• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • روایت شکنی یا خودکش بمباری(حصّہ اوّل)۔۔ادریس آزاد

روایت شکنی یا خودکش بمباری(حصّہ اوّل)۔۔ادریس آزاد

SHOPPING
SHOPPING

’’کلاسیکی‘‘ کے متضاد’’ماڈرن‘‘ ہے۔ دَور ہمیشہ دو ہی ہوتے ہیں۔ ایک کلاسیکی اور دوسرا ماڈرن۔ یہ جو ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ ہے، یہ دور نہیں ہے، یہ ایک تحریک ہے۔اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ خود بھی کسی دَور کے حساب سے ماڈرن، تو کسی اور دَور کے حساب سے کلاسیکی تحریک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوسٹ ماڈرنزم کے بعد ’’پوسٹ پوسٹ ماڈرنزم‘‘، ’’پوسٹ میلینیم ازم‘‘، ’’ڈگی ماڈرنزم‘‘ جیسی مزید ماڈرن تحریکیں متعارف ہوچکی ہیں۔ فلہذا ہمیں ایک ضروری کام یہ کرنا ہے کہ پہلے تو تحریکوں اور ادوار کو اپنے ذہنوں میں الگ الگ جگہ دینی ہے۔ کلاسیکی ہمیشہ کلاسیکی رہیگا اور ماڈرن ہمیشہ ماڈرن رہیگا۔ پوسٹ ماڈرنزم کی تحریک، تاریخ میں اب چونکہ بہت پیچھے رہ گئی ہے اِس لیے خود کلاسیکی بن چکی ہے اور اس کے بعد والی تحریک یعنی’’پوسٹ پوسٹ ماڈرنزم‘‘ اُس کے لحاذ سے ماڈرن بن چکی ہے۔
لیکن اس سے پہلے کہ ’’ان تحریکوں میں ہوتا کیا ہے؟‘‘ کی تفصیل جانی جائے۔ کلاسیکی اور ماڈرن کیا ہوتاہے، اس کی تفصیل جاننا ضروری ہے۔ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کلاسیکی اور ماڈرن کا فرق واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً عمارتوں کی تعمیر یا دکان سجانے کے کام میں، یا ٹِیچنگ (Teaching) یا کھیل کے میدان میں، مصوری، اداکاری، موسیقی، رقص، شاعری وغیرہ میں تو بہت ہی لازمی طور پر، اِسی طرح لباس ، زبان اور اندازِ گفتگو تک ماڈرن اورکلاسیکی ہوتے ہیں۔ کلاسیکی اور ماڈرن کا فرق اصل میں دونسلوں کا فرق ہوتاہے۔ پرانی نسل کی ہرشئے قائدہ کی رُو سےکلاسیکی کہلاتی ہے اور نئی نسل کی ہرشئے ماڈرن کہلاتی ہے۔ یہ بھی آفاقی اصول کی طرح ہی سچ ہے کہ نئی نسل، ہمیشہ پرانی نسل کی کسی نہ کسی حد تک باغی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی بغاوت کلاسیکی فنون کو ماڈرن فنون سے جُدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور اِسی بغاوت کی بنا پر جدید فنون معرضِ وجود میں آتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کام ہے بہت نازک۔ نازک اس لیے کہ دونوں نسلوں کے درمیان موجود کشاکش کے دوران ایک خاص قسم کے توازن کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے بالفاظ ِ دگر کلاسیکی اور ماڈرن کے مابین ایک خاص قسم کے توازن کی ناگزیر ضرورت موجود رہتی ہے۔ بصورت ِ دگر نسل ہی باقی نہیں رہتی۔ یہ توازن کیسے قائم رہ سکتاہے؟
یہ توازن قائم رکھنے کے لیے ہردور میں موجود بااثر افرادسب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر بااثر افراد، جو کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے ہوسکتے ہیں، دیانتدار اور غیرجانبدار ہیں تو توازن قائم رہتاہے اور اگر وہ دونوں میں سے کسی ایک نسل کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں تو توازن بگڑجاتاہے اور عہد ہی سرے سے ختم ہوجاتاہے۔ تب ایک نیا عہد شروع ہوتاہے جو بالکل ہی مختلف ہوتاہے۔ کلاسیکی اور ماڈرن کا یہ فرق اور توازن کا یہ قدرتی عمل جاری رہے تو اقوام نشوونما پاتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ گزشتہ عشروں میں جس ’’پوسٹ ماڈرنزم‘‘ کا خصوصاً فنونِ لطیفہ میں شور رہا ہے یہ انسانوں کی اُس ’’نئی نسل‘‘ کا کارنامہ ہے جس زمانے کے بااثر افراد دیانتدار نہ تھے، جانبدار تھے اور اُن کا زیادہ جھکاؤ اُس عہد کی نئی نسل کی طرف تھا۔ روایت کا بُت توڑنے کی بجائے انہوں نے روایت پر خودکش حملہ کردیا اور نتیجہ انسان کی حقیقی متاع کے خاتمے کی صورت برآمدہوا۔ متاعِ غرورکے خاتمے کی صورت۔ وہ متاعِ غرور جو اس کے ایک ایک کردار سے عیاں تھی بایں ہمہ اس کے لٹریچر، اس کے فنون لطیفہ، آرٹ اور کلا اور ہرشئے سے ہمہ وقت جھلکتی تھی۔ جبکہ ان کے دیانتدار نہ ہونے کے پیچھے پھر خود ان کی نئی خودکش فکر کھڑی تھی۔ ہم تھوڑا آگے چل کر اس کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔
روایت کی بغاوت تو ہزاروں سال کا وظیفہ ہے۔ پوسٹ ماڈرنزم فقط روایت کی بغاوت نہیں تھی۔ پوسٹ ماڈرنزم کچھ اور تھی۔
دیکھیں! کلاسیکی کیا ہے؟ مثلاً ہم اداکاری کے میدان کو لیتے ہیں کیونکہ فنونِ لطیفہ میں ڈرامہ یا ناٹک اُن چیزوں میں سے ہے جو سب سے قدیم ہیں۔ یونان میں فلسفیوں کی آمد سے بھی صدیوں پہلے ڈرامہ یعنی ناٹک موجود تھا۔ ہندوستان میں تو غالباً یونان سے بھی بہت پہلے موجود تھا۔ چنانچہ اگر ہم اداکاری کو لیں اور ٹانک کی ساری تاریخ پر نظردوڑائیں تو ہم ہر صدی میں ’’اداکاری ‘‘ کے فن میں تبدیلی ہوتی ہوئی دیکھیں گے۔ یہی تبدیلی کلاسیکی سے ماڈرن کی طرف سفر کرتی ہوئی تبدیلی ہے جو دراصل نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان موجود کشاکش کی وجہ سے رُونما ہوتی ہے۔ چنانچہ جب ہم ایک ایک صدی کا جائزہ لیں گے تو ہمیں نظر آئے گاکہ ان تمام صدیوں میں اگرچہ ادکاری کچھ سے کچھ ہوگئی اور یکسر ہی تبدیل ہوکر رہ گئی لیکن ان تمام صدیوں میں ہمیشہ ایک شئے مشترک رہی اور وہ ہے، اداکاری کا اداکاری ہونا۔ اگر ادکاری اداکاری نہ رہے گی تو ہم اسے اداکاری کا فن نہیں کہہ سکیں گے۔
ایسی صورت میں ’’ڈی کنسٹرکشن‘‘ میدان میں اُتر آتی ہے اور ہم سے سوال کرتی ہے کہ، ’’اداکاری کی تعریف کریں‘‘۔ ہم جواب میں کہیں گے،
’’اداکاری سے مُراد ہے، کوئی ایسا کردار بن کرخود کو پیش کرنا جو آپ کا اپنا کردار نہ ہو‘‘
تب ہم سے پوچھا جاسکتاہے،
’’کوئی شخص آپ کے دروازے پر آئے اور خود کو کچھ اور ظاہر کرتے ہوئے آپ کودھوکا دے جائے تو کیا وہ اداکاری کررہاہوگا؟‘‘
ہم جواب میں کہیں گے۔
’’نہیں وہ تو ’نوسرباز‘ کہلائےگا لیکن اُس نے جو کام کیا یہ وہی کام ہے جو اداکار کرتے ہیں۔ تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے کہے گی، ’’تو گویا نوسرباز اور اداکار ایک جیسا کام کرتے ہیں؟‘‘۔ تب ہم جواب دیں گے، ’’نہیں نوسرباز لوگوں کو نقصان پہچانے کے لیے کسی اور کردار کا رُوپ دھار لیتےہیں جبکہ اداکار اپنے ناظرین کی تفریح ِ طبع کا سامان کرتے ہیں‘‘۔ یوں ہم دو مختلف تعریفوں کو ملا کر ایک نئی تعریف کی تخلیق پر مجبور ہوجائیں گے۔
’’اداکار ی وہ فن ہے جس میں اداکار کوئی ایسا کردار بن کر خود کو پیش کرتاہے جو اُس کا اپنا نہیں ہوتا اور اداکار لازمی طور پر اپنے ناظرین کی تفریح ِ طبع کا سامان کرتاہے‘‘
تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،
’’اِس کا مطلب ہوا کہ اگر کوئی کمرے میں بالکل اکیلا ہے اور جان ریمبو کی نقل اُتاررہاہے تو وہ اداکاری نہیں کررہا؟‘‘
تب ہم جواب میں کہیں گے،
’’نہیں وہ ادکاری کی مشق کررہاہے‘‘
ڈی کنسٹرکشن ہم سے پوچھے گی،
’’گویا مشق کے دوران کی جانے والی اداکاری ، اداکاری کہلانے کی حقدار نہیں؟‘‘
تب ہم کہیں گے،
’’یقیناً ! کیونکہ جب تک وہ اداکاری کی مشق ہے وہ اداکاری نہیں ہے، بلکہ ادکاری کی مشق ہے۔ اداکاری الگ اصطلاح ہے اور اداکاری کی مشق الگ اصطلاح ہے‘‘
تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،
’’فرض کریں کہ اس شخص کے علم میں لائے بغیر کسی نے اس کی مشق کی ویڈیو بنالی ہے۔ اور ویڈیو لاکھوں لوگوں کے لیے تفریحِ طبع کا سامان لائی ہے۔ کیا ایسی صورت میں اس کی مشق، یکایک اصل اداکاری میں تبدیل ہوجائے گی؟‘‘
تب ہم کہیں گے،
’’ایسی صورت میں اس کی مشق یقیناً اصل اداکاری میں تبدیل ہوجائے گی کیونکہ اب اُسے ناظرین میسر آگئے ہیں‘‘
ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،
’’عمل تو ایک ہی تھا۔ ایک وقت میں اس کا نام ’’اداکاری کی مشق‘‘ تھا اور دوسرے وقت میں اس کا نام ’’اصل ادکاری‘‘ تھا۔ کیا اس طرح ادکاری کی تعریف پر حرف نہیں آتا؟‘‘
تب ہم کہیں گے،
’’اداکاری وہ فن ہے جس میں اداکار کوئی ایسا کردار بن کر خود کو پیش کرتاہے جو اس کا اپنا نہ ہو اور جس میں کسی ذی رُوح کو دھوکا نہ دیا جائے‘‘
ہم نے اب اداکاری کی تعریف میں سے ، ’’لوگوں کی تفریحِ طبع‘‘ کا عنصر نکال دیا۔
تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی ،
’’ تو کیا اگر کوئی ڈرامہ نگار کسی ادکار کے لیے ایسا کردار لکھے جو اُس کا اپنا ہو تو ہم اس کی اداکاری کو اداکاری نہیں کہہ سکتے؟‘‘
تب ہم کہیں گے،
’’کوئی ایسا کردار جو اس کا اپنا ہو بطور اداکاری کے کیسے ممکن ہے؟ اپنا کردار تو وہی ہے جو لمحہ ٔ موجود میں کسی شخص پر طاری ہے۔ اس کے ماضی کا کردار تو اس کا نہیں۔ وہ تو اس کے ماضی کا کردار ہے‘‘
تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوا ل کرے گی،
’’تو کیا کسی بھی انسان کا ماضی اس کے اپنے کردار کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا؟‘‘
’’کیا جاسکتاہےلیکن وہ کردار بطور کردار ، ایک بالکل الگ کردار ہوگا۔ اور جو اداکار اُس کردار کو پیش کررہاہے وہ حال میں موجود ایک نیا کردار ہے‘‘
تب ڈی کنسٹرکشن ہم سے سوال کرے گی،
’’تو کیا اِس سے اداکاری کی تعریف پر حرف نہیں آتا؟ کیونکہ جو اداکار کردار کررہاہے یہ اُس کے اپنے ماضی کا کردار ہے جبکہ اداکاری کی تعریف بتارہی ہے کہ وہ کردار اُس کا اپنا نہ ہو؟‘‘
تب ہم اداکاری کی تعریف کو ایک بار پھر تشکیل دیں گے،
’’اداکاری وہ فن ہے جس میں کوئی شخص اپنے لمحۂ موجود میں کوئی ایسا کردار بن کر خود کوپیش کرے جو لمحہ ٔ موجود میں اُس کا اپنا کردار نہیں ہے‘‘
ہم اگر غور کریں تو ڈی کنسٹرکشن جس قدر بھی معنی کو تباہ کرتی چلے جائے گی فی الاصل وہ خودبخود ایک نیا معنی تشکیل بھی دیتی چلی جائے گی۔غرض ڈی کنسٹرکشن اور ری کنسٹرکشن کا یہ عمل مسلسل اور متواتر جاری رہے تو اجزائے کائنات کے لیے ’’تقریباً مطلق‘‘ (Approximately Absolute) معنی تک پہنچا جاسکتاہے۔
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *