میاں صاحب کے لیے۔۔محمد اسد شاہ

مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آج چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے عمران خان کے ساتھ اپنی اور اپنے خاندان کی وفاداری کا اعلان دہرا دیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان کا یہ اعلان کن مجبوریوں اور اشاروں کا غماض ہے۔ ذاتی طور پر مونس الٰہی اس سیاسی رقابت کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہیں جو انھیں ا ن کے والد پرویز الٰہی اور بزرگوار چودھری شجاعت حسین سے ملی ہے ۔ لیکن ان کے حالیہ اعلان کے پیچھے ان کے وہ رابطے بھی ہیں جو ان کی خاندانی سیاست کی بنیاد ہیں ۔مجھے البتہ خوشی اس وجہ سے ہوئی کہ میاں محمد نواز شریف کو اس جال اور چا ل سے بچنے کا ایک اور موقع مل گیا ، جس سے بچنا نہ صرف ان کی اپنی سیاسی زندگی، تاریخ میں ان کے مقام اور ان کی پارٹی کے لیے بہت ضروری ہے، بل کہ کئی لحاظ سے اس ملک کے مستقبل کے لیے بھی بہت اہم ہے۔
اب آئیے اس معاملے کی طرف ، کہ جسے میں نے میاں صاحب کے خلاف ایک جال اور چال قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ ہے عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کا۔ ایک بات واضح رہے کہ اسمبلی کے اندر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے کسی حکومت کو ہٹانا سو فی صد جمہوری روایت ،اور کسی غلط رو حکومت سے نجات کا ایک آئینی راستہ ہے۔ اگر یہ راستہ بند کر دیا جائے تو جمہوری ممالک اور اقوام شدید مسائل اور بحرانوں میں پھنس سکتے ہیں ۔لیکن پاکستان میں حالات بہت مختلف ہیں ۔دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کی کیا حیثیت ہے۔ جو آئین ہمارے ملک کو جمہوری قرار دیتا ہے، اس آئین کی عملی حیثیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آئین کو جنرل ضیاء نے کاغذ کا ایک حقیر ٹکڑا کہہ کر بہت کچھ کہہ دیا تھا۔ہم عوام کی نظر میں تویقینا یہ آئین بہت مقدس و محترم ہے، جو ہمارے ملک کی وحدت و سالمیت کا محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری اسلامی نظریاتی پہچان کا علم بردار بھی ہے۔ لیکن سیاسی جادوگروں کی نظر میں اس کی حیثیت واقعی وہی ہے جو جنرل ضیاء نے کھل کر بتا دی تھی۔
میاں محمد نواز شریف دنیا کے ان چند راہ نماؤں میں شامل ہیں جنھیں ان کی اقوام نے تین تین بار قیادت کے لیے منتخب کیا، جیسے برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر۔اپنے وسیع سیاسی و حکومتی تجربات کے بعد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی و سالمیت کے راستوں میں بعض نادیدہ رکاوٹیں ہمیشہ رہتی ہیں، جو بہت طاقت ور بھی ہیں۔ میاں صاحب کا خیال یہ ہے کہ ان رکاوٹوں کو عبور کیے بغیر حقیقی جمہوری پہچان اور قومی ترقی و خوش حالی کی منزل حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ملک بھر کے کروڑوں عوام ایسے ہیں جو میاں صاحب کے خیالات سے متفق ہیں۔ مخالفین کے وجود سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۹۹۹ سے اب تک، یعنی تقریباً۲۲ سالوں سے وہ اپنے اہل خانہ اور سیاسی حامیوں سمیت مسلسل احتساب، مقدمات، پیشیوں ، گرفتاریوں، ہتھ کڑیوں، اور انتقامی ہتھ کنڈوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس دوران وہ تیسری بار قومی قیادت کے لیے منتخب ہوئے۔ لیکن حکومت میں ہونے کے باوجود بھی ان کے خلاف مقدمات، احتساب اور پیشیوں کا سلسلہ نہ رکا۔۲۰۱۸ میں ان کے ذاتی مخالف عمران خان کی حکومت بن گئی، جس کے متعلق میاں صاحب سمیت تما م اپوزیشن کی رائے ہے کہ اس حکومت کا قیام شفاف طریقے سے نہیں ہوا۔ یہ بات مولانا فضل الرحمن، محترمہ مریم نواز، شہباز شریف ، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کا بیٹا بلاول زرداری بھی مسلسل دہراتے رہتے ہیں۔ بے شمار ملکی و عالمی مبصرین بھی اسی قسم کے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں۔ حتٰی کہ بعض اوقات خود حکومتی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ تک کے منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیں ، جن سے میاں صاحب سمیت تمام مذکورہ بالا لوگوں کی باتوں کو تقویت ملتی ہے۔ مثلاً شیخ رشید نے کئی بار ایسی باتیں کہیں ۔ اسی طرح گزشتہ دنوں کراچی سے پی ٹی آئی کے عامر لیاقت نے کہا: ‘‘ہم آئے نہیں، ہمیں لایا گیا ہے، اور وہی ہمیں لائے ہیں جو ہمیشہ لاتے ہیں’’۔
اب حالات یہ ہیں کہ موجودہ حکومتی بندوبست ملکی و عالمی سطح پر غیرمقبولیت کی اتھاہ گہرائیوں میں نظر آتا ہے۔ عمران خان کو لانے والوں نے بہت ‘‘محنت’’ سے لاکھوں لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ بہت بڑے لیڈریا مسیحا ہیں۔ حتٰی کہ انھیں آخری امید بھی قرار دلوایا گیا۔ خود خاں صاحب بھی محیرالعقول دعوے کرتے رہے اور صرٖف ۹۰ دنوں میں ملک کو فرش سے عرش تک پہنچانے کے خواب بیچتے رہے۔ ان کے یہ خواب ان کے اپنے ہی سادہ لوح حامیوں نے بہت مہنگے داموں خرید بھی لیے۔لیکن تقریباًچار سال تک ‘‘ایک پیج’’ کی طاقت کے باوجود وہ ملک کو ترقی کیا دیتے، الٹا عوام کی زندگیاں تک اجیرن ہو چکی ہیں۔ان کے حامیوں میں سے جو باشعور ہیں، وہ منھ چھپاتے اور بات بات پہ شرمندہ ہوتے ہیں۔ ان حالات میں خان صاحب کے مہربانوں کی خواہش ہے کہ انھیں مخالفین کسی نہ کسی طرح ہٹا دیں ۔ اس سے ان مہربان جادوگروں کو بہت فوائدملیں گے۔ مثلاً پہلا فائدہ تو یہ کہ خاں صاحب کے کٹڑ حامیوں کو ایک بہانہ مل جائے گا کہ انھیں مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ورنہ تو وہ پاکستان کو سورج اور چاند کے درمیان پہنچانے ہی والے تھے، لہٰذا انھیں ایک اور موقع ملنا چاہیے۔ اور یہی خواہش خود عمران خاں کی بھی ہے۔دوسرا فائدہ یہ کہ سیاست میں خاں صاحب کے مہربان جادوگروں کی مداخلت خاں صاحب کے ذریعے بھی جاری رہے گی۔ورنہ تو ان کے ہاتھوں میں صرف زرداری اور چودھری خاندان ہی رہ جائیں گے۔تیسرا اور سب سے اہم فائدہ انھیں یہ ہو گا کہ عمران حکومت کے چار سالہ اقدامات کا سارا ملبہ اس حکومت کے سر پر جا گرے گا جو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آئے گی۔ اور مہربانوں کی شدید خواہش یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز ہی ہو۔یہ ہے وہ جال، اور یہ ہے وہ چال جسے میاں صاحب تو سمجھتے ہیں، ان کی پارٹی میں سے شاہد خاقان عباسی، محترمہ مریم نواز، خواجہ سعد رفیق ، پرویز رشید، عرفان صدیقی، طلال بدر چودھری ، نہال ہاشمی اور جاوید ہاشمی جیسے لوگ بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن شاید شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت بہت سے ارکان اسمبلی اس طرف دھیان نہیں دے رہے۔
میاں صاحب پرگزشتہ دو سالوں میں پارٹی کے اندر اور باہر سے بہت زیادہ دباؤ رہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس حکومت کو چلتا کریں ۔ وفاق اور پنجاب میں اپنی پارٹی کی حکومت بنائیں۔ لیکن میاں صاحب کی رائے یہ تھی کہ موجودہ اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن خاں صاحب کے مہربان جادوگروں کی منشاء کے عین مطابق ہے، اور ایسے میں حکومت بنانے سے مسلم لیگ نواز کی سیاست کو سخت نقصان ہو گا۔ اور یہی خواہش مہربانوں کی بھی ہے۔ لیکن ایک جلاوطن سیاسی قائد آخر کب تک اپنے سگے بھائی سمیت بہت سے پارٹی ممبرز کے سامنے مزاحمت کر سکتا تھا۔ چناں چہ میاں صاحب نے شہباز کو پرواز کی آزادی دے دی۔ چھوٹے میاں بھاگم بھاگ زرداریوں، ایم کیو ایم اور چودھریوں سے ملاقاتیں کرنے لگے۔ حال آں کہ سب جانتے ہیں کہ زرداریوں، ایم کیو ایم اور چودھریوں نے اپنا سیاسی مستقبل کن کے ہاتھوں میں سونپ رکھا ہے۔یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ یہی سب لوگ میاں صاحب کی سیاسی حیثیت سے کس قدر بغض رکھتے ، اور اپنے اقتدارپسند مستقبل کے لیے انھیں کتنا بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ شاباش ہے مونس الٰہی کو ، کہ جس نے عمران خان کے ۲۰۱۶ والے ‘‘پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو’’ والے بیان سمیت ماضی کے بے شمار مخالفانہ الزامات کو نظر انداز کرتے ہوئے انھیں اپنی خاندانی حمایت کا یقین دلوا دیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ان کے والد صاحب کبھی نواز شریف کو، اور کبھی جنرل پرویز مشرف کو یقین دلایا کرتے تھے۔چناں چہ عمران خان کی حکومت پانچ سال پورے کرتی نظر آ رہی ہے، اور یہ بات اس ملک کے مستقبل کے لیے بہتر ہے ، اور خود میاں صاحب کے لیے باعث راحت ہونا چاہیے۔

Facebook Comments

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply