محبتوں کا امین تالہ/ڈاکٹر مختیار ملغانی

عزیزم فضیل اشرف قیصرانی نے ایک انتہائی اہم نکتہ خاکسار کے کان میں ڈالا ہے،

” ڈاکٹر کاظمی صاحبہ کے بقول، ان کی اطلاعات کے مطابق ژوب میں تالا بندی کی متاثرہ خاتون ایک میجر ڈاکٹر صاحبہ سے علاج یا مشورے کی غرض سے تشریف لائیں تو میجر ڈاکٹر صاحبہ پر اس خاتون کے نازک عضو کے گرد تالے کا انکشاف ہوا، وہ اس گھناونے جرم کو رپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں کہ ان کا ٹرانسفر کروا دیا گیا، یعنی کہ اس متاثرہ خاتون کے شوہر، سسرال یا “مالکان ” اتنے طاقتور اور بااثر تو تھے کہ ایک میجر ڈاکٹر تک کو کسی کھاتے میں نہ لائے ” ۔

اس سے کیا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے؟ یہی کہ یہ جرائم پسماندہ علاقوں میں ضرور ہوئے ہیں لیکن پسماندہ خاندانوں میں نہیں ہوئے ، اور پھر کس پسماندہ یا قبائلی علاقے کی خاتون سی ایم ایچ میں تعینات کسی میجر ڈاکٹر تک رسائی رکھتی ہے ؟

پختون برادری کے احتجاج پر ڈاکٹر کاظمی صاحبہ نے اپنی تحریر سے ، قبائل کی خواتین، والی بات حذف کر دی ہے (جو کہ بہت اچھا ہوا),اور اب قبائل کی بجائے نیم قبائل، پسماندہ علاقے ، اور قبائل صرف پختون ہی تو نہیں بلوچ قبائل بھی ہیں وغیرہ، کے بعد بدنامی کا رخ پنجاب میں بسنے والے غیر پنجابیوں کی طرف مڑ گیا ہے، مزید برآں عامر خاکوانی صاحب نے جنوبی پنجاب اور پسماندہ علاقوں سے ایسی رپورٹس کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے ہمارے شک کو یقین میں بدل دیا ہے کہ یہ واقعات ڈیرہ غازیخان یا راجن پور کے گرد بسنے والے قبائل یا نیم قبائل علاقوں میں سرزد ہوئے ہیں ۔

ایسے جرائم کرنے والے مرد کون ہیں ؟ کونسا پسماندہ شخص ہے جو ایسے آپریشن کرنے یا کروانے کی سکت رکھتا ہے؟ طب کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں اندام نہانی کے گرد تالا لگانے کیلئے کم سے کم کسی تجربہ کار نرس یا دایہ کی خدمات درکار ہیں، ایسی نرس یا دایہ جسے خریدا بھی جا سکے اور دھمکایا بھی جا سکے، یہ کام کوئی پسماندہ شخص نہیں کر سکتا، ہاں البتہ پسماندہ علاقے کا غیر پسماندہ شخص ضرور کر سکتا ہے، اور پسماندہ علاقے کا غیر پسماندہ شخص وہی ہے جو اپنے کھیت بچانے کیلئے سیلاب کا رخ غریبوں کی بستی کی طرف موڑ دیتا ہے کہ پسماندہ شخص کی زندگی بھلا کیا معنی رکھتی ہے۔ ژوب والے واقعے سے منسلک میجر ڈاکٹر کا ٹرانسفر اور عامر خاکوانی صاحب کا بیان ، کہ ایسے کیسز میں گواہ بننا آسان نہیں ہوتا، سے مراد یہی ہے کہ مجرم ایک غریب اور پسماندہ شخص نہیں بلکہ اثر و رسوخ والا ہے ، یہ کسی “صاحب ” کی بگڑی اولاد بھی ہو سکتی ہے، کسی وڈیرے کے لچھے اڑاتے مسٹندے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن مقام فکر یہ ہے کہ ان واقعات سے عامی آدمی متاثر ہو رہا ہے ، اسے درندے کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اس سے انکار نہیں کہ خواتین کے حقوق بابت ہماری حالت بڑی کمزور اور باعثِ شرم ہے، بے شمار حقوق جو خواتین کو ملک کا آئین، شریعت اور انسانیت زبانی طور پر تو دیتے آئے ہیں، عملی طور پر ہمارے ہاں وہ حقوق خواتین کو حاصل نہ ہو سکے۔ لیکن تالا بندی کے جو چند کیسز زیر بحث ہیں ان کے پیچھے ایک اوسط شخص نہیں ہو سکتا لیکن بدنامی کا بوجھ اس کے کندھوں پر آن پڑا ہے، ان جرائم کے پیچھے وہ نفسیاتی مریض ہیں جن کی زندگی کا مقصد جنس گردی ہے، جنسی تشدد اور عورت کے نازک اعضا پر ملکیت کے حقوق جتانے والا رویہ اسی شخص کا ہو سکتا ہے جو دنیا کی تمام آسائشیں حاصل کرنے کے بعد دوسروں کے ذاتی اعضاء پر اپنی مہر لگا کر خود کو راسپوٹین ثابت کرنا چاہتا ہے، بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے، مجرمین قدیم رومی روایات سے بھی واقف معلوم ہوتے ہیں جہاں باندیوں کو ان کے مالکان آہنی زیر جامہ پہنایا کرتے کہ باندی کہیں دائیں بائیں منہ نہ مارتی پھرے، اب ایسی تاریخ کسی پہاڑ پر بیٹھے ایک اَن پڑھ شخص کی دسترس میں کہاں ہے بھلا ؟ یہ شک زور پکڑتا جارہا ہے کہ ناجائز دولت سے مالامال اشرافیہ کے سائے میں ہی ایسے مجرمین پناہ لئے ہوئے ہیں، ان کی جیبوں کی تلاشی لی جائے تو کچھ بعید نہیں کہ ان سے چابیوں کے گچھے نکلیں ۔

ہمارے سماج میں ایسے گھناؤنے واقعات کو بطور رسم یا کسی مخصوص علاقے سے منسلک کرنے کی عادت نے ہمیشہ کیس کو صرف بگاڑا ہے، اس سے سدھار کبھی نہیں آیا، ایسے ہی جیسے قبروں سے لاش نکال کر بدفعلی کرنے والے مجرم کو لے کر ہم سماج کا بخیہ ادھیڑنا اور مذہب پر الزام   تراشی  کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ خالصتاً نفسیاتی کیس ہوتا ہے کہ مجرم واقعتاً مریض ہے اور ایسے مریضوں پر تحقیق کی جانی چاہیے، تالا بندی کے پیچھے بھی ذہن و شعور کی تہہ در تہہ کئی الجھی گانٹھیں سلجھانے اور ان کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، یہ مجرمانہ ذہن کی تحقیق کا پہلو ہے، لیکن تحقیق ہمارے ہاں ممنوع فعل ہے کہ چسکے بازی کا عادی ذہن ایسے فضول کام پہ وقت اور توانائی کیوں ضائع کرے ۔

نفسیات پر تحقیق اگر بوجوہ ممکن نہیں تو ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف انعام رانا صاحب کا یہ اعانت آمیز مشورہ کیوں نہیں مان لیا جاتا کہ سپریم کورٹ اس پر کوئی قانونی چارہ جوئی کرے ۔
خواتین کے حقوق بارے تنظیموں نے کئی اچھے کام کئے اور کر رہی ہیں، بلاشبہ کسی بھی تحریک کے اٹھنے کی ٹھوس وجوہات ہوتی ہیں، تحریک انہی ٹھوس وجوہات کا ردعمل کہلائی جا سکتی ہیں، انسانی تاریخ میں خواتین کے حقوق کو پامال کیا گیا، عورت کو مکمل انسان ہم آج تک نہیں سمجھتے، لیکن ایک اہم بات جو ہمیں پلے باندھ لینی چاہیے وہ یہ کہ کوئی بھی تحریک اسی صورت کامیاب ہوگی ،
1.جب تحریک کی باگ ڈور انٹیلیکچوئلز کے ہاتھ میں ہوگی ۔
2. تحریک سماج کی خاموش اکثریت کو اپنے ساتھ ملانے کی پوری کوشش کرے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمارے ہاں خواتین کے حقوق والی تمام تنظیمیں ان دو شرائط پر پوری اترتی نظر نہیں آتیں، انٹیلیکچوئلز بارے تو زبان بند رکھنا ہی بہتر ہے، خاموش اکثریت کو ساتھ ملانے کی بجائے، گمان یہی ہوتا ہے کہ دانستہ یا نادانستہ اس اکثریت کو پرے دھکیلا جا رہا ہے ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply