پاکستان میں کریڈٹ کارڈ کے بغیر نیٹ فلکس کی ممبرشپ

کورونا وائرس کی وجہ سے جب تقریبا دنیا کی نصف آبادی گھروں میں رہنے پر مجبور ہو گئی تو ایسے میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی سٹریمنگ کی دنیا میں نیٹ فلکس نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دنیا بھر میں نیٹ فلکس کی مانگ میں جہاں تین گنا اضافہ ہوا وہیں پاکستان میں بھی اس کی مانگ میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان میں کئی کپمنیوں نے عوام کی آسانی کے لیے نیٹ فلکس کے اکاونٹس خرید کر اُنہیں کم قیمت پر فروخت کرنے کا کاروبار شروع کیا ہے۔ پاکستان میں ہزاروں افراد کے پاس آن لائن پیمنٹ کے لیے کارڈ نہیں ہیں۔ ایسے افراد کے لیے یہ کمپنیاں کسی نعمت سے کم نہیں۔
انہی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی کے مالک عمیر نقاش کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اور قرنیطنیہ سے پہلے پاکستان میں لوگوں کو نیٹ فلکس کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا

اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی پوسٹ دیکھ کر لوگوں کو نیٹ فلکس پر موجود مختلف سیزن کے بارے میں پتا چلا جس کے بعد لوگوں نے نیٹ فلکس اکاونٹس خریدنے کے لیے رابطہ کیا۔
عمیر نقاش کے مطابق اُن کی کپمنی ’سوشل باڈی‘ لوگوں کی اس لاک ڈاؤن میں آسانی کے لیے یہ آفر لے کر آئی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ بہت سے اکاؤنٹس خرید کر لوگوں کو کم قیمت میں فروخت کرتے ہیں۔ یہ قیمت نیٹ فلکس سے ڈائریکٹ اکاؤنٹ خریدنے کے مقابلے میں کم ہے۔
’اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کل لوگ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی چیزوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اور اب جب ہر کوئی نیٹ فلکس کے بہترین سیزنز کے بارے میں بات کر رہا ہو تو دوسروں میں بھی اس کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔‘
عمیر نقاش نے بتایا کہ گذشتہ تین ماہ میں سے اُن کی کمپنی اکاونٹس بنا کر لوگوں کو دیتی ہے۔ اور کسٹمر کی جانب سے ہر ماہ ممبر شپ کو جاری رکھنے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں اور اگر کسی کسٹمر کی جانب سے پیسے نہ دیے جائیں تو اُن کی ممبر شپ ختم کر دی جاتی ہے۔
پاکستان میں بھی نیٹ فلکس کی مانگ میں اضافے کی ایک وجہ سینیما گھروں کا بند ہونا بھی ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ لوگ کسی بھی سیزن کو ٹی وی پر اشتہارات کے ساتھ دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ بہت سے صارفین کو ایک قسط دیکھنے کے لیے 24 گھنٹوں کا انتظار بھی گوارا نہیں تو ایسے میں وہ نیٹ فلکس کا رخ کرتے ہیں کیونکہ نیٹ فکس پر پورے سیزن دستیاب ہیں، اور اُن کو بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھ سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *