گڑ پلانٹ اور مل مافیا سے نجات۔۔۔ مجاہد ملک

SHOPPING
SHOPPING

 گڑاور دیسی کھانڈ بنانے والا آٹو میٹک پلانٹ لگائیں اور مل مافیا سے جان چھڑائیں آج کل شوگر ملز دن دہاڑے کسانوں کا استحصال کر رہی ہیں اِس کے پیشِ نظر کسانوں کے ایک بڑے طبقے  نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ آ ئندہ اس طرح کی لوٹ مار سے کیسے بچا جا سکتا ہے کچھ کسان حضرات گنے کی کاشت کے بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں۔ اور بعض دوسرے گنے سے گڑ یا دیسی کھانڈ بنانے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ لیکن روائتی بیلنے سے گڑ یا دیسی کھانڈ بنانے میں دقت یہ ہے کہ 5 یا 7 ایکڑ کا گڑ بنانے میں بھی تین سے چار مہینے لگ جاتے ہیں۔ جس سے اگلی فصل کی کاشت میں تاخیر ہونا یقینی بات ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مسئلہ آٹو میٹک گڑ پلانٹ کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔ گڑ بنانے والے یہ پلانٹ اب بھارت میں تو عام استعمال ہو رہے ہیں. لیکن پاکستان میں اس طرح کا پلانٹ ابھی تک نہ تو کسی کسان کے زیرِ استعمال ہے اور نہ ہی یہ پلانٹ پاکستان میں کوئی ادارہ تیار کرتا ہے. البتہ یہ پلانٹ باہر سے منگوایا جا سکتا ہے یا پھر پاکستان میں بھی زرعی انجینئر سے بنوایا جا سکتا ہے. آٹو میٹک گڑ پلانٹ کس طرح کام کرتا ہے؟ یہ گڑ بنانے والا ایک ایسا آٹو میٹک پلانٹ ہے جو سب سے پہلے گنے کا رس نکالتا ہے. پھر اِس رس کی صفائی کرتا ہے. صفائی کے بعد رس کو بڑے بڑے کڑاہوں میں لے جا کر پکاتا ہے. جب رس گاڑھا ہو جاتا ہے تو اس سے گڑ کی پیسیاں بنا دیتا ہے. اور آخر میں یہ پلانٹ اس گڑ کی پیکنگ بھی کرتا ہے.

واضح رہے کہ یہ سارا کام ایک خود کا ر یا آٹومیٹک طریقے سے ہوتا ہے. یہ پلانٹ ایک دن میں کتنا گڑ بناتا ہے. مارکیٹ میں مختلف طرح کے چھوٹے بڑے پلانٹ موجود ہیں. لیکن ایک درمیانہ پلانٹ ایک دن میں 8 سو من سے لے کر 12 سو من گنے کی کرشنگ کر کے اس کا گڑ بنا سکتا ہے. بعض پلانٹ گڑ کے ساتھ ساتھ شکر یا دیسی کھانڈ بنانے کی بھی صلاحیت رکھتے  ہیں. اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے پلانٹ سے ایک دن میں تقریباً  ایک سے ڈیڑھ ایکڑ کماد بھگتایا جا سکتا ہے. درآمد کی صوت میں اس پلانٹ کی قیمت کیا ہے؟ پلانٹ کا ریٹ اس کی گنا بھگتانے کی صلاحیت کے حساب سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے.

ایگری اخبار نے علی بابا منڈی پر جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق دن میں تقریبا ایک سے ڈیڑھ ایکڑ کماد بھگتانے والا پلانٹ تقریبا 40 سے 50 لاکھ میں مل سکتا ہے. لیکن ہمارے حساب سے یہ رقم بہت زیادہ ہے. انڈیا میں اس طرح کے پلانٹ قدرے کم قیمت پر دستیاب ہیں اور اگر یہ پلانٹ پاکستان میں ہی تیار کروا لیا جائے تو اس کی قیمت آدھی سے بھی کم رہ جائے گی. اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ پلانٹ پاکستان میں بن سکتا ہے اور اس کی لاگت کیا ہو گی؟ یہی سوال ایگری اخبار نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زرعی انجینئر ڈاکٹر محمد اظہرعلی کے سامنے رکھا. انہوں نے کہا کہ ہم گڑ بنانے والے اس طرح کے آٹو میٹک پلانٹ تیار کرنے کی مکمل صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں. اور اگر کوئی کسان اس طرح کا پلانٹ بنوانے میں دلچسپی رکھتا ہو تو ہم اسے اس کسان کو اس پلانٹ کی لاگت وغیرہ کا تخمینہ دے سکتے ہیں.

ڈاکٹر اظہر نے بتایا کہ ہم اس پلانٹ کو مکمل آٹو میٹک کرنے کی بجائے سیمی آٹو میٹک کر سکتے ہیں جس سے اس کی قیمت ناقابلِ یقین حد تک کم ہو جائے گی. انہوں نے مزید بتایا کہ چھوٹے سے چھوٹے پلانٹ کو کم از کم ایک کنال کا گڑ دو گھنٹے میں بنانا چاہیے . اس طرح آپ 24 گھنٹے میں تقریبا 2 ایکڑ سے زیادہ کماد بھگتانے کے قابل ہو جائیں گے. ہمارے اصرار کے باوجود ڈاکٹر صاحب نے اس کی حتمی لاگت بتانے سے گریز کیا. انہوں نےکہا کہ اس کی لاگت کا حساب لگانے کے لئے مجھے کچھ بنیادی حساب لگانا ہو گا جس کے لئے کچھ وقت چاہیے . البتہ ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ وہ اس طرح کا پلانٹ تقریبا 15 سے 20 لاکھ روپے میں یا اس سے بھی کم میں تیار کر سکتے ہیں. کسان کے پاس یہ پلانٹ حاصل کرنے کے لئے اتنا پیسہ  کہاں سے آئے گا؟

اس سلسلے میں ایگری اخبار کا اپنے کسان بھائیوں کو مشورہ ہے کہ کاشتکار اکٹھے ہو کر اس طرح کے مشترکہ پلانٹ لگوائیں. اگر شوگر ملوں والوں نے حصہ داری کر کے ملیں لگائی ہوئی ہیں تو عام کاشتکار یہ کام کیوں نہیں کر سکتے؟ امداد باہمی کی انجمن کے ذریعے اگر آپ یہ کام کریں گے تو اس سے آپ کا حساب کتاب بالکل شفاف رہے گا. حساب کتاب درست رہے تو شراکت داری میں پیدا ہونے والے مسائل بالکل سامنے نہیں آتے. مثال کے طور پر اگر 15 کسان آپس میں مل جائیں تو ہر کسان ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے لگا کر اس پلانٹ کا مشرکہ مالک بن سکتا ہے. اگر آپ اس طرح کے پلانٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ایگری اخبار کے توسط سے انجینئر ڈاکٹر محمد اظہر علی سے رابطہ کر سکتے ہیں.

SHOPPING

بشکریہ ایگری اخبار!

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *