افغانستان فیصلہ کن مرحلے میں۔۔نذر حافی

عید ِقربان کی خوشیاں کافور ہوگئیں، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوسکا۔ دوحہ مذاکرات کا نتیجہ صرف یہی ہے کہ یہ مذاکرات جاری رہنے چاہیئے۔ ان حالات سے جہاں افغانی عوام متاثر ہو رہے ہیں، وہیں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ بدامنی کے باعث صوبہ تخار میں بارہ ہزار خاندان بے گھر ہوچکے ہیں، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوری سے اب تک دو لاکھ ستر ہزار افغانیوں نے نقل مکانی کی ہے، جس کے بعد بے گھر افراد کی تعداد پینتیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ برادر اسلامی ملک اور امت مسلمہ یہ سب اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید سچائی ہے کہ افغان مہاجرین اپنے ہمراہ منشیات، کلاشنکوف، مخصوص متشدد کلچر، شدت پسندی، پسماندگی، انتقامی جذبات اور بے روزگاری سمیت ان گنت مسائل لے کر ہی ہجرت کرتے ہیں۔ افغان مہاجرین کی آمد و رفت کے باعث سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے، چونکہ پاکستانی بارڈر پر ڈیٹا ٹیکنالوجی کے عدمِ استعمال اور کرپشن کے باعث بارڈر عبور کرنا بہت آسان ہے۔

غیرقانونی افغان مہاجرین ہوں یا طالبان، یہ پاکستان کی سلامتی کیلئے چیلنج ہیں۔ یہ لوگ اپنی کارروائیاں انجام دینے میں کسی قسم کی اخلاقی یا قانونی حدود و قیود کی پاسداری نہیں کرتے۔ چند دن پہلے افغانستان کے صوبہ فاریارب میں ہونے والا سانحہ اس کی واضح دلیل ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ فاریارب کے علاقے دولت آباد میں طالبان نے افغان کمانڈوز کو ہتھیار زمین پر رکھ کر سرنڈر کرنے کا کہا، سرنڈر کرتے ہی طالبان نے اندھا دھند فائرنگ کرکے بائیس افغان کمانڈوز کو ہلاک کر دیا۔ ویڈیو میں افغان شہری، طالبان کو یہ کہہ رہا ہے کہ تم لوگ کیسے افغان ہو، جو اپنے ہی لوگوں کو مارتے ہو۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ اس بھاگ دوڑ میں افغان حکومت سے بھی ہم آہنگی نہیں کی جا رہی۔ بیس سال کے بعد امریکہ نے بگرام ائیربیس خالی کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک چھ فوجی تنصیبات خالی کی گئی ہیں، آئندہ ہفتوں میں مزید فوجی اڈے خالی کئے جائیں گے۔

tripako tours pakistan

بھاگتی ہوئی فوجیں اپنے بھاری اور جدید ہتھیار وہیں چھوڑے جا رہی ہیں۔ چونکہ بھاگنے والے جانتے ہیں کہ یہ ہتھیار اب کس کے ہاتھ لگیں گے۔ یوں اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ افغانستان کو طالبان کے حوالے کر رہا ہے تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں، چونکہ طالبان ہیں ہی امریکی پیداوار اور امریکی منافع کے محافظ۔ تاہم امریکی و استعماری مفادات کا تحفظ کرنے میں اشرف غنی کی حکومت بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ یعنی استعماری مفادات کا تحفظ کرنے میں طالبان اور افغان حکومت میں کوئی فرق نہیں۔ اگر فرق ہے تو یہ ہے کہ اس وقت طالبان ماضی کی نسبت کافی پیچیدہ ہوچکے ہیں۔ خصوصاً نائن الیون کے بعد ہندوستان سمیت متعدد ممالک نے طالبان سے اپنے روابط قائم اور مستحکم کئے ہیں اور طالبان پر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ اگرچہ اس وقت افغانستان میں طالبان کو امریکہ سمیت متعدد ممالک سپورٹ کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی طالبان کو مستقل حکومت دینے کا متحمل نہیں ہے۔ سب طالبان کو اپنے اپنے مقاصد کیلئے زندہ، فعال اور متحرک رکھنا چاہتے ہیں۔

چنانچہ خدشہ ہے کہ جیسے ہی مختلف ممالک کے مفادات کا ٹکراو ہوگا، طالبان کا آپس میں اور افغان حکومت کے ساتھ بھی ٹکراو شروع ہو جائے گا۔ ایسے میں آگ اور خون کا دریا عبور کرکے اگر طالبان اقتدار پر قابض ہو بھی جائیں تو ان کی حکومت انتہائی غیر مستحکم، مفلوک الحال اور عقب ماندہ ہوگی۔ اس عدمِ استحکام اور عقب ماندگی کی ایک اہم وجہ طالبان کے پاس حکومت کے قیام کیلئے کسی واضح نقشے کا نہ ہونا بھی ہے۔ وہ جس امارتِ اسلامیہ کی بات کرتے ہیں، اس پر ان کا باہمی اتفاق بھی نہیں اور مشترکہ کسی امیر کے چناو پر بھی آسانی سے متفق ہونا اُن کیلئے آسان نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ امر تکلیف دہ ہے کہ امارت کے حصول کیلئے طالبان کا ہر مسلح گروہ خون خرابے کو جائز سمجھتا ہے۔ طالبان اس وقت تک افغانیوں کے سامنے تین آپشن پیش کر رہے ہیں۔ ہماری بیعت کرو، یا ہماری رعیت بنو اور یا پھر ہماری معیت میں ہمارے ساتھ ساتھ چلو۔ اس سے آگے اُن کے پاس کوئی پریکٹیکل تھیوری اور مشترکہ لائحہ عمل نہیں ہے۔ طالبان کی یہ گومگو اور تذبذب کی کیفیت ساری اسلام دشمن طاقتوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ایسی ساری طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ افغانستان میں اقتدار طالبان کے ہی حوالے کیا جائے اور بذریعہ طالبان اسلام کو خوب بدنام کیا جائے۔

اب یہاں پر اوریا مقبول جان جیسے ان لوگوں کا بھی ذکر ضروری ہے کہ جو افغانستان میں تو امارتِ اسلامیہ کی بات کرتے ہیں، جبکہ اپنے ملک میں جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں۔ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ اگر تمہیں امارتِ اسلامیہ سے اتنا ہی عشق ہے تو ہمسائے کے گھر میں کیوں۔۔۔؟ اپنے ملک میں کیوں امارتِ اسلامیہ کا نعرہ نہیں لگاتے؟ دوسری طرف حالیہ چند مہینوں میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے کئی سیشنز مختلف ممالک میں منعقد ہوئے ہیں۔ راقم الحروف کے مطابق اس وقت فریقین کیلئے چند نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
1۔ فریقین کو حکومت سے بڑھ کر وطن کو استعماری طاقتوں سے واپس لینے کیلئے بھرپور لچک دکھانی چاہیئے۔
2۔ خانہ جنگی اور عدمِ استحکام سے بچنے کیلئے اقتدار میں سب کو حصہ بقدرِ جثہ دیا جانا چاہیئے۔
3۔ سپر طاقتوں کے مفادات کی چار دہائیوں پر محیط جنگوں سے جان چھڑوا کر مستقبل کے چیلنجز کو دیکھنا چاہیئے۔

Advertisements
merkit.pk

4۔ فریقین اپنے ماضی کے خائن دوستوں پر اعتماد کرنے کے بجائے نئے دوستوں کو تلاش کریں اور خصوصاً مقاومتی بلاک کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔
5 ۔ ایران میں آیت اللہ ابراہیم رئیسی کی نئی حکومت اپنی پالیسیوں کے لحاظ سے استعمار اور امریکہ کے حوالے سے انتہائی سخت گیر موقف کی حامل ہے۔ لہذا فریقین کو اپنے وطن کی آزادی کیلئے اس حکومت کی نظریاتی ظرفیت اور سیاسی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔
آخر میں ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت افغانستان ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ امریکہ افغانستان سے بھاگ نہیں رہا بلکہ افغانستان کو طالبان کے حوالے کرکے افغانیوں کی بربادی اور اسلام کی بدنامی کا نیا دور شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ افغانستان کے سارے متحارب دھڑے اپنے وطن کی سلامتی اور خود مختاری کیلئے ایک دوسرے کو تسلیم کریں۔ شاید یہ وقت دوبارہ ہاتھ آنے میں پھر کئی صدیاں لگیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply