• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(چھبیسواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(چھبیسواں دن)۔۔گوتم حیات

SHOPPING

رات کے تین بج کر انیس منٹ ہو چکے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے وقفے سے مرغوں کے بانگ دینے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سن کر مجھے تسلی ہو رہی ہے کہ وہ بھی بیدار ہیں۔ لگتا ہے ابھی ابھی کوئی جہاز بھی گزرا ہے، جہاز کے  جیسی ہی آواز مجھے اچانک آئی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ میرے خیال میں وہ جہاز کی آواز نہیں تھی کیونکہ پروازیں تو ساری بند ہیں، شاید فضائی پروازیں کھول دی گئی ہوں، میں نے بھی تو ٹی وی پر کافی دن سے خبریں نہیں سنیں۔

لاک ڈاؤن کے ستائیس، اٹھائیس دن گزر چکے ہیں۔ اس دوران میں نے کسی بھی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کتابیں مجھ سے روٹھ گئیں ہیں۔ جب سے کرونا ڈائریز لکھنی شروع کی ہے مطالعے کی عادت کہیں روپوش ہو گئی ہے۔ ان دنوں میں نے بہت چاہا کہ کسی کتاب کو پڑھ کر کچھ لکھوں، میری ڈائری کی کوئی نہ کوئی قسط تو کسی کتاب پر مبنی ہونی چاہیے، مگر افسوس! کوشش کے باوجود میں اپنی اس خواہش کو پورا نہیں کر پا رہا۔

آج رات میرے ایک پسندیدہ گلوکار شاہین نجفی کا نیا گیت طاعون کے نام سے ریلیز ہوا۔ شاہین کی بارہویں البم “چل” میں یہ گیت شامل ہے۔ اس البم کے چار گیت ریلیز کیے جا چکے ہیں اور یہ چاروں گیت شاہکار ہیں، شاہین کے سب ہی گیتوں کی شاعری بہت بامعنی ہوتی ہے۔ ان گیتوں میں انسان کی زندگی اور اس سے جڑی ہر چیز کو بہت ہی باریکی سے بیان کیا گیا ہے۔ سیاست، سماج، ریاست، غم، ہجر، جلاوطنی، جنس، مذہب، انفرادیت، آزادی، مرد و زن، شعور، مزاحمت، انقلاب، ظلم و نا انصافی، بربریت، انسانی برابری، مذہبی عمائدین اور مذہب کے نام پر بنائی گئی سفاک ریاستوں کی خونی داستانوں پر مبنی شاہین نجفی کے گیت سننے والوں میں بغاوت کی چنگاریاں منور کر کے انہیں مزاحمت پر اکساتے ہیں، ان کے شعور کو جلا بخشتے ہیں، اس کے ساتھ ہی ان کے حوصلے اور عزم کو بھی بلند کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاہین اپنے گیتوں کے ذریعے اس دنیا کے بے بس اور کمزور طبقوں کو طاقت فراہم کر رہا ہے۔

میں یہاں پر شاہین کے گیت “طاعون” کے ابتدائی اشعار کا انگریزی ترجمہ نقل کر رہا ہوں۔ یہ ترجمہ شاہین کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

Hey Pestilence!If I’m hungry

That’s my bread in your fridge

Plague!If  I have no carpet under my feet

You stole it,That’s under your feet

If I’m without anything and I have Nothing

my everything is yours

Hey Pestilence!The ashes of my life

is because of fire-plays by the ones like you

We were no one,a bunch of zeros

You extracted the essence,the square root of the agony

The shortage of from you,the mourning is because of you

My grief in one day is like yours in a year

شاہین نجفی کا تعلق پڑوسی ملک ایران سے ہے۔ اسلامی ایرانی حکومت نے اپنے چالیس سالہ دورِ اقتدار میں لاکھوں لوگوں کو مذہب و ثقافت کے نام پر ایسی چادریں اوڑھائیں کہ جیسے وہ قبروں میں مدفون ہوں اور زندگی سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ عام افراد کو بنیادی انسانی ضروریات سے دور رکھ کر اُنہیں اَن دیکھے خود ساختہ دشمنوں سے محفوظ بنانے کے لیے بے تحاشا پیسہ محض دفاع کے نام پر خرچ کیا گیا۔ پڑوسی ممالک میں اپنی منظورِ نظر حکومتیں بنانے میں نہایت فعالی سے لابنگ کی گئی۔ اس دوران کئی سچّے ایرانی فنکار و تخلیق کار اپنی زمین سے دور جانے پر مجبور ہوئے اور جو بیرونِ ملک جانے کی سکت نہیں رکھتے تھے وہ سرکاری طور پر مہیا کردہ عماموں کے زیرِنگیں آنے پر مجبور کر دیے گئے۔

ایران کے ایک “عظیم فنکار” فریدون فرخ زاد کو انقلابِ ایران کی سرکاری ایجنسیوں نے بیرونِ ملک جا کر خنجروں کے وار کر کے ختم کیا۔ یہ قتل کی ایک ہولناک واردات تھی، کہنے والے کہتے ہیں کہ “فریدون” کے منہ پر اُس سفاک قاتل نے اٹھائس بار خنجر مارا تھا۔ خمینی انقلاب کی بربریت اور دہشت سے تنگ آکر شاہین بھی اپنی سرزمین سے دور جلاوطنی کے عذاب سہتا ہوا جرمنی میں مقیم ہے۔ میں اکثر شاہین کے لیے فکر مند رہتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ وہ سلامت رہے اور ہم سب کے لیے لازوال گیت تخلیق کرتا رہے۔
شاہین نجفی کا یقین ہے کہ:

“If anything could change the world is from MUSIC & ART not by Politician’s”

“The future belongs to us. I think that art is a force that can change the world”

رات بیت چکی، صبح کے پانچ بج رہے ہیں۔ لاؤڈ  سپیکر سے آتی ہوئی اذان کی تیز آواز نے مرغوں کو اب خاموش کروا دیا ہے یا شاید ان کی بانگیں لاؤڈ  سپیکر کے شور تلے دب گئی ہیں۔ اذان کے بعد مسجد میں یقیناً نمازِ فجر ادا کی جا چکی ہے۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہیں دور سے کوئلوں کے کوکنے کی آوازوں سے چونک کر میں کمرے سے نکل کر باہر آجاتا ہوں، سوچ رہا ہوں کہ اوپر چھت پر جا کر ٹھنڈی تازہ ہوا میں بیٹھوں لیکن میں واپس اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتا ہوں۔

یہ رات یونہی جاگ کر گزر گئی۔ میں اب فیس بُک پر کچھ پرانی پوسٹس دیکھ رہا ہوں، اچانک میری نظر بارہ جنوری دو ہزار بیس کی اپنی لکھی ہوئی ایک پوسٹ پر پڑتی ہے۔ حیرانگی کے ساتھ میں بار بار اُس پوسٹ کو پڑھتا ہوں۔ وہ پوسٹ میں نے صائمہ کو مخاطب کر کے لکھی تھی، اس دن میں نے لکھا تھا:

“صائمہ میں نے یہ پورا ہفتہ سردی کی شدت ختم ہونے کے انتظار میں بستر پر مستقل سو سو کر اور کچھ اردو ادب کے شاہکار افسانوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے گزار دیا۔ ان چھ دنوں میں ایک قدم بھی میں نے گھر سے باہر نہیں نکالا۔
آج دن کو جب میں سو کر اُٹھا تو سردی کی لہر میں حیران کُن حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ اب شام ہوتے ہی سردی بھی بڑھ چکی ہے اور بارش کے بھی آثار ہیں۔ دن ختم ہوتے جارہے ہیں، وقت ہاتھ سے پھسلتی ہوئی ریت کی مانند گرتا جا رہا ہے اور ان ہی ختم ہوتے دنوں سے تنگ آکر میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں کہیں ایسی جگہ پر چلا جاؤں جہاں وقت گزرنے کا سِرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو۔ اگر تمہیں کسی ایسی جگہ کے بارے میں معلوم ہے تو فوراً اپنے کمنٹ کی صورت میں مجھے آگاہ کرو۔ میں پچھلے چند گھنٹوں سے نئی آنے والی فلم “زندگی تماشا” کے دو گانوں میں کھویا ہوا ہوں اور ان گانوں نے مجھے مزید اداس کر دیا ہے۔ آج ایک خیال بار بار میرے ذہن پر دستک دے رہا ہے کہ یہ زندگی اتنی دلفریب سی کیوں ہے اپنی تمام تر وحشتوں اور ناآسودگیوں کے باوجود ہم کیوں پُرامید سے ہوجاتے ہیں؟

اس لمحے میں بھی پُرامید ہوں کہ کل کا آفتاب میرے لیے نئی حدّت و تابندگی لے کر طلوع ہو گا۔۔۔ میرا کل صبح سے وہ تمام کام دوبارہ سے شروع کرنے کا ارادہ ہے جن کو مجھے اس ہفتے مکمل کرنا تھا”۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *