سعودی عرب کا سیاسی بھونچال۔منصور ندیم

سعودی عرب میں سیاسی بھونچال پر پوری دنیا ایک بار پھر ایک نئی بحث اور خدشات کی طرف جاتی نظر آرہی ہے۔دنیا بھر کے اخبارات کے لیے یہ سنسنی خیز خبر دلچسپی اور مزے کی بات ہوگی کہ سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں، بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ گرفتار ہوگئے ہیں۔ ان میں صرف شاہی خاندان کے سیاسی لوگ نہیں تھے بلکہ عالمی شہرت یافتہ شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہے۔ ان گرفتاریوں کے سلسلے کی پہلی کڑی ستمبر 2017 میں ان مذہبی علماء اور سماجی کارکنان کی تھی جو موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے۔

32 سالہ نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کے سب سے طاقت ور شخصیت کے طور پر ابھر کر  سامنے آئے ہیں ۔ یہ اس وقت ولی عہد ہونے کے علاوہ سعودی عرب کی مسلح افواج اور حرص الوطنی (National   Guard ) کے بھی سربراہ ہیں، اس کے علاوہ وزیر دفاع اور وزیر داخلہ بھی ہیں، اور دنیا کے سب سے بڑی پیٹرول کمپنی آرامکو کے بھی سربراہ ہیں، معاشی فیصلہ سازی اور سعودی عرب کے معاشی ویزن 2030 کے انچارج بھی یہی ہیں ۔اور حالیہ پرائیوٹائزیشن کے سربراہ بھی یہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دن انہوں نے اپنے والد موجود ہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات میں اعلی اختیارات کی ایک طاقتور  اینٹی کرپشن کمیٹی کے بنانے کا فیصلہ کیا جو بلا تخصیص کارروائی کرسکے، یہ کمیٹی اتنی با اختیار ہے کہ صرف بادشاہ کو جوابدہ ہوگی، کوئی بھی فرد کسی بھی قانون کے تحت اس کمیٹی کے اختیارات کو چیلنج نہیں کرسکتا ہے، یہ کمیٹی کسی کو بھی گرفتار کرسکتی ہے ، سفری پابندی لگا سکتی ہے ، اثاثہ جات اور بنک اکاونٹ منجمد کرسکتی ہے۔اور اندرون ملک اور بیرون ملک کسی بھی فرد کے اثاثوں کی چھان بین کر سکتی ہے۔

5 نومبر.2017ء کو اسی اینٹی کرپشن کمیٹی نے جو سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر تشکیل دی گئی تھی چند گھنٹے کے بعد ہی سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں 38 موجودہ اور سابق وزراء اور 11 شہزادوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جن لوگوں بھی کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں شاہی پروٹوکول سے محروم نہیں کیا گیا ہے بلکہ انہیں فائیو اسٹار ہوٹل رٹنرکارلٹن خالی کروا کر اس میں رکھا گیا ہے ان کی نجی پروازوں پر پابندی ہے، ہوٹل کے اردگرد سخت سیکورٹی ہے۔ گویا کرپشن کے الزام میں گرفتار لوگ پاکستان کی طرح وی آئی پی پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں۔

سعودی عرب میں سنہء 1932 کے قیام کے بعد سے اب تک یہ روایت تھی کہ آل سعود کے ہر سیاسی معاملات پر اختلاف کو شاہی خاندان اور طاقتور قبائل کے بزرگ شاہی محل میں بیٹھ کر طے کر لیتے تھے، اور پوری دنیا کے سامنے کبھی محلاتی سازشیں یا اختلافات بے نقاب نہ ہو پاتے تھے، لیکن یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے شاہی خاندان کے افراد اور ملکی بااثر طاقتور ترین لوگوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور اسے انٹر نیشنل میڈیا کے سامنے بھی رکھا گیا ہے۔  اس میں سب سے اہم گرفتاریاں سابق فرمانروا مرحوم شاہ عبداللہ کے تینوں بیٹوں کی گرفتاریاں ہیں۔ شاہ عبداللہ کے بیٹے متعب بن عبداللہ جو حرص الوطنی( National  Guard )  کے سربراہ تھے، نیشنل گارڈ کی حیثیت قریب قریب سعودی عرب کی آرمی کے برابر تھی، اس میں موجود افرادی قوت سعودی عرب کے طاقتور قبائل سے تھی، ان تمام قبائل کی ہمدردی یا جھکاؤ  شاہ عبداللہ کے گھرانے سے تھی۔

یہاں تک کہ ان قبائل کے شیوخ کے بھی اکاونٹ منجمد کردیے گئے ہیں ۔ شاہ عبداللہ کے دوسرے صاحبزادے ترکی بن عبداللہ جو ریاض کے سابق گورنر ہیں، اور تیسرے صاحبزادے فہد بن عبداللہ جو سابق وزیر دفاع تھے ۔بنک البرکہ کے پریزیڈنٹ صالح الکامل بھی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ گرفتار ہیں۔ یہ شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے لیکن سابقہ فرمانروا شاہ عبداللہ کے خاص مصاحبین میں سے تھے۔عادل الفقیہہ جدہ کے سابق مئیر تھے، اور ماضی میں جدہ کے سیلاب کے دوران امداد اور معاملات پر کرپشن کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہیں، بن لادن گروپ, سعودی عرب کے سب سے بڑے تعمیراتی گروپ کے مالک مقر بن لادن بھی پچھلے سال حج کے دوران کریں گر جانے کی تفتیش پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے گرفتار ہوے ہیں۔ جس میں کافی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں. ابراہیم السعد، سابق وزیر خزانہ  بھی گرفتار ہوے ہیں، ایڈمرل عبداللہ بن سلطان بحریہ کے کمانڈر بھی برطرف کردیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ میڈیا گروپ میں MBC کے مالک صالح سلمان، ARD کے مالک ولید ابراہیم اور سعودی عرب کی سب سے بڑے ٹیلی کمیونیکیشن کا ادارہ  STC کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،  ایک اور بڑی گرفتاری  روتانہ  میڈئا گروپ کے مالک ولید بن طلال کہ بھی ہے ۔سعودی شہزادے ولید بن طلال کا شمار دنیا کی ابتدائی 50 امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے ان کے کل اثاثہ جات کی مالیت 19 کھرب ڈالر ہے.  شہزادے نے نامور کمپنیز جیسے ایپل، سٹی گروپ وغیرہ میں سرمایہ کاری کررکھی ہے، ان کے اثاثہ جات کی مالیت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ 2007 میں اپنا ذاتی طیارہ اے 380 خریدنے اور پرائیوٹ ہوائی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے.فوربس میگزین کی فہرست میں نام صحیح جگہ نہ آنے پر سعودی شہزادے نے انتظامیہ کے خلاف قانونی مقدمہ بھی دائر کیا تھا جو دو سال بعد 2015 میں حل ہوا.

واضح رہے کہ الولید بن طلال نے صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکہ  میں موجود اپنے اثاثہ جات کو فروخت کردیا تھا، حراست میں لیے جانے والے سعودی شہزادے نے مملکت کی 95 فیصد گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ حصص مارکیٹ میں بھی 35 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تیزی سے نیچے آیا.ولید بن طلال کی کمپنی کے ترجمان نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ شہزادے کے اثاثہ جات کی تفصیلات پہلے ہی حکومت کے پاس موجود ہیں انہوں نے بینکوں اور دیگر نجی کمپنیز میں سرمایہ کاری کررکھی ہے، جو حکومت کو سالانہ ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتی ہیں.

سٹی گروپ کا قیام 1991 میں عمل میں آیا اور اسے 2009-2008 کے درمیان مالی خسارے کے دوران بڑی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کے بعد کمپنی کو بند کرنا پڑا تاہم سعودی شہزادے نے سٹی گروپ کی سربراہی سنبھالی اور رواں برس اس نے دوبارہ کاروبار کا آغاز کیا. ولید بن طلال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر 2011 میں 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تاہم ان کے ٹوئٹر میں موجودہ حصص 4.9 فیصد ہیں.سعودی شہزادے کے پاس موبائل فون کی معروف کمپنی ایپل کے 6 ارب 23 کروڑ حصص موجود ہیں، انہوں نے 1997 میں 11 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی بعد ازاں انہوں نے لیفٹ نامی کمپنی میں سرمایہ کاری کی اور 247 ارب 7 کروڑ ڈالر کے حصص خریدے جس میں سے کچھ حصہ فروخت کیا جاچکا ہے.

ٹیکس گوشواروں کے مطابق شیخ الولید نے میڈیا انڈسٹری میں بھی سرمایہ کاری کی انہوں نے 2015 میں روپرٹ مرچڈوچ سے 3 کروڑ 97 لاکھ ڈالر کے حصص خریدے.ولید بن طلال نے بڑھتے ہوئی آن لائن شاپنگ کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ای کامرس انڈسٹری میں بھی خوب سرمایہ کاری کی، انہوں نے چینی کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام کے ساتھ 2013 میں معاہدہ کیا اور 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جسے بعد ازاں بڑھا کر 700 ارب ڈالر تک لے جایا گیا. بتایا گیا ہے کہ سعودی شہزادے نے ہوٹل انڈسٹری میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی، ان کے امریکہ، یورپ اور سعودیہ عرب میں لگثری ہوٹلز اور پلازہ موجود ہیں.

شہزادہ ولید نے رئیل اسٹیٹ اور پیٹروکیمیکل انڈسٹری میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررکھی ہے، وہ عرب ممالک کے پانچویں بڑے بینک کے سب سے زیادہ حصص لینے والی شخصیت بھی ہیں. انہوں نے حال ہی میں جدہ میں تعمیرات کے لیے قائم کی جانے والی کمپنی جدہ اکنامکس میں سرمایہ کاری کی جس نے حال ہی میں دنیا کا طویل ترین ہوٹل تیار کیا تھا۔سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے حالیہ گرفتاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور انصاف کے لیے امیر اور طاقت ور شخص کی تمیز نہیں کی جائے گی بلکہ کرپشن کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے گی۔ ان  تمام   حالیہ تبدیلیوں   کی  دو  ظاہری  صورتیں ہوسکتی ہیں پہلی یا تو یہ واقعی معاشی اور احتسابی تبدیلی کے لئے پہلا مثبت اقدام  ہوسکتا ہے  یا پھر  سعودی عرب میں حالیہ جو کچھ کارروائی کی گئی ہے اس میں دو اہم خاندان تو براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور یہ خاندان کوئی عام لوگوں کے خاندان نہیں ہیں۔

ایک عبداﷲ بن عبدالعزیز کا خاندان ہے جو جیزان کے لوگوں پر مشتمل ہے اور سعودی افواج میں بڑا حصہ جیزانیوں کا ہے۔ یہ لمبے چوڑے اور طاقتور قبائل ہیں، جنگجو بھی ہیں۔ انہوں نے کئی سعودی روایات کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے جن میں تلوار کے ساتھ رقص،گھڑ سواری اور صحرا میں وقت گزارنے کی عادت۔ اگرچہ یہ روایتیں عادت بن گئی ہے جومکمل سہولتوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن یہ جنگجو لوگوں کے لیے اپنے ماضی سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اسی طرح ولید بن طلال سے فائدہ اٹھانے والے صرف ان کے خاندان کے چند سو لوگ نہیں ہیں بلکہ ہزارہا لوگ ان سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ان خاندانوں کی جانب سے رد عمل فطری ہے، جب یہ رد عمل آئے گا تو سعودی نظام کو یقیناًمزید دھچکے لگیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  شاہ سلمان نے ولی عہد کو اتنے وسیع اختیارات کیوں دیے؟ کس کے اشارے پر یہ سب ہورہاہے؟ امریکہ  کا کیا عمل دخل ہے؟ بیرونی قوتیں اس کھیل میں کس حد تک شریک ہیں؟ پہلے سعودی خاندان میں بیشتر فیصلے اتفاقِ رائے سے ہُوا کرتے تھے، لیکن سعودی شہزادوں کی گرفتاریاں، اعلٰی عہدوں سے برطرفیاں، نیشنل گارڈز اور افواج میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی ولی عہد شاہی خاندان پر اپنا آہنی شکنجہ اور مضبوط کرناچاہتے ہیں۔  لیکن  اب مفاہمت اور اتفاقِ رائے کی بجائے  فیصلے فردِ واحد کیطرف سے آ رہے ہیں، جو مملکت کے عمرانی معاہدے کو ایک نئے سِرے سے لکھے جانے کی کوشش ہے۔اس قسم کے سوالوں کے جوابات عموماً وقت گزرنے کے بعد ہی  ملتے ہیں لیکن سعودی عرب کے تناظر میں تو سب کچھ عیاں ہے۔

پہلے اسے یمن اور شام کے معاملات میں الجھایا گیا پھر جب معیشت بری طرح تباہی کی طرف جانے لگی تو قرضوں کا جال پھیلایا گیا، پھر تارکین وطن سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے وصولی کی جانے لگی ان پر اتنے ٹیکس لاد دیے گئے کہ وہ اپنے اہل خانہ کوگھر بھیجنے پر مجبور ہوگئے جب کہ چند ماہ یا ایک سال کے اندر ملازمتیں بھی چھوڑنے لگیں گے۔ جس کا اثر مکانات کرایے پر دینے والے سعودیوں کی معیشت پر پڑے گا۔ گویا سعودی عرب کو ایک معاشی بھونچال اور سیاسی طوفان میں پھنسانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ سعودی حکام نے اگرچہ بظاہر تمام کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جس میں حرص الوطنی (نیشنل گارڈز) بھی شامل ہیں۔ جس کا کنٹرول حرص الوطنی پر ہوگا، طاقت اس کے پاس ہوگی۔ یوں تو اختیارات بادشاہ کے پاس ہی ہوتے ہیں لیکن نیشنل گارڈز مسلح طاقت ہے اور اب مسلح طاقت کے بل پر بھی فیصلے ہوں گے۔ اسے بھی اتفاق کہیں یا کچھ اور ہے ۔

بہر حال امت مسلمہ کے تناظر میں بھی سعودی بحران ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ حالیہ سعودی بحران کو سعودی عرب کا    صرف داخلی معاملہ   ہی نہیں سمجھا جائے گا۔بلکہ یہ خارجی دنیا پر بھی اثرانداز ہوگا۔آنے والا وقت سعودی عرب کی معاشی اور سیاسی حالت کو کس طرف لے جائے گا، بظاہر اس وقت پیٹرول کئ قیمت گزشتہ دو سالوں میں بلند ترین سطح پر ہے ، لیکن اسٹاک ایکسچینج استحکام میں نہیں ہے۔ اس موجودہ احتسابی عمل سے سعودی عرب کو آنے والے وقت میں کتنا فائدہ یا نقصان ہوگا۔ یہ آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سعودی عرب کا سیاسی بھونچال۔منصور ندیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *