• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشرف کا چار نکاتی فارمولا مسئلہ کشمیر کے لیے نقصان دہ ہے:وزیراعظم آزاد ریاست جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا خصوصی انٹرویو

مشرف کا چار نکاتی فارمولا مسئلہ کشمیر کے لیے نقصان دہ ہے:وزیراعظم آزاد ریاست جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا خصوصی انٹرویو

SHOPPING

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اپنے دوٹوک پیرایۂ اظہار کی نسبت سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے والد راجہ حیدر خان آزادکشمیر کے نمایاں سیاسی رہنما تھے اور جنرل ایوب خان کے خلاف ایک تقریر کی پاداش میں انہیں بدنام زمانہ قانون ایبڈو کے تحت گرفتار بھی کیا گیا۔ کئی دہائیوں تک اس گھرانے کا تعلق آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس سے رہا۔ خود راجہ فاروق حیدر کا بیشتر سیاسی سفر مسلم کانفرنس ہی میں سردار عبدالقیوم خان کی معیت وسرپرستی میں گزرا۔ پاکستان میں جب فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تو اس کے اثرات آزادکشمیر تک بھی پہنچے۔

سردار عبدالقیوم خان آزاد جموں کشمیر کا نمایاں سیاسی چہرہ تھے لیکن ان کی پہچان کا ایک بڑا حوالہ یہ بھی تھا کہ وہ اسلام آباد میں قائم ہونے والی ہرحکومت سے اپنے تعلقات ہموار رکھنے کا ڈھنگ خوب جانتے تھے۔ ان کے سیاسی فیصلوں سے یہ تاثر بھی ملتا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سینگ پھنسانے کا خطرہ کبھی مول نہیں لیتے ۔ مشرف کے دورِ آمریت میں راجہ فاروق حیدر نے محسوس کیا کہ مسلم کانفرنس میں سیاسی فیصلوں کی ڈوریں غیر سیاسی لوگوں کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہیں اور سردار عبدالقیوم خان ہر قیمت پر اپنے صاحبزادے عتیق احمد خان کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔فاروق حیدر اسی بنیاد پرآزاد کشمیر میں ہونے والے 2006ء کے انتخابات کو’’ ارینجڈ الیکشن‘‘ قرار دیتے ہیں ۔

جولائی 2010ء میں راجہ فاروق حیدرخان پہلی بار ریاست کے وزیراعظم بنے لیکن محض نو ماہ بعد انہیں مستعفی ہونا پڑا اور ان کی جگہ ایک بار پھرسردار عتیق احمد خان وزیراعظم بن گئے۔ مسلم کانفرنس میں’’س‘‘ اور ’’ق‘‘ کے نام سے دھڑے بندی تو نوے کی دہائی میں ہی شروع ہو گئی تھی لیکن اختلافات میں شدت 2005 کے بعد آئی جو بڑھتی ہی چلی گئی۔فاروق حیدر البتہ اس پارٹی سے دیر تک وابستہ رہے لیکن سردارعبدالقیوم خان کی جانب سے سیاسی زندگی کے آخری سالوں میں کیے گئے فیصلوں سے وہ نالاں تھے۔ دل میں مسلسل پکتا یہ لاوہ دسمبر 2010 میں بالآخرپھٹ پڑااورفاروق حیدر آزادکشمیر میں مسلم لیگ نواز قائم کرکے اس کے سربراہ بن گئے ۔

2011ء میں آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس عرصے میں فاروق حیدر قائد حزب اختلاف رہے۔ 2016کے الیکشن میں مسلم لیگ نواز نے آزادکشمیر میں بھاری اکثریت حاصل کی اور اس طرح فاروق حیدر ایک بار پھرریاست کے وزیراعظم بن گئے۔ مئی 2018ء میں پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کی آئینی مدت مکمل ہوگئی لیکن آزادکشمیر کی حکومت کے پاس ابھی تین سال کا وقت ہے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم فاروق حیدر اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ اورسابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیت کے لیے لاہور آئے تو ان سے تفصیلی نشست کا موقع ملا۔ یہ ملاقات فلیٹیز ہوٹل کے اسی کمرے میں ہوئی جہاں قائداعظم محمد علی جناح نے 14جولائی 1929ء کو قیام کیا تھا۔ہم سے ملاقات سے قبل وہ داتا دربار حاضری دینے گئے تھے ۔ ان کے ساتھ اسٹاف کے علاوہ وہ سفید ریش بزرگ بھی تھے جو کھلا کُرتا زیب تن کرتے ہیں جس کے سامنے کی جیب میں پانچ سات قلم مرتب نظرآتے ہیں۔ سر پر سبز عمامہ اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں بھاری نگوں والی انگوٹھیاں پہنے ان صاحب کا نام سائیں صدیق ہے۔ فاروق حیدر اکثرسائیں صدیق کو ساتھ رکھتے ہیں۔

فاروق حیدر سے گفتگو کا آغاز ہم نے اس سوال سے کیا کہ ماضی میں کئی باردیکھا گیا کہ وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی آزادکشمیر میں بھی حکومت بدلنے پر کام شروع ہو جاتا تھا۔ اب جبکہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو چکی، کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فاروق حیدر کا اقتدار خطرے میں ہے؟انہوں نے دھیمے لہجے میں گفتگو شروع کی اور پہلے وضاحت کی کہ میرے معاملے میں وفاق کے بجائے لفظ ’’مرکز‘‘ استعمال کیا جانا چاہیے کیونکہ آزادکشمیر صوبہ نہیں ہے۔میں اسلام آباد کو ہمیشہ مرکز کہتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے آزادکشمیر کی سیاست میں اپنے سیاسی کرئیر کے دوران زیادہ کردار ادا نہیں کیا۔ ان کی پارٹی وہاں ابھی زیادہ پرانی نہیں ہے۔جہاں تک میری حکومت کو خطرے کا تعلق ہے توتاحال عمران خان کی طرف سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی البتہ مقامی سطح پر اقتدار کے خواہش مندوں کی بے تابیاں ہیں ،کچھ لوگ یہ چاہتے تو ہیں لیکن ابھی تک انہیں نقب لگانے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔

انٹرویو نگار فرحان خان کے ہمراہ

٭ماضی قریب میں آپ نے عمران خان کے بارے میں سخت زبان استعمال کی ، اُن کی جانب سے بھی ویسا ہی ردعمل سامنے آیا ۔ کیا وہ تلخی اب اپنا اثر نہیں دکھائے گی؟

میں ایک گناہ گار آدمی ہوں، ایک چیز کے بارے میں خدا کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے اپنے علاوہ کسی اور کا خوف میرے دل میں ڈالا ہی نہیں ۔ میں نفع نقصان کی پروا نہیں کرتا ۔ میری جس بات پر عمران خان نے ردعمل دیا تھا ،وہ انہیں سیاق وسباق سے کاٹ کربتائی گئی، انہوں نے ا س پر نامناسب گفتگو کی۔میں بھی جواب دیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ I am not a dove ۔ فاختہ نہیں ہوں۔تاہم جب لوگ بڑے منصب پر پہنچیں تو انہیں اِن باتوں سے ہٹ کر سوچنا چاہیے۔ میرا خیال ہے عمران خان ایسا ہی کریں گے۔ آزادکشمیر حکومت اور حکومت ِپاکستان کا ورکنگ ریلیشن قائم رہنا چاہیے۔ میں نے عمران خان کو وزیراعظم بننے پرمبارک باد دی ہے اور خط بھی لکھا ہے جس میں نیلم جہلم پراجیکٹ سے متعلق حل طلب امور سے بھی آگا ہ کیا اور یہ بھی لکھا کہ مجھے آپ سے ملنا ہے۔ ابھی تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ہم (مسلم لیگ نواز)نے یہ ثابت کیا کہ حکومتوں کی تبدیلی ریاستی سیاسی عمل کو متاثر نہیں کرے گی ۔ اگر کسی نے اِدھر سے شرارت کی تو اس کا بڑا بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہم ایک پارٹی کے ساتھ ہیں۔سیاسی ایجنڈا ہمارا اپنا ہے، حکومت پاکستان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ رکھیں گے جو ضروری ہے ۔ نواز شریف اقتدار میں ہوں یا جیل میں ، ہم انہی کے ساتھ ہیں۔

٭آپ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں نہیں گئے لیکن کچھ دن قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ان کے دفتر ملاقات کرنے پہنچ گئے ۔کیایہ ڈیڈ لاک ختم کرنے کا ایک حربہ تھا؟

معاملہ کچھ یوں ہے کہ اقوام متحدہ کے ہیومین رائٹس کمیشن نے کچھ عرصہ قبل مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں کچھ ایشوز آزادکشمیر سے متعلق تھے۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن تجویز کیا ہے جو اگلے برس مارچ میں کشمیر کے دونوں حصوں میں آنا چاہتا ہے ۔ ہندوستان نے اس مشن کی آمد کی مخالف کی جبکہ پاکستان میں اس سے متعلق رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں جب تک ہندوستان نہ مانے تب تک ہمیں نہیں ماننا چاہیے ۔ میں اس سلسلے میں بات چیت کے لیے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملنے گیا تھا ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ خود اس مسئلے کو حل کرنے کے عمل کی سربراہی کریں ،آزادکشمیرحکومت ، وزارت خارجہ ، وزارت امور کشمیر اوردیگراسٹیک ہولڈرزکوبلا لیں ۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ فوری طور پر آزادکشمیر حکومت اور یہاں موجود حریت کانفرنس کی قیادت سے بات چیت کر کے اپنی حکومت کا موقف پیش کریں ۔ ابھی تک آپ کی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر کوئی واضح اور دو ٹوک موقف نہیں دیا۔ اس سے پہلے عمران خان صاحب کا ایک انٹرویو آیا تھا جس سے کشمیریوں میں کچھ ابہام پیدا ہوئے تھے، وہ دور ہونے چاہییں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے واپس آ کر اس پر کام کریں گے۔بس یہ تھی اس ملاقات کی کہانی۔

٭رواں سال مئی کے آخر میں آزادکشمیر میں کئی برس التواء میں رہنے کے بعد تیرھویں ترمیم کے نام سے آئینی اصلاحات ہوئیں، ریاستی حکومت کے مطابق اس ترمیم سے آزادکشمیر کوداخلی سطح پر اہم اختیارت ملے ، لیکن اسلام آباد کی نئی حکومت نے اب بیوروکریٹس پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو اِس ترمیم پر نظرثانی کرے گی؟ کیا ترمیم دوبارہ لپیٹی جا رہی ہے؟

المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ سیاسی مسائل کو انتظامی سطح پر طے کرنی کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں جو کبھی ثمرآور نہیں ہوئیں۔آزادکشمیر کے آئین میں ترمیم بیوروکریٹس نہیں کر سکتے۔ یہ اختیار صرف آزادکشمیر کی اسمبلی کو حاصل ہے۔ اس کمیٹی کی بعض ٹرم آف ریفرنسز پر ہمیں شدید اعتراض ہے۔ ہم اپنی کابینہ کے اجلاس میں اس پر بات کریں گے۔دراصل اسلام آباد میں بیٹھے جموں کشمیر کونسل کے کچھ کرپٹ ملازم جنہوں نے ریاستی خزانے کو لوٹا ہے اوروہ احتساب سے خوفزدہ ہیں، انہوں نے ایک ترمیم پہلے بھی لائی تھی کہ کونسل کو احتساب سے مبرا قرار دیا جائے یعنی اسے قومی اسمبلی پوچھے نہ نیب ۔ وہ ترمیمی مسودہ مسترد ہو گیا تھا لیکن یہ کرپٹ لوگ ابھی تک متحرک ہیں۔یہ کمیٹی مجھے قابل قبول نہیں ہے جب تک کہ اس میں آزادکشمیر کی سیاسی نمائندگی نہ ہو۔ اس کمیٹی میں وزیر قانون فروغ نسیم کو شامل کیا گیا ہے۔ وہ کراچی میں رہتے ہیں ، انہیں آزادکشمیر کے ایشوز کا علم نہیں ہے۔ یہ معاملہ ایسا سادہ نہیں ہے ، اس کے پیچھے سیاسی مضمرات ہوں گے ۔ میں نے بعض حضرات کو اطلاع کی تھی کہ انڈین سپریم کورٹ میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370-A پر بحث ہو رہی ہے ۔یہاں گلگت بلتستان کا آئینی پیکیج بھی سپریم کورٹ میں ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ناسمجھی میں یہ لوگ کہیں ان دونوں کو برابر نہ کر بیٹھیں ۔ عمران خان نئی نسل کے آدمی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کشمیر ایشو کو رِی وزٹ کریں ۔وہ 22سال سے سیاست میں ہیں لیکن اس عرصے میں وہ آزادکشمیر بہت کم گئے ہیں ۔ عمران خان کو چاہیے کہ آزادکشمیر کے سیاست دانو ں سے بات کریں ۔ ہم انہیں مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں تاکہ وزیراعظم پاکستان کو کشمیر پر پوری آگاہی ہو اور وہ بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کے حقوق کے لیے بصیرت کے ساتھ ٹھوس گفتگو کر سکے۔ آئینی امور پر بھی انہیں ہمارا موقف لینا چاہیے نہ کہ وہاں اسلام آباد میں بیٹھے کشمیر کونسل کے ملازمین کا۔

٭ تیرھویں ترمیم کو ایک بڑا سنگ میل کہا گیا ۔ یہ آپ کے دور میں ہوئی ، خیال یہ تھا کہ آپ تو اس کا کریڈٹ لینے کے لیے ریاست بھر میں جشن منائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، کیوں؟

دیکھیے ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے ۔ میں نے جان بوجھ کر اس کو Low Keepپر رکھا تاکہ یہ تأثر پیدا نہ ہو کہ پاکستان نے ہمارے کوئی اختیارات غصب کیے ہوئے تھے جو ہم نے حاصل کر لیے ہیں۔2013ء میں میاں نواز شریف کی قیادت میں ماڈل ٹاؤن میں ایک اجلاس ہوا ، وہاں میں نے اپنے مسائل پیش کیے۔نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کا شکر گزار ہوں کہ جو بھی ایشوز اس وقت ایجنڈے میں شامل تھے ، وہ بالآخر حل ہوئے۔ بعض چیزیں جیسے ہمارے واٹر یوز چارجز ہیں، اس پر اتفاق ہے ۔ ہمارے ہاں بجلی واپڈا دیتا ہے ،لائنیں اور پولز وغیرہ لگانے کے اخراجات آزادکشمیر حکومت کو دینے پڑتے ہیں ۔اس سلسلے میں کچھ چیزیں حل طلب ہیں ۔

٭نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نیشنل گرڈ میں 969میگاواٹ کا حصہ ڈالے گا ۔اس کا پہلا یونٹ جب سے آپریشنل ہوا ہے تو ریاستی دارالحکومت مظفرآباد کو شدید ماحولیاتی مسائل اور پانی کی کمی کا سامنا ہے ۔ پانی کا رخ موڑے جانے کی وجہ سے شہر میں گزرنے والا دریائے نیلم ایک نالہ بن چکا ۔ لوگ سراپا احتجاج ہیں ۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے آپ نے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟

میری اس سلسلے میں چیئرمین واپڈا لیفٹینٹ جنرل (ر)مزمل حسین سے ملاقات ہوئی ہے۔ وہاں یہ مسائل زیر بحث آئے۔ چیئرمین واپڈا ہمارے موقف کے قریب ہیں۔کچھ معاملات میں انہیں حکومت پاکستا ن کی ہدایات کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان نے مسائل کو حل کرنے کے لیے پیسہ دینا ہے، خواہ وہ آزادکشمیر حکومت کو دیں یا واپڈا کو۔ مظفرآباد میں پینے کے پانی کا مسئلہ کافی سنگین ہے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جہاں (نوسیری)سے دریائے نیلم کے پانی کا رخ موڑا گیاہے، ہمیں وہیں سے براہ راست مظفرآباد کے لیے واٹر پائپ لائن دی جائے جو 2080ء تک کی ممکنہ آبادی کی ضروریات کو پورا کر سکے ۔ دوسرا یہ کہ مظفرآباد شہر اِن حالات میں سیورج کی وجہ سے تعفن کا گڑھ بن جائے گا۔اس نظام کو درست کرنا ہے۔ مظفرآباد میں واٹر باڈیز بنانی ہیں۔ نئے بنائے گئے ڈیموں سے پانی کا اخراج بڑھانا ہوگا۔ ابھی جو مقدار چھوڑی جا رہی ہے، وہ کم ہے۔یہی حالت رہی تو مظفرآباد شہر تباہ ہو جائے گا ۔
ایک اور مسئلہ دوسرے ڈائیورجن ٹنل(دریائے جہلم) کا ہے جو کوہالہ سے نکلے گا۔ ہم اس کے ڈئیزائن میں تبدیلی چاہتے ہیں ۔ یاتو اسے 1100 سو میگا واٹ کی بجائے آدھا کریں یا اسےRun of river پر بنائیں ، دریا کا رخ نہ موڑیں۔ اس منصوبے پرایک چینی کمپنی سی پیک کے تحت کام کر رہی ہے۔واپڈا صرف تکنیکی مشورہ دے سکتاہے اس لیے اس پر بات حکومت پاکستان سے ہی کی جا سکتی ہے ۔ میں نے ان کو باخبر کیا ہے کہ جب آپ نیلم اور جہلم دونوں کا پانی ڈائیورٹ کر دیں گے تو جہلم ویلی کے تقریباً 22میل، جبکہ نیلم ویلی کے 28میل علاقے پر آباد لوگ متاثر ہوں گے۔ مظفرآباد شہر برباد ہو جائے گا۔ہمارےپاس دستیاب دریائے نیلم کی طوالت 132میل ہے جبکہ پیچھے سے ہندوستان نے اس (کشن گنگا)کا پانی ڈائیورٹ کیا ہے اور ابھی وہ دریائے پونچھ کا پانی بھی موڑکر مینڈری نالہ میں ڈال رہا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ سندھ طاس معائدے کا ہندوستان مسلسل فائدہ اٹھا رہا ہے۔حکومت پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ کیا اب اس معاہدے کا حصہ رہنا چاہیے یانہیں۔

٭ اس وقت ملک میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پرمہم چل رہی ہے ،عوام سے عطیات جمع کرانے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ اس بارے میں آپ کا موقف کیاہے؟

اسے ’’ دیامر ڈیم‘‘ کہنا چاہیے کیونکہ یہ سارے کا سارا گلگت کے اندر ہے ۔اس کے نام میں رد وبدل سے گلگت کے لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ جہاں سے بجلی پیدا ہو گی وہیں کے لوگوں کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ ملنا چاہیے۔صوبہ پختون خوا اس میں نہیں آتا۔ دیامر ڈیم کے لیے معاوضوں کی مد میں86ارب روپے اب تک تقسیم ہو چکے ہیں ۔ میں واپڈا سے پوچھتا ہوں کہ آزادکشمیر سے 48 ہزار ایکٹر زمین لی گئی لیکن صرف تین ارب دیے گئے ۔آزادکشمیر کو دیا گیا معاوضہ بہت کم تھا۔نیلم جہلم پراجیکٹ پانچ کھرب میں بنا ہے اور اس میں جو معاوضہ دیا گیا وہ صرف ڈیڑھ ارب ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے ، اس طرح کشمیر کے مقدمے کا وکیل مضبوط ہوگا ، ہم اس وکیل کے لیے قربانیاں دیتے ہیں لیکن وکیل کو چاہیے کہ وہ ہمارے مسائل پر بھی توجہ کرے۔یہاں کالا باغ ڈیم ابھی تک متنازع ہے جبکہ منگلا کو دو بار اَپ ریز کیا گیا،اب نیلم جہلم پراجیکٹ بنا ہے ۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم پرآگے مزیدتین چارمنصوبے بھی تجویز کیے ہوئے ہیں ۔ اُوپر دُودھنیال میں ایک واٹر ریزروائر بنایا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں اب مطالبہ کرنے لگا ہوں کہ آزادکشمیر کو باضابطہ طور پر اِرسا (Indus River System Authority)کا ممبر بنایا جائے، اس لیے کہ یہ سارے ڈیم آزادکشمیر کے اندر ہیں ۔

٭ آ پ باقاعدہ صوبہ تو نہیں ہیں۔ اِرسا میں تو صرف صوبے شامل ہیں۔ یہ کیسا مطالبہ ہے؟

دیکھیے نیشنل فنانس کمیشن میں ہمارا شیئر 1992ء کی ارینجمنٹ کے مطابق 2.47 تھا جبکہ بلوچستان کا 5.01، جب نیشنل فنانس کمیشن کا ساتواں ایوارڈ آیاتوآزادکشمیر کا شیئرکم ہو کر 2.27رہ گیا جبکہ بلوچستان کا 9 پر چلا گیا ، ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ ہمارا شیئر بھی طے شدہ اصول کے تحت بڑھایا جائے۔پچھلی حکومت میں میاں نواز شریف نے ہمارے ساتھ بڑی مہربانی کی۔ ہم نے کہا تھا کہ ہمارا شیئر 3.80کیا جائے لیکن انہوں نے پاکستان کی ٹائٹ فِسکل پوزیشن کی وجہ سے 2.27سے 3.64 کر دیا ،تیرھویں ترمیم سے ہمیں مالی خود مختاری بھی مل گئی ۔ جب ساتویں ایوارڈ میں ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی تو میں نے اس وقت کے صدرآصف زرداری سے شکوہ کیا تو انہوں نے کہا مجھے تو علم ہی نہیں کہ ہوا کیا ہے ۔ اس وقت ہمارا ترقیاتی بجٹ 10 ارب سے 6ارب کر دیا گیاتھا۔انہی وجوہات کی بنا پر میں کہتا ہوں کہ ہمیں اِرسا میں نمائندگی دی جائے۔

میرپور منگلا سے 614 کیوسک پانی دینا منظور شدہ ہے، جس میں 123 کیوسک پینے کے لیے جبکہ باقی آب پاشی کے لیے ہے ، اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔میرے پیشِ نظر 20برس آگے کی صورت حال ہے۔ ہندوستان کی طرف سے اس ایشو کو ایکسپلائٹ کیا جا سکتا ہے لیکن لوگ ابھی سمجھ نہیں رہے۔ میں نظریاتی طور پر By Conviction پاکستانی ہوں ۔ اگر کل کو یہاں پر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچے گا تو وہ میرے لیے الم ناک ہوگا۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ہمارا دشمن بلوچستان میں کیا کررہا ہے، ابھی آزادکشمیر بچا ہوا ہے سواس جانب توجہ دی جانی چاہیے۔ہمیں چاہیے کہ آزادکشمیر کے لوگوں کو ایسی جگہ پر نہ لے جائیں کہ کل مسائل پیدا ہوں۔ نواب زادہ نصر اللہ خان صاحب کا شعر ہے کہ:
زبان پہ لانہیں سکتے حدیث ِ لالہ رُخاں
قلم سے لکھ نہیں سکتے قدِ نگار کی بات

٭ آپ حکومت پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی کا مشورہ کیوں دے رہے ہیں ۔خدشات کیا ہیں؟

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان اب دریائے پونچھ کا رخ بھی موڑ رہاہے۔ جب 2013ء میں وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف مظفرآباد تشریف لائے ۔ وہاں جب نیلم جہلم سے مظفرآباد کے لیے چھوڑے جانے والے پانی کی مقدار زیربحث آئی تو میں نے یہ ایشو اٹھایا۔ میاں صاحب نے اس وقت کے سیکریٹری واٹر اینڈ پاور سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ جوں جوں ہم سندھ طاس معائدے میں زیادہ دھنستے جاتے ہیں توں توں وہ بھارت کے مفاد میں نکلتا جاتاہے ۔ جن لوگوں نے اس پر دستخط کیے تھے انہوں نے پاکستان کے آئندہ کے مفادات کو نہیں دیکھا تھا ۔ تین دریا تو ہم نے ان کو دے دیے جو باقی بچے ان پر بھی پیچھے شروع میں اُن کو حق دے دیا۔ بھارت اب اپنے 40دریاؤں کو جوڑنے پر کام کررہا ہے ، انہوں نے ایک ٹنل بنائی ہے جہاں کشن گنگا ڈیم بن رہا ہے، اس کا پانی وولر میں ڈال رہے ہیں ۔ کل وہ چناب سے راوی میں پانی ڈالیں تو نیچے آ کر یہ راجستھان میں پانی لاسکتے ہیں۔ اس کا یہاں کسی کو اندازہ نہیں ہے۔ میں 2005ء میں جب پہلی بار سردار عبد القیوم خان کے ساتھ انٹرا کشمیر ڈائیلاگ کے سلسلے میں ہندوستان گیاتو میں نے محسوس کیاکہ ہندوستان کے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ 2025-30 تک ہندوستان اقتصادی ، عسکری اور سیاسی طور پر اتنا طاقتور ہوجائے کہ پاکستان کو اس سے کسی معاملے پر بات کرنے کی جرأت نہ ہو سکے گی ۔ ہندوستانی پالیسی ساز پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے۔ ان کو خوف ہے کہ اگر پاکستان کے بارڈر ٹوٹ گئے تو نقصان ہندوستان ہی کا ہوگا ۔ ایک کمزور پاکستان اُن کے مفاد میں ہے ۔پاکستان کی جیو اسٹرٹیجک پوزیشن بہت اہم ہے۔ ضرورت اس بات کہ ہے کہ ہم سب لوگ مل بیٹھ کر ایک قومی ایجنڈہ بنا کر پاکستان کو آگے لے جائیں۔

٭آر پار کشمیریوں کے ملنے کے حوالے سے کچھ تجاویز آئی ہیں ۔ کہا گیا کہ کنٹرول لائن پر کوئی ایسا مشترکہ پارک بنایا جائے جہاں آر پار کے کشمیری آسانی سے مل لیا کریں، آپ اس تجویز کو کیسے دیکھتے ہیں؟

میری ماں سری نگر کی تھیں ، میں اپنی ماں کے گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں بھلا کیوں بارڈر پر ملوں؟ کشمیریوں کے لیے آنا جانا مکمل طورپرکھلاہوناچاہیے۔آرپار آمدورفت کی ڈاکیومینٹیشن میں وقت بہت صرف ہوتا ہے۔ بسا اوقات اس عمل میں ویزے سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے تو کہا گیا کہ ایک پارک بن جائے ۔بھئی اس پارک میں جانے کے لیے بھی توکسی سے اجازت لینی پڑے گی۔ سمجھنا چاہیے کہ یہ موقف اپنانے سے کشمیریوں کے حق میں کمی آتی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کسی بھی کشمیری کے آر پار جانے پرکوئی قدغن نہیں ہے۔

٭ آپ کاکہنا ہے کہ مشرف کاچار نکاتی فارمولا مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو مجروح کر دے گا ، تو کیا اس سے بہت پہلے جولائی 1972ء کے معائدہ شملہ میں پاکستان اور بھارت نے کشمیرکے دوطرفہ تنازع ہونے پر اتفاق نہیں کر لیاتھا؟

معائدہ شملہ نے کشمیر کو دوطرفہ مسئلہ بنایا جس کا ہمیں بہت نقصان ہوا ۔ سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کیا گیا۔ اسی پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ اب کشمیر سے اقوام متحدہ کےObservers نکالے جائیں لیکن اس سب کے باوجود مسئلہ کشمیر اب بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے۔ پاکستان اور بھارت از خود سیکیورٹی کونسل کی توثیق کے بغیر اس مسئلے سے ہاتھ نہیں کھینچ سکتے۔اس کے لیے کشمیریوں سے بھی پوچھنا پڑے گا۔ جب پاکستان اور بھارت یہ مسئلہ لے کر اقوام متحدہ گئے تو ان دونوں ممالک نے بعض امور میں اقوام متحدہ کے سامنے اپنے اختیارات سرنڈر کیے تھے۔1955 ء میں جب کشمیر کی اسمبلی میں ہندوستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کی گئی تو پاکستان سیکیورٹی کونسل میں گیا۔ سیکیورٹی کونسل نے 1947کی قرارداد نمبر 91کی بنیاد پر اس الحاق کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ رائے شماری کانعم البدل نہیں ہے۔سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی ملک کا قانون اُن انٹرنیشنل معاہدوں پر حاوی نہیں ہوسکتا جن پر انہوں نے دستخط کر رکھے ہوں۔ پاکستان کی حکومت نے 1956,1962اور1973ء کے آئین میں شامل آرٹیکل 257 میں لکھا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ رائے شماری ہی سے ہوگا ۔ اس کے علاوہ پاک چین کا جو سرحدی سمجھوتا ہوا تھا،اس کے آرٹیکل 6میں درج ہے کہ اگر کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو گیا تو یہی بارڈر تسلیم کیا جائے گا ،اگر کشمیریوں نے کوئی اور فیصلہ کیا تو پھر کشمیری حکومت کے ساتھ بات کی جائے گی ۔ اُس وقت وزارت خار جہ میں سمجھدار لوگ تھے کہ انہوں نے اس کو متنازع رکھا۔ 1971ء کے سانحے کے بعد ہم کمزور پڑ گئے تھے۔اسی شملہ معائدے کے بعد1975ء میں اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے درمیان ’’دہلی اکارڈ ‘‘ہوا۔ اس کے ساتھ آزادکشمیر میں ایکٹ 1974ء بھی آیا جس میں آزادکشمیر حکومت کی اتھارٹی کو بہت کم کر دیا گیا تھا۔ یہ سب شملہ معائدے کے فالو اَپ میں ہوا۔ ہم نے اسی سال مئی میں تیرھویں ترمیم میںایکٹ 74کے ُان نقائص کونکالا، اب چٹھیاں لکھی جارہی ہیں کہ اس پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا حالانکہ دوسری طرف یہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے ایکٹ 74ء ترمیم کر کے آزادکشمیر حکومت کو بااختیار بنا دیا ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے؟

٭جموں کشمیر کی سبھی اکائیوں میں توانائی کے میگا پراجیکٹس لگائے جا رہے ہیں ۔ یہ صورت حال دیکھ کرکبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عملی طور پر انڈیا اور پاکستان ’’جو ہے جہاں ہے‘‘ پر راضی ہو رہے ہیںیعنی تقسیم کشمیر۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟

کچھ حضرات جو مایوس ہو چکے ہیں شاید اُن کے ذہن میں یہ بات ہولیکن یہ چند بیوروکریٹس کا نہیں ہے بلکہ 21 کروڑ لوگوں کا معاملہ ہے اور وہ لوگ اتنی آسانی سے اس بات پر راضی نہیں ہوں گے۔ یہ کمزور اور بزدل لوگوں کی سوچ ہو سکتی ہے کشمیریوں کی نہیں۔

٭مسلم کا نفرنس آپ کی مدر پارٹی تھی ، اس میں عمر کا اہم اور بڑا حصہ گزارنے کے بعد مسلم لیگ نواز کی آزادکشمیر میں داغ بیل ڈال دی، ایسی کیا وجہ بنی؟

کئی وجوہات تھیں۔ میں نے سردارقیوم صاحب سے ایک بار پوچھا کہ پرویز مشرف کے چار نکات تو ہمارے خلاف ہیں۔کیا کیا جائے؟۔ کہنے لگے بیٹا! ہمیں اِسی ٹرین میں چھلانگ لگا دینی چاہیے۔ میں نے کہا آپ چھلانگ ماریں ، میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ اس وقت الیکشن کوسامنے دیکھتے ہوئے یہ سب کچھ اپنے بیٹے( عتیق احمدخان )کے لیے کر رہے تھے۔ جب عتیق خان وزیراعظم بن گیا تواس وقت غضنفر نامی شخص کی اسے پشت پناہی حاصل تھی ۔ اسی وجہ سے میں اس حکومت کو’’ عین غین‘‘ حکومت کہتا تھا ۔غضنفر نامی شخص نے اس وقت اسمبلی ٹکٹوں کی تقسیم میں کردار ادا کیااورلوگوں نے اسلام آباد ہوٹل میں جا کر چوہدری شجاعت سے ٹکٹ لیے لیکن میں نے وہاں جانے سے انکار کر دیا۔حالات اس نہج تک چلے گئے تھے کہ کرنل اور میجر ہمارے پارلیمانی بورڈ پر اثرانداز ہونے لگے ۔ اس وقت اس افسر نے کہا راجہ صاحب!مجھے آپ سے ضروری کام ہے۔ میں نے عذر کیا توکہنے لگا کہ یہ کام آپ کے بغیر ہو نہیں سکتا ۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا تو دیکھا کہ اس کی میزپرایک موٹی سی کتاب پڑی ہوئی تھی ۔ کتاب کھولی تو اس میں امیدواروں کی تصویریں اور پروفائل تھے۔ ایک امیدوار مفتی منصور کی پروفائل دیکھ کر میں نے کہا صاحب! یہ سید نہیں، پٹھان ہے اوراس کی سب کاسٹ’’ رُوبی‘‘ ہے، آپ کی معلومات ناقص ہیں۔ پھر وہ کہنے لگے اسے ٹکٹ نہیں مل سکتا ، اس نے کچھ مقدمات میں ہماری مدد نہیں کی۔ نورین عارف کو ٹکٹ نہیں مل سکتا کیونکہ یہ سکندر حیات کی رشتہ دار ہیں۔ راجہ قیوم کو ٹکٹ نہیں مل سکتا کہ یہاں زلزلے کے سامان کی بڑی لوٹ مارہوئی ہے۔ یعقوب خان کو ٹکٹ نہیں مل سکتا کیونکہ وہ ہیومن اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ یاسین گلشن کو ٹکٹ نہیں مل سکتا کیونکہ کے اس نے ایرا (ERRA)کے خلاف ایک جلوس نکالا تھا۔چوہدری عزیز کو بھی ٹکٹ نہیں مل سکتا کیونکہ وہ سردار قیوم اور عتیق خان کو برا بھلا کہتا ہے۔ میں نے کہا اگر یہی کرنا ہے تو خود کریں ، مجھے کیوں بلایا ، میں نے کہا کہ ٹکٹوں کا فیصلہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے کیاہے ۔ تو اس نے رعونت سے کہا ’’کیسا پارلیمانی بورڈ۔۔۔!‘‘ بس یہ بات میرے دماغ میں اسٹرائیک کر گئی کہ اب ہمیں عتیق خان نے کہیں اور ڈال دیا ہے۔ اس کے بعد حالات ایسے ہوئے کہ ہمیں سوچنا پڑا کہ اگر ہم نے نوکری ہی کرنی ہے تو پھر کسی پولیٹکل آدمی کے ساتھ ہی کیوں نہ لگ جائیں، ان غیر سیاسی لوگوں سے کیوں فیصلے کرائیں۔عتیق خان آج بھی اُن کے لے پالک ہیں۔

٭ لائن آف کنٹرول پر آئے دن کشمیری بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔ وہاں ہونے والے نقصانات کی ممکنہ تلافی کے لیے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟

ابھی کچھ عرصہ قبل میں ،آرمی چیف جنرل قمرباجوہ اور شاہد خاقان عباسی لائن آف کنٹرول پر گئے ہوئے تھے ۔اگر یہاں کوئی کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ سے شہید ہو جاتا ہے ہم اس کے ورثا کو تین لاکھ روپے دیتے ہیں، میں نے اس دورے کے دوران جنرل باجوہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے کہا کہ جناب!جو تیل چوری کرتے ہوئے جان سے گئے ، ان کو20لاکھ دیا گیاجبکہ ہندوستانی فوج نے جن کو مارا ان کے لیے صرف تین لاکھ! میٹنگ ختم ہوئی تو شاہد خاقان عباسی نے مجھ سے پوچھا کہ شہداء کے ورثاکے لیے کتنے پیسے ہونے چاہئیں ۔ میں نے کہا آٹھ لاکھ تو انہوں نے کہا نہیں 10لاکھ کی ہامی بھری۔اُس وقت حکومتِ پاکستان نے اس مقصد کے لیے ایک فنڈ بنایا جس میں پیسے آنا ابھی باقی ہیں ۔ ہم ایک اور بھی فنڈ قائم کر رہے ہیںجو مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے افراد کے خاندانوںکی کفالت کے لیے ہے۔ ہم ان لوگوں کے وارث ہیں ۔اس دوسرے فنڈ کے سلسلے میں ابھی کچھ پیچیدگیاں ہیں جنہیں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

٭ یہ باتیں سننے میں آئیں کہ آپ نواز شریف کے جیل جانے کے بعد وقت طے ہونے کے باوجوداُن ملنے نہیں گئے ، وہ انتظار ہی کرتے رہ گئے ۔کیا آپ کو نئی حکومت کی ناراضی کا اندیشہ تھا ؟

مجھے جیل میں نواز شریف سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ میں وزرات داخلہ پنجاب کو تین بار خط لکھ چکا ہوں کہ میں آزادکشمیر کا وزیراعظم ہوں ، کوئی عام وزیٹر نہیں ہوں ، میں نے نواز شریف سے ملنا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ میں جمعرات ہی کوملوں ۔ میںان سے ملاقات کے لیے جیل کے مین گیٹ پر گیا تومجھے روک دیا گیا ۔ میں نے وہاں جھگڑا کرنا مناسب نہیںسمجھا، میں ایسی سچویشن پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا کہ اس جھگڑے کی ویڈیو کل ہندوستان کے ٹی وی چینلزپر چلیں اورملک کا مذاق اڑایا جائے۔

’’ میاں صاحب! آج فیصلہ کر کے جائیں کہ میں آپ کے برابر کا شہری ہوں یا آپ کا مزارع ‘‘

مجھے لوگ کہتے ہیں کہ سخت بولتا ہوں۔ میں بھی لچھے دار گفتگو کر سکتا ہوں لیکن میں عمداً کرتا نہیں ہوں ۔ میراکام بات کو سادہ الفاظ کو بیان کردینا ہے کسی کو اچھی لگے یا بری لگے ۔ میں دو بار یورپ میں گیا۔وہاں لچھے دار اور بیوروکریٹک گفتگو اثر نہیں ڈال سکتی ۔ وہاں آپ نے دوٹوک بات کرنا ہوتی ہے۔نواز شریف دسمبر 2016ء کے آخری ہفتے میں مظفرآباد تشریف لائے۔اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر کونسل کا بجٹ پیش ہونا تھا،اس کے بعد ہمارے ایشوز تھے۔ چیف سیکریٹری نے حکومت کی طرف سے صورت حال کی وضاحت کی۔اس کے بعد میری باری آئی۔ میرے منہ میں جو کچھ آیا اس دن میں نے کہہ دیا ۔ میں نے کہا کہ میاں صاحب! آج ادھر سے یہ فیصلہ کر کے جائیں کہ میں آپ کے برابر کا شہری ہوں یا آپ کا کوئی مزارع ۔ وہاں موجود لوگوں نے کہا کہ اس نے توآج اس سب کا بیڑا غرق کر دیا ہے جو ہم نے پلان کیا تھا۔نواز شریف اس پر ناراض ہوں گے ۔ جب میری گفتگو ختم ہوئی تو نواز شریف نے کہا راجہ صاحب! میں ایک سو بیس فی صد آپ کے ساتھ ہوں اور آپ نے یہی باتیں فلاں فورم پر بھی کرنی ہیں ۔ جب ہم کھانا کھانے کے لیے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے تو انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا ، راجہ صاحب! آپ سے پہلے کئی نمایاں لوگ یہاں اقتدار میں رہے انہوں نے کبھی یہ بات کیوں نہیں کی؟ میں نے جواب دیا انہیں کرسی کا خوف تھا اور مجھ سے آپ ابھی کرسی لے لیں ۔کرسی میری کمزوری نہیں ہے ۔اقبال کا شعر ہے

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

’’کلثوم نواز جرأت مند خاتون تھیں ۔ مشرف دور میں نواز شریف کی جلاوطنی کا فیصلہ انہی کی تحریک کی وجہ سے ہوا‘‘

بیگم کلثوم نواز ایک بار میاں صاحب کے ہمراہ مظفرآباد تشریف لائی تھیں ۔ اس وقت مسلم لیگ کی صرف پنجاب میں حکومت تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب وادی چکار میں زلزلے کے بعد ایک قدرتی جھیل بنی تھی ۔ اس وقت بیگم کلثوم نواز کی صحت ذرا ٹھیک نہیں تھی ۔ کلثوم نواز وہاں خواتین سے ساتھ گھل مل گئیں۔ میں نے ایسی سنجیدہ اور منکسرالمزاج خاتون نہیں دیکھی ۔وہ پڑھی لکھی لیکن جرأت مند خاتون تھیں۔نواز شریف کے ساتھ ان کا 48برس کا ساتھ رہا ۔ یہ بہت مشکل ہوتا ہے خاص طورپرجب آپ کا شوہر سیاست دان بھی ہو لیکن ان کے درمیان ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ۔ وہ اچھی خاتون تھیں اسی لیے ان کے بارے میں کسی نے بھی کوئی منفی بات نہیں کی تھی ۔انہوں نے اس وقت بھرپور سیاست کی جب مشرف نے تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا ۔ نواز شریف کی جلا وطنی کا فیصلہ اس خاتون کی تحریک کی وجہ سے ممکن ہوا جو یہ شاید مشرف کنٹرول نہ کر پاتے ۔ہمارے ہاں کچھ خواتین کا تاریخ میں بہت روشن کردار ہے محترمہ فاطمہ جناح ، ان کی ایک تصویر بھی میرے پاس ہے جس میں وہ کراچی میں ایوب دور میں کرائے گئے فسادات میں ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ پھر نصرت بھٹو ، ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو ،اس کے بعد مشرف کے دور میں بیگم کلثوم نوازاور آج ان کی بیٹی مریم نواز۔یہ لوگ ان کی بیٹی سے بھی ڈرتے ہیں ۔

’’چار نکاتی فارمولا مشرف اور طارق عزیز کی ذہنی اختراع تھی ،خورشید قصوری کو کچھ علم نہیں تھا‘‘

جنرل پرویزمشرف کے ناقابل معافی جرائم میں ایک اس کا چار نکاتی فارمولا ہےجسے پاکستان کے سیکیورٹی کے کسی بھی ادارے کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ مشرف نے اس فارمولے میں کشمیر کی مشترکہ نگرانی کی بات کی ہے، بتائیے کیا میں انڈین فوجیوں کو منگلا اور کوہالہ پل پر لاؤں گا؟ کیا میں اُن کے ناپاک قدم یہاں پڑنے دوں گا؟ پرویز مشرف خود ساختہ انٹلیکچوئل تھا ۔ہمارا موقف اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس وقت کے وزیرِ خارجہ خورشید قصوری کو بھی پاک بھارت مذاکرات کے اُس سارے عمل کا علم نہیں تھا۔صرف مشرف اور اس کامشیر طارق عزیرسب معاملات سے آگاہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کہا جاتا تھا کہ جب مشرف اور طارق عزیز بات کرتے ہیں تو ساتھ کوئی تیسرا آدمی بھی ہونا چاہیے تاکہ کسی کو پتا تو ہو کہ ہوا کیا ہے۔اگر مشرف کا چار نکاتی فارمولا مان لیا جائے تو کشمیر پاکستان اور بھارت کا سرحدی تنازع قرار پائے گا۔ اس صورت حال میںکشمیر کا حق خودارادیت کدھر جائے گا جو دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ میں تسلیم کر رکھا۔ اس مسئلے میں صرف پاکستان اور بھارت فریق نہیں ہیں بلکہ بنیادی فریق تو کشمیری ہیں۔ ان بے وقوفوں کو یہ نہیں معلوم کہ رائے شماری کی صورت میں کشمیری کدھر جائیں گے ، ظاہر ہے پاکستان کی طرف ہی جائیں گے۔ دوسرا جرم جو مشرف نے کیا وہ کنٹرول لائن پر خار دار تار لگوانا ہے جس کی وجہ سے ہماری ساری وائلڈ لائف تباہ ہو گئی ۔

راجہ فاروق حیدر اپنی افتاد طبع کے اعتبار سے کافی جذباتی واقع ہوئے ہیں ۔ وہ اسمبلی کے اجلاسوں اور پریس کانفرنسوں میں گاہے آبدیدہ ہو جاتے ہیں تو کبھی کسی سخت سوال پر ہتھے سے بھی اُکھڑ جاتے ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹے کی اس ملاقات میں کہیں کہیں وہ جذباتی نظرآئے ۔’’دیکھیں! بات یہ ہے کہ‘‘ اُن کا تکیہ کلام ہے۔ وہ چین سموکر ہیں،سہہ پہر ڈھل رہی تھی اور فاروق حیدر اپنے ہاتھ کی تیسری انگلی میںپکڑاپانچواں سگریٹ سامنے پڑی ایش ٹرے میں بجھا کر فارغ ہوچکے تھے کہ ہم نے اجازت چاہی اور اس کے ساتھ ہی یہ ملاقات تمام ہوئی ۔

فاروق حیدر کاخاندانی پس نظر اور سیاسی سفر

راجہ فاروق حید ر خان 14 جنوری1955ء کو مظفرآباد کے نواح میں واقع وادی چکار میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد راجہ حیدر خان دو مرتبہ (1960-1963)مسلم کانفرنس کے صدر بنے۔ والدہ محترمہ سعیدہ خان کو آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کی پہلی خاتون رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔فاروق حیدر نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد پبلک اسکول سے حاصل کی ۔ اس کے بعدگورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا۔آپ1985میں پہلی بار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن اور سینئر وزیر بنے۔1986سے 1990تک آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس ضلع مظفرآباد کے صدررہے جبکہ1991ء میں دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر وزیر بنے۔ 1989سے 2001تک مسلم کانفرنس کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین رہے۔ 1997سے 2001تک مسلم کانفرنس کے جنرل سیکریٹری کے طور پر کام کیا۔2004 سے 2006 تک مسلم کے کانفرنس کے سینئر نائب صدر بھی رہے اور 2003سے 2006کے دورانیے میں وزیراعظم آزادکشمیر کے خصوصی معاون کے عہدے پر فائز رہے۔ 2006کے الیکشن میں آپ منتخب ہو کر چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی بنے ۔بعد ازاں اکتوبر 2009ء میں’’اِن ہاؤس تبدیلی ‘‘ کے ذریعے آزادکشمیر کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوگئے ۔ اس کے نو ماہ بعد جولائی 2010ء میں اسمبلی میں سردار عتیق خان اور پیپلز پارٹی کے درپردہ تعاون سے عدم اعتماد کی تحریک چلانے کے فیصلے کے بعد مستعفی ہو گئے۔وزرات عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے پانچ ماہ بعد انہوں نے نواز شریف کو آمادہ کر کے آزادکشمیر میں دسمبر2010میں مسلم لیگ نواز قائم کرلی اور اس کے صدر بن گئے۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت (2011-2016) میں قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے فرائض سرانجام دیے۔31جولائی 2016ء کونئے الیکشن میں بھاری اکثریت کے ساتھ ایک بار پھروہ آزادکشمیر کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوگئے اور تاحال اسی عہدے پر کام کررہے ہیں۔ 63سالہ راجہ فاروق حیدرخان کے دوبیٹے عثمان فاروق اور محمد حیدر جبکہ ایک بیٹی مدیحہ فاروق ہے۔

SHOPPING

بشکریہ آئی بی سی اردو

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *