• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل پر پابندی، انڈیا کا شرمناک اقدام۔۔منصور ندیم

ایمنسٹی انٹرنیشنل پر پابندی، انڈیا کا شرمناک اقدام۔۔منصور ندیم

SHOPPING
SHOPPING

پوری دنیامیں سیکیولرازم کا ڈھونگ رچانے والی ریاست کی حیثیت سے انڈیا آج اس مقام پر جا کھڑا ہے کہ پوری دنیا کی معروف انسانی خدمت سے پہچانی جانی والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈین حکومت نے بینک اکاؤنٹس منجمند کر دیے ہیں جس کی وجہ سے عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انڈیا میں اپنے ملازمین کو فارغ کر کے اپنا کام روک دیا ہے۔

عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ

’انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے خلاف آواز اٹھانے پر انڈین حکومت کی طرف سے اسے منظم طریقے سے اور من گھڑت الزمات لگا کر نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

گذذشتہ دو برس سے مسلسل عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن اور اب اس کے اکاؤنٹس کو منجمند کرنا محض اتفاق نہیں ہے۔ بلکہ یہ دہلی میں ہونے والے ہنگاموں اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر انڈین حکومت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانےکا نتیجہ ہے۔

عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈین اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل طور پر پاسداری کرتی رہی ہے، انڈیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے کے لیے یہ مقامی طور پر فنڈز اکٹھے کرتے ہیں، اور اب تک ایک لاکھ انڈین شہریوں نے فنڈز عطیہ کیے ہیں۔
مگر انڈین حکومت کی طرف سے اس قانونی فنڈ ریزنگ کو بھی منی لانڈرنگ کے الزامات کاسامنا ہے جو یقینا ایک شرمناک الزام ہے، ایسے الزامات کی صرف ایک ہی وجہ ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کارکن حکومت کی زیادتیوں کو سامنے لا رہے ہیں۔

انڈیا اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں میں خوف پیدا کرنے کے لیے اپنے اداروں انڈین ادارہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ آف انڈیا اور انڈین حکومت انہیں جرائم پیشہ تنظیوں کے طور پر سامنے پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈیا میں سینیئر ریسرچ ڈائریکٹر رجت کھوسلہ کا کہنا ہے کہ

SHOPPING

“انھیں حکومت کی جانب سے بے مثال ہراسانی کا سامنا ہے جس میں ’منظم طریقے سے کیے جانے والے حملے، دھمکیاں اور ہراسانی‘ شامل ہیں۔”

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *