ایک رات ڈینش سہیلی کے ساتھ۔۔صدف مرزا

سمندر کے کنارے بنے لکڑی کے مکانوں میں رہنا دور سے بے حد دلکش اور خوابناک لگتا ہے۔ ناروے میں تو ویسے بھی سورج غروب نہیں ہوتا رات بھر روشنی سی دھندلکے کے ساتھ دست و گریبان رہتی ہے۔ ڈاکٹر ساجدہ تو اکثر ناروے  میں ہی چیر پھاڑ کے فرائض انجام دیتی ہیں۔ ڈاکٹرز کو ان مکانات میں مکمل رہائش بھی ملتی ہے، جب آتیں  بڑی  محبت سے دعوت دیتیں سب چھوڑ چھاڑ کر یہیں آ جاؤ۔ میں ہسپتال ہوں گی تو تم لکھتی رہنا۔۔۔ نہ جی! میں قیدِ تنہائی سے بے حد نالاں ہوں۔ میں یہیں ٹھیک ہوں لیکن شامتِ اعمال مجھے ایک ڈینش سہیلی صاحبہ کے ساتھ سممندر کے کنارے رہنے کا اتفاق ہو ہی گیا۔ دن بھر تو باربی کیو کرتے اور فریزر کی کچی برف کے گولے بناتے، گیت گاتے بلبل کی طرح اندازہ ہی نہ ہوا۔۔۔ رات کو ستاروں کی چھاؤں محوِ کلام ہو گئی۔۔۔ نیند نہیں آئی نجانے کون  سا  پہر تھا کہ میری آنکھ لگ گئی۔۔۔ اور نجانے کون سا پہر تھا کہ ہلکی سی خنکی سے کھل گئی اُولاً۔۔۔ میں نے اسے آواز دی۔۔۔۔

کیا ہے۔۔۔؟ وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولی،

مجھے سردی لگ رہی ہے۔۔۔۔

میں تمہاری ماں نہیں ہوں۔۔۔۔

میں نے خاموشی میں عافیت جانی۔

اسے شاید ترس آ گیا اٹھ کر برانڈی پی لو۔۔ میرے ٹریول بیگ میں رکھی ہے واٹ۔۔۔۔؟ لا حول و لا قوۃ!

کیا کہا تم نے۔۔۔ ایک تو تمہاری مصیبتیں بہت ہیں، گرمی لگ رہی ہے،دھوپ چبھتی ہے، سردی لگ رہی ہے۔۔ میں نے کہا تھا کہ یہاں سینگ پھنساؤ۔۔۔

میں نے اٹھ کر موٹا کمبل اٹھا لیا۔۔۔ ابھی دوبارہ آنکھ لگنے ہی کو تھی کہ باہر آبی پرندوں نے لمبی لمبی ہانک لگانی شروع کر دی ۔۔پہلے اکا دکا سحر خیز پرندوں کی سر پھری چکراتی ہوئی آواز آئی۔۔۔ پھر قوالوں کے ہمنواؤں  کی طرح بہت سی  آوازیں شامل ہو گئیں، ساتھ ہی سمندر بھی جاگا۔۔۔ اس کی لہریں بھی انجانے دیس سے واپس لوٹنے لگیں۔ جیسے قوالوں کے ساتھ تالیاں پیٹنے والے بھی شامل ہوں اُولا ااااا۔۔۔۔۔ میں نے بالاآخر تنگ آ کر اسے پکارا۔۔

جیشش کرائسٹ۔۔۔ تم میرے کون سے اعمال کی سزا ہو۔۔

تمھارے ہاں بھی سزا و جزا ہوتی ہے؟ میں نے سوں سوں کرتی ناک باہر نکالی۔۔۔ جواب میں اس نے صرف اتنا رخِ روشن باہر نکالا جس سے مجھے گھور سکے۔ جیسے سمندر میں مگر مچھ صرف نتھنے باہر نکالے گھومتے ہیں۔ تمہیں ہی شوق تھا سمندر کے کنارے سونے کا۔۔۔ اب بھگتو، چلیں۔۔۔ جا کر سمندر کے کنارے بیٹھتے ہیں۔۔۔۔ اس نے کچھ غیر پارلیمانی زبان میں کمرے میں ناموجود کسی تیسرے وجود کی شان میں گستاخی کی۔ ویسے شاعروں کو اکثر انسومنیا ہوتا ہے۔۔۔ بےچاری آنکھیں      ملتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔۔ مجھے بھی ہے! میں نے اسے یوں اطلاع دی جیسے لاٹری ملنے کا اعلان کیا ہو۔۔۔۔

اکثر شاعر خود کشی بھی کرتے ہیں۔۔۔ اس نے ترغیب دینے والے انداز میں کہا اور اٹھ کر چھوٹے سے کچن کی طرف چل دی۔

مجھے کافی مشین آن کرنے کی آواز سنائی دی۔۔۔ پیو گی ؟؟ اس نے وہیں سے ہانک لگائی۔ میں نہیں پیتی۔۔۔ نہ پیو، مرو! اچھا۔۔۔ سوچتی ہوں مرنے کو موسم اچھا ہے ۔۔۔ نمازِ جنازہ پر کافی لوگ آئیں گے” ویسے خود کشی کی کئی تجاویز ہیں ۔۔۔ وہ کھڑ پٹر  کرتی ہوئی بولی۔۔۔ مثلاً  شہ رگ کاٹنا،کلائیاں کاٹنا،زہر کی پڑیا کھانا، یا سب سے آسان ہے نیند کی گولیاں زیادہ کھا لو’ سونے کے بعد اٹھنا ہی نہ پڑے۔۔۔”

اچھا۔۔۔۔ سوچتی ہوں، میں نے تسلی دی یا سمندر میں ڈوب مرو۔۔۔ تمہیں بہت پسند ہے نا! اس نے شاباش دینے کے انداز میں کہا شاعرانہ موت مر جاؤ۔۔۔ تمھارے پاکستانی شعراء شاید تم پر کوئی نظم ہی لکھ دیں۔ ڈنمارک میں دفن ہونا چاہو تو بتا دو۔۔ خرچہ کم ہو گا ورنہ کہاں پاکستان تک میت گھسیٹتے پھریں گے، ویسے بھی اب تمھارے ماں باپ تو رہے نہیں۔۔۔” وہ یقیناً نیند خراب کرنے کا بدلہ لے رہی تھی  کمینی، بے ہودہ، الو کی پٹھی ۔۔ مجھے جتنی گالیاں آتی تھیں میں نے دل ہی دل میں دے دیں ،کوئی جواب نہ پا کر ہاتھ میں بھاپ اڑاتی کافی کا مگ لیے کمرے میں آئی۔۔۔ ناروے کے پہاڑ بھی بلند ہیں۔ وہاں سے بھی کودا جا سکتا ہے، کیا ایڈوینچر ہو گا۔۔۔ اُولاااا !

میں نے سنجیدگی سے کہا، میں ذرا منفرد قسم کی شاعرہ ہوں ،میں  خود کشی کی بجائے قتل کرنے پر زیادہ یقین رکھتی ہوں۔ کچن کی چھریاں بھی کافی تیز ہیں۔ پھر ہم ایشیائی ذرا گرم خون والے بھی ہوتے ہیں۔ تمھاری لاش سمندر میں بھی بہائی جا سکتی ہے لکڑی کے کاٹیج کو آگ بھی لگائی جا سکتی ہے ، امریکی فلموں کی طرح تمھاری  موت کو خود کشی بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ تمہارا بیٹا پہلے ہی تم سے بیزار رہتا ہے، چوتھا بوائے فرینڈ تم نے بھگا ڈالا ہے۔

ہاں کم بخت۔۔۔ پاکستانی تھا نا! تم ایشیائی ہوتے ہی گرم خون والے ہو۔۔۔ آنکھیں ماتھے پر رکھنے میں دیر نہیں لگاتے وہ ٹریک بدل کر اپنا پسندیدہ موضوع شروع کرنے لگی۔

میں ساتھ والی سرنگ نما کمرے میں سونے جا رہی ہوں۔۔۔ ابھی صبح کے ساڑھے چار بجے ہیں۔ سات بجے اٹھوں گی پھر ڈاکٹر ساجدہ کو فون کروں گی اور ادھر چلی جاؤں  گی۔۔ میں باز آئی سمندر کے کنارے سونے سے۔۔۔

میں باز آئی نادرن لائٹس دیکھنے سے ۔۔۔۔۔ میں نے اپنا کمبل گھسیٹا اور ساتھ والے نسبتاً چھوٹے کمرے کی طرف چل دی “تمہارا خدا تمہیں غرق کرے”۔۔۔ اس نے اپنے پادری اور ہمارے ملا کی طرح خشوع و خضوع اور کمال تیقن سے دعا دی!

صدف مرزا
صدف مرزا. شاعرہ، مصنفہ ، محقق. ڈنمارک میں مقیم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *