”نمرہ احمد“ ادبی دنیا کی نئی آواز

امتیاز عبدالقادر
صابیہ ظہورآہنگر
انسان ازل سے ہی کہانیاں سننا اور سنانا پسند کرتا آیا ہے۔اِن کہانیوں کو دنیا کی ہزا روں زبانوں میں تخلیق کیا گیا ہے اور جہاں تک اُردو زبان و ادب کا تعلق ہے، یہاں کہانیاں داستان، ناول اور افسانوں کی صورتوں میں لکھی گئی ہیں۔یہ کہانیاں انتہائی شوق و دلچسپی سے لکھی اور پڑھی جانے لگیں اور رفتہ رفتہ داستان، ناول اور افسانوں کی صورتوں میں ہزاروں کہانیاں تخلیق پائیں۔
اُردو میں ناول نگاری کا آغاز بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ہوا اور مختلف مرحلوں اور تحریکات کے زیرِ سایہ ناول نگاری کی یہ صنف پروان چڑھی۔ اِسے ڈپٹی نذیر احمد، محمد حسین آزاد، عبد الحلیم شرر،پریم چند،نسیم حجازی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندروغیرہ جیسے ناول نگار میسر آئے ،جنھوں نے سینکڑوں کی تعداد میں ناولز لکھ کر ناول نگاری کی اِس صنف کو مقبولِ عام بنایا۔ ناول نگاری کے اِس فن میں مرد ناول نگاروں کے ساتھ ساتھ خواتین ناول نگاروں نے بھی طبع آزمائی کی اور قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، رضیہ بٹ، طیبہ بیگم،جیلانی بانو، عطیہ پروین،مسرور جہاں، رشید جہاں، ہاجرہ مسرور وغیرہ جیسی خواتین ناول نگار منظر عام پر آئیں۔یہ خواتین ناول نگار اپنے فن اور اسلوب سے آسمانِ ادب پر چھائی رہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں ناول تحریر کیے۔ اُردو ناول نگاری کے موجو دہ منظر نامے کی اگر بات کی جائے تو اِسمیں ہمیں ہاشم ندیم، رحمان عباس، مشتاق احمد یوسفی، نسیم بیگ جیسے مرد ناول نگاروں کے ساتھ ساتھ عمیرہ احمد، فرحت اشتیاق، سمیرا حمید،مہوش افتخار، سمیراشریف طور وغیرہ جیسی خواتین ناول نگاروں کا وجود بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
خواتین ناول نگاروں کی اِس فہرست میں نمرہ احمدکا نام بھی شامل ہوتا ہے۔ نمرہ سرزمین پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں اور دورِ حاضر کی ایک کامیاب خاتون ناول نگارہیں۔بہت ہی کم وقت میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والی اس ناول نگار نے ۱۲ سال کی انتہائی مختصر سی عمر میں اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنے منفرد اسلوب اور طرزِ تحریر کی وجہ سے قارئین سے دادِ تحسین حاصل کرنا شروع کی۔ آج نمرہ پاپولر لٹریچر (Popular literature)کا ایک اہم نام ہے۔
نمرہ احمدنے 2007میں ناول نگاری کا آغاز ”میرے خواب میرے جگنو“نامی ناول سے کیا جو ”شعاع ڈائجسٹ“سے قسط وار شائع ہوتا رہا۔ناول نگاری کی دنیا میں قدم رکھتے ہی آپ اِس صنف کی آبیاری میں اس قدر مگن ہو گئیں کہ دس سال کے اِس قلیل عرصے میں نمرہ نے ۷۱ سے زائد ناولز لکھے جن کے نام یوں ہیں۔:پہاڑی کا قیدی، مہر النساء، سانس ساکن تھی، بیلی راجپوتاں کی ملکہ، قراقرم کا تاج محل، پارس، مصحف، جنت کے پتے اور نمل وغیرہ۔ اس کے علاوہ نمرہ نے کئی مختصر ناولٹ اور افسانے بھی تحریر کیے جن میں ابلیس،گمان،احمق تماشائی،پارس، اپنک انگلی، حَد، لاپتہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
کہانی کاروں کا موضوعاتی اور اسلوبیاتی انداز جد اگانہ ہوتا ہے۔ ایک مخصوص موضوع اور مخصوص طرزِ بیان کے تحت کہانیاں لکھ کر کہانی کار اپنی شناخت قائم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر پریم چند کے ناولوں میں ہمیں ”دیہاتی زندگی کا عکس“ نظر آتا ہے اور انھوں نے غربت، افلاس اور گاؤں کی طرزِ معاشرت کو اپنی تحریرات کا حصہ بنایا ہے۔ بالکل اِسی طرح نمرہ احمد کے ہاں بھی ایک مخصوص موضوع اور مخصوص طرزِ تحریر پایا جاتا ہے۔وہ دین اور دین سے جُڑے پیچیدہ مسائل کو اپنے ناولوں کا موضوع بنا کر قاری کو بڑے حکیمانہ انداز میں دینِ اسلام کے قریب کرتی ہیں اور اُس کے لیے غور و فکرکے دروازے وا کرتی ہیں۔ نمرہ احمد کے ناولوں میں دینی اور اصلاحی پہلو نمایاں ہے۔وہ اپنی تحریروں میں نہ صرف نوجوان طبقے کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ ان کا حل بھی بڑے مؤثر طریقے سے پیش کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں کے موضوع منفرد اور مختلف النوع ہوتے ہیں۔ کبھی وہ سماج میں پیداشدہ مسائل کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ قاری کا ذہن سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس مسلہ کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ناول جنت کے پتے، مصحف اور نمل میں اس پہلو کی واضح ترجمانی کی گئی ہے۔
نمرہ کی کہانیوں کا پلاٹ اور موضوع قرآن اور حدیث کے اردگرد گھومتا ہے۔ وہ انتہائی حکیمانہ انداز میں قاری کو قرآن و حدیث کے قریب کرتی ہے۔”مصحف“یعنی قرآن اُن کا شہرہئ آفاق ناول ہے۔مصحف کے مطالعہ سے نمرہ احمد کی قرآن سے دلچسپی کا ادراک ہوتا ہے۔یہ ناول مرکزی کردار ”مہمل ابراہیم“ کے ارد گرد گھومتی ہے کہ کیسے وہ اپنا رشتہ قرآن سے استوار کرتی ہے اور کیسے قرآن اس کی زندگی کا لازمی حصہ بنتا ہے۔ کہانی میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور اِس کی آیاتِ مقدسہ پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس ناول کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ کیسے قرآن آیات کی صورتوں میں انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے اور کیسے وہ انسانوں کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔
”صفا اور مروہ دراصل ایک عورت کے صبر کی نشانی ہیں۔جب آپ کو بے قصور تپتے صحراء میں چھوڑ دیا جائے اور آپ اس توکل پہ کہ اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا صبر کریں تو پھر زم زم کے میٹھے چشمے پھوٹتے ہیں۔“
(مصحف، صفحہ نمبر ۳۱۳)
”جنت کے پتے“ نمرہ کی بہت ہی عمدہ اور مقبول تصنیف ہے۔ اس ناول کا موضوع نہایت ہی حساس ہے۔ یہ ناول اذیت سہنے والوں اور صبر کرنے والوں کی ہمت افزائی کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ ناول ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے لکھی گئی ہے جو تکلیف سہنے کے بعد بھی اللہ کے احکامات پر ڈٹے رہتے ہیں اور مشکلیں سہتے ہیں۔ناول کے اختتام پر ہر ایک قاری یہ سمجھتا ہے کہ ”حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔حجاب کو کانفڈنس سے پہننے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کوئی معیوب چیز نہیں کہ اِس سے اعراض کیا جائے، بلکہ حجاب کو اختیار کرنے کا عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک محبوب عمل ہے۔“
اس ناول کے ذریعے نمرہ نے گھر بیٹھے اپنے قارئین کو ترکی کی سیر کروائی ہے۔ ترکی کی ثقافت، رہن سہن اوروہاں کے پکوانوں کے بارے میں قاری کو ناول کا مطالعہ کرکے کافی جانکاری حاصل ہوتی ہے۔ ناول میں ایسے کئی اقتباسات ہیں جو قاری کو غور و فکر کی وادیوں میں لے جاتے ہیں۔ ناول کے ایک ایک لفظ سے دانائی اور حکمت جھلکتی ہے۔ مادی اشیاء کی بے ثباتی کو وہ بڑے دلچسپ پیرائے میں پیش کرتی ہے۔ لکھتی ہیں:
”چیزیں وقتی ہوتی ہیں، ٹوٹ جاتی ہیں، بکھر جاتی ہیں، روئیے دائمی ہوتے ہیں، سالوں تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔“ (جنت کے پتے،صفحہ نمبر۷۳۱)
نمرہ کے اس ناول میں ایک اور چیز دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ہیں پہیلیاں۔ نمرہ قرآن کی آیات کو پہیلیاں بنا کر پیش کرتی ہے، ساتھ میں اس کی وضاحت اور تشریح بھی کرتی ہے۔ اس سے قاری مطالعہ کے وقت ذہنی آزمائش سے بھی دوچار ہوتا ہے۔ اس کہانی کے مرکزی کردار میاں سلیمان اور جہاں سکندر ہے۔ اس کے علاوہ عائشے گل، بہار ے گل اورڈی جی کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ ہر ایک کردار ہمارے ذہن پر ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ یہ سارے کردار ہمیں ہمت، صبراور جدو جہد کا درس دیتے ہیں۔
پہاڑی کا قیدی نمرہ کا ایک اورمقبول ناول ہے جس میں نمرہ نے درس دیا ہے کہ سماج میں ظلم کا مقابلہ ہمت اور صبر سے کیا جانا چاہیے۔ظلم جب حد سے گذر جاتا ہے تواس کے خلاف عَلم بغاوت اونچا کرنے کے لیے ایک ”عادل“ آتا ہے جو مظلومین کو انصاف دلانے کی جدوجہد کرتا ہے۔اس کام کے لیے وہ ”عادل“ اپنا سب کچھ تج دیتا ہے۔وہ ہمیشہ ظلم کے سامنے دیوار بن کر کھڑا رہتاہے۔اس ناول میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔
ناول ”میرے خواب میرے جگنو“ سے نمرہ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔ اس ناول میں اُن کا طرز تحریر قدرے مختلف ہے۔ چونکہ یہ ان کا پہلا ناول تھا، اس لیے اس میں وہ اصلاحی پہلو دیکھنے کو نہیں ملتا جو ان کی ناولوں کا خاصا ہے۔ کہانی تین کرداروں بسمل، ماہ نور اور خرم زید کے ارد گرد گھومتی ہے۔یہ ناول خوابوں پر بھروسہ کرنے کا درس دیتا ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار ”خرم زیور“ کا خواب ہوٹلز کی ایک چین بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن اپنی ذہانت، محبت اور لگن کے بل بوتے پر وہ اپنے خواب کو پایہئ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔
”نمل“ نمرہ احمد کا ایک ضخیم ناول ہے جو 1500 صفحات پر مشتمل ہے۔چار جلدوں پر مشتمل یہ ناول حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ نمل کے معنی چونٹیاں ہے۔لفظ ”نمل“قرآن مقدس کی سورۃ نمل سے ماخوذ ہے۔اِس ناول میں سورہ نمل کو بطور خاص اور قرآن کو عمومی طور پر مؤ ثر طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ سورہ نمل کی تفہیم و تفسیر جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔اِس کی غرض دراصل یہ ہے کہ قارئین کو قرآنی احکامات کی طرف راغب کیا جائے۔ ناول میں ایک ساتھ کئی کہانیاں پیش کی گئی ہے اور انہیں مرکزی کہانی کے ساتھ مربوط انداز میں جوڑا گیا ہے۔ ناول میں سنسنی خیز واقعات بظاہر اسکو ایک سنسنی خیز ناول بناتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ رشتوں کی، جذبات و محسوسات کی، بے پناہ اور بے لوث محبت کی اور رشتوں کی قدر و قیمت کی ایک بہترین کہانی ہے۔ اس ناول کے نام ’نمل‘ سے ہی اِس کی کہانی کا تصور واضح ہو جاتا ہے۔ چونکہ چونٹیاں مل جل کر کام کرتی ہے، ان کا مرنا، جینا سب ایک ساتھ ہوتا ہے اور چیونٹی کی کوئی انفرادی زندگی نہیں ہوتی۔بلکہ اِسی طرح اِس ناول میں اجتماعیت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
ناول چونکہ نہایت ہی ضخیم ہے لیکن کہانی بڑی مضبوطی کے ساتھ اختتام کو پہنچتی ہے۔ قاری آخر تک تجسس میں مبتلا رہتا ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ناول کا مین تھیم یہ ہے کہ فیملی ہر شے سے بالاتر ہے۔ فیملی کی خوشی نیز مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے اور فیملی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جانی چاہیے۔
نمل کے اقتباسات سے قاری کا دل دین کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ ایسے اقتباسات ہیں کہ قاری کے دل میں ایمان کی ایک رمق پیدا ہوتی ہے۔نمرہ ایک جگہ لکھتی ہیں:
”فجر پر آپکو الارم نہیں آپ کا ایمان جگاتا ہے“
(نمل صفحہ نمبر۱۳۲۱)
نمل کے حوالے سے اگریہ بات کہی جائے کہ نمل ان کا ایک شاہکار ناول ہے تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ اس ناول کے ہر لفظ سے دانائی جھلکتی ہے۔ قاری خود کو دین کے قریب محسوس کرتا ہے۔ ناول میں ایک جگہ نمرہ ”دعا“ کے بارے میں لکھتی ہیں:
”اللہ تعالیٰ دعا رد نہیں کرتے، لیکن اس میں یقین ہونا چاہیے۔ آپ کسی پیر، کسی قبر، کسی مزار کو وسیلہ بنائیں گے تو اللہ آپ کو انہی کے حوالے کر دے گا“ (نمل صفحہ نمبر۲۵۰۱)
نمرہ کی ہر تحریر سے اُن کی محنت جھلکتی ہے۔ وہ کچھ بھی تحریر کرنے سے پہلے اُس موضوع پر خوب تحقیق کرتی ہیں۔اس کے لیے وہ درجنوں کتابوں کا مطالعہ کرتی ہے، اپنے نالوں کے کرداروں کے پیشے سے جُڑے ہوئے لوگوں کے بارے میں معلومات اکھٹا کرتی ہیں۔ ناول لکھنے سے قبل تحقیق کرنے کے متعلق نمر ہ نے ایک انٹریوں میں کہا تھا کہ ”نمل“ کیلئے انھوں نے نوے کی دہائی کے بہت سارے قانونی مقدمے(Legal Cases) پڑھے تھے اور کئی وکلاء حضرات سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔
دورِ حاضر میں کئی ایسی خواتین ناول نگار ہیں جو اس صنف کی آبیاری کر رہی ہے۔ لیکن نمرہ ایک منفرد شخصیت کی مالکہ ہیں۔میرا ماننا ہے کہ جوبھی قاری نمرہ کی تحریروں کا بغور مطالعہ کرے گا وہ ان کی تحریروں میں لکھی ہوئی باتو ں پر شعوری یا غیر شعوری طور پر عمل کر نے کی کوشش کرے گا۔”نمل“ میں نمرہ نماز کی اہمیت و افادیت پر اس طرح ذکر کرتی ہیں کہ قاری فوراً متوجہ ہو جاتا ہے اور اُس کے دل میں نمازوں کااہتمام کرنے کی تڑپ پیدا ہو تی ہے۔اپنی ناول نگاری کے ذریعے وہ لوگوں کی سوچ پر مثبت اثرات نقش کرتی ہے۔
نمرہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح میں ایک مثالی کردار کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ان کی تحریریں ادب میں انمول اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے جو قابلِ مطالعہ اور قابلِ غور ہے۔ آج کل ان کا تازہ ناول ”حالم“ قسط وارشعاع ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔حالم بظاہر ایک سوپر نیچرل کہانی لگتی ہے۔ لیکن اس میں بھی نمرہ حقیقت کی عکاسی خوبصورت پیرائے میں کر رہی ہے۔ اس ناول میں ”سیرتِ نبیؐ“ پر زیادہ فوکس کیا گیا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ””نمرہ احمد“ ادبی دنیا کی نئی آواز

  1. Mushtaq Ahmad Yousfi ka nam novel nigar ki list me dia gia hy, Yousfi ne Mazah tou likha hy pir urdu zuban me koi novel nahi likha , drustagi firma lijiay.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *