• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • علامہ ضیاء حسین ضیائی کا تحریر کردہ دیباچہ/عبقریت نژاد۔۔ ڈاکٹرستیہ پال آنند

علامہ ضیاء حسین ضیائی کا تحریر کردہ دیباچہ/عبقریت نژاد۔۔ ڈاکٹرستیہ پال آنند

علم وعرفان کے سیال لب ولہجوں نے فنونِ لطیفہ کی پیدائش میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔۔ فنون ِ لطیفہ کے ذیل میں جذبات ، تخیلات اور معقولات نے جب زبان و بیان کی پوشاک پہنی تو تسطیری کائنات نے جنم لیا ۔۔۔ کہانی اورشاعری نے مختلف اَلوان و اَشکال میں انسان اور کائنات کی ترجمانی کا آسودہ طریقہ ڈھونڈا ۔۔۔ انسان اپنے عقائد اور منصوص متون کے علاوہ بھی کوئی ایسا تعبیر نامہ ٔ حیات چاہتا تھا جو منصوص نہ ہو کر بھی سچائی اور صداقت سے خالی نہ ہو اور جذباتی امکانات کو توسیع و تمکن دینے سے ایسی تاریخ بنائی جاسکے جو بشری صداقتوں کی تاریخ ہو اور اسکی بنیاد اور اساس پر تہذیب ، تمدن و ثقافت ، تاریخ اوربرپا و ماجراہونے والی کائنات سے مکالمہ ہو سکے ۔اور رسم ِ نافع کے طور پر اس کا اِندراج بھی ممکن ہو ۔۔مدون و مدّور اصطلاحی اور تشریحی فشار و استخراج کے بعد یہ سار دفترِ محنت مرقع ء  ادب سے موسوم ہوگیا۔
دو شکلوں میں اس کی پذیرائی اور جمع وتدوین کا اہتمام کیا گیا ۔۔۔ ایک شاعری اور دوسرا نثری ادب ۔ یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا یہ بات ہمارے موضوع سے خارج ہے ۔

تاریخ ِادبیات میں نامور ، فحول اور جید ادباء  وشعرا ومحققین و ناقدین کا ظہور و شہود ہوتا رہتا ہے۔۔۔مجمع ء  بشری میں عنایت ِ فکر و نظر اور جذبہ و خیال کی تقسیم و ترسیل و تخلیق کے لئے بے شمار قافلہ سالاروں کا گزر ہوتا رہا ہے ۔۔۔ اور اب یہ بات اَتم ّ حقیقت ہے کہ ادب کی قدر یا نہضت ِ حیات اضافی اور ارزانی کاوش نہیں بلکہ یہ حیات پناہ ، ہمت گیر اور بشر دوستی کا وسیع رویہ ہے ۔
اردو ادب میں بھی نو بہ نو شعرا ء و اُدبا ء  نے مجالات ِ فکرو نظر اور غرہ عالم ِ امکان کی بنا ڈھونڈنے اور اپنے جذبات کی تحکیم و تصدیر کے لئے موثر ایجادات کیں اور جذباتی تحریکوں کا آغاز وایقاع کیا گیا ۔۔۔ بشری استعداد کی جذباتی صداقتوں کے سرشاری ابلاغ کے لیئے نت نو بہ نو شہکار تلاش کئے گئے ۔کچھ جذباتی شارحین نے انسانیت کے لیئے بالعموم اور حرف ومعنی کی تاریخ نویسی اور دل کاری کے لئے اَرفع خدمات سر انجام دیں جس کی وجہ سے اُردو اَدبیات کا تمول حجم میں کم سہی لیکن متن کی وسعت اور تمکین میں کسی سے کم نہیں ۔
یوں فکشنائز سچائیاں غزل نظم افسانہ ناول تنقید اور دیگر متعلقہ شعبوں میں بکھری پڑی ہیں

tripako tours pakistan

ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔۔ ایک بڑا نظم نگار
یہ جملہ حقیقت کی پوری جہتوں کا تعاقب نہیں کرتا ۔
ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔۔ ایک بڑا دانش ور ۔
یہ جملہ جامع المعانی ہو کر بھی پورا نہیں پڑتا اور میری لسانی اور علمی حسیات کی مربوط تسکین نہیں کرتا جیسے ایک اچھے شعر کا مفہوم کبھی کبھی دو مصروں کے درمیان نہیں بلکہ ان کے باہر دَم کش ہوتا ہے اسی طرح ستیہ پال آنند صاحب رسمی القاب واصطلاحات ِ منعقدہ سے باہر کھڑے مسکراتے ملتے ہیں ۔
جو لوگ شرابوں میں شرابوں کو ملانے کا ہنر جانتے ہیں ان کے ہاں ان کی شخصیت اور فن کا طلوع مختلف سا ہو جاتا ہے ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند کو دانشور ، شاعر، افسانہ نگار، ناول نویس اور نقاد۔۔۔از بس انہیں اردو ادب کا قابل ترین استاد کہنے کے باوجود بہت کچھ ایسا بچ جاتا ہے جو ان کی شخصیت کی کفالت اور کفایت ِ متمم نہیں کرتا یہ ان کی شخصیت کاجمال ہے جس کی کرنیں رائج القاب میں نہیں سما پاتیں۔۔۔ سو انہیں حسی ، عکمی اور وجدانی رسوخ میں ڈھالنے کے لئے انہیں تلاش کرنے کے لیے یا حظ اٹھانے کے لیئے بہت سی حسیات کے نئے عنوانات سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ آنند صاحب کی شخصیت اور خدمات کے تارو پود اور کم وکیف تک رسائی ہو سکے اور ناطقہ سربگریبان ہونے کی بجائے افزودہ تلطف کی طرف چل پڑے اور ادب ِنافع اور ادیب مرتفع کے کمالات و اکتشافات مخفی نہ رہ جائیں

مذکورہ رائے کی تائید میں یہ وضاحت محل نظر رہے کہ جن احباب نے ستیہ پال آنند کو پڑھا ہے ان کی نظموں کے کوہ قاف کی سیر کی ہے ان کی تسطیری اَسانید کا مطالعہ کیا ہے،ان کے تنقیدی اور تشریحی شذرات کو پڑھا ہے ۔۔۔ بین المتونیت ان کی ماہرانہ جست کاری کو جانچا ہے ، ان کی کتابوں کا جائزہ لیا ہے وہی جانتے ہیں کہ کہ وہ لفظ ومعنی کے تول میں کتنے سخت ایمان دار اور معنی کے دستر خون کے کتنے جواد اور سخی میزبان ہیں ۔

ستیہ پال آنند
نظم نگاری کے ہمالیہ نشیں ہیں ان کادَم نظمیہ فکری پخت وپز میں اتنا سچا ، پکا اور جید ہے کہ حیرانی پلٹ پلٹ دیکھتی ہے ۔ ۔آنند صاحب کا وسیع مطالعہ اور مختلف مسالک پر ان کے محققانہ مقارنہ و موازنہ کا زورِ بازو احباب پر شمہ برابر مخفی نہیں ۔۔ ان کی کھوج میں ان کی یافت اور نایافت کے نشانات شعری دستاویزات کے دفتر کے دفتر مدوّن کئے جا رہے ہیں ۔ دانشگیری ایسی محکم کہ شعر ودب کے افق پر آسمان سے اترا کوئی مہان دیوتا نظر آتے ہیں ۔ ان کے ہاں اپنے ماحضر سے معاملہ کرنے اور اپنے مابعد کو سوجھنے اور مابقیٰ کو بسر کرنے کی ایسی صلاحیت موجود ہے کہ ان کا کردار مقلد کی بجائے بجا طور پر مجتہدانہ نظر آتا ہے ۔

راقم الحروف نے ان سے صرف احوال ِ ذاتی اور لوح ِ ابجد کے رسمی حروف نہیں پوچھے بلکہ صحت مند علمی مکالمہ کیا ہے ۔فکری ونظری مناقشہ درست کیا ہے ، سوالوں کی شعوری لا شعوری شوخی اور متانت سے میں نے انہیں پریشان کرنے کی کوشش کی ہے ، تفصیل وار مصاحبہ کیا ہے میری کوشش رہی ہے کہ میں علم وعرفان اور شعر وادب کے جزیرے سے کچھ ایسی خبریں لاؤں جو مختلف ، منفرد اور مفید تر ایسی ہوں کہ ایک ادب کے طالب علم سے لے کر ادب کے ایک استاد تک کو کوئی نہ کوئی نکتہ ، حرف ِ مکشوفہ ملتا رہے۔۔۔۔ جبیں پر تردّد کے آثار بھی آتے رہیں اور خندۂ زیر لبی بھی چلتی رہے اس طویل گفتگو میں جس بات نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیاوہ آنند صاحب کا اپنے ادبی اور فکری عقائد پر قرار وتمکن تھا ۔دلیل اور حوالہ اور نقد کتاب ہمیشہ ان کی بغل میں دبی نظر آئی۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند انشائی و تخلیقی معیارات میں ’’ محض‘‘ کی بجائے مطلق اور مقید رائے رکھتے ہیں جو اس بات کی مصدقہ خبر ہے کہ ادب کا اندرون ِشہر اور مضافات کا جغرافیہ ان کا دیکھا بھالا ہے۔

صاحبان ِ فکر ونظر اس بات کی گواہی دیں گے ایسی شہودی اور حقی رضایت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی امکانات کی فصیل کے پار جا اترتا ہے اور تعینات کو ان کی ممکنہ تعبیروں کے ساتھ ملا کر دیکھ چکا ہوتا ہے ۔علت جاننا اور چیز ہے اور اس کی افادیت جاننا اور چیز ہے ایسا ہی ہے میرا اور آپ سب کا ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ایک عالمی سطح کا ستاد جس نے ادب کے مینارے اور کنگارے ٹھیک سے دیکھے بھالے ہوں ۔ ادب کی خوشہ چینی کرتے ہوئے ان کا رطب ویابس دیکھا بھالا ہو ،دیگر زبانوں کے نظمیہ محمودات کو اردو نظم میں لانے کی کوشش کی ہو ۔وہ اپنے مقصد اور اپنی وجدانی رَسد میں واضح ہوتا ہے ۔ اردو ادب میں ان کی نظر میں جو راکد ،متوقف اور متحجر ِ معنی ہو گیا ہو، اس کے ترک کرنے میں انہیں ذرا برابر تعویق کرنی گوارہ نہیں تو ایسے بڑے آدمی کو رسمی خراج ِ تحسین پیش کر کے اس کی شہرت میں آپ کیا اضافہ کر سکتے ہیں ؟ جب دھول آسمانی بادلوں کی طرح بلند ہوگئی ہو تو اپنے پاوں کیا جھاڑنا گلاب کی گود میں بیٹھ کر عطر کی آمد ورفت پر کیا گفتگو کرنا ۔ مجھے علم اور شعر وادب کے آداب میں نقد سودا بیچنے کا بہت شوق ہے
میرے سوال کے ہر آوازے پر مجھے جواب کا نیا خریدار ملا ۔

کیا سودا بیچا ہے میں نے ۔۔۔ یہ کھاتہ  آپ کی خدمت میں پیش کرہا ہوں کہ کہیں میں خود ستائی کے باب ِ تقلید میں تو نہیں چلا گیا ۔
قارئین ِ گرامی قدر !
یہ مفصل اور مطول انٹرویوتو آپ کا محضر ِ چشم ہے ،مجھے اس کے سوالوں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ۔میں نے معلوم مشہورہ متداولہ پر سوال نہیں داغے ،میں نے پرانے پارچوں کی دوبارہ سلائی کرنے کی کوشش نہیں کی ۔میں نے غیر نامیاتی معارف کو بطور معلومات جمع کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا ۔

یہ عجیب گفتگو ہے ۔ میں نے آسمانی خدا کی زمینی استعداد پر سوال کرکے آنند صاحب کو چڑانے کی کوشش کی اور اور زمینی بشر کی آسمانی خدائی کے ممکنہ اہداف کا پتا چلانے کی بھی کوشش کی کرارے جواب ملے ، فکر انگیز بیانات ملے ۔میں نے تو ادب کے خدا کے بشری کردار اور جذباتی و منطقی کردار پر ڈاکٹر صاحب سے دو بدو شمشیر زنی کی کئی جگہوں پر شمشیر کے پرتلوں کے علاوہ ان کے قبضے بھی نظر آئیں گے ۔ میں سوال کی طاقت اور جواب کی استعداد کے کھلے باب تجویز کرنے پر تلا ہوا تھا ۔سو میں نے ادب کو کائنات مان کر اور قاری کو انسان جان کر جدل احسن کے طریق پر بات کی ہے ۔ساری گفتگو کی فضا علمی ، استدلالی ،استنباطی اور تاریخی حوالوں سے بھری پڑی ہے ۔
بلا کا زور آور متکلم ہے ستیہ پال آنند
میں نے انہیں اس گفتگو میں تعقلات و ادبیات کے نوک ِ سناں پر بھی سہولت سے بات کرتے دیکھا ۔۔۔۔۔ اندر کا یقین زندہ خدا ہی تو ہوتا ہے ۔
رعایت نہیں دیتے کسی کو
رعایت مانگتے بھی نہیں کسی سے
ان کا مقدمہ صاف اور کھرا ہے
فکری عدالت اورشاعرانہ بصیرت کو جمالیاتی ویژن میں اندوختہ کرنا انہی کو خوب آتا ہے ۔

یہ انٹرویو ادبی و فکری حوالے سے کچھ اس قسم کا ہے کہ کبھی کبھی لگتا ہے توحیدی اسرار ورموز میں گم صم ہم علم الکلام کی کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کر رہے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس قدر بلیغ اور بالغ گفتگو میں بھی جمال کا پہلو ہاتھ سے نہیں نکلتا ۔
یہ کم جمال نہیں کہ ہم ناؤ  میں بیٹھے ہیں ۔ اس مقام پر مشکلات و مضائقات بھی آئے ۔۔اصطلاحات منعقدہ رائجہ شائعہ پر کئی جگہ میرا ان سے اختلاف ہوا ، کہیں میں ان سے منافی رہا کہیں وہ مجھ سے منحرف ۔مگر انہوں نے کمال مہربانی اور نہایت محبت سے مجھے راستہ دیا گفتگو کو منجمد نہیں ہونے دیا ۔ یہ ان کا بڑا پن ہے ۔ سو کہہ سکتا ہوں مجھے راستہ ضرور دیا مگر اپنا راستہ کھونے پر کسی قیمت پر تیار نہیں تھے ۔ ماورائیت میں سے علمی افاضہ نکالنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن آنند صاحب کی نظموں کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک نیا فکری مسلک اپنی شعریات کے حوالے سے بنا چکے ہیں ۔ان کے مسلک کی ایجاد وتاسیس کا اثبات ہو چکا ہے اس مسلک کے عقائد کا اثبات ہو یا نہ ہو ان کی انفراد یت سکہ رائج الوقت ہو چکی ہے ۔
یہ انٹرویو عجیب پرتوں سے گزرا ۔۔۔۔جس کو بیان کرنا لازم نہیں ۔ آنند صاحب عرصہ سے واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں ۔میں بذریعہ ای میل سوال بھیجتا تھا جس کا تحریری جواب آتا تھا تو لگتا تھا روشنی کے ہزار دَر وا ہو چکے ہیں ۔ میں بطور مدیر و مصاحبہ کار علم وعرفان کے محصولات ِشعری ونظری کے اَخذ و قبض پر کتنا قادر اور کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ زرنگار کے قارئین ِ کریں گے ۔

ڈاکٹر ستیہ پال آنند
کیا قادر الکلام نظم نگار ہیں
تعبیر سے اگلے خواب کے لیئے نیا نیند کا بستر تیار کرتے ہیں ۔ جہاں باش ، جہاں گیر ، جہاں بند شخصیت ہیں۔۔۔ سب مذاہب کااحترام۔۔۔ اجزائے ایمان کو جمع کرنے میں مطمئن، خورسند اور کامیاب ۔۔۔ میں نے اس گفتگو میں ان کے ہاتھ پر ہاتھ بھی مارا اور انہیں علمی جوش دلانے کی بھی کوشش کی مگر وہ ٹھنڈے مزاج کے دانشور نکلے ۔
اس مکالمہ کو پڑھ کر آپ کو محسوس ہو گا کہ ذہنوں میں پلنے والی آگ قرطاس وقلم کو جلائے بغیر بھی ذہنوں میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ سلاسل کا شور برا بھی لگتا ہو تو یہ’’ تعزیری موسیقی ‘‘کا معیار ہو سکتا ہے ۔۔۔ میں نے کم وکیف کے علمی حوالوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں ’’ پس اَنداز’’ کر لیا یہی پس اَندازی آپ کے سامنے عاجزی سے پیش کی جا رہی ہے ۔
نصاب ِ عشق تو مجنوں کا کھاتہ تھا
ہم مجنون نہ سہی
مگر ، علم وعرفان اور شعر ِ شور انگیز کا رزمیہ بزمیہ یکجا صورت میں آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

ہم ڈاکٹر ستیہ پال آنند کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے جس طرح میرے تہہ دار اور تہور آور سوالوں کے متین اور تحقیقی جوابات دیئے اور اپنا پورا دل اور دماغ خرچ کر دیا ۔ میرا خیال ہے کہ یہ ڈاکٹر ستیہ پال آنند صاحب کی زندگی کا سب سے طویل انٹرویو ہے ۔ اور شاید اردو ادب کا بھی
ذیل میں بطور ریکارڈ ڈاکٹر آنند صاحب کی خدمات اور سوانح ، اور علمی کامیابیوںکا ایک خاکہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے اس انڑویو کی افادیت دو چند ہو جائے گی ۔ اس مکالمہ کے آخر میں آنند صاحب کی نظموں کا ایک مختصہ بھی پیش کیا جا رہا ہے تا کہ ادھاری خوشبو کی ضمانت پر باد ِ صبا سے مراسم بنانے کا طعنہ نہ ملے

قارئین محترم !
یہ پرسش در پرسش اور عندیہ در عندیہ آپ کو کیسا لگا ، اپنی قیمتی رائے سے ضرور سر افراز کیجئے گا ۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا