زندگی گزارنے کے رہنما اصول۔۔زین سہیل وارثی

1۔ امت مسلمہ صرف کتابوں اور علما کی تقریروں میں زندہ ہے، اس سراب کے پیچھے بھاگ کر اپنا قیمتی وقت ضائع مت کریں۔ سعودیہ اور ایران کو آپ سے کچھ لینا دینا نہیں، مفت میں معدہ تیزابیت کا شکار نا ہوں۔

2۔ ہر انقلاب حکومت بدلنے کے لئے لایا جاتا ہے، حکومت بدلتے ہی انقلاب کے مندرجات تبدیل کر دئیے جاتے ہیں۔ بھٹو انقلاب، نظام مصطفی انقلاب، اور تبدیلی انقلاب ہی دیکھ لیں۔

3۔ آج کل تعلیم معیار زندگی بہتر کرنے اور نوکری حاصل کے لئے حاصل کی جاتی ہے، نا کہ شعور حاصل کرنے کے لئے۔

4۔ سیکولر اس شخص کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ آپ نماز ہاتھ باندھ کر پڑھیں، یا کھول کر، روزہ نماز مغرب پر کھولیں یا بعد از مغرب، وہ پریشان نہیں ہوتا۔

5۔ اگر آپ اچھے انسان نہیں ہیں تو آپ اچھے مسلمان بھی نہیں ہیں، اچھا انسان ہونا اچھا مسلمان ہونے کے لئے لازمی شرط ہے۔

6۔ جمہوریت کے لئے گھر میں جمہور کی رائے کا احترام کرنا سیکھیں، بیوی، بہو اور بیٹی کو بھی جمہوری حقوق دیں، تبھی معاشرے میں جمہوریت آئے گی۔

7۔ فلاحی ریاست کا کوئی ماڈل دنیا میں نہیں ہے، استعمار کے نام پر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

8۔ امریکہ دنیا کا چوہدری رہنا چاہیے، اسی میں دنیا کی بھلائی ہے، ورنہ سرخ انقلاب سب نگل جائے گا۔ دنیا میں دو چوہدری ہونے چاہیں تاکہ آگ اور پانی کا توازن اس دھرتی پر قائم رہ سکے، روس توڑنے کا نتیجہ اب تک دنیا بھگت رہی ہے۔

9۔ نوکری پیشہ ایک مخصوص رقم کا غلام بن جاتا ہے، جبکہ کاروباری ان غلاموں کا بادشاہ۔

10۔ نکاح ایک عمرانی معاہدہ ہے، اسے مذہب سے منسلک کرنا چھوڑ دیں۔

11۔ ممالک کے تعلقات مفادات پر ہوتے ہیں، جب مفاد ختم ہو جاتا ہے تو تعلقات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ چاہے مسلم ممالک ہی کیوں نا ہوں۔

12۔ وارثان میں بیٹیاں بھی آتی ہیں اور افزائش نسل ان سے بھی ہوتی ہے۔

13۔ ایک غلط دوسرے غلط کو صحیح ثابت نہیں کرتا،گناہ ہر انسان سے ہوتے ہیں، مگر گواہ بنانے سے گریز کریں۔ نیز گناہ کو جائز ثابت کرنے کے لئے جواز نا تلاش کریں، توبہ کریں، اللہ رحمان و رحیم ہے، بخشش کر دے گا۔

14۔ تجربے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، یہ وقت اور عمر کے ساتھ آتا ہے۔ ضروری نہیں کہ غلطی کر کے تجربہ حاصل کریں، بزرگوں کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں اور قیمتی وقت بچائیں۔ زندگی ویسے ہی مختصر ہے۔

15۔ اس دنیا میں محنت کرنی آتی ہو تو پیسہ کمانا بہت آسان ہے اور اگر تھوڑی بہت عقل و دانش ہو تو کامیابی یقینی ہے۔

16۔ ہر تعلیم یافتہ شخص دانشمند نہیں ہوتا، اور ہر ان پڑھ جاہل نہیں ہوتا، دانش کا تعلق عملی زندگی کے تجربے سے ہے۔
17۔ تعلیم اور شہری احساس Civic Sense دو مختلف چیزیں ہیں، تعلیم کے لئے سکول، کالج اور جامعات ہیں، شہری احساس تربیت سے حاصل کیا جاتا ہے، جو اب ہر شعبہ زندگی میں معدوم ہو چکی ہے۔

18۔ گناہ نا کرنے کی دو ہی وجوہات ہوتی ہیں، یا تو آپ تقوی اختیار کر لیتے ہیں، ورنہ قانون کی تلوار آپ کی گردن پر لٹکا دی جاتی ہے، تاکہ گناہ سے پرہیز اختیار کر سکیں۔

19۔ کسی انسان کو اس کے رنگ، نسل اور قومیت کی بنیاد پر کبھی نا پرکھیں، مفروضے اور تجربے میں یہی فرق ہوتا ہے۔

20۔ آپ امریکی حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن تجربہ یہی ہے کہ امریکی افراد ہمیشہ اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔

21۔ گاہکوں کا مارکیٹ شیئر حاصل کے لئے سیاستدان اور مذہبی رہنما، فرقہ پرستی، لسانیت اور علاقائی تقسیم کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، اس لئے احتیاط کریں۔

22۔ زندگی کی ہر پہلی چیز دل و دماغ پر ان گنت نقوش چھوڑ جاتی ہے، چاہے وہ عشق ہو، نوکری ہو، شادی ہو یا کچھ بھی۔

23۔ زندگی و مذہب میں اعتدال اختیار کیجئے زندگی کی علامت ہے۔ ورنہ آپ نفسیاتی بن جائیں گے اور لوگوں کا جینا دو بھر کر دیں گے۔

24۔ مجاں مجاں دیں بہناں تے کٹے کٹیاں دے بھرا، ان تمام سیاستدانوں کی نانی و نانا ایک ہیں جن کا ذکر تب ہو گا جب ملک واقعی ریاست مدینہ کی مانند ہو گا۔ ان سب کے دکھانے و کھانے کے دانت ایک ہی ہیں، بس عوام غلط فہمی کا شکار ہیں۔

25۔ عام آدمی ان سیاستدانوں اور نام نہاد مذہبی رہنماؤں کے حقوق کے لئے تو نکلتے ہیں کبھی اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی نکل پڑیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *