قیدی نمبر650

قیدی نمبر 650
محمد اعجاز
30مارچ2003ءکا دن تھا.شہر قائد میں ہر طرف چہل پہل تھی.لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے.سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق رواں دواں تھی.ایک خاتون راولپنڈی جانے کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوئی.وه ٹیکسی میں سوار تھی.اس کے ساتھ تین چھوٹے بچے بھی تھے.اچانک سول کپڑوں میں ملبوس کچھ آدمیوں نے اسے روکا.زبردستی راستے ہی سے اچکا ,اور اغواء کر کے لے گئے.منزل مقصود پر نہ پہنچنے کی وجہ سے اس کے گھر والوں کو تشویش لاحق ہوئی.انهوں نے تھانے میں رپوٹ درج کروائی.اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا.لیکن کسی نے بھی ان کی بات پر کان نہ دھرا۔
6جولائی2008ء کو ایک رحم دل صحافی ایوان ریڈلی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بگرام جیل میں 650نمبر کی ایک پاکستانی خاتون قید ہے.جس پر وحشیانہ طریقے سے ظلم کیا جاتا ہے.اس کی ہولناک چیخیں پوری جیل میں سنائی دیتی ہیں.کچھ دنوں بعد بگرام جیل سے رہا ہونے والے معظم بیگ نامی قیدی نے بھی یہی انکشاف کیا.بعد میں یہ 650نمبر قیدی عافیه صدیقی کے نام سے مشہور ہوئی.جسے 2003ء میں کراچی سے اغواء کرکے بگرام جیل منتقل کیا گیا.
عافیہ صدیقی 2مارچ1972ءکو پیدا هوئی.1995ء میں امریکہ کی مشہور یونیورسٹی MIT;سے اس نے علم حیاتیات کے شعبے میں تعلیم حاصل کی.بعد میں Bradiesسے پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی.وه اپنے ملک پاکستان کے لیے تعلیم کے شعبے میں اعلیٰ پیمانے پر کام کرنا چاہتی تھی.سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اسے اغواء کرکے امریکی خفیه ایجنسی ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا.5اگست2008ء کو اسے نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا.اس صنف نازک پر الزام تھا کہ اس نے بگرام جیل میں امریکی فوجیوں پر گولی چلائی تھی.4فروری2010ء کو امریکی جیوری نے فردجرم عائد کی.عدم ثبوت کے باوجود اسے 86سال عمر قید کی سزا سنائی گئی.پوری تاریخ میں ایسی بری مثال نہیں ملتی.عافیہ صدیقی کو اغواء ہوئے پانچ ہزار سے زائد دن بیت چکے ہیں.”کارس ویل “نامی امریکی جیل میں قید کی صعوبتیں کاٹتے ہوۓوه پھر کسی” ابن قاسم “کی راه تک رہی ہے.بیچاری فوزیہ صدیقی اپنی مظلوم بہن کی رہائی کے لیے کوشاں ہے.ہر فورم پر عافیه کی رہائی کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ہمیں عافیہ اور دوسرے بیگناه قیدیوں کی رہائی کے لیے پرامن طریقے سے آواز اٹھانی چاهہے.ورنہ کم از کم دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے چاہیئیں۔

Avatar
محمد اعجاز
لکهنے,پڑهنے کا شوق هے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *