یہ کمپنی نہیں چلے گی۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

رومی سلطنت کا زوال صدیوں کے عرصہ میں ہوا اور اس کے ساتھ انتہائی خوفناک معاشی، معاشرتی، اخلاقی اور فلسفیانہ انحطاط بھی ہوا۔ زوال کا وہ طویل عرصہ ایک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھا تھا بلکہ بار بار بحالی کے دورانیے بھی دیکھے گئے۔ بالکل اسی طرح جیسے کبھی کبھی مرنے والا آدمی بحالی کی تمام علامات ظاہر کرتا ہے جو محض ایک اٹل موت کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ سرمایہ داری کی موت بھی اذیت ناک ہے۔

گزشتہ برس لبنان میں عوامی مظاہرین نے موجودہ بندوبست پہ عدم اعتماد کر دیا تھا۔ اِس برس کرونا کرائسس اور اب پورٹ پہ ہونے والے دھماکے نے اُس تحریک میں جان بھر دی ہے۔ نیا جوش اور نیا جذبہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لبنانی سماج کئی مسالک میں تقسیم در تقسیم ہے مگر موجودہ مظاہروں میں عوامی اتحاد ایک مثال ہے۔

جدلیاتی طور پر ہر چیز جلد یا بدیر اپنے الٹ میں بدل جاتی ہے۔ اِسی طرح محنت کش طبقے کا شعور بھی سیدھی لکیر پہ نہیں چلتا، بلکہ اِس کی ارتقاء کبھی تولہ کبھی ماشہ کے مترادف ہوتی ہے اور ممکن ہے یہ “شعور” لمبے عرصے تک واقعات کے پیچھے بھیڑوں کی مانند ہی چلتا نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جلد یا بدیر یہ ایک دھماکے کیطرح پھٹ پڑتا ہے۔ بالکل وہی! جسے انقلاب کہتے ہیں۔
مجھے یہ عمل ظہور پزیر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جہاں بھی ہم نظریں دوڑاتے ہیں ہمیں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان، غصے اور موجودہ آرڈر سے نفرت کا اظہار نظر آ رہا ہے۔ سوڈان سے لیکر لبنان تلک، عراق سے لیکر چلی تلک، کوئٹہ سے لیکر نیویارک تلک۔۔۔! مختلف ممالک میں مختلف طریقوں سے ظاہر ہو رہا ہے، لیکن ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں کہ عوام، محنت کش اور نوجوان پرانے آرڈر کو چیلنج کرنے اور اس کے خلاف لڑنے کے لئے متحرک ہیں۔

ایک دلچسپ مثال لے لیں۔ اگر دنیا کا کوئی ایسا ملک ہے جہاں اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ طبقاتی جدوجہد ختم ہوچکی ہے تو وہ اسرائیل تھا۔ زیادہ تر لوگوں کو یہی لگتا تھا کہ نیتن یاہو اسرائیل پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں لیکن موجودہ بحران نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا ہے، معیار زندگی گر رہا ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ نتیجتاً عوام سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں۔

دھماکے کی طرح 2018ء کے اخیر سے شروع ہونے والے قسط وار عوامی مظاہرے آج طاقتور تحریکوں کا روپ دھار رہے ہیں۔ یہ اچانک سے آسمان سے نہیں گرے نہ ہی زمین میں سے اچانک اُگ آئے ہیں۔ بلکہ اِن کی وجی 2008ء کے بعد سے “کفایت شعاری” کے نام پہ عوامی فلاحی بجٹ میں کٹوتیاں ہیں۔

امریکی اور چینی معاشی جنگ محض ایک اشارہ ہے۔ امریکہ اور یورپ کے مابین بھی جنگ جاری ہے۔ حتی کہ یورپ بھی آپس میں محو جنگ ہے۔ حکومتیں عوام کو وہ دے رہی ہیں جو حکومتوں کے پاس ہے ہی نہیں، اربوں کے نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا میں عدم مساوات کے چہرے سے نقاب نوچ لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے حال ہی میں متنبہ کیا ہے کہ 265 ملین سے زیادہ افراد کو “بھوک کا خطرہ” ہے۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی تحریکیں ابھریں اور ہمارے سامنے دم توڑ گئیں۔ جیسے تیز اور طاقتور لہر ابھرتی ہے کسی چٹان سے ٹکراتی ہیں، پھر یاداشت تک سے محو ہو جاتی ہے۔ عوام بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔ وہ انقلابی راہ اپنا سکتے ہیں لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ ان کے پاس آگے کا کوئی واضح پروگرام اور مربوط لائحہ عمل نہیں ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک عیاں سچ ہے کہ مرد اور خواتین اپنی تاریخ خود بناتے ہیں۔ جب معاشرتی اور معاشی نظام زوال کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو معاشرتی انقلاب کا نعرہ لازمی کامیاب ہوتا ہے۔ لیکن یہ انقلاب کامیاب ہوگا یا ناکام اس کا انحصار معروضی عوامل کی فعال شمولیت پر ہے۔ یعنی جدید اصطلاح میں انقلابی پارٹی اور اس کی قیادت کی دستیابی۔۔۔! بہرطور آج کل میں مزدور طبقے کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے بہت سارے مواقع ملیں گے۔ جلد یا بدیر ایک ملک یا دوسرے ملک میں پیشرفت دیکھی جائے گی جو صورتحال کو عالمی سطح پر بدل دے گی۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *