برطانیہ کا منی بجٹ – گروتھ پلان یا جوا/فرزانہ افضل

برطانیہ کے نئے فنانس منسٹر یا چانسلر کواسی کوواٹنگ نے 23 ستمبر 2022 کو منی بجٹ کا اعلان کر دیا۔ کواسی کوواٹنگ جنہوں نے حال ہی میں چانسلر کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، نے منی بجٹ کا سنسنی خیز دھماکہ کردیا ہے۔ یہ منی بجٹ جو سوائے منی بجٹ کے باقی سب کچھ دکھائی دے رہا ہے، حالیہ برسوں میں برطانیہ کی معیشت اور مالیاتی منظرنامے میں ایک اہم ترین جھٹکا ہے۔ جس کی اصلاحات میں ٹیکس کی قانون سازی، نیشنل انشورنس اور بینیفٹس، مزید برآں توانائی اور اسٹامپ ڈیوٹی میں بڑی تبدیلیوں کا بیڑا شامل ہیں۔ اس منی بجٹ کو حکومت نے اپنے “گروتھ پلان” کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔ جب کہ لیبر پارٹی اور مخالفین اس کو فنانشل جوا قرار دے رہے ہیں۔ اس بجٹ کے تحت حکومت نے ٹیکسوں میں کمی اور اصلاحات کی ایک لمبی فہرست کا اعلان کیا ہے جس میں حکومت کا مقصد عوام کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور برطانیہ کو عالمی سطح پر مضبوط بنانا ہے۔ یہ اعلان کردہ اہم ترین تبدیلیاں درج ذیل ہیں۔

1- کاروبار  کے لیے کارپوریشن ٹیکس میں اضافہ کر کے 25 فیصد کرنے کا حکومت کا منصوبہ جسے اپریل 2023 سے لاگو ہونا تھا، کو منسوخ کر دیا گیا ہے یعنی کارپوریشن ٹیکس 19 فیصد کی شرح پر ہی قائم رہے گا۔

2- نیشنل انشورنس کی شرح میں کمی۔
آجرین اور ملازمین کے نیشنل انشورنس ادائیگی میں 1.25 فیصد اضافے کے پلان کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے اور ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر لیوی کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

3-  انکم ٹیکس ریٹ میں کمی۔
انکم ٹیکس ریٹ میں ایک فیصد کمی کا حکومت کا پلان جو ایک سال بعد لاگو ہونا تھا اس کو ترجیحی بنیادوں پر ایک سال قبل ہی اپریل 2023 سے لاگو کیا جائے گا۔ یہ اصلاح حکومت کے ٹیکسوں میں کمی اور ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے کے عزم کی ایک کڑی ہے اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں برطانیہ میں کام کرنے کیلئے ملک کو مزید پُرکشش بنانا ہے۔ انکم ٹیکس کا اضافی ریٹ بھی ‏2023 سے ختم کردیا جائے گا یعنی سب سے زیادہ انکم  ٹیکس شرح  40 چالیس فیصد پر ہی ہوگی۔

4- ڈیویڈنڈ ٹیکس ریٹ میں کمی
حکومت نے 6 اپریل 2023 سے ڈیویڈنڈ ٹیکس ریٹ میں 1.25 فیصد اضافے کے منصوبے کو بھی ختم دیا ہے جس کا مقصد برطانیہ میں کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو معاشی ترقی میں اضافہ کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ڈیویڈنڈ کی اضافی شرح کو بھی ختم کرکے اس کی بالائی  شرح کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا یہ شرح اپریل 2023 سے 32.5 فیصد ہو گی۔

5- ورکنگ اصلاحات آف پے رول آئی  آر 35 کی منسوخی
حکومت نے ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آف پیرول آئی آر 35 کے 2017 کے پبلک سیکٹر اور 2022 کے پرائیویٹ سیکٹر کے ورکنگ قوانین 6 اپریل 2023 سے ختم کردیے  جائیں گے۔ اس تاریخ سے یوکے بھر کے کارکنان اپنی ملازمت کی حیثیت کا تعین کرنے، انکم ٹیکس اور نیشنل انشورنس کی مناسب رقم ادا کرنے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

6- ٹیکس مراعات کے ساتھ ساتھ حکومت نے ملک بھر میں “انویسٹمنٹ زونز” متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ انویسٹمنٹ زونز والے علاقے ٹیکس مراعات ، پلاننگ لبرلائزیشن اور مقامی معیشت کے لیے وسیع تر تعاون سے مستفید ہوں گے۔ اور نامزد سائٹس کے کاروبار  کے لیے دس سال تک کی مقررہ مدت کے ٹیکس مراعات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ جس میں بزنس ریٹس سے 100 فیصد ریلیف ، اسٹامپ ڈیوٹی اور لینڈ ٹیکس سے ریلیف اور آجرین کی نیشنل انشورنس ادائیگیوں سے ریلیف شامل ہیں۔

7- کمپنیز کی شیئر آپشن کا منصوبہ
اپریل 2023 سے کمپنی شیئر آپشن پلان ( سی ایس او پی) کے تحت اہل کمپنیاں 60 ہزار پاؤنڈ تاکہ شیئرز اپنے ملازمین کو جاری کر سکیں گے جو کہ موجودہ 30 ہزار پاؤنڈ سے دو گنا ہو گا۔ اس اسکیم کا مقصد کمپنیوں کی ترقی ، گروتھ اور انٹر پرائز انویسٹمنٹ سکیم میں اضافہ ہے ۔
8- سیڈ انٹرپرائز انویسٹمنٹ سکیم( ایس ای آئی ایس)
اس سکیم کے تحت اپریل 2013 سے کمپنیز 250،000 ڈھائی لاکھ پاؤنڈ تک کی ایس ای آئی ایس انویسٹمنٹ حاصل کر سکتی ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

حکومت کے اس منی بجٹ کے اعلان پر مخالف پارٹیز خصوصاً لیبر پارٹی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ٹیکسوں میں کمی کا مقصد ٹوری پارٹی کی روایت کے مطابق امیر کو امیر تر کرنا ہے۔ اس کے علاوہ چند روز قبل ہی بینک آف انگلینڈ کی شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ کرکے شرح سود 2.25 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے گھروں کی مارگیج اور قرضہ جات کی ادائیگی کی قسطوں میں خاصا اضافہ ہو جائے گا۔ چانسلر کواسی کوواٹنگ نے کہا ہے یہ منی بجٹ پرائم منسٹر لز ٹرس کے ایک “ٹیکس کٹنگ گورنمنٹ” قائم کرنے کے عزم کی ایک کڑی ہے۔ تمام صورتحال سے ثابت ہوتا ہے کہ برطانیہ واضح طور پر مہنگائی اور کساد بازاری کے بدترین دور میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت کے مطابق ٹیکسوں میں کمی کا منی بجٹ اور شرح سود میں اضافے کی اصلاحات معیشت کو نارمل کرنے اور پھر سے مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ کیوں کہ شرح سود میں اضافے سے لوگ بزنس کو پھیلانے کے لیے اور دوسرے مقاصد کے لئے قرضوں کی درخواست دینے سے گریز کریں گے جس سے عوام میں بچت کا رجحان پیدا ہوگا جس کے نتیجہ میں وہ اپنے اخراجات قدرے آسانی سے پورے کر سکیں گے اور مہنگائی کا بحران کم ہوگا ۔ جبکہ سرمایہ کار شرح سود میں اضافے سے پریشان ہیں کہ جب وہ اضافی شرح سود کے ساتھ قرضوں کی مہنگی اقساط بھریں گے تو بچت کیوں کر ممکن ہو گی۔ دوسری جانب ٹیکسوں میں کمی کی اصلاحات کا محرک عوام کو سرمایہ کاری پر مائل کرنا ہے پرائم منسٹر کا کہنا ہے گزشتہ کئی سالوں سے کم شرح سود اور زیادہ ٹیکس کی وجہ سے آج ہماری معیشت اس حال کو پہنچی ہے، کہ ہم مہنگائی کے بحران سے گزر رہے ہیں اور توانائی کا بحران اسکے سب سے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ چانسلر کواسی کوواٹنگ کا کہنا ہے کہ یہ “گو گروتھ” پلان ہے۔ جبکہ دوسری پارٹیاں اور ٹوری پارٹی کے خود کے بیک بینچر اس پلان کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ” معاشی جؤا ” ہے۔ جس کے جواب میں فنانس منسٹر کواسی کوواٹنگ نے کہا ہے کہ وہ ” اکنامک کسینو” کھیل رہے ہیں۔ اکنامک کسینو اس معاشی نظام کو کہتے ہیں جس میں پرائیویٹ بزنسز خصوصا ً بینک لوگوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے خطیر رقم قرضوں پر دینے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ یہ منی بجٹ جو اپریل 2023 سے لاگو ہوگا لہذا اس کے معیشت پر اثرات اس کے کئی مہینوں بعد یعنی 2023 کے آخر تک معلوم ہوں گے کہ آیا مثبت تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply