سرسید، اسلامی یونیورسٹی اور جناب اظہارالحق۔ہارون الرشید

سرسید احمد خان اگر زندہ ہوتے تو رواں برس دو سو سال کے ہو جاتے۔ بڑے لوگ دنیا سے گزر بھی جائیں تو اپنے افکار اور نظریات کی بدولت تادیر زندہ رہتے ہیں۔ یہی معاملہ سرسید کا بھی ہے کہ اُن کے محاسن کا تذکرہ ہو یا اُن کے نظریات پر تنقید کا، اہلِ علم کی مجالس کا وہ بھی موضوع رہتے ہیں۔  17 اکتوبر کو سرسید کا دو سو سالہ یومِ پیدائش تھا اور اِس سلسلے میں مختلف جامعات کے علاوہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بھی دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ محترم خورشید ندیم اور جناب اظہارالحق نے اپنے اپنے انداز میں اس سیمینار کا اپنے کالموں میں ذکر کیا۔ اسلامی یونیورسٹی چونکہ میری بھی مادرِعلمی رہی ہے لہٰذا مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اِس حوالے سے کچھ کہنا چاہیے۔

اظہارالحق صاحب کے کالموں کا میں مستقل قاری ہوں۔ اُن کی اردو نثر میں دریا کی سی روانی ہے۔  قومی سطح کے کالم نگاروں میں  اتنی خوبصورت اور شستہ اردو اُن کے علاوہ شایدصرف ہارون الرشید صاحب کے کالموں میں ہی ملتی ہے۔ اظہار صاحب کی تحریر میں اتنی طاقت ہے کہ پڑھنے والا اپنی پوری محویت کے ساتھ  اس کی گرفت میں رہتا ہے لیکن وہ جو اقبال نے کہا تھا کہ

؂     ‘خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلہ بھی سن لے’

تو آج اظہار صاحب کی خدمت میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں حالانکہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ‘میں کہاں، وہ کہاں’ لیکن معاملہ چونکہ میری مادرِ علمی کا ہے لہٰذا خود کو مجبور پاتا ہوں۔

اظہار صاحب نے اِس حوالے سے دو کالم تحریر کیے، ایک کا عنوان تھا “میں اور کتاب فروش” اور دوسرا “دوقومی نظریے پر کلیدی خطبہ گاندھی جی دیں گے”۔    پہلے اصل بات کی طرف آتے ہیں جو سرسید احمد خان کو یاد کرنے کے لیے منعقد کیے گئے سیمینار کے حوالے سے ہے۔ اظہار صاحب کو اعتراض یہ ہوا کہ کلیدی خطبہ محترم احمد جاوید صاحب نے کیوں دیا اور جامعہ نے ڈاکٹر مہدی حسن یا پرویز ہود بھائی یا پروفیسر فتح محمد ملک کو کیوں نہیں بلایا ؟

تو اظہار صاحب یقیناً زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ احمد جاوید صاحب کوئی روایتی مولوی نہیں ہیں، یقیناً وہ ایک مذہبی فکر کے نمائندہ ہیں لیکن کٹھ ملائیت ہرگز اُن کی طبیعت کا حصہ نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ ہم تو خورشید ندیم صاحب کی طرح شکر ادا کر رہے تھے کہ اسلامی یونیورسٹی میں سرسید کو یاد کیا جا رہا ہے جو بجائے خود ایک بڑی حوصلہ افزا بات ہے، آغاز تو ہو گیا ہے جب یہ سلسلہ آگے بڑھے گا تو یقیناً مختلف الخیال لوگوں کو بھی مدعو کیا جانے لگے گا، معاملات تدریجاً ہی آگے بڑھیں تو ٹھیک رہتے ہیں ورنہ قدم اٹھانے سے پہلے ہی چھلانگ لگا دی جائے تو نتائج منفی آتے ہیں۔

حالانکہ اس سیمینار میں بھی  ڈاکٹر جعفر احمد اور ڈاکٹر نعمان الحق بھی مدعو تھے جو میرے خیال کے مطابق  رویتی اسلامی فکر کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اظہار صاحب نے یہ بھی لکھا کہ خورشید ندیم  امیدیں قائم کرنے میں ضرورت سے زیادہ فیاض ہیں لیکن دوسری جانب اگر بے جا تنقید کی جائے تو پھر ڈاکٹر مشتاق صاحب کا ایسا تبصرہ بھی سننا پڑتا ہے کہ سرسید پر احمد جاوید صاحب کے خطبے نے بہت لطف دیا لیکن جب اظہار صاحب کا کالم پڑھا تو اُس خطبے کا لطف دوبالا ہو گیا۔

میں اسلامی یونیورسٹی میں پڑھا ہوں۔ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کو بہت اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہوں۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کے حالات مختلف حوالوں سے بہت شاندار ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ یونیورسٹی کے حالات مختلف حوالوں سے شدید ابتر ہیں۔ سوائے شاندار انفراسٹرکچر کے ،یونیورسٹی کی شاید کوئی بھی کل سیدھی نہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس کے حوالے سے احساس سرے سے پایا ہی نہیں جاتا۔ ابھی چند دن پہلے ہی اپنے استاد گرامی ڈاکٹر مشتاق صاحب جو وقتاً فوقتاً مکالمہ اور دلیل کے لیے لکھتے بھی رہتے ہیں، اُن کے پاس بیٹھے تھے  تو اِن تمام حوالوں سے تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ ہم نے اپنے کنسرنز ڈاکٹر مشتاق صاحب کے ساتھ شیئر کیے تو اُن کو بھی اتنا ہی مظطرب پایا لیکن اُنہوں نے بہتری کےلیے اٹھائے گئے کئی اقدامات کا ذکر کیا جو اللہ کرے کہ جلد بہتر نتائج دیں اور یونیورسٹی اپنی نیک نامی اور رینکنگ دونوں میں کچھ اضافہ کر پائے۔

ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شریعہ اور اصول الدین فیکلٹیز جن کی پوری جامعہ پر گہری چھاپ ہے اور جو اس یونیورسٹی کی بنیادی پہچان ہیں، وہ ایک جدید یونیورسٹی کے خدوخال پر استوار ہونے کی بجائے روایتی مدارس کی طرز پر  چل نکلی ہیں لیکن یہ کہنا کہ  ‘کئی دارالعلوم اکٹھے کیے  جائیں تو  تنگ نظری  اور مخصوص مذہبی تعبیرات میں اس “یونیورسٹی” کی گرد کو نہ پہنچ سکیں’ یہ بھی زیادتی ہے کیونکہ میں ذاتی طور پر ایسے بے شمار سٹوڈنٹس کو جانتا ہوں کہ جو مخالف نظریات کو برداشت تک نہیں کرتے تھے لیکن چار پانچ سال اس یونیورسٹی میں پڑھنے کے بعد اُن میں اتنی تبدیلی ضرور آئی کہ اُن کے اندر مخالف نظریے کی بات سننے کا حوصلہ کسی حد تک پیدا ہو گیا، یہ بھی بجائے خود ایک کامیابی ہے۔

اب دوسرے نکتے پر بھی بات کر لیتے ہیں۔ اسلامی یونیورسٹی میں میل اور فی میل کیمپس الگ الگ ہیں، لہٰذا تمام ہی ڈیپارٹمنٹس چاہے وہ شعبہ قانون ہو یا اصول الدین، فیکلٹی آف منیجمیٹ سائنسز ہو یا فیکلٹی آف انجینئرنگ  یا پھر لینگوئچز اینڈ لٹریچر، ان سب میں فی میل ڈپارٹمنٹس الگ ہیں اور میل ڈپارٹمنٹس الگ۔ اب اگر کوئی پروگرام فی میل ڈپارٹمنٹ میں ہوتا ہے یا فی میل ڈپارٹمنٹ اس کی میزبانی کرتا ہے اور اسی طرح میل بھی تو دعوت ناموں پر لکھا جاتا ہے کہ فلاں ڈپرٹمنٹ (میل) یا (فی میل) تو اس پر اگر یہ کہنا شروع کر دیا جائے کہ جی مجھے ایم ایس انجنئرنگ کے لیے وہ کتابیں چاہییں جو خواتین کے لیے ہیں اور پھر وہ چاہییں جو مرد حضرات کے لیے ہیں اور پھر کھول کر دیکھیں تو وہ ایک سی  ہی  نکلیں تو یہ بات نہ صرف مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے بلکہ کج بحثی بھی لگتی ہے۔

ازراہِ تفنن ایک مثال دے رہا ہوں کہ پبلک مقامات، کالجز، یونیورسٹیز، ہوٹلز ہر جگہ میل اور فی میل باتھ رومز ساتھ ساتھ لیکن الگ الگ ہوتے ہیں، اُس پر تو کبھی کسی نے ایسا اعتراض نہیں اٹھایا کہ دروازہ کھولیں تو اندر سے تو ایک ہی جیسا نکلتا ہے۔ میرے خیال میں اظہارالحق صاحب جیسی قدوقامت کے مالک ایک صاحبِ طرز ادیب اور شاعر اور پوری زندگی ایک ایماندار بیوروکریٹ کی حیثیت سے جانے اور مانے جانے والے سنجیدہ شخصیت کو  ایسی کج بحثی  ہر گز زیب نہیں دیتی۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے اور اظہار الحق صاحب کے کالموں کو پڑھنے کے بعد اور اُن کی زبان وبیان کا شدید قائل ہونے کے باوجود میرا یہ تاثر ہے کہ روایتی مذہبی حلقے  پر تنقید کرنا جو ایک فیشن سا بن گیا ہے اور  اظہار صاحب بھی اکثر اُس فیشن کی رو میں بہہ جاتے ہیں حالانکہ وہ خود کوئی سیکولر اور لبرل خیالات کے آدمی نہیں ہیں ۔ میں خود بھی اور ہر ذی شعور آدمی روایتی مذہبی حلقے کا ناقد ہی ہے لیکن اس نقد میں توازن ضرور برقرار رہنا چاہیے اور روایات سے ہٹ کر ہونے والے اقدامات جو ہماری امیدوں پر پورا نہ بھی اترتے ہوں ، اُن پر بیک جنبشِ قلم تنقید سے گریز کرتے ہوئے امید کو قائم ضرور رکھنا چاہیے جیسا کہ جناب خورشید ندیم نے قائم رکھا، انہوں نے اسلامی یونیورسٹی میں اِس سیمینار کو سراہا بھی اور وہاں  سرسید کے حوالے سے اُن کی اپنی رائے سے مختلف رائے کے اظہار پر اپنا اضطراب بھٰی ظاہر کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ یونیورسٹی کے روایتی ڈھانچے پر بھی کچھ تنقید کر دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بے جا تنقید بڑھا اور اٹھا ہوا قدم پیچھے تو دھکیل سکتی ہے لیکن اسے مزید آگے بڑھنے میں بالکل مدد نہیں کر سکتی۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سرسید، اسلامی یونیورسٹی اور جناب اظہارالحق۔ہارون الرشید

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *