انگلینڈ میں ہندو مسلم فساد؟۔۔ڈاکٹر معاذ چوہدری

ابھی پچھلے دنوں لیسٹر شہر میں شور شرابہ ہوا تو بات سوشل میڈیا فیس بک، ٹک ٹاک ، انسٹا اور وہاں سے بالآخر انٹرنیشنل میڈیا تک پہنچ گئی۔ یار دوستوں نے یہ سب ویڈیوز دیکھیں۔ پریشان ہوئے۔ درجن سے زائد لوگوں نے فون کئے اور میسج وغیرہ کئے۔ جن کو لگتا ہے شاید یہاں لیسٹر میں ہندو مسلم فسادات ہونے لگے ہیں۔
میں نے  ایک ہی بات کہی سب خیر خواہوں کو۔
“بھائی یہ یوکے ہے یوپی نہیں”

الحمداللہ ہماری ٹینشن نہ لیں۔ یہاں قانون کا ہاتھ ضرورت سے زیادہ تگڑا ہے ۔ یہ معاملہ تو ایسے ہی لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہے۔ یار باشوں نے ، پولیس کو درمیان میں سیفٹی بفر رکھ کر  ، گالیاں شالیاں دے لیں ہیں آمنے سامنے ہوکر  اور بس۔

بظاہر اب یہ بات سب کو پتہ ہے کہ یہ تنازع اگست کے آخر میں ہونے والے پاک بھارت میچ کے بعد “پاکستان مردہ باد” کے نعرے لگانے کے بعد بھڑکا۔ لیکن مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا پر اس بات کا زیادہ تذکرہ نہیں ہوا۔ سیاسی لحاظ سے تھوڑی درست بات نہیں ہے۔ لیکن مودی سرکار کو ناراض تو نہیں کرنا اب حکومت برطانیہ نے۔ بالخصوص جب کہ لیسٹر شہر میں رہتے ہی مودی جی کے اپنے گجراتی ہیں۔ جن کے دم سے “ہز میجسٹی ریونیو کلیکشن” کی رونقیں ہیں۔

ویسے اگر کہا جائے کہ لیسٹر گجراتیوں کا شہر ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ البتہ سکھ ، پاکستانی اور بنگالی بھی بہرحال قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں۔ مشہور ہے کہ انڈیا کے بعد، دنیا کا سب سے بڑا دیوالی کا تہوار لیسٹر شہر میں منایا جاتا ہے۔ پورے یورپ اور حتیٰ  کہ نارتھ امریکہ تک سے ہندو مہمان یہاں دیوالی منانے آتے ہیں۔ بڑے بڑے مندر لیسٹر شہر میں موجود ہیں۔ نوے کے قریب رجسٹرڈ مسجدیں ہیں۔ کتنے ہی بے شمار اسلامی مدرسے ہیں۔ سرکاری اسلامی سکول ہیں جن کو سرکار چلاتی ہے۔ برقعہ پوش خواتین یہاں کے شاپنگ سنٹرز میں ، مالز میں ایک بہت معمول کی بات ہے۔

لیکن لیسٹر شہر کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں سکھوں اور ہندوؤں کی دکانیں ایک عرصہ دراز سے بغیر نقص امن کے ، ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ اس سے پہلے کبھی ایسا کوئی بڑا تنازع سننے یا دیکھنے کو نہیں ملا۔

آپ عصر کے وقت نکلیں تو بچے بچیاں غول در غول مدرسوں سے نکل  رہے ہوتے ہیں۔ ان کے والدین کی گاڑیاں قطار دو قطار ان مدرسوں کے باہر پارک ہوتی ہیں۔ ایسے ہی سکھوں کے مقدس دنوں میں ان کے بہت بڑے بڑے جلوس نکلتے ہیں۔

جیسے انگلینڈ کے باقی شہروں میں “نسلی پاکٹس” ہیں ویسے ہی یہاں پر بھی لوگ اپنی اپنی پاکٹس میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ البتہ جن علاقوں میں تھوڑے “وائٹ کالر”  لوگ رہتے ہیں وہاں کیا ہندو ، سکھ ، مسلمان اور برٹش ۔ سب اکٹھے رہتے ہیں بغیر کسی ٹینشن کے۔

میں2016 میں انگلینڈ آیا تھا ۔ اور اس وقت سے ہی لیسٹر شہر کے ہسپتالوں میں کام کررہا ہوں۔ بہت سارے انڈین ڈاکٹر دوست ہیں۔ میرے پڑوس میں ایک نوجوان انڈین بی بی سی ڈی ڈینٹسٹ رہتا ہے۔ اس کی بیوی برٹش ہے۔ اس سے گپ شپ ہوجاتی ہے۔ ایک ریٹائرڈ بوڑھے انکل آنٹی رہتے ہیں۔ ان سے بات چیت ہوجاتی ہے۔ کبھی دو تین ماہ بعد بس تھوڑی بہت۔

دو ہمسائے برٹش گورے ، تین چار گھر سری لنکن تامل مسلمان اور دو تین چائنیز ہیں۔ سری لنکنوں نے گاڑیوں کے شو روم بنائے ہوئے ہیں۔ تیز طرار لوگ ہیں۔ آگے بڑھنے کی ، نکلنے کی خواہش بہت تیز ہے ان کی ماشاءاللہ۔ اس علاقے میں کبھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔

میرا گورا ہمسایہ ہنستے ہنستے میری ہلکی ہلکی بِستی کردیتا ہے کبھی کبھی۔ کوڑے کی بن میں سڑک پر چھوڑ دیتا ہوں ہر ہفتے ٹرک کیلئے۔ تو وہ بے چارہ کھینچ کر واپس لا کر کھڑی کرتا ہے۔ میرے گھر کے بیک گارڈن کے ساتھ۔اور اس کے پارسل کبھی میری طرف رہ جاتے ہیں، تو لینے آجاتا ہے۔ تھوڑی سلام دعا ہوجاتی ہے۔

جس گلی میں یہ سارا لفڑا ہوا میں اس سے ایک میل یا ڈیڑھ میل دور رہتا ہوں۔ مجھے امب کا علم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی پروا ہ تھی کہ کیا ہورہا ہے۔ اور کیوں ہورہا ہے۔ اس ملک میں مَیں مہمان ہوں۔ چاہے پاسپورٹ بھی یہاں کا دے دیں۔ پیسے دے کر رہ رہا ہوں۔ تو قانون  کی میں بہت سختی کرتا ہوں۔ خاص کر وہ قانون جو دوسروں کے حقوق کے متعلق ہیں۔

کل اسی متنازع گلی جانا ہوا۔ کوئی آنسو گیس کی خوشبو یادکانوں کے ٹوٹے شیشے نہیں نظر آئے۔ ایک کرد کی نان بائی کی دکان سے نان لئے اور چپ چاپ واپس آگیا۔

یار دوست یقین نہیں کریں گے کہ اس سارے لفڑے کے عین بیچ میں ، ایک پاکستانی لڑکا گاڑی پر پاکستانی پرچم لہراتا ہوا انڈین لڑکوں کے جھمگٹے میں سے گزرا۔ تھوڑی تلخ کلامی ہوئی ہوگی لیکن وہ بخیر و عافیت گزر گیا۔ کیوں کہ ہر بندے کو پتہ ہے کہ اگر کسی نے ہاتھ لگا دیا تو قانون نے گھر تک پہنچ جانا ہے اور کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔

2011 میں لندن میں بجلی بند ہوئی تھی۔ بہت لوٹ مار مچی۔ میٹرو پولیٹن پولیس اور سکاٹ لینڈ یارڈ نے بعد میں پانچ سات ماہ میں ہی ڈھونڈ ڈھونڈ کر  سارے غل غپاڑے پکڑ لئے تھے۔ یہاں بھی لگتا ہے ایسا ہی ہوگا۔ حالات جب ٹھنڈے ہوجائیں گے تو ان سب لفنٹرز کوسیکا لگے گا۔

میرے سینئرز بہت سارے انڈین ہیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر میری بڑی اچھی مدد کی ہے۔ ہمارے ہسپتال میں انڈین اور پاکستانی ڈاکٹر ز کی بڑی اچھی گپ شپ ہوتی ہے اور جگت بازی چلتی رہتی ہے۔ کھانے شانے مل کر کھاتے ہیں۔ کتنی ہی بار مجھے انڈین نرسوں نے حلال چکن بریانیاں اور پھیکی ابلی ہوئی سبزیاں لا لاکر  کھلائی ہیں۔ ابلی سبزیاں ان کی شفقت ہے اور ان کو نہ کھانا میری کوتاہی ہے کہ ایسا ذائقہ نہیں بن سکا ابھی تک۔

بہرحال حساب لگایا کہ بھوکا بٹیرا بہت لڑتا ہے۔ ویلے مصروف لڑکے جن کے پاس کام ہے کوئی نہیں۔ پیسہ دھیلا کوئی خاص جیب میں نہیں۔ ان کا یہی بنتا ہے اب۔ اب کیا وہ ہائڈ پارک میں جاکر  سپیکر کارنر میں بین المذاہب ہم آہنگی فورمز چلائیں؟ اوپر سے گانے سارے پنجابی سنتے ہیں لڑکے ، جن کو سن کے بجلی سی بھر جاتی ہے دماغ میں۔

Advertisements
julia rana solicitors

میرے گھر کے آس پاس رہنے والے اور ساتھ کام کرنے والے سارے پروفیشنل لوگ ہیں۔ ان کے گوڈوں کو ٹھنڈ ہے ۔ کسی کو کوئی پروا نہیں۔ ایسی متنازع باتیں نہ کرنا سیکھ لیا ہے۔بس موسم ، خواتین اور مریضوں کے مشترکہ مسائل ڈسکس کرلیتے ہیں۔ جن میں ہمارے دکھ سانجھے ہیں۔
اس کے علاوہ تھوڑے مسئلے ہیں ۔جو ایک اور ڈھول گلے ڈال لیں۔
خیر جی اس بہانے لوگوں کو اس شہر کے نام کا  درست تلفظ پتہ چل گیا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply