پیالی میں طوفان (109) ۔ کارنامے/وہاراامباکر

آگ مصنوعی روشنی کا آغاز تھی۔ سورج سے آنے والی شعاعوں پر براہِ راست انحصار کرنے کے بجائے ہم نے خود سے روشنی پیدا کرنا سیکھ لیا تھا۔ موم بتی کی ٹیکنالوجی یہ ممکن کرتی ہے کہ جب ہمارا سیارہ گھوم کر اس پوزیشن میں آ جائے کہ سورج اوجھل ہو جائے تب بھی ہم دیکھنے کے لئے روشنی پیدا کر سکتے ہیں۔ آج سے 150 سال قبل ایک شہر میں رات کو موم بتی، لکڑی، کوئلہ اور تیل جلا کرتے تھے۔ لیکن اس کے بعد مصنوعی طور پر پیدا کی جانے والی الیکٹرومیگنٹک لہریں زیادہ روشن تھیں۔ اور صرف روشنی کیلئے ہی نہیں تھی۔ وائی فائی، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے براڈکاسٹ، موبائل فون کے سگنل ۔۔۔ ہماری دنیا میں یہ ہماری پیدا کردہ الیکٹرومیگنیٹک ویوز ہیں۔ ان سے ہمیں موسم کا حال، موسیقی، ٹی وی شو، دوستوں اور رشتہ داروں کی آوازیں، ائیر ٹریفک کنٹرول کے سگنل اور روزانہ کی خبریں اور ڈراموں تک رسائی ہے۔ جدید دنیا کا یہ کارمانہ ہے کہ انہیں پیدا کرنا اور سننا مشکل نہیں۔ انفارمیشن کا یہ بہاؤ ہماری دنیا کو اکٹھا کرتا ہے۔ قدرتی آفات کی خبریں پورے سیارے تک پھیل جاتی ہیں۔ ہم اپنے کاروباروں کو منڈیوں کی صورتحال کے مطابق پلان کر سکتے ہیں۔ ٹریفک یا موسم کے حال کی خبر دیکھتے ہوئے اپنا سفر ملتوی کر سکتے ہیں۔ یہ سب کام کرتا ہے کیونکہ ہماری نوع نے کچھ لہروں کے لئے عالمی قوانین پر اتفاق کر لیا ہے۔ جبکہ کچھ پر قومی سطح پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے بڑے حصے میں لہریں تو تھیں لیکن نیٹورک نہیں تھا۔ صرف پچھلی پانچ نسلوں میں انسانوں نے لہروں کی بنیاد پر بنے انفارمیشن نیٹورک بنائے ہیں اور آج یہ ہماری زندگی کے لئے ناگزیر ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی میں گرمی، سردی اور وسائل کی کمی انسان کی جغرافیائی حدود طے کرتی رہی ہے۔ اگر ہمارے گرد مالیکیول بہت زیادہ توانائی رکھتے ہوں یا کم تو یہی ہمارے جسم کے مالیکیولز کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور اگر یہ ہمارے جسم کے احتیاط سے رکھے گئے توازن میں خلل ڈالے تو ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ لیکن ہم ان حدود سے آگے نکل آئے ہیں۔ ہم عمارتیں بناتے ہیں، گاڑیاں اور راہداریاں ۔۔۔ ان کے اندر کے سٹرکچر کو اس طرح سے بناتے ہیں کہ ان میں توانائی کی سطح ٹھیک رہے۔ دبئی میں ائرکنڈیشننگ اور الاسکا میں سنٹرل ہیٹنگ ہمیں قابلِ رہائش بلبلے دیتے ہیں جو کہ پہلے نہ تھے۔ ان حفاظتی بلبلوں میں ہم باہر کی اصل دنیا کو بھول سکتے ہیں۔
انسان کی دوسرے کسی سیارے پر رہائش تو ابھی بہت دور ہے، لیکن اپنے سیارے میں نئی جگہوں پر رہائش اختیار کر چکے ہیں۔ ہم ماحول کو اپنے لئے بدل لیتے ہیں۔ پانی کی سپلائی، مالیکیولر بلڈنگ بلاک اور توانائی کو درست ہونے کی ضرورت ہے اور ہمارے لئے قابلِ رہائش بلبلہ بن جاتا ہے۔ اور پھر اگلا اور پھر اگلا۔ ہم رینگتے ہوئے سیارے میں پھیل گئے ہیں اور اپنی بقا کے نیٹورک بھی بڑھا لئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرح تہذیب آگے بڑھتی ہے، ہمیں چیلنج کا سامنا ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ وسائل اور جگہ کی ضرورت ہے۔ ہم نے دریافت کیا ہے کہ صنعتی انقلاب اور ترقی یافتہ دنیا کی ڈرامائی ترقی کی قیمت کے لئے ایندھن کے استعمال کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
زمین میں توانائی کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔ یہ بھی بنیادی طور پر شمسی توانائی سے ہی لیا گیا تھا۔ دسیوں کروڑوں سال تک زمین کے پودے سورج کی توانائی کے چھوٹے سے حصے کو پھنساتے رہے ہیں۔ جاندار مر کر زمین کا حصہ بن جاتے اور زیرِ زمین دب جاتے۔ سست رفتار طریقے سے ہونے والے اس اضافے سے زیرِزمین بڑے ذخائر بنتے گئے۔ ان قدیم ذخائر کو ہم فوسل فیول کہتے ہیں۔ ان سے توانائی آسانی سے حاصل کر کے مرضی سے استعمال کی جا سکتی ہے۔
یہ توانائی استعمال کرنے میں تو مسئلہ نہیں۔ یہ شمسی توانائی ہی ہے جو کہ واپس کائنات کو دے دی جاتی ہے۔ لیکن جو بڑا مسئلہ ہے، وہ یہ کہ اس کی پیکجنگ کے ساتھ کیا کیا جائے۔ پودوں کو بڑھنے کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہے۔ اور جب ایندھن سے توانائی لی جاتی ہے تو یہ والی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی آزاد ہو کر ہوا میں چلی جاتی ہے۔ اور اس کی وجہ سے فضا میں لہروں کی حرکت میں فرق پڑ جاتا ہے کیونکہ یہ گرین ہاؤس گیس ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سورج کی زیادہ توانائی زمین میں قید ہو سکتی ہے۔ کروڑوں سال لکے اس ذخیرے کو جلانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارا سیارہ تھوڑا سا گرم ہو گیا ہے۔ اور اس نئے ایکولیبریم کی حالت سے مطابقت پانا بہت دشوار ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان ہوشیار ہیں۔ سائنس، میڈیسن، انجینرنگ اور ہمارے اپنے کلچر کی سمجھ اب ہمارے گرد کی نہ نظر آنے والی لہروں پر بکھری پڑی ہے۔ ہر بار ہم اس انفارمیشن نیٹورک سے کوئی چیز اٹھاتے ہیں تو ہم نسلوں کی محنت سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری سب سے بڑی ترقی اس دریافت سے آئی ہے کہ اگر ہم سائز کے سکیل بدل دیں تو دنیا سے کتنا کھیل سکتے ہیں۔ انسانی جسم کا سائز تو تبدیل نہیں ہونا۔ ہم بہت بڑے اور پیچیدہ سسٹم ہیں اور اس وجہ سے اتنی زیادہ جگہ لے جاتے ہیں۔ پلنگ، میز، کرسی اور خوراک کا سائز بھی تبدیل نہیں ہو گا کیونکہ اس کی وجہ بھی ہمارے جسم کا سائز ہے۔ لیکن ہم جس طرح چھوٹی دنیا کو چھیڑنا سیکھ رہے ہیں تو ہم ایسی بڑی فیکٹریاں بنا رہے ہیں جو ہمیں دکھائی بھی نہیں دیتیں۔ جب سائز چھوٹا ہوتا ہے تو کسی چیز کے ہونے میں جو وقت درکار ہے، وہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ایک سیکنڈ میں اربوں کام کئے جا سکتے ہیں۔ بجلی بھی اس سکیل پر آسانی سے گزر سکتی ہے۔ کمپیوٹر آرکیٹکچر کے ایسے عجوبے ہیں۔ ان کا جادو اس باعث ہے کہ ہم وقت اور سائز کے بہت چھوٹے سکیل سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ ہماری تہذیب کے لازمی جزو بنتے جا رہے ہیں۔
زیادہ آبادی وجہ تہیذب کو زیادہ ایفی شنٹ کام کرنے کی ضرورت ہے، جلد فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ اور انفارمیشن کا تیز بہاؤ درکار ہے تا کہ سسٹم کے نازک حصے چلتے رہیں۔ چند نسلوں پہلے کے سادہ سسٹم آج کے معاشروں کو نہیں چلا سکتے۔ اور اپنے سائز سکیل سے ہٹ کر سائز کو استعمال کرنا اسے ممکن کرتا ہے۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply