آزادی۔۔ماہ وش طالب

“آزاد ملک کا آزاد شہری “
وہ بچپن سے منفرد تھا,  جوان ہوا تو اندازِ فکر و سوچ بدلا, دوست خبطی کہہ کر بلاتے, وہ پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتا رہا, گزشتہ ماہ  لندن سے ڈگری لے کر وطن لوٹا, ایک مستند ادارے نے موٹیوشن لیکچر کےلئے بلایا
” میں ایک آزاد مملکت کا آزاد شہری ہوں اور ہمیشہ رہوں گا, مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں معیشت سے لے کر رہن سہن تک  فرنگیوں کی غلامی کرکے اپنے ملک کی آزادی پر طمانچہ ماروں.”
“تو سر  آپ کیوں غیروں کی زمین پر گئے ?”
“میں خود نہیں گیا, مجھے بلایاگیا تھا,   اگر آپ ایک جملہ لکھیں ,اس کی پختگی پر  یقین ہو تو, آپ کبھی  اپنے ساتھی کی نقل نہیں کریں گے, آپ کو ضرورت ہی نہیں ,  بالکل اسی طرح جب ہمارے پاس اپنا سب کچھ ہے تو پھر اس غلامی کا مقصد?  
میں نے وہاں   ان کی کمزوریاں دیکھیں, جسے انہوں نے بڑی چلاکی سے طاقت کے زور پر چھپا رکھا ہے مگر ہمارے لوگ انہی کمزوریوں  کو اپنی طاقت بنانے کی بجائے  ان کی پیروی کرکے ذہنی اور اخلاقی طور پر خود کمزور ہورہے ہیں۔۔
اور رہا میرا سوال  تو میں!  یہاں  اپنی قوم کے بچوں کو غلامی کی زنجیر سے آزاد کرانے کے لیے ادنیٰ سی کوشش میں  ہوں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *