ہوا یہ کہ جب ہم مرگئے تھے…محمد تقی احمد

ہوا یہ کہ
جب ہم مرگئے تھے
تو
ہماری بیٹیاں یتیم خانے میں چلی گئی تھیں

ہم دور اوپر سے دیکھ رہے تھے
گاڑیاں آتی تھیں
یتیم خانے کا دروازہ کھلتا تھا
یتیم خانے کا دروازہ بند ہوتا تھا
گاڑیاں چلی جاتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔

ہوتا یوں تھا کہ
جب ہم مرگئے تھے

ہماری بچیاں ٹافی لینے ، پاپڑ لینے جاتی تھیں

ہم دووور اوپر سے دیکھتے تھے
چاچا ، ماما ۔۔۔ بہت سارے انکل
وہ انکو انگلی پکڑاتے ، گود میں اٹھالیتے
کنویں سے نچی ملتیں ، فصلوں میں کچلی ملتیں
ویرانے میں مسلی ملتیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا بھی ہوتا کہ
جب ہم مرگئے تھے

ہماری لاڈلیاں مسکرا اٹھتیں ، ہنس پڑتیں

ہم دووور اوپر سے دیکھتے
لوگ جمع ہوجاتے
گڑھا کھودتے ، آدھا دفنادیتے
اور پتھروں کی بارش کردیتے
پتھروں کی ڈھیری سی بن جاتی
قبر نما قبر بن جاتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا ہوتا ہے کہ
جب ہم مرجاتے ہیں

خواتین ، لڑکیاں زندگی سے بھر پور

ہم دووور اوپر سے دیکھتے ہیں
دن دیہاڑے اٹھالی جاتی ہیں
غائب کردی جاتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ
جب ہم مرجاتے ہیں

کچھ اور نہیں دیکھ پاتے

دوووور بہت اوپر سے
ہم نے دیکھا ہے
عروج کو دیکھا ہے
اس کا جذبہ دیکھا ہے
چنگاری دیکھی ہے

الاو روشن ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *