• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • متحدہ عرب امارات: جائے حادثہ پر جمع ہونے و تماشا دیکھنے پرایک ہزار درہم جرمانہ

متحدہ عرب امارات: جائے حادثہ پر جمع ہونے و تماشا دیکھنے پرایک ہزار درہم جرمانہ

(نامہ نگار/مترجم:نسرین غوری)متحدہ عرب امارات پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حادثات والی جگہوں پر جمع ہونے ، زخمیوں کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے احتراز کریں۔ ایسا کرنے پر ان پر ایک ہزار یو اے ای درہم کا جرمانہ عائد ہوسکتا ہے ۔دبئی پولیس کے ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے  ڈائرکٹر برگیڈئیر سیف موہیر المزروعی نے کہا کہ حال ہی میں ان کےعملے نے جائے حادثہ پر مجمع لگانے والے تماشائیوں پر ایک ہزار درہم کے جرمانےعائد کیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی جگہ پر بلا جواز رش کی وجہ سے سکیورٹی اور طبی عملے کے لیے امددی کاروائیوں میں خلل پڑتا ہے خصوصاً ایمبولینس کو حادثے کی جگہ پر بروقت پہنچنے میں مشکل ہوتی ہے۔ رش کی وجہ سے مزید حادثات کا خدشہ بھی رہتا ہے کیونکہ رش ٹریفک کی روانی میں خلل انداز ہوتا ہے۔ ساتھ ہی پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تصاویر بلا اجازت سوشل میڈیا پر ڈالنا غیر قانونی اور قابل سزا جرم ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

وزارت داخلہ، پولیس اور شہری دفاعی ادارے کے ساتھ مل کر امارات میں شہریوں کو مجمع لگانے کے خلاف خبر دار کر رہی ہے اور “مجمع لگانے سے ہوشیار رہیں” کے نام سے آگاہی مہم چلا رہی ہے۔ المزروعی نے شہریوں پر زور دیا کہ مجمع لگانے اور ویڈیوز بنانے کے بجائے امدادی کاروائیوں میں پولیس سے معاونت کیجیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حادثہ کسی خطرناک موڑ کے قریب یا کسی سرنگ کے اختتام پر ہوتا ہے تو یہ بہت زیادہ خطرناک ہوجاتاہے کیونکہ وہاں سے پوری سڑک کو دیکھنا ناممکن ہوتا ہے، المزروعی نے کہا کہ بعض لوگ موبائل کیمرہ سے شوٹ کرنے لگتےہیں تاکہ اسے دوسروں تک پہنچا سکیں جو کہ متاثرین کی پرائیوسی پر حملے کے مترادف ہے اور پولیس کی تحقیقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

شارجہ پولیس کے کمانڈر جنرل اور پولیس آپریشن کے ڈائرکٹر جنرل ابراہیم مصباح کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بلا اجازت تصاویر شائع کرنے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہےلیکن پولیس بلا اجازت اور غیر قانونی طورپر پھیلائی گئی تصاویر کے منبع تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ایسی تصاویر شائع  کرنے والوں کو گرفتار کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے لوگ جو اس قسم کی کاروائیوں میں ملوث تھے انہیں گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔
قانون:
شارجہ عدالت کے ایڈووکیٹ سالم صاحہ نے کہا کہ حادثات کی تصاویر اور فلم بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کرنا جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہوسکتی ہے۔ امارات کے وفاقی قانون کے مطابق جائے حادثہ کے گرد اکھٹا ہونے والی گاڑیوں کے مالکان/ ڈرائیور حضرات کو اسی وقت ایک ہزار درہم کا جرمانہ کیا جاسکتا ہے جبکہ تصاویر اور ویڈیو کلپ شئیر کرنے والوں پر یو اے ای پینل کوڈ کا آرٹیکل 197 (bis2) عائد ہوتا ہے جو 2017 کی وزارتی قرارداد نمبر 178 “ٹریفک کنٹرول کے اصول اور قواعد” کے تحت آتا ہے۔
  خلیج ٹائمز

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply