تصور انسان کیا ہے-منصور ندیم

فطرت کا مطلب وہ جوہر ہے، جو انسان کو اس لئے ودیعت کیا گیا کہ انسان کائنات میں اللہ کی فعال نشانیاں اور حرکی مظہر بن کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
انسان کے وجود کی تعریف میں فطرت ہی وہ امر ہے جو انسان کے تمام نقائص پر کمال کو غالب رکھتا ہے۔انفس (Micro Cause ) اور آفاق (Macro Cause ), یعنی اندر کی دنیا اور باہر کے جہان میں جتنی بھی حق کی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے جامع یا مکمل نشانی انسان ہے۔ فطرت وہ بنیادی مادہ ہے جس کی حرکیات ( Activate ) سے انسانی شعور پیدا ہوتا ہے۔ اور انسانی وجود اپنے مقصد تخلیق کے ساتھ ہم آہنگی رکھنے کے لائق ہو جاتا ہے۔ انسانی وجود ان دو قطبین کے باہمی توازن سے پیدا ہونے والی دنیا ہے۔
1- وجود (یعنی انسانی وجود)
2- شعور (یعنی انسانی شعور)

دونوں قطبین میں سے ایک اس کی حقیقت ہے اور دوسرا اس کی غائت یعنی اس کا مقصد ہے۔فطرت انسان کے وجود یعنی حقیقت اور مقصود دونوں کو اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہے۔ فطرت جب فعال  ہو  کر  اپنے عمل میں آتی ہے یعنی نفس کی مربی بنتی ہے تو انسان اپنی وجودی قوت سے اپنے غائت (مقصد) کو حاصل کرنے کے قابل یا اپنی منزل تک رسائی ممکن کرتا ہے ۔ اور اپنے شعور کی طاقت سے اپنی حقیقت سے جڑا رہنا Afford کرسکتا ہے ۔یعنی فطرت وہ امر ہے جو انسان کو ایک ہی لمحہ وجود میں اس کی حقیقت سے بھی جڑا ہوا رکھتی ہے اور اس کے مقصود کی طرف بھی اس کو حرکیاتی سطح پر یکسو رکھتی ہے۔جب انسان کی فطرت ان معنوں میں بیدار ہو جائے  کہ وہ اپنی حقیقت کے ساتھ بھی جڑا ہو اور اپنی منزل کی طرف بھی درکار طاقت کے ساتھ چل رہا ہو تو ایسے انسان کی Self Realisation کو ہی ” تصور انسان” کہا جاتا ہے۔

اب تصور انسان کی دو perspective ہیں۔
1- عقیدے کے ماننے والے Believes
2- عقیدے کو کسی بھی شکل کو نہ ماننے والے Non Belivers

عقیدہ رکھنے والے   Believers :

عقیدے پر یقین رکھنے والا انسانی اپنی حقیقت کو بندگی سے منسوب کرتا ہے، یعنی انسان بندگی کے جوہر پر پیدا ہوا ہے اور اس کا مقصد و غائیت آخرت کی کامیابی ہے ، یعنی جس قلب میں اپنی حقیقت اور منزل دونوں کا شعور پیدا ہو جائے عقائد کے ماننے والوں میں وہ بائینڈنگ تصور انسان ہے ۔

عقیدے کو نہ ماننے والے   Non Believers :

ان کا ماننا ہے کہ انسان کو شے (Matter ) سے ہی وجود ہے، شے سے ہی شعور ہے اور دونوں کو ہی ضم ہو جانا ہے۔ جو اشیاء کی بنیاد پر تصور انسانی پر یقین رکھے گا تو یقیناً  اس کا تصور انسانی اعتقادی تصور انسان والوں کے مقابلے میں مختلف ہوگی۔چونکہ یہاں روایتی تصور ِ انسان کی بات کی جارہی ہے جو دونوں ہی School  of   Thoughts کے لئے قابل قبول ہو وہ یہ کہ روایتی تصور انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچان کر اپنے آپ کو Define کرتا ہے۔

شعور اپنی آئیڈیل ہئیت میں حقیقت کی معرفت کا نام ہے اور عرفان حقیقت شعور ہے اور احوال حقیقت کو جینے کا نام وجود ہے ۔ حقیقت اگر انسان کا حال ہے تو وہ اپنی Definition   کے مطابق موجود ہے اور اگر حقیقت انسان کا عرفان ہے تو وہ اپنی Definition کے مطابق اپنی منزل کی طرف ایک تیز روشنی میں گامزن ہونے کا موقع رکھتا ہے ۔
یعنی شعور Self   Realization ہے اور وجود Realize   Situations کو  Actualize  کرنے کا نام ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *