بلیک ہولز۔۔ شاہزیب صدیقی

کائنات ہمیں ہر گھڑی اپنے سحر میں جکڑتی جارہی ہے ۔ ایک عرصے سے انسان اس کو جتنا سُلجھانا چاہ رہا ہے اُتنا ہی خود اِس میں اُلجھتا چلا جارہا ہے ۔بگ بینگ، بلیک ہولز، ڈارک انرجی، ڈارک میٹر، ورم ہول الغرض کائنات بے پناہ پہیلیاں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کچھ دن پہلے کائنات کی اسی کھوج کے دوران سائنسدانوں کو “کائنات کا سب سے پرانا” بلیک ہول مل گیا ۔ یہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 80 کروڑ گنا بڑا ہے مگر یہ کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ کائنات میں سورج سے 17ارب گنا بڑا بلیک ہول بھی موجود ہے! لیکن موجودہ دریافت ہونے والے بلیک ہول کی سب سے حیران کن بات اس کا زمین سے13.1ارب نوری سال دُور ہونا ہے ۔

ہمیں معلوم ہے کہ ہماری کائنات کو بنے ہوئے تقریباً 13 ارب 80 کروڑ سال گزرے ہیں اس کا مطلب ہوا کہ یہ بلیک ہول اُس وقت وجود میں آیا، جب ہماری کائنات کی عمر محض 69 کروڑ50 لاکھ سال تھی ۔ یہ ڈیٹا ہمیں مستقبل میں کائنات کی بناوٹ کو سمجھانے میں مددگار ثابت ہوگا ۔ اس دریافت نے سائنسدانوں کو نئے زاویے سے سوچنے کا موقع دیا، اب سائنسدان اس متعلق تحقیق میں مصروف ہیں کہ 13.1 ارب سال پہلے وہ دور تھا جب ستارے جنم لے رہے تھے نئے ستارے وجود میں آرہے تھے۔ ایسے وقت میں اتنے عظیم بلیک ہول کا وجود میں آجانا انتہائی حیران کن امر ہے ، وہ کون سے عوامل تھے جن کے باعث سورج سے 80 کروڑ گنا بڑا ستارہ اتنی جلدی “انتقال” کرکے بلیک ہول بن گیا ۔

سوال اُبھرتا ہے کہ کیا اس بلیک ہول کو ہم کائنات کاپہلا بلیک ہول ہونے کااعزاز دے سکتے ہیں؟سوال تو یہ بھی جنم لے رہا ہے کہ جب ہماری کائنات اپنے بچپن میں تھی اُس دوران اس عظیم بلیک ہول کے وجود نے ہماری کائنات کے کتنے فیصدی حصے کو جکڑے رکھا ؟ کیونکہ اتنے بڑے بلیک ہول کا اثر 2 سے 2.5 کروڑ نوری سال تک کے علاقے پر محیط ہوتا ہے جبکہ ہماری کائنات کو بنے ہوئے اس وقت محض 70 کروڑ سال ہوئے تھے۔ بلیک ہول اور کائنات کے متعلق ہمارا علم ابھی نوزائیدہ ہے ، ہم تو ابھی تک بلیک ہول کو براہِ راست دیکھنے کے قابل بھی نہیں ہوسکے اسی خاطر ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی خاطر ہمیں بہت تحقیق درکار ہوگی۔

لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ کائنات کی دہلیز پر دستک دیتےسائنسدان 2018 کے شروع میں پہلی بار بلیک ہول کی تصویر جاری کرنے والے ہیں جو کہ دنیا کے دُور دراز مقامات پر موجود 6 ٹیلی سکوپس سے مختلف زاویوں سے لینے کے بعد یکجا کی گئی ہے اور ابھی پراسسنگ کے مراحل میں ہے ۔ کائنات ایک جادو نگری ہے اور ہماری حیثیت اس نگری میں موجود گرد و غبار کے ذرات جتنی ہے ۔ اتنی سی حیثیت ہونے کے باوجود اس نگری پر ڈھکے پرسرار پردے اٹھانا یقیناً عظیم کامیابی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *