دفن۔۔ڈاکٹر نور ظہیر

ہوری کو دفن میں جانے سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے وہ کسی کی موت کی خبر ملنے کے دو تین دن بعد اس کے گھر والوں کے یہاں افسوس کرنے جاتی تھی۔ لیکن آج شام وہ ایک دفن میں گئی تھی۔ دامنی کو اپنے ہاتھوں سے اس نے قبر میں اتارا تھا۔ چونکیے مت! ٹھیک ہی سمجھ رہے ہیں۔ دامنی نام کی لڑکی ہندو ہی تھی اور اسے جلایا نہیں گیا۔ دفن کیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ وہاں موجود ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ دامنی زندہ ہے۔ پھر بھی سب نے مل کر اسے دفن کردیا۔
دامنی! ہوری کی بچپن کی دوست، ہوری کی سب سے اچھی دوست۔ دامنی! جس کی ایک پکار پر پورا جونیئر کالج اس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا، بجلی گزرتے ہوئے تاروں کی طرح سنسنانے لگتا تھا۔ پڑھائی میں اچھی، کھیل کھود میں آگے، سنسکرتک پروگراموں کی جان، مگر سب سے تیز ڈبیٹ میں۔ اتنی مشق جو کرتی تھی۔ کسی بھی خالی وقت میں اسے بحث کرتے پایا جاتا۔ ہوری اسے چڑاتی — ”تیرا تو مستقبل پالیٹکس ہے، وہ بھی لیڈر آف دی اپوزیشن۔“ لیکن اس میں متاثر کرپانے کی صلاحیت تھی اور صرف اپنی بات منوا لینے بھر سے خوش نہیں ہوجاتی تھی، اسے عمل میں لاکر چھوڑتی۔ اسے یقین تھا کہ زیادہ تر لوگ سماجی یا گھریلو دباؤ میں آکر ایسے فیصلے لیتے ہیں جو اگر وہ خود آزادی سے سوچیں تو کبھی نہ لیں۔ کم سے کم ہوری کے معاملے میں اس کا یہ وشواس صحیح ثابت ہوا۔
وہ دونوں ہی سینٹ میریز جونیئر کالج میں پڑھتی تھیں۔ جب سینئر سیکنڈری کے ریزلٹ آئے تو اسی نے زبردستی ہوری کو کوایجوکیشنل کالج کے فارم بھروائے۔ جب داخلہ مل گیا تو اسی نے ہوری کی دقیانوس امّی سے بات کرکے انھیں یقین دلایا کہ کالج میں لڑکے ہونے کی وجہ سے ہوری کسی کے ساتھ بھاگ جائے گی ایسی لڑکی وہ نہیں ہے۔ دامنی خود بھی اسی کالج میں تھی اور پانچویں دن سے پورا کالج اسے ’ناستِک بجلی‘ کے نام سے پکارنے لگا تھا۔ وہ کسی دھرم کو گالی دینے سے نہیں چوکتی۔ ہندوؤں کے ورت، تیرتھ، ہون، جگراتوں کا مذاق اڑاتی تو مسلمانوں کی چار شادیاں، تین بار طلاق طلاق اور وِدھوا سے شادی کرکے جنّت میں ستّر حوروں کے وعدے پر بھی پھبتیاں کستی۔ مگر سب سے زیادہ نفرت اسے برقعے سے تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی — ”عورت کو عورت ہونے پر ہی اگر شرم آنے لگے تو بھلا اور کیا بات کی جائے۔ تب تو وہ مردوں کے سماج کو ظلم کرنے کی چھوٹ دے رہی ہے۔“ ہوری سے اس کی دوستی کی کئی وجوہات میں سے سب سے بڑا شاید یہی تھا کہ نہ وہ، نہ ہی اس کی ماں اور بھابھیاں پردہ کرتی تھیں۔
کالج کے دوسرے سال سے ہی وہ ہوری کے پیچھے پڑگئی تھی کہ وہ ودیش کی اسکالرشپ کے لیے درخواست بھیجنا شروع کردیں۔ ہفتے میں دو بار سائبر کیفے جاکر، انٹرنیٹ پر وِدیشی یونیورسٹیوں کی سائٹ دیکھتی اور ہوری کو بتاکر ای میل کرواتی۔ جب ہوری کا داخلہ برٹین کی ایک یونیورسٹی میں ہوا تو اس نے ہی پیچھے پڑکر اسے جانے کے لیے راضی کیا۔ اس نے خود کہیں باہر درخواست نہیں دی تھی۔ اکثر بیمار رہنے والی ماں یہاں اکیلی پڑجاتیں۔ ایک چھوٹی بہن تھی جو ابھی سکول میں تھی اور دونوں کے بیچ میں ایک بھائی تھا جو مندبدھی تھا۔ وہ ان سب کو چھوڑکر کیسے جاسکتی تھی۔ وہ تو گھر کی مرد تھی۔
یہ سات سال پہلے کی بات تھی۔ ہوری ایم بی اے کے بعد دو سال نوکری کرکے واپس لوٹ آئی تھی اور اسی ایم این سی، جہاں وہ برٹین میں نوکری کرتی تھی، اسے ممبئی کا ریجنل منیجر بناکر بھیجا تھا۔ دامنی نے زولوجی میں ایم ایس سی کرلیا تھا۔ تین چار جگہ لیو ویکنسی میں نوکریاں بھی کرچکی تھی۔ لیکن کہیں پرماننٹ نوکری نہیں مل رہی تھی۔ ممبئی میں زولوجی پڑھانے والے کے لیے نوکریاں تھیں کہاں اور جو تھیں ان کے برابر نہ تو دامنی کے پاس ’سورس‘ تھا اور نہ وہ کسی کوٹے میں فٹ ہوتی تھی۔
دھیرے دھیرے کارپوریٹ کی دنیا نے ہوری کو اپنے اندر کھینچ لیا۔ شام کی پارٹیاں بزنس میٹنگز، سمینار، ورک شاپ، ورکنگ لنچ۔ دامنی سے ملنا اب کبھی کبھار ہی ہوتا اور جب بھی ملتی تو ہوری کی کامیابی پر بہت خوش ہوتی۔
پچھلے تین مہینے سے ملنا نہیں ہوا۔ آج اچانک دوپہر کو دامنی کا فون آیا۔ ہوری خالی بیٹھی تھی، سوچا لمبی بات کرتے ہیں۔ لیکن دامنی فون پر بات نہیں بلکہ شام کو اس سے ملنا چاہ رہی تھی۔ ہوری اپنے دفتر کی باس تھی، ایک شام تو وہ بِنا کسی نوٹس کے غائب ہوہی سکتی تھی۔ جہانگیر آرٹ گیلری میں ملنا طے ہوا۔ ہوری کو کافی دن ہوگئے تھے کسی آرٹ ایگزی بیشن میں گئے۔ اچھی شام گزرے گی۔
دامنی باہر ہی کھڑی تھی۔ اندر بڑھتی ہوئی ہوری کو روکتے ہوئے بولی — ”نہیں، اندر نہیں جائیں گے۔“
ہوری نے ذرا حیران ہوکر پوچھا — ”تو جہاں جانا ہے وہاں بلاتی، پارکنگ میں کتنی مشکل ہوتی ہے معلوم ہے۔“
وہ ذرا شرمندہ ہوکر بولی — ”جہاں جانا ہے وہاں کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ ملنا ذرا مشکل ہوتا اس لیے سوچا یہیں سے ساتھ چلیں تو اچھا ہے۔“
”ٹھیک ہے۔ بتا چلنا کہاں ہے؟“
”محمد علی روڈ“۔ دامنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
”کیوں بھئی، پائے اور شاہی ٹکڑے اچانک کیسے یاد آگئے؟“ ہوری نے ہنستے ہوئے کالج کے دنوں کو یاد کیا، جب دامنی بے دھڑک اس کے ساتھ بڑے کے گوشت کے پائے اور شاہی ٹکڑے کھانے مسلمان علاقوں میں جایا کرتی تھی۔
”نہیں یار، کچھ اور لینا ہے۔“ دامنی نے اس انداز سے کہا جیسے اپنا راز کھولنا وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک ٹالنا چاہتی ہو۔
”محمد علی روڈ پر اور ایسا کیا ملے گا جو ممبئی میں دوسری جگہ نہیں مل سکتا؟“
دامنی کچھ پل چپ رہی پھر بہت دھیرے سے بولی — ”ایک برقعہ!“ ہوری نے اتنی زور سے بریک لگائی  کہ پیچھے کی گاڑی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ اسے گالیاں دیتا جب وہ نکل گیا تو ہوری نے دامنی کی طرف دیکھا اور زور سے ہنس پڑی۔
”تو بھی نا ، مذاق کرنے سے باز نہیں آئے گی۔“
”مجھے سچ مچ برقعہ چاہیے۔“ دامنی نے ٹھہراؤ سے کہا۔
”کیوں، سائنس چھوڑکر ناٹک کرنا شروع کردیا ہے کیا؟“
”نہیں، ایسا تو نہیں۔“ دامنی کچھ پریشان لگ رہی تھی۔
”تو پھر کیا نیرس زندگی میں رنگ بھرنا چاہ رہی ہو — کالا!“ ہوری اب بھی ہنس رہی تھی۔
”نہیں! مرتی ہوئی ڈگریوں کو زندگی دینے کی کوشش کررہی ہوں۔ مسلم گرلس جونیئر کالج میں نوکری مل گئی ہے۔ پرماننٹ!“
”یہ تو بڑی اچھی خبر ہے۔“
”ہے ناں؟ اسی لیے برقعہ چاہیے۔“
”نوکری کا برقعے سے کیا مطلب؟“ ہوری کی ہنسی غائب ہوکر تیوری کے بل آگئے تھے۔
”وہاں کا ڈریس کوڈ ہے۔ ہر ٹیچر اور ہر لڑکی کو برقعہ پہننا پڑتا ہے۔“
”پر تو ہندو ہے۔ تجھ پر پردے کی کوئی بندش تیرا دھرم نہیں لگاتا“
”پر یہ کالج لگاتا ہے۔ سائنس میں اتنی پڑھی لکھی ٹیچر، مسلمانوں میں کم ہی ملتی ہیں۔ اس لیے کالج بورڈ کو یہ فیصلہ تو کرنا پڑا کہ ہندو یا کرشچن ٹیچر رکھیں، مگر شرط یہ ہے کہ ان پر بھی ڈریس کوڈ لاگو رہے گا۔ انٹرویو میں ہی انھوں نے صاف صاف بتا دیا تھا۔ جی میں تو آیا کہ نوکری لینے سے انکار کردوں۔ مگر ہوری، خود بھوکے رہنا آسان ہے، اپنوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے تڑپتے دیکھنا بہت مشکل ہے۔ پانچ سال ہوگئے مجھے ایم ایس سی کیے ہوئے۔ ان پانچ سالوں میں مَیں نے صرف 14 مہینے نوکری کی ہے۔ بھائی اور ماں کی دوائیاں اور علاج تو دور، میں تو بہن کو بی اے کروانے کی بھی حالت میں نہیں ہوں۔ جہاں نوکری کے لیے جاتی ہوں، لوگ کہتے ہیں، آپ کا تو تجربہ  ہی نہیں ہے۔ سچ بھی ہے۔ میری جانکاری کو زنگ لگتا جارہا ہے، میری وِدھا ہر دن گھٹ رہی ہے۔ ڈگریاں پرانی ہورہی ہیں اور میری ہمت ٹوٹ رہی ہے۔ میں تھک گئی ہوں!“
مول بھاؤ کرکے، کئی برقعے پہن کر، ایک سستا سا برقعہ ان دونوں نے خریدا۔ ہوری کو یاد آیا، ایک بار دامنی نے کہا تھا، ”کیسا لگتا ہوگا اپنے چاروں طرف اندھیرا لپیٹے ہوئے چلنا۔ جیسے اپنی قبر ساتھ لیے چل رہے ہوں۔ بِل لے کر ہوری نے دکاندار کو پیسے پکڑائے۔ پیکٹ لیتے ہوئے اسے لگا جیسے اپنے کسی بہت قریبی کے لیے کفن خریدا ہو۔
ہر دن دامنی جیسی کتنی لڑکیوں کو ایسے کالے کفن پہناکر، بے چہرہ اور بِن پہچان بنا دیا جاتا ہے۔ سماج ان قبروں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہر دس سال پر جمہوریت کے رکھوالے ہندوستانی آئین کی ہدایت پر جب عددشماری ہوتی ہے تو ان قبروں کو بھی زندہ میں گنا جاتا ہے۔ اس بار کی جن گننا میں ایک ہندو کی قبر بھی گنی جائے گی۔ سماج اسے بھی زندہ کہے گا۔ تعجب ہے!

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

نور ظہیر
نور ظہیر
نور صاحبہ اپنے بابا کی علمی کاوشوں اور خدمات سے بہت متاثر ہیں ، علم اور ادب ان کا مشغلہ ہے۔ آپ کا نام ہندستانی ادب اور انگریزی صحافت میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک دہائی تک انگریزی اخبارات نیشنل ہیرالڈ، اور ٹیکII، پوائنٹ کاؤنٹرپوائنٹ اخبارات میں اپنی خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں ۔نور ظہیر کی علمی خدمات میں مضامین، تراجم اور افسانے شمار کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان جہاں سرخ کارواں کے نظریات نے علم،ادب، سیاست، سماجیات، فلسفے اور تاریخ میں جدید تجربات کیے، وہیں ثقافتی روایات کو بھی جدید بنیادوں پر ترقی پسند فکر سے روشناس کروایا گیا۔ ہندوستان میں “انڈین پیپلز تھیٹر(اپٹا) “، جس نے آرٹ کونئی بنیادیں فراہم کیں ، نور بھی ان ہی روایات کو زندہ رکھتی آرہی ہیں، اس وقت نور ظہیر اپٹا کی قیادت کر رہی ہیں۔ نور کتھک رقص پر بھی مہارت رکھتی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جا چکی ہیں، آدیواسیوں کی تحریک میں کام کرتی آرہی ہیں۔سید سجاد ظہیر کے صد سالہ جشن پر نور ظہیر کے قلم سے ایک اور روشنائی منظر عام پرآئی، جس کا نام ” میرے حصے کی روشنائی” رکھا گیا۔ نور کی اس کتاب کو ترقی پسنداور اردو ادب کے حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی حاصل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *