شوکت صدیقی۔۔مرزا یاسین بیگ

جب بچے کھیل کود اور “دوست بازی” میں وقت لگایا کرتے ہیں ان دنوں میں نے فٹبال کھیلی، پتنگ اُڑائی، گلی ڈنڈا، کنچے کھیلے۔ کرکٹ بھی کھیلی مگر کبھی ان کھیلوں میں دل نہیں لگا۔ ان میں سے کچھ کھیل صرف ضد میں کھیلے کیونکہ گھر کی طرف سے سخت ممانعت تھی کہ یہ کھیل خراب بچے کھیلتے ہیں۔ کالج میں آتے ہی لکھنے پڑھنے اور شوبز میں جانے کا شوق چرآیا۔ اداکاری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ڈرامے، خاکے لکھنا اور شوز کی میزبانی شوق تھا۔ ریڈیو پاکستان کراچی میں انٹری ہوئی۔ اخبارات میں نوجوانوں کے صفحات میں مضامین لکھنے شروع کئے۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی کے مشہور شخصیات سے انٹرویوز (مصاحبے) شروع کئے۔ آج میں ان ہی میں سے ممتاز ناول و افسانہ نگار شوکت صدیقی سے ملاقات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ان کے ناول پر مبنی پی ٹی وی سیریل ” خدا کی بستی” لازوال شہرت رکھتی ہے۔ شوکت صدیقی کے تحریر کردہ ناول “خدا کی بستی” کو پہلی بار 1969 اور پھر 1974 میں دوسری بار ڈرامے کی شکل دی گئی۔ پہلی بار ریکارڈنگ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اسے براہِ راست پیش کیا جاتا تھا جو بہت بڑا معرکہ تھا۔ “خدا کی بستی”میں ایک مفلوک الحال مگر باعزت خاندان کے شب و روز کو موضوع بنایا گیا تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد ایک بستی میں آباد ہو جاتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہاں اس کا ہر طرح کے معاشرتی، معاشی مسائل اور با اختیار لوگوں کی ریشہ دوانیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس ڈرامے میں زندگی کی تلخ حقیقتیں، کمزوروں کی بے بسی، طاقتوروں کے استحصالی رویے، مذہب کے ٹھیکیداروں کی من مانیاں، غرض ہمارے معاشرے کا ہر رخ موجود تھا۔ اسی لیے یہ ڈراما اپنے دور کا مقبول ترین ڈراما تھا۔ اس کی ہر قسط جب ٹیلی کاسٹ ہوتی تھی، گلیاں اور بازار سنسان ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ اکثر شادیوں کی تاریخ طے کرنے کے موقع پر بھی خیال رکھا جاتا تھا کہ اس روز “خدا کی بستی”نشر نہ ہورہی ہو۔

اسی امر شاہکار کے خالق شوکت صدیقی کے دوسرے ناول “جانگلوس” پر پی ٹی وی کیلئے سیریل تیار کرنے کی بات جب ٹیلینٹڈ ڈائریکٹر پروڈیوسر کاظم پاشا نے کی، تو میں نے فوراً شوکت صدیقی سے ملاقات کی ٹھان لی۔ میں ان دنوں سلطانہ مہر کے ماہنامہ روپ، کیلئے کام کیا کرتا تھا۔ وہ سماجی اور ثقافتی (socio cultural) ماہناموں کا دور تھا جن میں روپ، ٹی وی ٹائمز، شوبز، صبح نَو اور ٹی وی ٹیمپو سرفہرست تھے۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ نئے شمارے میں تازہ ترین خبریں اور انٹرویوز شامل کریں۔ شوکت صدیقی نارتھ ناظم آباد میں رہتے تھے۔

ان سے ایک شام اتنی طویل گفتگو رہی کہ جب میں ان کے گھر سے باہر نکلا تو آدھی رات ہوچکی تھی۔ وہ اتنے شفیق اور بےتکلف انداز میں ملے کہ لگا ہی نہیں کہ میں اپنے عہد کے اتنے عظیم ادیب و صحافی سے پہلی بار مل رہا ہوں۔ شوکت صدیقی اس دور کے اعلیٰ وضع دار لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان سے ناول” خدا کی بستی”، کے لکھنے کی وجوہات اور پھر سیریل تیار ہونے کی کہانی سنی۔ “جانگلوس” پر بات ہوئی۔ ترقی پسند تحریک کے نشیب و فراز پر بات چیت ہوئی۔ فیض اور سبطِ حسن کے واقعات سنے گئے۔ ان کی صحافتی دور کا ذکر آیا۔ مجھے فخر ہے کہ شوکت صدیقی کو ایک طویل عرصے بعد میں نے چھاپا۔

انٹرویو کی طوالت کی وجہ سے میں نے اس کا ایک حصہ روپ، میں فوری شائع کیا۔ بعدازاں دیگر رسالوں کی فرمائش پر اس انٹرویو کی دیگر گفتگو وہاں شائع ہوئیں۔ ان دنوں میں ایسی شخصیات سے انٹرویو کے آخر میں ان کی ہینڈ رائٹنگ میں آٹوگراف بک پر چند مختصر سوالوں کے جوابات لکھوالیا کرتا تھا۔ اس کا ایک نمونہ اس تحریر کے ساتھ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ شوکت صدیقی کے بہترین ناول جانگلوس” کو بنیاد بنا کر پی ٹی وی نے 1989ء میں اس ڈرامے کو پیش کیا تھا اور اس نے اپنے دور میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔

دو قیدی لالی اور رحیم داد کے جیل سے فرار کے بعد وسطی پنجاب کے پسِ منظر میں چلنے والے اس ڈرامے کو بھلا کون بھول سکتا ہے؟ ایم وارثی اور شبیر جان قیدیوں کے مرکزی کردار میں موجود تھے۔ یہ دونوں اداکار کاظم پاشا ہی کی دریافت تھے۔ شبیر جان کی برتنوں کی دکان ہوا کرتی تھی اور ایم وارثی آٹو رئیپیر ورکشاپ چلایا کرتے تھے۔ ان دنوں جس ٹی وی پروڈیوسر کی کار خراب ہوجائے وارثی کی خدمات حاضر۔ میرے اس دوست نے اداکاری کی شوق میں بہت وقت صَرف کیا۔ چھوٹے چھوٹے کردار بےشمار ڈراموں میں ادا کئے مگر جانگلوس سے اس کی اصل پہچان بنی۔

وارثی نہایت ملنسار طبعیت رکھتا ہے۔ اس کی خاص عادت تھی کہ گردن ٹیڑھی کرکے بات کیا کرتا تھا۔ شبیر جان اور محمود اختر کو شہرت دلوانے میں بھی کاظم پاشا کا بڑا ہاتھ ہے۔ کاظم پاشا کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ جس کا ہاتھ دوست سمجھ کر تھام لیں اسے شہرت دلواکر ہی دَم لیتے ہیں۔ کاظم پاشا کے ساتھ میری بھی ایک مختصر سی کہانی وابستہ ہے وہ کسی اگلی تحریر میں۔ بات ہورہی تھی شوکت صدیقی کی۔ آج کی نئ نسل سے میں ان کا ایک مختصر سا تعارف کروادوں۔

شوکت صدیقی 20 مارچ، 1923ء کو لکھنؤ بھارت میں پیدا ہوئے۔ 1946ء میں سیاسیات میں ایم اے کرنے کے بعد 1950ء میں کراچی آگئے۔ کراچی میں 1952ء میں ثریا بیگم سے شادی ہوئی۔ ناولوں اور متعدد کہانیوں کے مجموعوں کے خالق کے علاوہ، وہ اردو کے ایک ممتاز صحافی بھی تسلیم کئےجاتے ہیں اور متعدد نامور صحافی ان سےصحافت سیکھنے کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ کئی ہفت روزہ اور روزنامہ اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم عملی زندگی کا آغاز 1940ء میں ماہنامہ ترکش، سے کیا۔ وہ روزنامہ مساوات، کراچی کے بانی ایڈیٹر اور روزنامہ “مساوات” لاہور اور روزنامہ “انجام” کےچیف ایڈیٹر بھی رہے۔

ایک عرصہ تک وہ ہفت روزہ الفتح، کراچی کےسربراہ بھی رہے جس میں کئی ادیبوں، صحافیوں نے کام کیا جنہیں آج پاکستان کے بڑے ادیبوں اور صحافیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شوکت صدیقی کےافسانوی مجموعوں میں تیسرا آدمی، 1952ء، اندھیرا اور اندھیرا، 1955ء، راتوں کا شہر، 1956ء، کیمیا گر، 1984ء جبکہ ناولوں میں کمیں گاہ، 1956ء، خدا کی بستی، 1958ء، جانگلوس، 1988ء اور چار دیواری، 1990ء میں شائع ہوئے۔ “جانگلوس” ان کا ایک طویل ناول ہے جس کےاب تک کئی ایڈیشن شائع ہو چکےہیں۔ اس ناول کو پنجاب کی الف لیلیٰ بھی کہا جاتا ہے۔

ان کے ناول “خدا کی بستی” کے 46 ایڈیشن شائع ہوئےاور یہ اردو کا واحد ناول ہے جس کا 42 دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ خدا کی بستی، کو اب تک چار بار قومی ٹیلی وژن پر پیش کیا جاچکا ہے جبکہ “جانگلوس” کے ٹی وی پروڈکشن کے حقوق بھی ایک نجی ٹی وی چینل خرید چکا ہے۔ ان کے ناول “چار دیواری” کو لکھنوی الف لیلیٰ کہا جاتا ہے۔ یہ لکھنؤ کے زوال پزیر معاشرے کی کہانی ہے جہاں ایک تہذیب ختم اور دوسری دنیا جنم لے رہی تھی لیکن یہاں کے لوگ پرانی یادوں اور عظمتوں کو سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

شوکت صدیقی کا 16 دسمبر، 2006ء کو انتقال ہوگیا اور وہ کراچی ہی میں دفن ہیں۔ مجھے آج بھی افسوس ہے کہ میں خواہش رکھتے ہوئے بھی اپنی زندگی کے جھمیلوں میں ان سے دوبارہ ملاقات کیلئے وقت نہیں نکال پایا۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply