ایران کے حالات اور یک طرفہ معلومات/نذر حافی

اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں، یہ میڈیا کی چال ہے کہ ایران کو تنہاء دکھائے۔ اس وقت دنیا میں ایران، مقاومتی بلاک کا قطب ہے۔ ایران کو تنہاء دکھانا یا تنہاء کرنے کی کوشش کرنا یہ ملّت ایران کیلئے کوئی نئی نفسیاتی جنگ نہیں۔ اب یہ نصف صدی کا قصّہ ہے۔ اس نصف صدی نے ایرانیوں کو بہت کچھ سکھایا۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ جس نے بہار کی لذّتیں اٹھانی ہوں، اُسے خزاں کا موسم جھیلنا پڑتا ہے۔ البتہ اس نصف صدی میں بڑی طاقتوں کا ایران کے خلاف رویّہ بالکل نہیں بدلا۔ اُن کیلئے کشمیر، یمن اور فلسطین کی خواتین اور بچے بالکل اہم نہیں۔ ان کی ساری طاقتیں اور توانائیاں ایران میں رجیم چینج کرنے کیلئے وقف ہیں۔ مھسا امینی کی موت کے بعد تو میڈیا ایک ٹانگ پر کھڑا ہے۔ بس ایران میں کچھ ہُوا کہ ہوا۔ اِن دنوں ایران کے متعلق خبروں میں بلا کی مماثلت تو دیکھئے۔ مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا کے خبری منابع اور ذرائع ایک جیسے ہیں۔

بی بی سی کا دعویٰ ہے کہ ایران میں 16 ستمبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا ایک اتنا غیر معمولی سلسلہ شروع ہوا، جس کی نظیر کم از کم گذشتہ 40 سال کے دوران نہیں ملتی۔ وائس آف امریکہ کے مطابق ایران میں احتجاجی مظاہروں کی طوالت، تہران کے لئے نیا خطرہ۔؟ العربیہ کا کہنا ہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے عروج پر ہیں۔ اب یہ خبریں لمحہ بہ لمحہ دنیا کی تمام اہم زبانوں میں نشر ہوتی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ایران کے اندر سے بھی لوگ بغاوت کریں اور باہر سے بھی ان باغیوں کی حمایت کی جائے۔ تمام ترشور و غُل کے باوجود فوٹوشاپ اور دیگر سوفٹ وئیرز کے کرشموں سے بغاوت والی بات کہیں بنتی نظر نہیں آرہی۔ میڈیا نے آکٹوپس کی مانند اذہان کو جکڑ رکھا ہے۔ چنانچہ یک طرفہ معلومات کے آکٹوپس سے چھٹکارے کیلئے ہم نے اس دوسری طرف کے منظر نامے کو مرتب کرنے کا سوچا۔

کچھ لوگ یہ تصوّر کر رہے ہیں کہ ایران میں خواتین پر سخت پابندیاں عائد ہیں، وہ گھر سے باہر نکل بھی نہیں سکتیں اور ڈنڈے کے زور پر انہیں حجاب کی پابندی کرائی جاتی ہے۔ ایسے افراد ایرانی تہذیب و ثقافت میں چادر کی پابندی، ایرانی سماج میں خواتین کی آزادی، اسلامی نظامِ حکومت میں ریڈیو، ٹی وی، تجارت، سیاست اور تعلیمی داروں میں خواتین کی فعالیت سے نابلد ہیں۔ اسی طرح بعض افراد موجودہ صورتحال کو ایران کی اقتصادی مشکلات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ حالانکہ اوائلِ انقلاب سے لے کر اب تک ایرانی عوام نے بھیک اور گدائی کے بجائے استقلال اور خود کفالتی کا راستہ اختیار کئے رکھا ہے۔ اقتصادی مشکلات نے ایرانیوں کے عزم و استقلال اور صنعت و حرفت پر مثبت اثرات ڈالے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایران میں عوام کو جو رفاہی سہولیات، سرکاری امداد، بیمہ پالیسیز نیز عوامی خدمات حاصل ہیں، وہ دیگر متعدد ممالک کی نسبت کئی گنا بہتر اور زیادہ ہیں۔

ایسے حضرات بھی کم نہیں، جو موجودہ حالات کو ایران کی مُلّا حکومت کے خلاف ردِّعمل بھی کہتے ہیں۔ ایسے لوگ ایرانی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت اور ایران میں مضبوط جمہوری اقدار کے بارے میں گہرائی سے نہیں جانتے۔ اگر انہیں ایران میں جمہوری اقدار کی بالادستی کا علم ہوتا تو وہ ایسی قیاس آرائیاں ہرگز نہ کرتے۔ایران میں جمہوریت کی بالادستی کے حوالے سے ایک معتبر تجزیہ نگار محمد بشیر دولتی کے 5 فروری 2022ء کو لکھے گئے ایک تجزیئے کا اقتباس ملا حظہ فرمائیے۔ “ہمیں چاہیئے کہ 28 جون یا 31 اگست کو ”عالمی یوم فتحِ جمہوریت“ منائیں، چونکہ اس دن جہانِ جمہوریت میں ایسا دلخراش سانحہ رونما ہوا تھا کہ تاریخِ جمہوریت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ 28 جون 1981ء کو اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے 72 اراکینِ اسمبلی کو ایک بم دھماکے میں شہید کیا گیا تھا۔ اتنے بڑے جمہوری نقصان کے باوجود ایران میں مارشل لا نہیں لگا تھا۔ ہمیں 31 اگست کو حقیقی جمہوریت کا دن منانا چاہیئے، چونکہ 31 اگست 1981ء کو ایران کے صدر اور وزیراعظم کو ایک ساتھ شہید کیا گیا تھا، مگر پھر بھی مارشل لاء نہیں لگا اور آج تک اسلامی جمہوریہ ایران کامیابی سے شاہراہِ جمہوریت پر گامزن ہے۔”

اب آئیے ذرا موجودہ حالات کی نقاب کشائی کی طرف! اس سلسلے میں ہم نے 6 اکتوبر 2022ء کو “ایران میں پردے کے نام پر پسِ پردہ لڑائی” کے حوالے سے یہ تحریر کیا تھا کہ “مہسا امینی فوت نہ ہوتی تو بھی فسادات یقینی تھے۔ بات خواتین کے پردے یا حجاب کی نہیں۔ بات اتنی اہم ہے کہ مہسا امینی کی فوتگی پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی آہ و فغاں کی گئی۔ وہ جنہوں نے کبھی بھی فلسطینیوں، کشمیریوں اور یمنیوں کی ماوں بہنوں کے حقوق کو خاطر میں نہیں لایا، انہوں نے بھی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ٹسوے بہائے۔ یعنی فسادات کے منصوبہ ساز پہلے سے ہی رونے دھونے کیلئے تیار تھے۔” آگے چل کر ہم نے اپنے قارئین کے سامنے یہ زاویہ رکھا تھا کہ “اب کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن اندر سے سب یہ جانتے ہیں کہ اصل واویلا مہسا امینی، پردے یا حجاب کا نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہر روز اسرائیل کی زندگی کا ایک دِن تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ لہذا مہسا امینی اور حجاب یا پردے کے نام پر پسِ پردہ اسرائیل کی زندگی کی لڑائی لڑی جا رہی ہے۔”

یہاں پر سابق وفاقی وزیر تعلیم اور اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین سید منیر حسین گیلانی کا نکتہ نظر بھی جان لیجئے۔ انہوں نے 23 نومبر 2022ء کو اپنے تجزیئے بعنوان “ایران میں احتجاج، پس پردہ حقائق!” میں لکھا ہے کہ “یہ دنگا فساد مہسا امینی کی موت کی وجہ سے نہیں ہو رہا، بلکہ مختلف ممالک کی جانب سے ایران کی اسلامی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کی جانے والی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے، جبکہ کچھ علاقوں سے مظاہرین کو اسلحہ بھی مہیا کیا جا رہا ہے۔ میں اس مسئلے کی حساسیت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ دنوں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈ بھی ایران کیخلاف احتجاج میں شامل تھے۔ اسی طرح اسرائیلی حکمران، وائٹ ہاوس میں اپنے امریکی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمیں ایران کیخلاف مزید وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے، جو کچھ کرسکتے ہیں، اس پر جو بیج لگایا تھا، وہ اب زمین سے اوپر آگیا ہے۔ ہمیں حکومت کی تبدیلی کیلئے اکٹھے ہو کر آگے قدم بڑھانا چاہیئے۔”

اسی طرح سعودی عرب بھی انتشار پھیلانے والے گروہ کو سپورٹ کر رہا ہے، جس پر ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے سعودی عرب کو تنبیہ کی ہے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت ایران کی بڑھتی ہوئی جدید اسلحہ کی پیداوار، جدید ڈرون اور میزائل ہیں، جس نے بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی جنگ میں ایران روس کو میزائل اور ڈرون فراہم کر رہا ہے اور وہ اتنے جدید ہیں کہ اس صلاحیت پر امریکہ، برطانیہ اور یوکرین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ موجودہ حالات کے بارے میں “ایران میں کیا ہو رہا ہے؟” کے عنوان سے ایک عربی تجزیہ کار سید محمد صادق حسینی کی ایک تحریر کا 20 نومبر 2022ء کو ترجمہ ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے کیا۔ ایران میں جاری حالات کے بارے میں اس میں لکھا گیا ہے کہ ”یہ ایک ترکیبی اور مسلط کردہ جنگ ہے، جو کسی ایک کمانڈ اور کنٹرول روم سے نہیں لڑی جا رہی اور نہ ہی کسی خاص علاقے میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ کسی جگہ یہ قومی اور لسانی جھنڈے کے نیچے شروع کی گئی تو کسی جگہ انسانی حقوق کے نام پر اس آگ کو لگایا گیا ہے۔ لہذا اس درمیان یہی حکمت عملی سب سے بہتر تھی، جو ایرانی حکومت نے اختیار کی ہے، اس جنگ کا مقابلہ صبر اور وقت کی مدیریت سے ممکن ہے۔ ایرانی حکومت کے یہ دونوں اصول کافی تھے کہ جنگ کا رخ واپس دشمن کے کیمپ کی طرف موڑ دیا جائے۔”

اب 27 اکتوبر 2022ء کے ایک تجزیئے کی روشنی میں یہ بھی جان لیجئے کہ ترکی کی آناتولی یونیورسٹی کے پروفیسر مصطفیٰ کنر اس بارے میں کہتے ہیں: “ایران میں کوئی انقلاب رونما ہونے کیلئے خاص قسم کے حالات کی ضرورت ہے، جو اس وقت موجود نہیں ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ موجود ہنگامہ آرائی کسی بھی قسم کی قیادت سے محروم ہے اور کوئی بھی محبوب لیڈر، کونسل، پارٹی یا تنظیم نہیں پائی جاتی، جو ان کی قیادت کرے۔” وہ مزید کہتے ہیں: “دوسری بات یہ ہے کہ ان ہنگاموں میں شامل ہر گروہ اور جتھہ اپنے مخصوص اہداف اور ایجنڈے کا حامل ہے۔ مزید برآں، ان مختلف اہداف اور ایجنڈوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میں ڈھالنے کا بھی کوئی بندوبست نہیں پایا جاتا، لہذا ان سے کسی واحد سیاسی اقدام کی توقع رکھنا بے جا ہے۔”

فاضل تجزیہ کار صادق الوعد نے 25 نومبر 2022ء کو “ایران میں رجیم چینج مشن” کے عنوان سے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ “اس لئے امریکہ کھل کر ایران پر حملہ آور نہیں ہوتا، چونکہ امریکہ جانتا ہے کہ ایران ہرگز افغانستان، عراق یا لیبیا نہیں ہے۔ امریکہ کو ایران کے معدنی وسائل، آبی ذخیروں، فوجی طاقت اور ایٹمی اسلحے کے بجائے ایران کے دلکش اسلامی چہرے سے خوف ہے۔ امریکہ کو ایران کی مسلسل کامیابیوں، بہترین حکمت عملی اور دنیا میں اسلام کا خوبصورت چہرہ پیش کرنے سے پریشانی ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی چوالیس سالہ تاریخ سے لگتا ہے کہ اگلے برسوں میں امریکہ کی یہ پریشانی مزید بڑھے گی۔ ایران میں رجیم چینج مشن کے کامیاب ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے بلکہ اس کے برعکس امریکہ کی ان کوششوں کی ناکامی کی وجہ سے دنیا بھر میں اندرونی و بیرونی سطح پر ایران کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔”

مندرجہ بالا تجزیات کے اقتباسات سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:
1۔ مقاومتی بلاک دنیا بھر میں استعماری طاقتوں کے اہداف کو زِک پہنچا چکا ہے۔ خصوصاً شام، افغانستان اور عراق میں امریکہ و اسرائیل اور ان کے حوّاریوں کی شکست کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس وقت مقاومتی بلاک میں ایران کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ جنگ صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ پورے مقاومتی بلاک کے خلاف ہے۔ اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں بلکہ اسے اکیلا اور کمزور دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ ایران نے بیرونی محاذوں کی مانند اندرونی محاذ پر بھی اپنے دشمنوں کو شکست دے دی ہے۔
2۔ ایران میں استعماری طاقتیں باہر سے فوٹو شاپ اور جعلی تصاویر سازی کے ساتھ اپنی خِفت مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حقیقت میں ایران میں جمہوری اقدار بہت مضبوط ہیں اور ایرانی عوام اپنی حکومت اور اسلامی انقلاب کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

3۔ اس سارے شور شرابے کا اصل مقصد عراق، شام اور افغانستان میں امریکہ و اسرائیل کی پے درپے ذلت، شکست، ناکامی اور خوف سے توجہ ہٹانا ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ تمام تر پابندیوں کے باوجود ایران جس طرح سائنس و ٹیکنالوجی اور علومِ انسانی میں ترقی کر رہا ہے، اس سے اسرائیل کی زندگی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔چنانچہ اس خوف پر قابو پانے کیلئے ایرانی حکومت کو بیرونی دباو کے ساتھ ساتھ اندرونی بغاوت سے ڈرا کر اسرائیل کو بچانے کیلئے ہاتھ پاوں مارے جا رہے ہیں۔ آخر میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یک طرفہ معلومات آکٹوپس کی مانند انسانی اذہان کو جکڑ لیتی ہیں۔ یہی میڈیا اور ذرائع ابلاغ کا ہنر ہے۔ لہذا اپنے لئے دو طرفہ معلومات کے حصول کو یقینی بنائیں۔ جب آپ کے پاس دو طرفہ تجزیات اور دو طرفہ معلومات ہوں گی تو تب آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ حق پرست کی زبان ہمیشہ کسی باطل پرست کی زبان سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔
نوٹ: مذکورہ بالا تجزیات اور معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply