کورونا کے بعد کرپٹو کرنسی کی وبا کا زور

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران ڈیجیٹل کرنسی کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا، اس وقت کروڑوں انسان کرپٹو کرنسیوں کے لین دین میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جہاں لوگ کورونا سے گھر میں بند تھے وہیں کرپٹو کاروبار سے جڑ کر دن کا سکون اور رات کی نیند برباد کر رہے تھے، جو ان کی ذہنی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

julia rana solicitors london

ڈیجیٹل کرنسیوں کے کاروبار کے پلیٹ فارم ‘کرپٹو ڈاٹ کوم’ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسیوں کے کاروبارمیں 221 ملین انسان شامل ہیں۔

کرپٹو کرنسیاں کے انتہائی غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے شہریوں کو ذہنی بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کرپٹو میں کئی مہینوں میں کی گئی تجارت سے کمایا گیا منافع چند ہی منٹوں میں ضائع بھی ہو جاتا ہے۔

عالمی سطح پر اس لین دین میں اب لاکھوں افراد مصروف ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کے جنون میں مبتلا ہونے والوں کی ذہنی کیفیت کسی رولر کوسٹر جیسی ہو جاتی ہے۔

اسی لیے ماہرین نے اس جنون کو جوئے کی لت سے تشبیح دی ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں صحت کے کاسل کریگ نامی مرکز نے تو کرپٹو کرنسیوں کی لت کو جدید دور کی ایک وبا سے تعبیر کیا ہے۔

طبی ادارے کے مطابق اس ڈیجیٹل نشے میں مبتلا ہونے والے افراد زیادہ تر مرد حضرات ہیں۔ کیونکہ خواتین کو ایسی کرنسیوں کے کاروبار کا شوق کم ہوتا ہے۔

چین کے مرکزی بینک نے کرپٹو کرنسی میں لین دین پر پابندی عائد کر دی۔پیپلز بینک آف چائنا کی طرف سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی سے صارفین کے اثاثوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

چین کے مرکزی پیپلز بینک کے اعلان میں واضح کیا گیا کہ ملکی اقتصادی اور مالیاتی نظام میں انتشار کا باعث بننے والا کوئی بھی کاروبار یا عمل قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا اور ایسی تمام سرگرمیاں یقینی اور فوری طور پر خلاف قانون قرار دی جاتی ہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply