قانونِ قارون۔۔حسان عالمگیر عباسی

ابو الکلام کہتے ہیں کہ ‏غُصہ اور قانون دونوں بڑے سمجھدار ہیں، کمزور کو دبا لیتے ہیں اور طاقتور سے دَب جاتے ہیں۔ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔

لیکن یاد رہے!

غصہ وقتی و عارضی ہے۔ نسیان ہے۔ بھول ہے۔ جب ہوش سنبھلتا ہے تو انسان کی انسیت کیے پہ ندامت کا احساس دلاتی ہے۔

و لاکن

قانون کلی و عارضہ ہے،جبر ہے، دھول ہے، جب لاگو ہوتا ہے تو لاگ و لاگت دیکھتا ہے۔ شرفاء کے لیے شرمساری کا باعث ہے۔ جب گرجتا ہے تو کمزوری دیکھتا ہے۔ برج کی اونچ کے سامنے نیچا ہے اور ناچتا ہے۔ اندھا ہے۔ ‘راکھی’ کے لیے راکھ اور ‘خاکی’ کے لیے خاک ہے۔

حالانکہ

قانون قانوناً اقوام پہ قوام ہے۔ قانونی طور طریق کا پابند ہے۔ شریعت ہے۔ شارع کا پابند نہیں، پابند بناتا ہے۔ برابری ہے۔ مساوات ہے۔ نصفِ خوشحالی ہے۔ منصف کی باندی نہیں، اسے باندھتا و بھونتا ہے۔ ذمی کے ذمہ کا بھی ضامن ہے۔ قلت و کثرت کے لیے کسر نہیں قصر ہے۔

البتہ  قانون جیسا تیسا بھی ہے، لاقانونیت سے فزوں تر ہے۔ جمہور جیسے بھی ہیں، جنگلات کے باسی نہیں ہیں۔ جمہوریت لنگڑی ہے پھر بھی آمریت کے لے چبھن ہے۔ چبھن ہی دراصل لنگڑے ضوابط کی توقیری ہے۔

کیونکہ عوام مختلف الخیال ہیں۔ رنگا رنگ تخلیق مثالی دستور کی رکھوالی رہے نہ رہے، متفق علیہ شقوں کا شوق تب بھی رکھتی ہے وگرنہ اتفاق پارا پارا، کرچا کرچا ہونا قوی ممکن ہے۔

ضرورتِ امر ہے کہ جو جس حد تک بھی جڑے رہیں، جڑ سے اکھڑ جانے سے کہیں بہتر ہے وگرنہ جوڑ کو توڑنا جوڑ توڑ کرنے والوں کا پرانا پاپ ہے۔ فرقہ واریت کو ریاست کی ناک کا سایہ ہے لہذا چست و چالاکی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت پڑے تو لومڑ کی تربیت لے لی جائے لیکن چاک و چوبندی اب ضروری ہے۔ استعمال نہیں ہونا، مستعمل بننا ہے۔ چاکری نہیں کرنی، چکر کرنا ہے۔ چڑنا نہیں ہے، چڑانا ہے۔ اسیری نہیں قیدی بنانا ہے۔ جذبے سلامت، جذبوں کی صداقت تابندہ لیکن جذبات کی لہر اصول، عقل اور ہوش بھی لے اڑتی ہے۔ جذبات کی لہر اپنی جگہ لیکن اصول و ضوابط لہرانے چاہییں۔

کیا ہو رہا ہے اور کب تک چلے گا!

ایک طرف تعصب کو ریاستی مشینری ہوا دے رہی ہے، فرقہ واریت کو جنم دے رہی ہے۔ پنجاب میں متنازعہ بل لا رہی ہے۔ مسلک کے حقوق سلب کر رہی ہے۔ جواب در جواب پہ اکسا رہی ہے۔ نام نہاد حسینیوں کے پیٹ پال رہی ہے۔ انتہا پسندوں کے ذریعے دوسرے مسالک کے متعلقین سے مسلمانیت کے کلمے اگلوا رہی ہے۔ اچھلنے کودنے والے غالیوں اور نصیریوں سے سب و شتم کے لیے چینلز کو استعمال کر رہی ہے تو دوسری جانب اظہار رائے دہی پہ حملے ہو رہے ہیں۔ قدغن لگائے جا رہے ہیں۔ سیاست میں دخول کے نتیجے میں اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ رسیدوں کی دستیابی کے قومی مطالبے پہ مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ اب یہ سننے میں آ رہا ہے کہ جو ‘سچ’ بولے گا، بھاری قیمت چکائے گا۔ صداقت اب بیش لاگت ہے۔ جو ‘حق’ بولے گا، بھاری جرمانہ ادا کرے گا اور دو سالوں کے لیے ‘قید’ میں مسکن بنائے گا۔

افسوس!

یہ قانون بنانے والے اپنے آپ کو جمہوریت کا چیمپئن مانتے ہیں۔ وہی بات واضح ہو رہی ہے۔ قانون کلی و عارضہ ہے۔ جبر ہے۔ دھول ہے۔ جب لاگو ہوتا ہے تو لاگ و لاگت دیکھتا ہے۔ قانوناً ہر ایک غدار ہے جو حد سے متجاوز ہے۔ ہر ایک ظالم و باغی ہے جو ‘چیز’ کی جگہ کا تعین کر کے’ اسی کو جگہ فراہم نہیں کرتا۔ عدل کا تقاضہ ہے کہ غدار پرندے کو لٹکایا جائے اور باغیچہ بچایا جائے۔ لٹکانے سے مراد سولی ہی نہ لی جائے۔ لٹکانے سے مراد وہ سزا ہے جو آئین میں ‘کثرت رائے’ سے منظور ہے وگرنہ قانون بدنام رہے گا، قانون ساز کا بال بھی بیکا نہیں ہونا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *