پیمانوں کی لغزش ۔۔۔ اشفاق احمد

ہم ماضی حال اور مستقبل کے حصار میں قید ہیں۔ زندگی چند لفظوں میں کیا ہے؟ ماضی کے تجربات کو لے کر مستقبل بنانے کی تگ و دو کرتے رہنا لیکن اس بیچ حقیقت صرف “حال” ہے جو بری طرح کچل جاتا ہے۔ ارضی سطح پر احساسات کی دنیا میں زمانہ ایک ہے اور وہ ہے حال۔ ماضی قصہ ہے اور مستقبل واہمہ۔ ماضی کی یاد ہو یا مستقبل کے خواب، دونوں بھی حال ہی میں رہ کر کیے اور دیکھے جا سکتے ہیں۔
احساسات کی دنیا کے پیمانے مروج قائدوں اور کلیوں سے ماوراء ہیں۔ آپ خوش ہیں یا دکھی ہیں تو کوئی پیمانہ آپکی خوشی اور دکھ نہیں ماپ سکتا سوائے آپ کے اپنے احساس کے۔ چالیس کے بعد جب زندگی کی کتاب مرتب ہونا شروع ہو جاتی ہے تو زمانے بھی ساکن static سے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ جوں جوں کتاب مرتب ہوتی جاتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ چالیس سے قبل کا زمانہ ماضی تھا اور چالیس کے بعد کا پورا زمانہ حال ہے۔۔ بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے والوں کو ٹٹولیے وہ اپنے قصے میں چالیس سال سے پہلے کی عمر کو خوشگوار اور سہانے یاد کی صورت بتا ئیں گے۔ چالیس کے بعد کا قصہ یوں سنائیں گے گویا حال کی کوئی  روداد ہو اور رہا مستقبل تو اس سوال کا جواب ان کی آنکھوں میں پڑھ لیجیے گا کیونکہ یہ کبھی آیا ہی نہیں۔

یہی حقیقت ہے۔۔
ماضی ہمیشہ یاد سے منسلک رہتا ہے اور مستقبل خواب سے۔ چالیس سے پہلے کی زندگی بے شک تعمیر کے لیے ان تینوں میں رہ کر گزارئیے۔ لیکن چالیس کے بعد جب محرومیاں پریشان کرنے لگیں تو زمانوں کو ٹھیک اپنے مقام پر رکھ لیجیے۔ خوابوں سے بھی محروم نہیں رہیں گے اور احساس ضیاع کی تلافی کے لیے ایک محرک جذبہ بھی ہاتھ آجاۓ گا۔ کیونکہ حقیقت تو بس ایک ہی ہے اور وہ ہے “شروع ہونے والی زندگی”۔ محسوس ہوتا ہے کہ جنت کی زندگی میں ماضی کی حسین یادیں، حال کی دلفریبی اور مستقبل کے حسین خواب سب ایک لمحے میں بیک وقت سمٹ آئیں گے اور وہ لمحہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ “بکھرنے” کا خوف نہیں رہے گا اور کسی “محرومی” کی کسک نہیں رہے گی۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم “زندگی” کی پیمائش عام پیمانوں سے نہ کریں۔ جینے سے متعلق یہ عام پیمانے ہی تو ہوتے ہیں جو بسا اوقات ہمیں ترجیحات کے الٹ پھیر میں گھیر لیتے ہیں۔
احمد جاوید صاحب نے کیا خوبصورت بات کہی ہے۔
” ابدیت کے perspective سے زندگی کی پیمائش کریں، فکر کا span بھی بڑھ جائے گا اور زندگی کا بھی” .