تاریک راہوں کے مسافر۔۔داؤد ظفر ندیم

SHOPPING

میں بنیادی طور پر پنجابی بولنے والے گھرانے اردو میڈیم گھرانے کا فرد ہوں جس نے بعد میں انگریزی پڑھنے ،اس  کو سمجھنے کی ایک قابل قبول اہلیت حاصل کرلی ،مگر لکھنے اور بولنے کی بہت محدود صلاحیت کا مالک رہا، اس لئے عالمی ادب کا زیادہ تر مطالعہ ان مترجمین کی مرہون منت رہا، جنہوں نے کسی دوسری زبان سے براہ راست یا بالواسطہ تراجم کئے۔ اس لئے سب سے آسان رابطہ انگریزی زبان و ادب تھا۔ جس کو براہ راست بھی کچھ نہ کچھ سمجھا جا سکتا تھا اور اس کے تراجم بھی کثرت سے میسر تھے۔ اردو کے بعد جن زبانوں کے تراجم میسر آئے وہ فرانسیسی، روسی اور ہسپانوی زبانیں تھیں۔ مارکیز اور بورخیس اگرچہ لاطینی امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر ہسپانوی زبانوں کے ادیب ہیں اور پوری دنیا کی طرح اردو زبان میں بھی ان کی تصانیف اور ان کے بارے میں بھی اردو میں کافی لکھا گیا ہے اب پاؤلو کوہلو بھی پوری دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیبوں میں سے ایک ہیں۔ اسی طرح روسی ادیبوں میں سے ٹالسٹائی، دوستوفسکی، گورگی، چیخوف جیسے ادیب کے تراجم نسبتاً  آسانی سے دستیاب رہے، جرمن سے بریخت اور اطالوی زبان سے کنڈیرا کا بعض کام اردو میں موجود ہے جبکہ مصر سے نجیب محفوظ، ترکی سے عزیز نے سن جیسے ادیبوں کا کام اردو میں موجود ہے۔ کافکا نے تو ہم لوگوں کو نوجوانی میں باقاعدہ مسحور کر دیا تھا۔

میرے بچپن میں شیخ غلام علی اینڈ سنز نے عالمی ادب سے منتخب شہ کاروں کی تلخیص کرکے بچوں کے لئے شائع کیا، اردو ڈائجسٹوں میں عالمی ادب کی بہت سی  تحریروں کو شائع کیا گیا۔ صغیر ملال نے اور بہت سے دوسرے لوگوں نے منتخب افسانوں کو شائع کیا مگر سید قاسم محمود نے شاہکار افسانہ ڈائجسٹ نے دنیا کی مختلف زبانوں سے تحریروں کو شائع کیا۔

یہ تمام باتیں اس لئے یاد آگئیں کہ آج ہی میں نے اپنے پیارے دوست رؤف کلاسرا کا مشہور فرانسیسی ادیب بالزاک کے ناول یوجین گرینڈ کا اردو ترجمہ ختم کیا ہے ،جو کہ تاریک راہوں کے مسافر کے نام سے بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔

فرانسیسی ادب سے آشنائی غلام علی اینڈ سنز کی بچوں کے لئے  کتابوں سے ہوئی، وکٹر ہوگو کے ناولوں کی تلخیص کی گئی۔ پھر موپساں کی بعض تحریروں کو منٹو نے ترجمہ کیا تھا،خالد اختر نے موپساں کا ایک خط اردو میں ترجمہ کیا تھا، جو کہ نوجوانی میں ہمیں لکھنے کی ترغیب کا سبب بنا۔ میرے بہت ہی پیارے دوست اقبال حیدر بٹ نے سارتر کا ایک ناول متلی کے نام سے ترجمہ کیا تھا، ترجمے کے دوران ہی میں نے اس سے یہ ناول سن لیا اور اس کا ترجمہ بھی کافی حد پڑھ لیا تھا۔ بعض میں ناول کی صورت میں شائع ہوا۔ شیما مجید نے سارتر کے بارے میں ایک پوری کتاب شائع کی۔ کامیو میرے دوست ارشاد مغل کو بہت پسند تھا، اس کے کئی ناول اردو میں شائع ہوئے تھے۔ فینن کو یونیورسٹی کے دور میں پڑھا تھا، سہیل افتخار میموریل انسٹیٹیوٹ کی لائبریری ہم دوستوں کے لئے مطالعے کے لئے بہترین جگہ تھی ۔وہاں رضوی صاحب ہی نگران تھے اس لئے انہوں نے فینن کا افتادگان خاک کے نام سے جو ترجمہ کیا تھا وہ وہاں موجود تھا۔ اس طرح ایک اردو قاری کے لئے فرنچ ادب کے بارے میں جو تھوڑا بہت علم ممکن تھا اس کا ایک چھوٹا سا حصہ میرے پاس ممکن تھا۔

اس لاک ڈاؤن کے دوران جناب نعیم کلاسرا کا ترجمہ تنہائی کے سو سال پڑھا تھا اشو لال نے اس کا دیپاچہ لکھا تھا جو کہ الگ سے پڑھنے کی چیز ہے۔ اب رؤف کلاسرا کے کالموں سے معلوم ہوا کہ جناب نعیم کلاسرا مرحوم بالزاک کے کتنے شیدائی تھے، جب رؤف کلاسرا اپنے نعیم بھائی کے بارے میں لکھتے ہیں تو ایک خاص طرح کی محبت کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے، بلاشبہ نعیم کلاسرا بے انتہا تخلیقی صلاحیت کے مالک تھے مگر موت کے ظالم پنجوں نے ایک اعلی ٰ سطح کے تخلیق کار کو وقت سے پہلے ہی دبوچ لیا۔ رؤف کلاسرا میں لکھنے کی بے انتہا صلاحیت ہے مگر سیاسی اور صحافتی ذمہ داریاں اور شوق بہت سی تخلیقی کاوشوں کو کھا جاتے ہیں۔ رؤف کلاسرا نے جس طریقے سے بالزاک کے ناول کا ترجمہ کیا ہے اور چھوٹی چھوٹی جزئیات کا خیال رکھا ہے اس کی تعریف نہ کرنا بخیلی ہو گی۔ بالزاک کے ترجمے میں  اُس محبت کی وہ خوشبو   محسوس کر سکتی  ہیں جو رؤف کلاسرا کو اپنے نعیم بھائی سے تھی اور جو بالزاک کے عاشق تھے۔ بالزاک کو فرنچ حقیقت پسندی کے بانیوں میں خیال کیا جاتا ہے اس کی خاص بات اس کی کردار نگاری ہے بالزاک کے کردار حقیقی کردار ہوتے ہیں،  جن میں اچھائی اور برائی دونوں موجود ہوتے ہیں۔ اس ناول میں اس نے اپنے معاشرے کے لالچ، امیر لوگوں کی کنجوسی، پیرس کے امرا کی عیاشیاں، اور قصباتی لوگوں کا رہن سہن بہت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ مگر اس میں خاص بات یوجین کی معصومیت ہے لالچ میں گھرے حصار میں ایک معصوم روح کا پرورش پانا اور اپنے آپ کو خالص رکھنا۔ اور پھر چارلیس کے لئے اس کی بے لوث محبت اور قربانی کا جذبہ ناول کی امتیازی خصوصیت ہے اس کے ساتھ بہت سے کردار ہیں بوڑھے گرینڈ کا کردار ہے جو یوجین کا باپ ہے جس نے نپولین کے بادشاہ بننے کے بعد دولت اور دیہاتی نواب بننے کے لئے پیرس کی پرتعیش زندگی اور اپنے سماجی رتبے کو خیر آباد کہا۔ لالچ، شک اور منافقت کا کردار جو اپنے لالچ اور کنجوسی کو چھپا کر اپنے آپ کو رحمدل اور دوسروں کا خیال رکھنے والا ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یوجین کی ماں کا بے انتہا ایثار ہے اس کے ساتھ کروچاٹ کا کردار ہے ایک سرکاری تصدیق کنندہ جس کے لالچ اور کنجوسی کا تذکرہ ہے اور اس کا بھتیجا پریڈیذنٹ جو اپنی ترقی کے لئےیوجین سے شادی کرتا ہے مگر معاشرے میں ترقی پانے کے تمام منصوبے موت کے بے رحم ہاتھوں سے ختم پا جاتے ہیں مادام گراسنز اور اس کے شوہر کے کردار ہیں ان کے کرداروں میں لالچ کے علاوہ ہوس بھی موجود ہے بینک کا ملازم اور پیرس میں جا کر اپنی ہوس کو پورا کرنے کی کوشش اس کی بیوی کا مصنوعی دکھلاوا پن اور بیٹے کا پیرس کی زندگی کو حسرت سے یاد کرنا۔ اور خود چارلیس ترقی پانے اور آگے بڑھنے کی دوڑ میں اپنے نظریات اور سوچوں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے پیسہ کمانا اور معاشرے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنا اس کا واحد مقصد رہ جاتا ہے وہ یوجین کی سچی اور بے لوث محبت کی بھی پرواہ نہیں کرتا زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کس طرح کسی شخص کو اس کے اصولوں اس کی سوچ اور اس کی محبت سے الگ کرتی ہے اور بندہ کیسے آگے بڑھنے کی اندھی دوڑ کا حصہ بنتا ہے یہ چارلیس کے کردار میں دیکھا جا سکتا ہے ناول میں ایک اور لازوال کردار ہے یہ کردار یوحین کی خادمہ نائے نن کا ہے اپنے مالک کی بے انتہا وفادار اور اس کے باوجود یوجین سے بے انتہا محبت اور اس کا خیال رکھنا۔ یہ ایک بہت زبردست کردار ہے جس کے بارے میں پڑھنے والا سوچ میں پڑھ جاتا ہے

SHOPPING

مگر سب سے بڑھ کر یوجین کا اپنا لافانی کردار جس کو انسان لمبے عرصے تک اپنی یادداشت سے نکال نہیں سکتا ایک معصوم اور خالص روح، جس کو کسی قسم کا لالچ اور حرص آلودہ نہیں کر پاتا اور نہ اس کی خالص اور بے لوث محبت میں کبھی کوئی کمی آتی ہے اور نہ وہ کسی قسم کے حالات میں مایوس نظر آتی ہے
بلاشبہ یہ ایک بہترین ترجمہ ہے اور اس میں کہانی کی روح اور جزئیات دونوں کا خیال رکھا گیا ہے اس ترجمے پر رؤف کلاسرا کی تخلیقی صلاحیت عروج پر نظر آتی ہے

SHOPPING

Avatar
دائود ظفر ندیم
مجھے لکھنے پڑھنے کا شوق نہیں بلکہ میری زندگی لکھنے پڑھنے سے وابستہ ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *