• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • لاپتہ افراد بازیاب کرائیں ، ورنہ وزیراعظم عدالت میں پیش ہوں، اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

لاپتہ افراد بازیاب کرائیں ، ورنہ وزیراعظم عدالت میں پیش ہوں، اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں وزیراعظم کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 8 ہزار یا جتنے بھی لاپتہ افراد ہیں،ریاست ان کی ذمہ داری لے،ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو 9ستمبر کو وزیراعظم عدالت کے روبرو پیش ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے صحافی مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی اور لاپتہ افراد کی جانب سے وکلاء انعام الرحیم اور ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ یا سابقہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا،عدالت نے آئین کے مطابق بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابقہ حکومت کا تو پتہ نہیں اس حکومت نے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے،یقین دہانی کراتا ہوں کہ کابینہ کی کمیٹی ان تمام ایشوز کو دیکھے گی،اس عدالت نے اگر سابق چیف ایگزیکٹوزسے بیان حلفی طلب کرنے ہیں تو انہیں براہ راست سمن کرے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا اگر پارلیمنٹ اور حکومت اس سنجیدہ مسئلہ پر بے بس ہیں تو وزیراعظم عدالت کے سامنے پیش ہو کر بیان دیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

عدالت نے استفسار کیا کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کہاں ہیں؟ آپ انہیں عدالت کا حکم دکھائیں اگر پھر بھی عمل نہیں ہوتا تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،آخری موقع دے رہے ہیں 9 ستمبر تک ٹھوس اقدامات اٹھائیں اگر اب بھی کچھ نہ ہوا تو چیف ایگزیکٹو کو طلب کریں گے۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply