جگر کی بڑھتی ہوئی بیماریاں۔۔ڈاکٹر محمد شافع صابر

میری کل میڈیسن وارڈ میں ڈیوٹی تھی، میل اور فی میل وارڈز میں، 95 % مریض جگر کی بیماریوں میں مبتلا تھے، کچھ DCLD, decompensated liver disease) کے بگڑنے کی وجہ سے hepatic encephalopathy میں تھے، زیادہ تر ascities (پیٹ میں پانی کا بھر جانا) میں مبتلا تھے، ایک خاص تعداد میں خون کی الٹیوں/ قے (UGIB/Hematemesis) جبکہ زیادہ تر پاخانے کے ساتھ خون (malena) کی شکایت کے ساتھ داخل تھے ۔ ایک سرکاری ہسپتال میں جگر کے مریضوں کی تعداد دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو چکے تھے.یہ وہ مریض ہیں، جو مرض بگڑنے کی صورت میں ہسپتالوں میں داخل ہیں، جو opd basis پر جگر کی بیماریوں کا علاج کروا رہے، وہ اس سے علیحدہ ہیں، اگر ان دونوں کو اکھٹا کیا جائے تو جو نمبر آئیں گے، وہ ناقابلِ یقین ہوں گے۔
کرونا، ڈینگی تو بس بدنام ہو چکے ہیں، صحیح جان لیوا اور silent killer تو یہ جگر کی بیماریاں ہیں۔جن پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ۔ ہیپاٹائٹس B&C کے سکریننگ ٹیسٹ عام نہ ہونے کی وجہ سے، جگر کی بیماریوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
کل دورانِ راؤنڈ، کم از کم 70% مریض ایسے تھے، جنکی تشخیص تب ہوئی جب مرض بہت حد تک پیچیدہ ہو چکا تھا، کچھ ایسے تھے، جنہیں پتا تھا کہ انہیں کالا یرقان (hep. c) ہو چکا ہے،لیکن انہوں نے اس کا کورس کرنے کی زحمت نہیں کی۔ جنہوں نے ہمت کر کے دوائیوں کا کورس کر لیا، انہوں نے کورس کے بعد pcr نہیں کیا، کہ پتا چلے کہ آیا جسم میں وائرس کس حد تک ہے، یا کورس کی وجہ سے اسکی گروتھ میں کس حد تک کمی آئی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا اگر وقت ہر علاج نا کیا جائے تو یہ دونوں جگر کا کینسر (hcc) کرتے ہیں، جس میں پچھلے کچھ سالوں سے شدید اضافہ ہوا ہے۔
جگر کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے سب سے اولین ٹیسٹ سکریننگ ٹیسٹ ہے، جو کہ ہر تین مہینے کے بعد ہونا چاہیے ۔جو کہ بدقسمتی سے نہیں ہو رہا۔ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے عوام کو آگاہی تو حاصل ہے، لیکن اس میں ابھی بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ، ہیپاٹائٹس B& C جس طریقے سے پھیلتا ہے، جان لیوا مرض ایڈز (AIDS) بھی تقریباً اسی طریقے سے پھیلتا ہے ۔ اگر سکریننگ ٹسٹ کو عام کیا جائے تو ہیپاٹائٹس کے ساتھ ساتھ جنسی بیماریوں (sexually transmitted diseases) کی بھی کافی حد تک تشخیص ہو سکتی ہے، اور یہ جو نتائج حاصل ہوں گے، وہ ہرگز حوصلہ افزا نہیں ہوں گے۔
جگر کی بیماریوں کے سامنے کیسے پل باندھا جائے، اس کے متعلق کسی کو کچھ پتا نہیں ۔ حکومت سرکاری ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کلینکس کے نام پر دوائی تو دے رہی، لیکن بیماری کو کیسے روکا جائے اس بابت مکمل خاموشی ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply