• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہمارے مانک دا شیوانی(گورا پنت) -انگریزی ترجمہ: ارا پانڈے /اردو ترجمہ: عامر حسینی/ حصّہ دوم

ہمارے مانک دا شیوانی(گورا پنت) -انگریزی ترجمہ: ارا پانڈے /اردو ترجمہ: عامر حسینی/ حصّہ دوم

اور ٹھیک یہی میں نے کیا۔ آپ نے میری کارکردگی کی جو چرچا ہوئی وہ سنی ہوگی۔ تو چند دن بعد ، ہاتھ سے لکھا ایک رسالہ آشرم کے کسی ساتھی نے مجھے پہنچایا تو غضّے سے میرا خون کھول اٹھا۔’ کیا آشرم میں اسٹیج پہ کسی لڑکی کو یوں سگریٹ پین بنتا تھا؟” کسی نے بدلے کی بھاؤنا کے ساتھ لکھا تھا،”ہم محسوس کرتے ہیں کہ اسے کوئی مناسب سزا دینی بنتی ہے۔”
تبصرے کے نیچے کسی کا نام نہیں تھا لیکن ہمیں یقین تھا کہ مانک دا کے دوستوں میں سے کوئی اس کے پیچھے تھا۔ میں طوفان کی طرح ان کے پاس گئی اور بڑے ہی غصّے سے ان کے سامنے وہ رسالہ لہرایا۔’آپ کو پتا بھی ہے کہ میں نے کیا سلگایا تھا؟’ میں پھٹ پڑی ۔ ” یہ بس اجوائن کے بیج تھے’ میں 20 گواہ پیدا کردوں گی جو اس بارے گواہی دیں گے۔ آپ اتنا کچھ میری کارکردگی کے بارے ميں کیوں نہ کہہ سکے، مجھے بتائیں؟’
میں شرم سے اب بھی سرخ پڑ جاتی ہوں جب کبھی مجھے اپنا وہ خوفناک سلوک یاد آتا ہے جو ميں نے مانک دا سے روا رکھا۔ کیا واقعی میں نے اپنے زمانے کے سب ہدایت کاروں سے زیادہ معروف ڈائریکٹر سے یہ سب کرنے کی جرآت کی تھی جس نے اس روز میری کارکردگی کی سب سے زیادہ تعریف کی تھی؟ مانک دا نے میری غصّہ بھری بات کو بہت تحمل سے اور مدہوش کرنے والی مسکان کے ساتھ سنا تھا۔ انھوں نے ایک بار بھی مجھے یہ نہیں کہا کہ میں نے جب یہ نہیں لکھا تو تم مجھے یہ سب کیوں بتارہی ہو؟ بہت دنوں کے بعد ان کے دوست سمندرا میرے پاس آئے اور اس مضمون کو لکھنے پہ مجھ سے معذرت کی۔’لیکن آپ نے مانک دا پہ اپنا سارا غصّہ کیوں نکالا؟’ اس نے مجھ سے پوجھا،’بیچارا جانتا تھا کہ میں قصوروار ہوں مگر وہ چپ رہا’۔
ایک بار دوسرے موقعہ پہ ہم سب پکنک پہ گئے ہوئے تھے۔ ہر سال، آشرم والے ہم کو شہیوری یا کوپائی آؤٹنگ کے لیے لیجاتے تھے۔ تمام شانتی نکتین کے شاگرد چاہے وہ کالا بھون، سکشا بھون، سنگیت بھون یا ودیا بھون سے ہوتے شریک ہوتے تھے۔ ہمارے ساتھ چھکڑے تھے جن میں کافی برتن، مرتبان اور سلگانے کے لیے لگریاں دیگر ساز و سامان لدھا ہوا تھا۔ ہمارا کھانا کھلے میں پکتا تھا اور ہم سب اکٹھے نیچے بیٹھ کر انتہائی لذیذ کھچڑی، دہی، چٹنی، مچھلی ، سبزیاں اور کڑی وغیرہ پتوں پہ رکھ کر کھاتے تھے۔ دعوت کے آخر میں کشتیش رائے جو یہ سب دیکھتا تھا پوچھتا تھا، کیسا تھا یہ سب؟’
اور ہم سب یک آواز ہوکر کہتے ‘شاندار’ اور پھر “گرو جی کی فتح” کہتے۔ باورچی ہمارے آشرم کے ہوا کرتے تھے: ہری ہر، نگندرا ، ایک ساؤتھ انڈین باورچی چولم کہلاتا تھا اور دوسرا بہار سے تھا جس کا نام سراجو تھااور ان سب کی صدر خانساماں سروجنی دیدی تھیں جن کو اچاریہ ہجاری پرشاد دیویدی نے انا پورنا کا نام دیا تھا۔ اس سال ان کے بیٹے راہول کا اچانگ سے دیہانت ہوگیا اس نے اپنے پیچھے ایک بیوہ رانو بوڈی چھزڑی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھ آنے سے نہیں رکیں۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ پکنک تو سال میں ایک بار ہوتی ہے اور اگر میں نہ گئی تو کچھ غلط ہوسکتا ہے ۔
صرف ہم میں سے جو خوس قشمت تھے جو ان پکنکوں میں گئے جان سکتے ہیں کا وہ کیسی تھیں۔ ہمارے میوزک ٹیچر تھے شالیجا موجمدار اپنے اسراج کے ساتھ اور پھر وہاں امیتا دیدی ہوا کرتیں جن کی پیاری سی آواز پہاڑیوں میں دور دور تک جاتی تھی
او اناتھر ناتھ
او اگاتیر گاتی ۔۔۔
ان کبھی مائيک کی ضرورت نہ پڑتی- ان کی مضبوط آواز ہوا کے دوش پہ ہمارے کانوں تک پہنچ جایا کرتی۔ کانیکا دیدی “باجے کروں سوارے’ جیسا پیارا گیت گایا کرتیں جسے گرودیو نے خاص طور پہ کارناتک راگ میں ساؤتھ سے آئے اپنے پسندیدہ شاگرد ساوتری دیدی کے لیے کمپوز کیا تھا۔ اور پھر کشتیج دا کورس مين گاتے’رانگے رانگے’
مرکزی آواز ہمارے انگریجی کے استاد کشتیج رائے کی ہوتی جن کا خوش کن چہرہ سب سے نمایاں ہوا تھا۔ چند سال پہلے، جب میں ایک فنشن میں ان سے ملا تو یہ دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے کے ساتھ کیا کردیا تھا۔ وہ اپنی پیاری بیوی اور عزیز بیٹی کو کھو چکے تھے ۔ اب اکلے رہ گئے تھے اور اس وقت وہ ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ ان کا کریا کرم کرنے گئے تھے۔ میں جب ان کو ملنے گئی تو وہ ایا ایزی چئیر پہ بیٹھے تھے اور ایک ٹفن ان کے سامنے دھرا تھا جس تک آسانی سے ان کی پہنچ تھی۔
انھوں نے شاید دہشت میرے چہرے پہ دیکھ لی تھی جس کا سبب تنہائی کی حالت تھی۔’ ایک لڑکا مجھے کینٹین سےکھانا دے جاتا ہے ۔” انھوں نے نحیف آواز میں کہا۔”اور میں سارا دن یہاں پڑا رہتا ہوں ، اور ماضی میں تمہاری آوازوں کو سنت رہتا ہوں۔”
یہاں جرمنی میں، دوسرے دن میں ان کی بیٹی شرمیلا سے ملی۔ اسے ٹیگور پہ سیمینار کے موقعہ پہ گانے کے لیے مدعو کیا، جہاں مجھے بھی بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ میں اسے پہچان نہ پاتی اگر وہ اپنی ماں اوما دیدی کا دھندلا عکس نہ ہوتی۔ میں اسلیے اسے فوری پہچان گئی- اس نے ایک فرانسیسی سے شادی کی ہے اور پورپ میں رابندر ناتھ ٹیگور/ ٹھاکر کے سنگیت کو مقبول بننے میں بڑا کردار ادا کیا۔
” ایک بار تو میں بابا سے ملاقات کو جاتی ہوں لیکن بار بار ہندوستان جانا آسان نہیں ہے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے پر تھیں۔ اس کے بابا کبھی آشرم کی پکنکوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ میں نے اسے بتایا اور اچانک ایک بار پھر مانک دا کی مجھے یاد آگئی۔ ہمارے پرانے خانساماں ہری ہر رنگاماہی میں اس سال پکنک کے بعد گم ہوگیا تھا۔ ہم سب نے اسے آوآزيں دیں لیکن ہماری آوازیں باز کشت بنکر واپس لوٹ آئیں۔ بوڑھے آدمی کا کوئی نشان نہیں مل رہا تھا اور ہر ایک کو سخت پریشانی لاحق ہونی شروع ہوگئی تھی۔ پھر کسی نے مشورہ دیا کہ ہم مانک دا کو کہیں وہ ہری ہر کے نام سے اسے آواز دیں۔ ” ان کی آوآز بروان تک پہنچ سکتی ہے۔’ اس آدمیی نے کہا تھا۔
مانک دا، کوئی شک نہیں ہے ہمارے طفلانہ خیالات سے اوب کر ہمارے شور مچانے والے گروپ سے دور چلے گئے۔ وہ ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگاکر سیکچ بنانےلگے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟ ہم نے درخت کے نیچے کھڑے آرٹسٹ تک درخواست پہنچاننے کے لیے ان کے دوست سمندرا کو راضی کرلیا- ہم ان دونوں کو کسی بات پہ ایک دوسرے سے الججھتے دیکھ سکتے تھے،تب مانک دا بادل نخوااستہ اٹھ کھڑۓ ہوئے اور اپنی مدھر بھری ٹون میںں پکارے “ہری ہر ارے او ہری ہر۔۔۔’ میں سوچتی ہوں کہ یہاں تک کہ سارا جنگل انصھیں سننے کو رک گیا تھا۔
تھوڑی دیر کے بعھد بھیڑ کی طرح منمناتا ڈرا ہوا ہری ہر آن پہنچا، کہنے لگا،’بھگوان کی کرپا ہو تم نے مجھے پکارا، میں تو گم ہوکر مایوس ہوگیا تھا، بابو، مانک دا کی صاف اور بلند آواز کام کرگئی تھی۔ یہ وہی صاف اور بلند پکار تھی جس نے بعد میں ایک اور گمشدہ روح کو واپس لوٹایا تھا اور وہ تھی بنگال کے گمشدہ فنکارانہ ورثے کی روح ۔۔۔۔ وہ شاید اپنی بہترین فلموں کی وجہ سے زیادہ جانے جاتے ہیں لیکن بنگال میں مشکل سے کوئی ایسا فنکارانہ پہلو ہوگا جسے رائے کی پرشوق ذہانت نے چھوا نہ ہو۔ اس اعتبار سے دوسرے رینے سانس / احیائی آدمی —– اپنے گرو رابندرناتھ ٹیگور کی طرح تھے وہ ۔ مانک دا نے ایک بار لکھا تھا:’ شاعری، ڈراما، ناول، پینٹنگ ، موسیقی، فلسفہ اور تعلیم _______ ان سب شعبوں میں ٹیگور کا حصّہ شیکسپئیر سے بھی زیادہ ہے۔ میں خود ایک بنگالی ہوں اور پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے چند کمپوزر ہی ٹیگور کی ذہانت کو چھوسکتے ہوں گے۔ میں اس میں مغربی مویسیقاروں کو بھی شامل کرتا ہوں۔ مخض بطور شاعر ہی نہیں یہاں تک کہ بطور ناول نگار بھی ٹیگور اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے۔ اس کے مضامین حیرت انگیز حد تک وسعت کے حامل ہیں اور ان کی دور بین بصیرت اور وژن کے حامل ہیں جو ہمیں اکثر جن دوسرے انشا پردازوں سے واسطہ پڑتا ہے میں نظر نہیں آتے۔ اور ان کے افسانونی کردار ان کی ناقابل تقابل ذہانت پہ مہر ثبت کردیتے ہیں۔’
شاید یہی وجہ ہے کہ ستیہ جیت رائے ٹیگور کو بار بار اپنی فلموں اور اکثر اپنے میوزک میں بھی استعمال کرتے تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے سنگیت کو برہ راست لینے کی بجآئے وہ سنگیت کو ایسے جیسے ‘امی چینی گو، جینی تومارے، اوگو ودیشنی ۔۔۔”(چارولوتا) لیتے ہیں وہ اسے استادی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ یہ گیت ٹیگور کے انچیچی مورا انچیچی مورا(لوٹپوٹے، بالمیکی، پرتبھا)سے ماخوذ ہے اور پھر مغربی نوٹیشن سسٹم کو فالو کرتا ہے۔ دوسرے دن جب شرمیلا نے ان میں سے کئی ویسٹرن میلودی رابندر ناتھ ٹیگور سے لیکر گائیں تاکہ ٹیگور کی موسیقیائی ذہانت کو پیش کیا جاسکے تو جرمن حاضرین کو بہت مسحور کیا۔
ایسی ہی کاسموپولٹن/شہری معیار رائے کے کام میں جھلکتا ہے اور اس جھلک نے ہی تو ہندوستان سے باہر بھی ان کو بہت مقبول بنایا۔ وقت، سچويئش، کردار اور بیانیہ کو شاندار طریقے سے باہم ملان اور ان کا امتزاج میوزک کی کائنات میں ان کے ہاں واقعی ایک منفرد اپچ تھی اور کارنامہ تھا۔ اور یہ وہ ودیعت تھی جسے رائے اپنے فائدے کے لیے ہمیشتہ استعمال کرتے تھے
وہ لکھتے ہیں: ‘ فلم اور میوزک شاندار ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ دونوں زمان و مکان ، عروض اور قلب انساں کا لحاظ کرتے ہیں۔ مالیخولیا پن، خوشی ، عکس یہ وہ طریق جنھوں نے مغربی موسیقی کی آرائش کی۔ ہمارا اپنا موسیقی کا ورثہ مکمل طور پہ مختبلف ہے۔ ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کم ڈرامائی اور زیادہ مسجع مقفع ہے۔
شاید رئے کی چنوتی کا جواب دینے کے لیے دو فلم ساز اصل میں پیرس کئے تاکہ مغربی کلاسکی موسیقی کو پڑھ سکیں لیکن جیسے شیام بینگل نے کسیجگہ لکھا ہے: ان کی دانشورانہ خودستائی اور غرور کبھی رائے کی ذہانتب کے فطری بانکپن کا مقابلہ نہ کرسکے۔
رائے نے جو غور و تفکر کیا اس کا عکس دکھایا بھی اور پھر پیچیدہ خیال کے پروسس کو ایک واحد تماثیل میں بدلنے کا انتظام بھی کرکے دکھایا۔ مجھے شک ہے کہ شاید کوئی اس کے برابر بھی پیش کرنے کے کبھی قابل ہوگا۔ وہ تو ایک ایسے دریا کی طرح تھے جو پورے جوبن پہ ہو اور کوئی جھیل، ندی نالہ بھلا اس کے فنکارانہ بہاؤ کی شدت کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے۔ اپو ٹرائیولوجی ، پارس پتھر، جلسہ گھر سے لیکر بعد میں چارولوٹا، آسانی، گنشترو تک اس کی ذہانت اور عبقری پن ہمیشہ سے برقرار اور مضبوط رہا۔
رائے نے ہمارے سامنے جو رکھا وہ تھرتھرا دینے والی ایک نئی ووثول کائنات تھی۔ انھوں نے ہماری روزمرہ کی زندگی کو مکمل طور پہ ایک نئی جہت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ہر ایک نظر اور تماشائی کے لیے چاہے وہ پنجاب سے تھا، دور دراز ساؤتھ سے تھا یا مہاراشٹر سے راغۓ کی فلموں نے ایسے کردار پیش نہیں کیے جو بہت ہی تنگ نظر دنیا سے بندھے ہوں۔ اس کے کردارہم سب سے برابر بولتے ہیں۔ ا کی فلموں میں ہوا کا ہر جھنکا اوربارش کے قطروں سے گرنے والی ہر ایک بوند ایک جیسی شدت کے ساتھ ہمیں چھوتے ہیں۔ اس کی فلموں میں ہم نے جن مدروں اور عورتوں کے چہرے دیکھے وہ ہمارے دیکھے بھالے ہیں اور ہم ان کو جانتے بھی ہیں اور ان چہروں کی جھریاں ہمارے دکھوں کے ساتھ ملکر ان کے لیے ہمدریاں پیدا کرتی ہں۔
رائے کی جادو کی چھڑی نے اداکاروں اور اداکاراؤں کو (چاہے ولاس کی فلم میں ایک ہوسٹ/میزبان کے طور پہ سومترا ہو یا چارولوٹا میں مادھوی مکھرجی ہو یا اپور سنسار میں شرمیلا ٹیگور ہو یا اپارانا سین تین کنیا میں ہو) ایسے کردروں میں بدل دیا جو ان کی شہرت سے کہیں زیادہ عظیم تھے۔ اس کے تمام اداکاروں نے یہ بات تسلیم کی اور یہی وجہ ہے شاید کہ مادھوی نے ستیہ جیت رائے کوجب وہ ستر سال کا ہوچکا تھا تو مہانگر میں لکھا تھا کہ رائے نے اسے ایک نئی زندگی دی ہے۔ اس نے میرے لیے ایک جھوٹا سا جھروکہ کھولا جس سے باہر میں نے بہت بڑی دنیا میں جھانکا۔ میں تو بس مٹی کا ایک لوتھڑا تھی اس نے پہلے مجھے ایک مجسمے میں تراشا خراشا اور پھر مجھے دیکھنے کا تحفہ دیا۔
راجندریادیو نے حال ہی ميں لکھا کہ فکشن اپنے ہیرو اور ہیروئینوں کو کھوچکا ہے__________ اب تو بس ان کی یادیں رہ گئی ہیں۔ اب تو یہ یاد داشتیں ، نہ کہ فکشن مستقبل ہیں۔ اسے ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply