ہے۔ پس منظر میں روشنی، پانی اور سبزہ ہے۔ اُس نے اپنی انگشت شہادت بڑھا رکھی ہے، مگر غیر فعال انداز میں۔ اُسے زندگی ملنے سے پہلے زندگی کو جوش ظاہر نہیں کرنا! جیسے کوکھ میں بیضہ۔

مرغولے کی شکل میں گھونسلہ نما بادل پر سوار اور ہواؤں میں لہراتے لباس اور داڑھی والا فربہ اور تنومند خدا فعال، متحرک اور مستعد ہے، جیسے کلبلاتا ہوا سپرم۔ خدا کی روح پھونکنے والی انگلی میں طاقت اور جان ہے، شاید اسی لیے حلف لیتے وقت یہ انگلی بلند کی جاتی تھی اور ہے۔ خدا کا دایاں تنومند بازو آگے کو بڑھ رہا ہے، وہ خود آدم کو مجہولیت سے نکالنے کا خواہش مند ہے۔ اُس کے چہرے پر ایک یقین ہے۔ اور بائیں بازو میں عورت (حوا) کچھ خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے؟ اس غیر مختون مرد کو زندگی دینے کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ کائنات اور زندگی تو اِس سے پہلے اور اِس کے بغیر ہی اچھی بھلی چل رہی تھی!

Advertisements
julia rana solicitors london

بادل نما گھونسلے میں بارہ پیکر ہیں۔ وہ انسان نہیں، انسان کے مثالی نمونے ہیں۔ کچھ بھی کر لیں، ہر تخیل کائنات کو انسان کے پیمانے پر ہی جانچے گا اور پیش کرے گا۔ دو انگلیوں کے درمیان جو پونے انچ کا فرق ہے، اِسی میں ہماری ساری زندگی کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ خدا بھی۔

Facebook Comments

یاسر جواد
Encyclopedist, Translator, Author, Editor, Compiler.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply