• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جمہوریت کی سبیل پر رکھے گلاس سے زنجیر باندھی جائے۔اختر علی سید

جمہوریت کی سبیل پر رکھے گلاس سے زنجیر باندھی جائے۔اختر علی سید

اس سال عاشورہ محرم اکتوبر میں منایا گیا۔ محرم کے ابتدائی دس دنوں میں خاص طور پر امام حسین کو یاد کیا جاتا ہے۔ جگہ جگہ ان کے ذکر کی مجالس منعقد ہوتی ہیں۔ ان کو یاد کر کے آنسو بہائے جاتے ہیں اور ان کو یاد کرنے کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ استبداد کے مقابلے میں کھڑے ہونے والوں کو یاد رہے کہ اگر وہ جاں سے گزر بھی گئے تب بھی انسانیت کے حافظے سے محو نہیں ہوں گے۔۔۔ کربلا کے واقعے کے ذیل میں دو حوالے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک غالب حوالہ تو امام حسین کی قربانی کو یاد کرکے ان کی مظلومیت پر آنسو بہانے کا حوالہ ہے۔ خدا معلوم اس قربانی کی یاد کو مذہبی شعار قرار دینے والوں نے اچھا کیا یا برا۔ لیکن ایسا کرنے والوں نے اس واقعے کی عالمگیریت کو ضرور متاثر کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مخالف مذہبی فکر نے اس واقعے کا دوسرا حوالہ اجاگر کیا۔ اور قاتلین امام حسین کی حمایت میں فقیہانہ موشگافیوں سے استدلال کرنا شروع کردیا۔۔ یہ بحث آ گے بڑھی تو ایک گروہ نے مشورہ دیا کہ واقعہ کربلا ایک حادثہ تھا اُس کو ایک حادثے کے طور پر بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔۔۔ یقیناً یہ مشورہ دینے والوں کو امام حسین کی حکمت عملی میں سیکھنے کی کوئی بات اور ان کو قربانی اور عزیمت کی مثال قرار دینے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دی ہو گی۔
ذرا اجازت دیں کہ ان تین گروہوں کےنکتہ ہائے نظر کا خلاصہ بیان کروں۔۔۔۔ پہلا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ امام حسین مظلومیت کی حالت میں قتل کردئے گئے ان کے قتل کا سبب وہ انکار تھا جو انھوں نے یزید کے مطالبہ بیعت کے جواب میں کیا۔
دوسرا گروہ نرم سے نرم الفاظ میں یہ سمجھتا ہے کہ امام حسین نے یزید کی قائم شدہ حکومت کے مطالبہ بیعت کو ماننے کی بجائے اس کے خلاف اقدام کیا۔ ایسے میں انہوں نے حالات کی تفہیم میں غلطی کی۔
تیسرا گروہ ان کی اس غلطی کے نتیجے میں ہونے والے حادثے کو بھلانے کا مشورہ دیتا ہے۔ پہلا گروہ امام حسین کی یاد میں آنسو بہاتا ہے، ماتمی جلوس نکالتا ہے۔ دوسرا گروہ ان شعائر کی ہر ممکن طریقے سے مخالفت کرتا ہے۔ اور تیسرا گروہ ان شعائر کی خاموش مخالفت پر اکتفا کرتا ہے۔ ایسے میں ایک چوتھا گروہ بھی ہے۔ یہ وہ ہے کہ جو محرم میں پانی کی سبیلوں کا اہتمام کرتا ہے، کھانے پکا کر تقسیم کرتا ہے۔ امام حسین کے مزار سے مماثلت رکھنے والے تعزیے بناتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسا کرنے والوں کی اکثریت ہمارے بیان کردہ پہلے گروہ سے تعلق نہیں رکھتی۔ یہ لوگ پانی کیوں پلاتے ہیں وہ بھوکوں کو دس محرم کے دن کھانا کیوں کھلاتے ہیں۔ امام حسین کے تعزیے کیوں بناتے ہیں۔ اس گروہ کا کہنا یہ ہے کہ اگر وہ دس محرم کے دن کربلا میں ہوتے تو امام حسین کو تین دن کا بھوکا پیاسا شہید نہ ہونے دیتے۔ یہ امام حسین کے اعزہ اور احباب کو پانی پلاتے۔ کھانا کھلاتے۔ کیونکہ وہ یہ سب کچھ کرنے کے لیے سن اکسٹھ ہجری میں موجود نہیں تھے۔ اس لیے اب وہ قیامت تک اس کام کو کرتے رہیں گے تاکہ آنے والے استبداد کو علم رہے کہ یہ مظلوم کو یاد رکھنے والوں کا معاشرہ ہے نہ کہ ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے والوں کا گروہ۔
مجھ ایسا مرفوع القلم طالبِ علم ایسے لوگوں کی تائید اور تعریف کے لیے اپنے محدود ذخیرہ الفاظ میں مناسب الفاظ نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ناکام حسرتوں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کی تلافی کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کی یہ کوشش ایک علامتی کوشش ہے اسی لیے نفسیات کا یہ طالب علم ناکام حسرتوں کو پورا کرنے والوں کی کوشش میں معانی کی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے۔
دنیا میں استبدادی طاقتوں کے غلبے کی تاریخ جتنی پرانی ہے۔ اتنی ہی پرانی ان کے خلاف ہونے والی مزاحمت کی داستانیں ہیں۔ برصغیر پر نوآبادیاتی غلبہ، افغانستان اور عراق پر غیر ملکی تصرف، اور پاکستان میں آنے والی غیر جمہوری حکومتیں، سب اسی غلبے کی مختلف صورتیں ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والی قانونی اور غیر قانونی مزاحمت کی داستانیں بھی سب کو یاد ہیں۔۔۔ مزاحمت کی ان داستانوں پر ہونے والے تجزیے بھی آپ روزانہ پڑھتے ہیں۔۔ افغانستان اور عراق پر حملے تو ابھی کل کی بات ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والی مزاحمت نے حملہ آوروں کے نام اور کام کو گالی نہیں بننے دیا۔ گو عراق پر حملے کی وجوہات سراسر جھوٹ پر مبنی تھی مگر آج لوگ ان حملہ آوروں کو بھول کر مزاحمت کرنے والوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہیوں کو یاد کر کے روتے ہیں۔۔ میں ایک گزشتہ تحریر میں عراق کے شہر اربیل میں موجود پناہ گزینوں کے احوال گزارش کر چکا ہوں۔ یہ موصل سے 65 میل کے فاصلے پر ایک شہر ہے جو موصل پر داعش کے قبضے کے بعد وہاں سے نکلنے والے باسیوں کا سب سے بڑا مسکن ہے۔ یہ لوگ اتحادی افواج کے مظالم بھول چکے ہیں۔ اتحادی افواج کے خلاف تشکیل پانے والی ملیشیا نے جو مظالم ان پر ڈھائے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں اور ناقابل مشاہدہ۔۔۔۔ اتحادی افواج کے خلاف القاعدہ اور داعش کی مزاحمت دیکھ کر ہر کوئی صدام حسین کو یاد کرتا نظر آتا ہے۔
گزارش یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ استبداد کے خلاف مزاحمت بھی ایک ہنر ہے۔ استبداد کے خلاف مزاحمت کا اسلوب مسلح جدوجہد بھی ہو سکتا ہے مگر کیا ایسی کوشش سے استبداد کے عزائم اور منصوبے بے نقاب ہو پاتے ہیں؟ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ عراق میں القاعدہ اور داعش کی مزاحمت نے مسلمانوں کو بالعموم اور عراقیوں کو بالخصوص جنگلی، غیر مہذب اور وحشی ثابت نہیں کیا۔۔۔
زیادتی ہوگی اگر عراقیوں کا اختیار کردہ مزاحمت کا ایک متبادل طریقہ بیان نہ کیا جائے۔ نوم چومسکی نے آیت اللہ سیستانی کو نوبیل انعام برائے امن دیے جانے کی تجویز پیش کی تھی۔ جس کی وجہ ان کا وہ خط تھا جو انھوں نے پال بریمر کی ملاقات کی درخواستوں اور ایک طویل خط کے جواب میں لکھا تھا۔ یہ ایک تین سطر کا خط تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ آپ امریکی ہیں۔ میں سیستان ( ایران کا ایک شہر) سے ہوں۔ عراق کی تقدیر کا فیصلہ عراقی عوام کو کرنے دیں۔۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ قبضے کے بعد عراق میں منعقد ہونے والے پہلے انتخابات آیت اللہ سیستانی کے اصرار پر ہوئے تھے۔
واپس چلیں گے اس سوال پر کہ کامیاب مزاحمت ایک ہنر ہے۔ ایک سلیقہ ہے۔ جو اس سلیقے سے واقف ہیں وہ استبداد کو گالی بنا دیتے ہیں۔ جو واقف نہیں ہیں وہ خود گالی بن جاتے ہیں۔ استبداد کو گالی بنانے کے طریقے بھی کئی ہیں۔ ان میں استبداد کو گالی دینا بھی ایک طریقہ ہے۔ لیکن ایک طریقہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا۔ اس کو یاد کرنا۔ اس کے طریقوں کو زندہ رکھنا اور مظلوم کو مثال بنانا بھی ہوتا ہے۔ لیکن ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سوچا جائے اگر ہم استبداد کے خلاف معرکے میں شریک ہوتے تو کیا کرتے۔ یا اب اگر یہ معرکہ درپیش ہو تو ہم کیا کریں گے۔ محرم میں سبیل سجانے والے اس سوال کا جواب دیتے ہیں۔
بارہ اکتوبر کو یاد رکھنے والوں کو دیکھنا چاہئے کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے ملکی تاریخ کی پہلی 12 اکتوبر نہیں تھی۔ ایسی تاریخیں پہلے بھی کئی بار آئی ہیں۔ ایسی کتنی تاریخوں پر مٹھایاں بانٹی گئیں۔ ایسی کتنی تاریخوں کے انتظار میں دھرنے دئے گئے۔ اور ایسی کتنی تاریخوں کو دعوت نامہ بھیج کر بلوایا گیا۔

ہم سب کو سب کچھ یاد ہے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو ایسے موقعوں پر خاموش رہے۔ چاہے ڈر کر، لاتعلق ہوکر یا مطمئن ہو کر۔

کوفے والوں نے یہی کیا تھا پہلے جبر کے آگے ڈھے گئے۔۔ پھر چار ہزار کا لشکر لے کر نکلے اور بے نام مزاحمت کرتے ہوئے مارے گئے۔ انہوں نے اپنی حسرت کو پورا کرنے کی ایک کوشش کی مگر ناکام رہے۔ اس سے تو بہتر تھا وہ کربلا کے میدان میں پانی کی سبیل لگا لیتے اور ہر آتے جاتے کو امام عالی مقام کے نام پر پانی پلاتے۔
پاکستان میں ہم نے 44 برس پہلے ایک دستور منظور کیا تھا۔ جمہور دوستوں کے لئے یہ دستور ایک سبیل کا درجہ رکھتا ہے۔ عرض ہے کہ اس سبیل پر رکھے گلاس سے زنجیر باندھی جائے کیونکہ چار دہائیوں میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ رات کے اندھیرے میں کوئی بندوق چھتیائے آتا ہے اور ہمارا گلاس بغل میں دبا کر چل دیتا ہے۔ ہم آمریت کے صحرا میں برسوں پیاسے بھٹکتے ہیں۔ ہماری پیاس بجھانا ہی اس عہد کی حریت ہے۔

بشکریہ ہم سب

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *