ہم تاریخِ پاکستان کے عہد ِمزاح میں جی رہے ہیں۔۔احمد سعد

جہاز جب پاکستان کی فضا میں داخل ہونے لگا تو عملے نے تمام مسافروں کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے چھپا ہوا ایک فارم پکڑا دیا کہ اسے بھر کر واپس کرو۔ پورے جہاز میں قلم کی تلاش میں کھلبلی مچ گئی۔ عملے کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہوتی بھی تو ایک انار سو بیمار کا معاملہ ہوتا۔ اس بندے کی حالت کا اندازہ کریں جسے نہ صرف اپنا بلکہ تین بچوں اور ایک بیوی کا فارم بھی بھرنا ہو۔ خیر کسی بچے کے سامان میں سے ایک پین برآمد ہوا اور فارم بھرنے کا مرحلہ شروع ہوا جبکہ دیگر مسافر للچائی ہوی نظروں سے پین کو اور رشک و حسد سے آپ کو دیکھنے لگے اور آپ ایک احساسِ  فتح مندی کے ساتھ اس طالبعلم کی طرح پرچہ حل کرنا شروع ہوگئے جسے سارے سوالوں کے جواب آتے ہیں اور باقی سب دل ہی دل میں اسے بُرا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں۔

فارم بھرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ ہماری حکومت جاننا چاہتی ہے کہ کہیں ہم کوئی قیمتی پتھر اور ڈالر وغیرہ جیسی خرافات لے کر تو اپنے ملک میں نہیں آ رہے۔ واقعی ایسی چیزیں ملک میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں ڈالرز کی کوئی کمی ہے کیا۔ یا پھر کوئی منشیات آتشبازی ہتھیار وغیرہ۔ ہم امن پسند لوگوں کے ملک میں ان چیزوں کا کیا کام بھلا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

خیر، جو سفر میں ہم سے بچ پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں۔ ایک اچھے شہری کی طرح پرس کھولا ڈالر والر گنے، ایک بچے کی جیب میں دو لیرا موجود تھے انہیں بھی گنا اور پہلا فارم ہمت کر کے اردو اور انگلش دونوں میں بھر دیا۔ اس کے بعد فیصلہ کیا کہ باقی صرف انگلش میں بھر دیتے ہیں۔ پانچوں فارم بھرنے کے بعد انہیں پلٹ کر دیکھا تو پیچھے بھی وہی فارم چھپا ہوا تھا۔ لیکن اب کھانا کھل رہا تھا اس لیے ایک سچے پاکستانی کی طرح سوچا کہ چھوڑو جی مرغی چاول پر کانسنٹریٹ کرو۔ کھانے کے بعد ادھر ادھر دیکھا تو پتہ چلا تمام مسافر قلم کی طرف سے مایوس ہوکر فارم کو ادھر ادھر نشستوں میں اڑس چکے تھے۔ ایک ہم ہی تھے جو حکومت پاکستان کی مدد کرنا چاہ رہے تھے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مزے کی  بات یہ کہ ایئرپورٹ پر کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ بھائی وہ فارم تو دے دو۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply