طالبان حکومت کو در پیش چیلنجز۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

افغانستان انقلابات زمانہ کا شکار وہ بدقسمت خطہ ارضی ہے، جہاں کی عوام پچھلے چالیس سال سے جنگ، جنگ اور صرف جنگ کے بارے میں ہی جانتی ہے۔ اب تو ایسی صورتحال درپیش ہے کہ جب جنگ نہیں ہو رہی ہوتی تو بھی جنگ کا انتظار ہو رہا ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں جنگ کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ افغانستان کی معیشت اور یہاں کے لوگوں کی ذہنی ساخت بھی نارمل نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی قوتوں کی بار بار کی مداخلت نے یہاں کے خوبصورت تہذیب کے مالک اور اعلیٰ اخلاقی اقدار رکھنے والے لوگوں کو بھی بدمزاج اور لڑاکو بنا دیا ہے۔ ایک بات سمجھنے اور غور کرنے کی ہے کہ دلیر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان لڑنا شروع کر دے یا لڑائی کے بہانے تلاش کرتا رہے۔ افغانستان پر بار بار حملہ کیا جاتا ہے اور ردعمل میں یہ بطور قوم مزاحمت کرتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی قوت حملہ کرتی ہے تو دوسری اسے ذلیل کرنے کے لیے دنیا بھر کے جہادی جمع کر دیتی ہے اور دوسری افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجاتی ہے تو پہلی بدلہ لینے کے لیے وہی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

یوں طاقتوروں کا کھیل افغان سرزمین کو آگ و خون میں مبتلا رکھتا ہے۔ اب کی بار بظاہر دونوں قوتیں تھک کر میدان سے باہر ہوچکی ہیں۔ اب کھنڈرات اور بارود کے ڈھیر پر ایک ملک کھڑا ہے، جسے افغانستان کہتے ہیں۔ وہ اربوں ڈالر جو دنیا بھر سے افغانستان کے نام پر بھیجے گئے، وہ اسی طرح غائب ہوگئے، جیسے کابل کے دفاع کے وقت افغان فوج غائب ہوگئی تھی۔ ایک حقیقت جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ امریکہ ایک قابض کے طور پر موجود تھا اور اس کی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات میں افغانستان میں ایک نیم منتخب حکومت موجود تھی۔ امریکیوں کے جانے کے ساتھ ہی طالبان نے ہر طرف سے یلغار کرتے ہوئے طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کر لیا۔ پچھلے بیس سالوں میں افغانستان میں بڑے بڑے ادارے بنائے گئے ہیں، ایک نئی نسل جدید تعلیمی اداروں میں پروان چڑھی ہے اور دنیا کی رنگا رنگی نے کابل کو پوری طرح سے اپنی لپٹ میں لے لیا تھا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

پہاڑ، گاوں اور دیہات شروع سے ہی طالبان کے قبضے میں تھے، مگر شہر حکومت کے پاس تھے۔ ان میں فوجی مقاصد کے لیے کچھ انفراسٹکچر تعمیر کیا گیا۔ اب یہ خطہ دنیا سے کٹا ہوا خطہ نہیں ہے، جیسے نوے کی دہائی میں تھا۔ امریکہ اور نیٹو ممالک نے یہاں کے سماجی ڈھانچے کو بھی بدلنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ لوگون کو آسائش پسندی کی عادت پڑ چکی ہے۔ اب طالبان کو کچھ نئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج اقتصادی چیلنج ہے، یہ طالبان کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے۔ افغانستان کے ریاستی اداروں اور غیر ترقیاتی اخراجات، جن کو نہ روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی کم کیا جا سکتا ہے، وہ اربوں ڈالر میں ہے۔ افغانستان کے دس ارب ڈالر کے اثاثے، جن سے چند ماہ کار ِحکومت چلایا جا سکتا ہے، وہ امریکی قبضے میں ہیں اور جو مال امریکی قبضے میں چلا جائے، وہ بہت کم ہی ان ریاستوں کو مل پاتا ہے، جن کی یہ خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے۔

امریکی صرف اس وقت اس مال کو واگزار کرتے ہیں، جب ان ممالک میں ان کی کٹھ پتلی حکومت آجائے یا کہیں بری طرح پھنس جائیں تو کام نکلوانے کے لیے احسان جتلاتے ہوئے ان رقوم کو جاری کیا جاتا ہے۔ چند ماہ تو جیسے تیسے بھی لوگ گزارا کر لیں گے، مگر جیسے جیسے وقت گزرے گا، یہ چیلنج بڑھتا جائے گا۔ اسی چیلنج کے ساتھ عوام کے اقتصادی مسائل کو ملا لیں تو معاملہ اور بھی سنگین ہو جائے گا، کیونکہ لوگوں کے کاروبار تباہ ہوچکے ہیں، کمپنیاں اور بالخصوص بین الاقوامی کمپنیاں بھاگ گئی ہیں۔ سوشل ڈویلپمنٹ میں جاری این جی اوز کے پروجیکٹس بند ہوگئے ہیں، اس سے بیروزگاری کا جن بے قابو ہوچکا ہے۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ لوگ کابل کی سڑکوں پر اپنے گھر کا سامان بیچنے پر مجبور ہیں۔ جنگ اور جنگ کے اثرات بہت بری چیز ہیں، اس میں گھروں کے سامان کے ساتھ گھروں کی عزتیں بھی فروخت ہو جاتی ہیں اور یہ المیہ ہر اس جگہ ہوتا ہے، جہاں افراتفری کا ماحول جنم لے لے۔

ایک بڑا چیلنج خود کو دنیا سے تسلیم کرانا ہے، ابھی تک دنیا کے کسی ملک نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہوئے او آئی سی کا ایک اہم اور بھرپور اجلاس اسلام آباد میں بلایا تھا، جس میں طالبان کا وفد بھی شریک ہوا، مگر اسے آفیشل سٹیٹس نہیں دیا گیا، اسی لیے وہ آخری یادگاری فوٹو میں نہیں تھے۔ اس اجلاس میں بہت غور و غوص کیا گیا، مگر طالبان کو جو چیز فوری چاہیئے، وہ نہیں مل سکی۔ ہاں ایمرجنسی ضرورت کی چیزوں کے کچھ وعدے وعید ہوئے۔ اس کانفرنس کے بعد بھی کسی ملک نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج خود اس نظام کی تشکیل بھی ہے، جس کے لیے وہ لڑتے رہے ہیں۔

ابھی تک ایسا بالکل بھی نہیں لگ رہا کہ انہوں نے کوئی تیاری کر رکھی ہو، بلکہ بچیوں کو تعلیم کی اجازت ہوگی یا نہیں ہوگی، اسی پر ہی کافی دن بحث چلتی رہی اور اب بھی چھوٹے چھوٹے مسائل جن سے حکمت کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے، انہیں میڈیا پر لا کر ایشو کھڑا کیا جا رہا ہے۔ خواتین کے لیے اگر وہ غالباً چالیس کلومیٹر سے دور کا سفر کر رہی ہیں تو محرم کی شرط لگا دی گئی ہے، یہ میڈیا پر انتہائی منفی انداز میں رپورٹ کی گئی۔ ممکن ہے کہ اس طرح کے اقدامات ان قوتوں کے دباو کا نتیجہ ہوں، جو ایک لمبی مدت اسلامی نظام کے لیے لڑتی رہی ہیں، مگر اس جیسے مسائل سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔ ابھی تو طالبان نے پورا ریاستی ڈھانچہ تبدیل کرنا اور یہ بالکل بھی آسان نہیں ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

طالبان کے لیے ایک بڑا چیلنج پاکستان کے ساتھ بارڈر کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان کے لیے بارڈر پر لگی باڑ بڑا حساس معاملہ ہے۔ طالبان فورسز بار بار اس باڑ کو اکھاڑ رہی ہیں اور اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہی ہیں، اس سے پاکستانی کی حکومت پر دباو بڑھ رہا ہے۔ اسی لیے وزیر خارجہ کو خود وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔اسی طرح ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ بھی ہیلی کاپٹرز کو لے کر تند و تیز بیانات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ احمد مسعود اور اسماعیل خان نے مزاحمتی فرنٹ بنا کر مزاحمت شروع کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے اسلامی جمہوری ایران نے طالبان اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے کے درمیان مذاکرات کا ماحول پیدا کیا ہے، اگر طالبان حکمت کا مظاہرہ کرکے انہیں شریک اقتدار کر لیں تو ان کے لیے بڑی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو طالبان کو بالخصوص شمال میں جنگی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply