سعودی عرب ،تبوک میں ایک لاکھ بیس ہزار قبل زندگی کے آثار

SHOPPING
SHOPPING

مورخہ 16 ستمبر کو سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان آل سعود کی سرپرستی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایک اہم تاریخی آثار کی دریافت کا اعلان کیا گیا ہے۔

جس کے مطابق سعودی عرب میں ایک لاکھ 20 ہزار سال پرانے قوی جانوروں اور انسان کے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔ یہ نشانات تبوک ضلع میں ایک پرانی خشک جھیل کے اطراف سعودی بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ کے مطابق یہ دریافت جزیرہ عرب میں قدیم ترین انسان کی موجودگی کا پہلا سائنٹفک ثبوت ہے۔ اس دریافت نے دنیا کے اس اہم علاقے میں انسان کے سفر کے دوران حیاتیاتی ماحول کا بھی اچھوتا ثبوت مہیا کیا ہے۔

 

محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہاں النفود صحرا میں سیکڑوں قدرتی جھیلیں تھیں۔ جہاں انواع و اقسام کے جانور کثیر تعداد میں آباد تھے۔ یہاں 7 انسانوں کے قدموں کے نشانات ملے ہیں جبکہ اونٹوں کے 107 نشانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ہاتھیوں کے 43 نشانات ملے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف جانوروں کے جن میں چھوٹے بڑے سب شامل ہیں، ان کے نشانات بھی ریکارڈ پر آئے ہیں، یہاں ہاتھیوں کی ہڈیوں کی 233 محجر باقیات ملی ہیں۔

سعودی اور بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ کے مطالعات سے تاریخی آثار کی 7 تہیں دریافت ہوئی ہیں۔ جہاں پتھروں سے بنی اشیا طبعی حالت میں موجود تھیں۔ مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں پتھروں کی ترقی یافتہ صنعت پائی جاتی تھی اور یہاں سنگی کلہاڑیاں ملی ہیں۔

اس تاریخی دریافت میں جرمنی، برطانیہ، آسٹریلیا کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کنگ سعود یونیورسٹی، جیولوجیکل سروے بورڈ اور آرامکو شامل ہیں۔ یہ ٹیم ’سبز جزیرہ عرب‘ کے زیر عنوان سائنٹفک پروجیکٹ کا ثمر ہے۔ سعودی اور غیرملکی ماہرین دس برس سے زیادہ عرصے سے تبوک، نجران، ریاض، حائل اور مدینہ منورہ میں مختلف مقامات پر تاریخی کھدائیاں، تلاش اور مطالعات کا کام کررہے ہیں۔

ماہرین کی تحقیق سے اس دعوے کو تقویت پہنچی ہے کہ اب سے 5 لاکھ برس پرانے تاریخی مقامات اور ماحولیاتی ریکارڈ سے یہ علاقہ مالا مال ہے۔ یہاں جزیرہ عرب کے تمام علاقوں میں جھیلیں اور دریا ہوا کرتے تھے۔ ان کی وجہ سے بڑی بڑی آبادیاں تھیں۔ جزیرہ عرب، افریقہ اور ایشیا کی شاہراہوں کا سنگم بنا ہوا تھا۔

اس کے علاوہ پچھلے سال بھی سعودی محکمہ سیاحت و قومی آثار کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے جزیرہ نمائے عرب کی موسمی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک ریسرچ پروگرام کیا گیا تھا جس میں جائزہ لیا گیا کہ جزیرہ نمائےعرب کبھی دریاﺅں اور سبزہ زاروں سے آباد تھا لیکن کیا مستقبل میں ایسا کوئی امکان نظر آتا ہے کہ یہ پھر سبزہ زاروں اور دریاﺅں کی سرزمین بن جائے، کیا یہ پھر سے اپنی پرانی حالت پر واپس آسکے گا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سکالرز کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ درست ہے کہ جزیرہ نمائے عرب قدیم زمانے میں سیکڑوں جھیلوں، دریاﺅں ، جنگلات سے آباد ہوا کرتا تھا۔ اس حوالے سے حیران کن سائنسی شواہد ریکارڈ پر آگئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب میں پے درپے کئی تہذیبوں اور تمدنوں نے جنم لیا ہے۔

ماہرین و سکالرز کے مطابق صحرا النفود کے مغربی علاقے سے ایک دیو ہیکل ہاتھی کے دانت ملے ہیں اس کی عمر کا اندازہ 5لاکھ برس سے کہیں زیادہ کا ہے۔ متعدد جانوروں کی باقیات بھی ملی ہیں جن میں ہرن، ہاتھی،گائے، گھوڑے، چیتے، دریائی گھوڑے، پرندے شامل ہیں۔

طبقات الارض کی تحقیق اور تاریخی شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جزیرہ عرب میں 5 لاکھ برس سے کہیں زیادہ پہلے جھیل بھی ہوا کرتی تھی۔ماہرین آثار قدیمہ نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ صحرائے نفود میں قدیم جھیل کے کنارے انسانی قدموں کے ایسے نشانات ملے ہیں جن کی عمر کا اندازہ ہزاروں برس پہلے کا ہے۔ انسانی قدموں کے ان نشانات کی عمر تبوک کی تیماء کمشنری سے متحجر انسانی انگلی کی عمر کے برابر ہے۔ تبوک سے جو انسانی انگلی دریافت ہوئی ہے اس کی عمر کا اندازہ بھی 85 ہزار برس کا ہی لگایا گیا ہے۔ تبوک کا یہ علاقہ صحرا النفود کی مبینہ جھیل کے قریب واقع ہے۔

SHOPPING

محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کے مطابق حالیہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ جزیرہ عرب میں ایک زمانے میں دریا ، جھیلیں ، سبزہ زار اور انواع و اقسام کے جانور موجود تھے۔

 

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *