موروثی سیاست اور حکمرانی۔۔رانا اویس/ حصہ دوم

ابن انشاء نے کیا خوب کہا تھا۔۔”مغل بادشاہ ہمایوں نے نہ کوئی نماز چھوڑی اور نہ کوئی بھائی چھوڑا”۔
ہمایوں نے اپنے پانچ بھائی قتل کروائے ، وجہ کیا بنی؟ اقتدار کی ہوس، سازشیں اور بغاوت۔آپ مسلم لیگ کی موجودہ صورتحال دیکھ لیں آپ کو اندازا ہوجائے گا کہ نواز شریف کی کوشش ہے کہ مریم نواز مستقبل میں وزیراعظم بنے اور شہباز شریف پنجاب تک محدود رہے ۔اور شہباز شریف صاحب اگلے وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔نواز شریف طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ اگر شہباز شریف اگلے وزیراعظم بنتے ہیں تو لازمی طور پہ حمزہ شہباز آگے آئے گا نہ کہ مریم نواز ،یہی وہ وجہ ہے جس سے ن لیگ اندرونی انتشار کا شکار ہے شاید اس کا سب سے  زیاد فائدہ اگلے الیکشن میں عمران خان کو پہنچے
بہت سے لوگ موروثی سیاست پہ تنقید کرتے ہیں لیکن میں بالکل اس کے خلاف نہیں ہوں ۔کیونکہ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے عوام کا باشعور ہونا بہت ضروری ہے پاکستان جیسے غریب ملک کی عوام کو اس شعور کو حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔

جب ہمارے ملک میں شرح خواندگی نوے فیصد سے  زیادہ ہوگی ہر شخص کو اپنے حقوق اور فرائض کا ادراک ہوگا جب نوے فیصد سے  زیادہ لوگ اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے کیونکہ تقریباً پچپن سے ساٹھ فیصد لوگ تو وہ ہیں جو گونگے ہیں جن کے ووٹ نہ دینے کی وجہ سے غلط لوگ تھوڑے سے ووٹ لے کے قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اگر لوگ ووٹ کی طاقت کو سمجھیں تو ہمیں فیملی لمیٹڈ پارٹیوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی جب افراد کی بجائے  ادارے مضبوط ہوں گے، کسی شخص کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، پالیسیوں کا تسلسل ہوگا تو ترقی کا پہیہ چلتا رہے گا۔کرکٹ میں ایک مشہور بات ہے کہ وکٹ پہ جمے رہو ،رَن بنتے رہیں گے، یہی فارمولہ ہمیں جمہوریت میں بھی چلانا پڑے گا، ہمیں بس یہ کرنا ہے کہ جمہوریت چلنے دیں ترقی خودبخود  ہوتی رہے گی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *