فیسبکی دانشگرد۔۔۔عظمت نواز

“دوستو کچھ دن کی رخصت درکار ہے کچھ ذاتی کام نپٹانے ہیں ،کچھ یادوں کو سمیٹنا ہے، گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بھی مشکل ہو گی، دانشوری کا سودا بھی ختم ہو ریا ۔مارکیٹ میں نیا کچھ آ نہیں ریا، آپ لوگوں سے دوری بھی ستم بالائے ستم ہے۔۔ مگر آہ! یہ مجبوریاں”۔۔۔ایسی پوشٹاں کرنے والے دانشگردوں سے مشتری ہوشیار رہیں ۔

یہ بالکل ویلے اینڈ ویلیاں ہیں ہر چار دن بعد ایک پوسٹ داغ دیتے ہیں کہ بس بہت مصروفیات تھیں تو حاضری نہ ہو سکی -حالانکہ بندہ دست سوال دراز کر سکتا ہے  کہ حضور کی آمد میں اگر چار دن کی تاخیر ہو بھی گئی تو انہوں نے کون سی تیسری عالمی جنگ روکی ہوئی تھی جو ان کے نہ ہونے سے چھڑ  گئی – یہ کون سے فارغ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے افلائن ہوتے ہی ان کو خطوط ارسال کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ چھیتی آویں وےطبیبا، یا ان کے گھروں کے باہر دھرنا دینا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ جلد از جلد واپس آئیں، ورنہ بس آسمان ٹوٹنے کو ہے ، یا دین و دہر کے جھگڑے آپ کی غیر حاضری کے سبب بہت الجھ گئے ہیں، آپ کے آئے بنا یہ معاملات سلجھنے کے نہیں –

tripako tours pakistan

کچھ لوگ لاگ آؤٹ کرنے سے پہلے بھی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں کہ یہ کار خیر وہ کرنے لگے ہیں_ در اصل ان کے متمع نظر وہ از خود نوٹس ہوتا ہے جس کے لئے جانے کی امید مانند ہے سپریم کورٹ وہ اپنے لسٹ میں موجود لوگوں سے چاہتے ہیں  تاکہ وہ ایسے پیامات سن ،پڑھ سکیں “ارے آپ کہاں تھے آپ کے نہ ہونے سے فیسبک پر عالمی سلسلہ بلاکیہ شروع ہو گیا جس کو جمہوری و غیر جمہوری لوگ بیک وقت استعمال کر رہے ہیں” –

خلیجی ممالک میں رہنے والے پاک و ہند کے اکثر باشندے یہاں آکر ایک اصطلاح کثرت سے استعمال کرنا شروع کرتے ہیں جو بالکل قدرتی طور پر سب کی زبان کا حصہ بن جاتی ہے کہ کوئی بھی بات ہو کوئی مسئلہ ہو کوئی المیہ ہو اس پر ایک ہی  جملہ کہا جاتا ہے  کہ” او مشکل نئیں”۔۔ اسی طرح کہیں کسی کو اطلاع ملی کہ آپ کی  والدہ کا انتقال ہو گیا تو وہ جو اس جملے میں اتنے رواں تھے فوراً  بولے کہ ” او مشکل نئیں” –

یہی عرض ان مشاہیر فیسبک سے بھی ہے  کہ نصیب دشمناں اگر شومئی قسمت سے  آپ کو کوئی کام آن ہی پڑا ہے، اور  آپ کا جانا ضروری ہو چکا ہے تو پیچھے والے فیسبک کے معاملات سنبھال لیں گے کوئی “مشکل نئیں” آپ بے غم ہو کر جائیں اور اپنے متاثرین کو راحت کے چند لمحے گزار لینے دیں –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *